"A detailed shot of a modern newsroom desk in Lahore, Pakistan, with a Canon DSLR camera, Zoom audio recorder, open notebook, and microphone in the foreground. In the background, journalists work at computers facing a large matrix of screens displaying live feeds, stock markets, and the 'Khyber Times' logo. The historic Badshahi Mosque is visible through a large window on the left."

سوشل میڈیا نان سوشل ہاتھوں میں: سنجیدہ لوگوں کو ڈیجیٹل میدان سے باہر کیوں نہیں رہنا چاہئے؟

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ

سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کا نقشہ بدل دیا ہے۔ یہ اب محض تفریح، وقت گزاری یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ آج خبر، رائے، کاروبار، تعلیم، آگاہی اور حتیٰ کہ معاشی خود کفالت کے بڑے مواقع اسی ڈیجیٹل دنیا میں موجود ہیں۔
ایک عام شخص اپنے موبائل فون سے چند منٹ میں وہ بات ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے جس کیلئے چند دہائیاں پہلے اخبار، ریڈیو یا ٹیلی وژن جیسے اداروں کی ضرورت پڑتی تھی۔
یہ تبدیلی بظاہر ایک بڑی جمہوریت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا ہے۔
جب معلومات پہنچانے کی طاقت ہر ہاتھ میں آگئی ہے تو کیا ذمہ داری بھی ہر ہاتھ میں آئی ہے؟
بدقسمتی سے جواب ہمیشہ ہاں میں نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو معلومات کی تصدیق، الفاظ کی ذمہ داری اور معاشرتی اثرات کی پروا کئے بغیر مواد بناتے اور پھیلاتے ہیں۔ ان کیلئے سنسنی، تنازع، تضحیک اور فوری شہرت (یا سستی شہرت) بعض اوقات خبر کی صحت اور معاشرتی ذمہ داری سے زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔
لیکن یہاں اصل مسئلہ صرف ان لوگوں کا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ سنجیدہ، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور ذمہ دار لوگ اس میدان میں کہاں ہیں؟

میں نے تقریباً پانچ یا چھ سال قبل پشاور پریس کلب میں اپنے صحافی ساتھیوں کو سوشل میڈیا کی طرف آنے کی ترغیب دینا شروع کی۔ میرا خیال سادہ تھا کہ اگر صحافی خبر تلاش کرسکتا ہے، تحقیق کرسکتا ہے اور اسے اخبار یا ٹیلی وژن پر نشر کرسکتا ہے تو اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنی خبر اور تجربہ پہنچانے کی صلاحیت بھی حاصل کرنی چاہئے۔
اس مقصد کیلئے آگاہی اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، فوٹو ایڈیٹنگ، فیس بک ریلز، یوٹیوب شارٹس، ٹیگز، ڈسکرپشن، ہیش ٹیگز اور سوشل میڈیا ہینڈلنگ جیسے بنیادی موضوعات پر ساتھیوں کو عملی تربیت دینے کی کوشش کی گئی۔
اس کام میں میرے صحافی دوست افتخار فردوس نے بھی قابلِ قدر تعاون کیا۔ انہوں نے ایک مستقل معاون کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی جیب سے پورے ایک سال کیلئے ایک ایکسپرٹ ہائر کرکے فراہم کیا تاکہ صحافی ساتھی عملی طور پر سوشل میڈیا کا کام سیکھ سکیں۔
لیکن اس پورے تجربے کا سب سے تلخ پہلو یہ تھا کہ چند افراد کے علاوہ زیادہ تر ساتھیوں نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
اس وقت بعض دوستوں کی رائے یہ تھی کہ سوشل میڈیا ایک ایسا میدان ہے جہاں غیر سنجیدہ لوگ سرگرم ہیں، اس لئے اچھے اور باوقار صحافیوں کو اس طرف نہیں جانا چاہئے۔ میں نے اس سوچ سے اختلاف کیا، لیکن اس وقت شاید ہم میں سے بہت سے لوگ ڈیجیٹل دنیا کی آنے والی طاقت کا مکمل اندازہ نہیں کرسکے تھے۔
چند سال گزرے تو صورتحال بدل گئی۔ سوشل میڈیا نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی بلکہ صحافت کے انداز، خبر کی ترسیل اور عوام تک رسائی کے طریقوں کو بھی نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔ ، سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا کو پیچھے چھوڑنا شروع کیا۔ اخبارات اور ٹیلی وژن کے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کو بھی احساس ہوا کہ صرف ادارے کے پلیٹ فارم پر موجود ہونا کافی نہیں۔ اب صحافی کی اپنی ڈیجیٹل شناخت، اپنی آڈیئنس اور اپنی سوشل میڈیا موجودگی بھی اہم ہے۔
آج ان میں سے کئی ساتھی خود سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے کام کررہے ہیں۔ یہ تبدیلی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کسی میدان کو صرف اس وجہ سے چھوڑ دینا کہ وہاں کچھ غیر سنجیدہ لوگ موجود ہیں، دراصل اس میدان کو انہی لوگوں کیلئے خالی چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے کس مقصد اور کس ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ہی پلیٹ فارم پر ایک نوجوان آن لائن تعلیم حاصل کرسکتا ہے، ایک صحافی کسی دور افتادہ علاقے کی خبر دنیا تک پہنچا سکتا ہے، ایک کاروباری شخص اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کراسکتا ہے اور ایک عام شہری کسی انسانی مسئلے کی طرف لوگوں اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کراسکتا ہے۔
لیکن اسی پلیٹ فارم کو جھوٹی اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے، کسی فرد یا قوم کی بدنامی کا باعث بننے اور معاشرے میں نفرت یا انتشار پیدا کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس لئے مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، بلکہ اس کا استعمال اور اسے استعمال کرنے والے کی ذمہ داری ہے۔ اسی لئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ہمیں سوشل میڈیا سے دور ہونے کی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کو ذمہ دار اور سنجیدہ لوگوں کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
جب ذمہ دار لوگ پیچھے ہٹتے ہیں تو سوشل میڈیا پر موجود خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اگر صحافی، استاد، محقق، ڈاکٹر، وکیل، کاروباری افراد، دانشور، خواتین اور باشعور نوجوان اپنی بات ذمہ داری سے پیش نہیں کریں گے تو پھر وہ لوگ زیادہ نمایاں ہوں گے جو شور پیدا کرنا جانتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ درست معلومات بھی فراہم کرتے ہوں۔
آج کل ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے صارفین بھی سرگرم ہیں جو بغیر تصدیق کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے، ایک دوسرے کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے اور بعض اوقات قومی و علاقائی نفرت کو ہوا دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے مواد کا مقصد اکثر معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ فوری توجہ، ردعمل اور مقبولیت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ہر بات خبر نہیں ہوتی اور ہر دعویٰ حقیقت نہیں ہوتا۔ کسی ویڈیو کے وائرل ہوجانے، کسی پوسٹ پر ہزاروں تبصرے آنے یا کسی اکاؤنٹ کے لاکھوں فالوورز ہونے سے اس کی معلومات خود بخود مستند نہیں ہوجاتیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی اجتماعی ترجیحات پر غور کرنا چاہئے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کو گالیوں، الزامات اور غیر مصدقہ دعووں کے ذریعے نہیں بلکہ حقائق، دلیل اور باہمی احترام کے ساتھ سمجھیں تو ذمہ دار اور باشعور لوگوں کو سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بڑھانا ہوگی۔
کیونکہ ڈیجیٹل دنیا میں خاموشی بھی ایک طرح سے جگہ خالی کرنا ہے، اور خالی جگہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی پُر کرتا ہے۔
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ مواد بہت زیادہ ہے۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص غلط معلومات پھیلا رہا ہے یا فلاں اکاؤنٹ معاشرے کا منفی تاثر پیش کررہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
ہم خود کہاں ہیں؟
کیا ہم نے اپنی جگہ کسی اور کے لیے خالی چھوڑ دی ہے؟
قوموں کی شناخت بھی ڈیجیٹل دنیا میں بنتی ہے
آج کسی علاقے یا قوم کے بارے میں دنیا کا تصور صرف کتابوں یا اخبارات سے نہیں بنتا۔ لوگ سوشل میڈیا پر ویڈیوز، تصاویر، پوسٹس اور تبصروں کے ذریعے مختلف معاشروں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
پاکستان، خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور دیگر علاقوں کے بارے میں بھی ڈیجیٹل دنیا میں مختلف تصورات تشکیل پارہے ہیں۔
اس لیے ذمہ دار شہریوں اور پیشہ ور افراد کی موجودگی صرف ذاتی شہرت کا معاملہ نہیں۔ یہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ ہم اپنی تاریخ، ثقافت، مسائل، کامیابیوں اور زمینی حقیقتوں کو دنیا کے سامنے کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے یا اپنے معاشرے کے مسائل چھپائے جائیں۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچ کو ذمہ داری، تحقیق اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش کیا جائے۔
صحافیوں کیلئے یہ ایک نیا میدان ہے۔
روایتی صحافت ختم نہیں ہوئی، لیکن اس کی شکل ضرور تبدیل ہورہی ہے۔
آج کا صحافی صرف خبر لکھنے والا نہیں۔ اسے ویڈیو بنانی پڑسکتی ہے، موبائل سے تصویر لینی پڑسکتی ہے، سوشل میڈیا پوسٹ تیار کرنا پڑسکتی ہے، اپنی خبر کی مختصر ویڈیو بنانی پڑسکتی ہے اور اپنے قارئین یا ناظرین کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنا پڑسکتا ہے۔
اس تبدیلی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے اسے صحافت کے نئے مرحلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
خاص طور پر نوجوان صحافیوں کیلئے سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنی صلاحیت، تحقیق اور فیلڈ کے تجربے کو براہ راست عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔
اب شکایت سے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
میرے نزدیک آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ لوگ کیوں موجود ہیں۔ وہ کل بھی موجود تھے، آج بھی ہیں اور شاید آئندہ بھی رہیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ سنجیدہ، ذمہ دار اور باصلاحیت لوگ اس میدان میں کہاں کھڑے ہیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ سنجیدہ لوگ کہاں ہیں؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے بجائے تحقیق سامنے آئے، نفرت کے بجائے مکالمہ ہو، سنسنی کے بجائے حقیقت بیان کی جائے اور ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مفاد کو جگہ ملے تو ہمیں خود اس میدان میں اترنا ہوگا۔
صحافیوں کو ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنا ہوں گی۔
اساتذہ کو علم کی بات کرنی ہوگی۔
ماہرین کو اپنی تحقیق عوام تک پہنچانی ہوگی۔
نوجوانوں کو صرف تفریح کے بجائے تخلیق اور معلومات کیلئے سوشل میڈیا استعمال کرنا ہوگا۔
اور معاشرے کے ذمہ دار لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خاموش رہ کر ہم ڈیجیٹل دنیا کو خالی نہیں چھوڑ رہے بلکہ کسی اور کیلئے جگہ بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا سے بھاگنے کا وقت گزر چکا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس میدان میں آئیں، اسے سمجھیں، اس کی زبان سیکھیں اور اسے زیادہ ذمہ دار، باخبر اور مفید بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر نان سوشل لوگ کیوں ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل لوگ ابھی تک سوشل میڈیا پر اتنے فعال کیوں نہیں؟

سوشل میڈیا کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال سے کس طرح ایک معاملہ نیوز چینلز اور اخبارات تک پہنچا، پھر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی اور بالآخر پاکستانی عدالتوں کو بھی اس کا نوٹس لینا پڑا؟

اس کی مکمل کہانی پر مبنی مضمون کل دی خیبر ٹائمز پر شائع ہوگا۔ ضرور ملاحظہ کیجیے۔

Exclusive Summary

Social Media in Irresponsible Hands: Why Responsible Voices Must Enter the Digital Space

In this special article, journalist Nasir Dawar examines how social media has transformed journalism, public communication, education, business and access to information. He argues that the problem is not social media itself, but how it is used and by whom.

Drawing on his experience of encouraging journalists at the Peshawar Press Club to embrace digital journalism several years ago, Dawar explains how initial resistance gradually gave way to recognition of the importance of digital skills and personal online presence.

The article also highlights the growing problem of unverified claims, abusive exchanges and hate-driven content on platforms such as TikTok, including interactions between some Pakistani and Afghan users. Dawar stresses that virality, large followings or high engagement do not automatically make information credible.

He argues that when journalists, researchers, academics, professionals and responsible young people remain absent from social media, the space is increasingly occupied by voices driven by sensationalism, confrontation and instant popularity.

The article ultimately calls for greater participation by responsible and informed citizens, particularly journalists and young professionals, so that social media can become a space for verified information, meaningful dialogue and a more accurate representation of Pakistan, Afghanistan and the region.

The central question is no longer why irresponsible people are on social media, but why responsible people are not more active there.

About Author: Nasir Dawar- Editor The Khyber Times and Researcher. Contact: dawarjan@gmail.com