A composite photograph illustrating the complex issues surrounding Afghan students in Pakistan. In the foreground, a hand holds a smartphone displaying social media icons (TikTok, Facebook, Twitter, Instagram, YouTube), with lines of other icons flowing out towards a large, closed, iron border gate. On either side of the gate, groups of young people (students with backpacks and books) stand looking through. The gate itself has signs in Urdu and English reading 'PAKISTAN' and 'AFGHANISTAN'. Above the gate, a cityscape features Western landmarks like the Eiffel Tower, Big Ben, the Statue of Liberty, and the US flag, along with floating text reading 'Propaganda' and 'Policy Ambiguity' next to the source of the social media icons. On the right, a mosque with a green dome is visible, representing Pakistan. Below the central gate, Urdu text reads: "پاکستان میں افغان طلبہ: پالیسی کا ابہام یا پروپیگنڈے کا شکار؟ تحریر صفی اللہ گل" (translation: "Afghan Students in Pakistan: Victims of Policy Ambiguity or Propaganda? By Safiullah Gul"). The background is a dry, mountainous border landscape.

افغان طلبہ: پالیسی، پروپیگنڈا اور تاریک مستقبل

تحریر: صفی اللہ گل

پاکستان کی افغان شہریوں کی واپسی کی جاری پالیسی کے اثرات اب افغان طلبہ تک بھی پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ملک کے تعلیمی اداروں، خصوصاً میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں زیرِ تعلیم متعدد افغان طلبہ کا مستقبل شدید اندھیروں میں گھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے یکم ستمبر 2026ء کو ملک بھر کے میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ہدایت جاری کی کہ وہ افغان طلبہ کو نجی و سرکاری پروگراموں میں نئے داخلے نہ دیں، جبکہ پہلے سے زیرِ تعلیم طلبہ کو فوری طور پر افغانستان واپس بھیجنے کیلئے انتظامی کارروائی اور این او سیز جاری کریں۔
8 ستمبر کو یہ ہدایت منظرِ عام پر آنے کے بعد سفارتی اور تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اسلام آباد میں موجود افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے ایک آڈیو پیغام میں حکومتِ پاکستان اور پی ایم ڈی سی سے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے یکطرفہ تعلیمی فیصلوں کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اس سے طلبہ کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ اگرچہ وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق یہ قدم پاک افغان کشیدگی اور طلبہ کے ڈیٹا کی شفافیت کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے، تاہم دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کی وضاحت نے معاملے کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی اپنی جگہ، لیکن جن افغان طلبہ کے پاس درست پاسپورٹ اور ویزے موجود ہیں، ان کی ویزا توسیع کی درخواستوں پر قوانین کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ ادھر 87 افغان طلبہ کا ویزا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ باقاعدہ ویزا رکھنے والے طلبہ کو عام غیر قانونی تارکینِ وطن سے الگ دیکھنا کتنا ضروری ہے۔
اس سارے بحران کا سب سے دردناک اور حساس پہلو افغان خواتین کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پاکستان سے واپس بھیجی جانے والی افغان طالبات کیلئے اپنی میڈیکل ڈگری مکمل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی اداروں نے بھی اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ طالبات نہ صرف اپنی تعلیم سے محروم ہوں گی بلکہ ان کا پیشہ ورانہ مستقبل اور معاشی خودمختاری بھی ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گی۔
تاہم اس سنگین صورتحال کا ایک اور المناک پہلو بھی ہے، اور وہ ہے مغرب میں مقیم افغان ڈائس پورا کا زہریلا کردار۔ افغانستان سے فرار ہو کر امریکہ، یورپ، برطانیہ اور جرمنی میں آسائش کی زندگی گزارنے والے عناصر سوشل میڈیا، بالخصوص ٹک ٹاک پر، پاکستان اور اس کے قومی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کی فیکٹری بنے ہوئے ہیں۔ یہ افراد خود تو طالبان کے روئے اور افغان تعلیمی اداروں کی تباہی کے بعد ملک چھوڑ کر بھاگ گئے، لیکن اب مغرب کی پناہ گاہوں میں بیٹھ کر محض اپنے فالوورز اور ویوز بڑھانے کیلئے پاک افغان عوام کے درمیان نفرت کا بیج بو رہے ہیں۔ ان کی اس غیر ذمہ دارانہ اور مذموم مہم کا خمیازہ پاکستان میں قانونی طور پر مقیم ان بے قصور افغان طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو کسی سیاسی یا نظریاتی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے صرف اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت پاکستان میں 2023ء سے جاری غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025ء تک 11 لاکھ سے زائد افغانوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے اور جولائی 2026ء کے بعد سے اس عمل میں مزید سختی لائی گئی ہے۔ پاکستان کو اپنی سرحدی سلامتی، امیگریشن قوانین اور قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل آئینی و قانونی حق حاصل ہے، لیکن جیسا کہ 10 ستمبر کے روزنامہ ڈان کے ادارئے میں بھی نشاندہی کی گئی، امیگریشن قوانین کا نفاذ اور قانونی دستاویزات رکھنے والے باقاعدہ طلبہ کو صرف ان کے پاسپورٹ کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کرنا دو الگ باتیں ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی تنازعات اپنی جگہ، مگر افغان طلبہ نہ تو طالبان حکومت کی پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی بیرونِ ملک مقیم پروپیگنڈا بازوں کے آلہ کار۔ حکومتِ پاکستان کیلئے سب سے بہترین اور متوازن راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ قانونی طور پر داخلہ حاصل کرنے والے اور اپنی ڈگری کے آخری مراحل میں موجود افغان طلبہ کے کیسز کو انفرادی بنیادوں پر دیکھا جائے اور انہیں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس سے نہ صرف ہزاروں نوجوانوں کا تعلیمی سفر تباہ ہونے سے بچ جائے گا بلکہ پاکستان کی ایک طویل انسانی اور تعلیمی روایت بھی برقرار رہے گی، کیونکہ یہ معاملہ صرف امیگریشن پالیسی کا نہیں بلکہ ریاستی تدبر اور انسانی اقدار کا امتحان بھی ہے۔