قوائد و ضوابت

یہ رہا آپ کی ویب سائٹ “دی خیبر ٹائمز” کے لیے مکمل، حتمی اور محفوظ “ادارتی ضابطہ اخلاق”۔ میں نے آپ کے فراہم کردہ نکات کو برقرار رکھتے ہوئے ان میں نئے حفاظتی نکات شامل کر دیے ہیں، تاکہ آپ کی صحافتی ساکھ مکمل طور پر محفوظ رہے۔

دی خیبر ٹائمز: ادارتی ضابطہ اخلاق (Editorial Code of Conduct)

“دی خیبر ٹائمز” اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے درج ذیل اصولوں پر کاربند ہے۔ ہمارے تمام نمائندگان اور لکھاریوں کیلئے ان اصولوں کی پاسداری لازمی ہے۔

1. حساس اور افسردہ ماحول میں رپورٹنگ
* غم زدہ یا صدمے سے دوچار ماحول میں رپورٹنگ کرتے وقت صحافی کو انتہائی محتاط رہنا چاہئے۔ سٹوری کو “جاندار” بنانے کیلئے کسی کے دکھ یا احساسات کا استحصال کرنا غیر اخلاقی ہے۔
* خبر کی کوریج کے دوران پولیس یا انتظامی کارروائی میں رکاوٹ نہ بنیں۔
* خودکشی یا کسی بھی المناک واقعے کی رپورٹنگ میں غیر ضروری تفصیلات سے گریز کریں اور انسانی جان کے تقدس کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

2. بچوں کے حقوق اور تحفظ
* عمر کی حد: 16 سال سے کم عمر افراد کو “بچہ” تصور کیا جائے گا۔ ان کی ذاتی زندگی پر کوئی غیر ضروری سوال نہیں کیا جائے گا۔
* اجازت نامہ: بچے کی تصویر، ویڈیو یا بیان کیلئے والدین یا اسکول انتظامیہ کی پیشگی اجازت لازمی ہے۔
* مالی تعاون: کسی بچے کی مدد کیلئے براہِ راست اس سے رابطہ کرنے کے بجائے والدین یا متعلقہ ادارے کے ذریعے بات چیت کی جائے۔

3. جنسی زیادتی کے واقعات اور بچوں کی رپورٹنگ
* 16 سال سے کم عمر بچے، جن پر جنسی حملہ ہوا ہو یا جو عینی شاہد ہوں، ان کی شناخت کسی بھی صورت ظاہر نہ کی جائے۔
* واقعے کی رپورٹنگ میں ملزم اور متاثرہ بچے کے مابین تعلق کو نمایاں کرنے سے گریز کریں۔
* خونی رشتوں میں زیادتی (Incest) جیسے کیسز میں لفظ کا استعمال کرنے سے گریز کریں، تاہم ایسی خبروں میں قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا اولین ترجیح ہے۔

4. ہسپتالوں میں رپورٹنگ
* ہسپتال کے حساس یا پرائیویٹ حصوں میں داخل ہونے سے پہلے اپنی شناخت ظاہر کرنا اور انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہے۔
* مریضوں کی پرائیویسی کا احترام کریں اور کسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی سے گریز کریں۔

5. جرائم کی رپورٹنگ
* کسی بھی جرم میں ملوث ملزم کے لواحقین یا دوستوں کی شناخت تب تک ظاہر نہ کی جائے جب تک جرم سے ان کا براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو جائے۔
* اگر کوئی بچہ جرم کا گواہ یا متاثرہ ہو تو اس کی شناخت کا تحفظ یقینی بنایا جائے، لیکن عدالتی و قانونی کارروائی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

6. خفیہ ذرائع اور معلومات کا حصول
* خفیہ کیمروں، ریکارڈنگ آلات یا دھوکہ دہی کا استعمال صرف اسی وقت کیا جائے گا جب عوامی مفاد کا تقاضا ہو اور کوئی اور راستہ باقی نہ ہو۔
* غیر اخلاقی یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ مواد کو شائع نہ کیا جائے۔

7. عدم تفریق اور تعصب سے گریز
* رپورٹنگ میں ذات پات، رنگ و نسل، صنف، یا جسمانی و ذہنی معذوری کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار کرنا ممنوع ہے۔
* مذہبی معاملات پر رپورٹنگ کرتے وقت انتہائی احتیاط اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جائے۔

8. معاشی صحافت اور مفادات کا تصادم
* معاشی رپورٹرز کیلئے اندرونی معلومات (Insider Information) کا استعمال اپنے یا کسی دوسرے کے ذاتی فائدے کیلئے کرنا سنگین اخلاقی جرم ہے۔
* اسٹاک مارکیٹ، شیئرز یا کمپنیوں کے رازوں سے فائدہ اٹھانا یا ان کی خرید و فروخت میں ملوث ہونا صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسی معلومات اپنے خاندان یا دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا بھی ممنوع ہے۔

9. مجرمانہ عناصر سے دوری
* خبر کے حصول کیلئے کسی مجرم، اس کے ساتھیوں یا خاندان کو ادائیگی کرنا “دی خیبر ٹائمز” کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اگر کسی خبر کیلئے مجرم کو معاوضہ دینا پڑے تو ایسی خبر شائع نہ کی جائے۔

10. ذرائع (Sources) کا تحفظ
* کسی بھی رپورٹر کے خفیہ ذرائع کی زندگی اور شناخت کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ خبر شائع ہونے کے بعد اگر ذرائع کی جان کو خطرہ ہو، تو ان کا نام کسی بھی قیمت پر ظاہر نہ کیا جائے۔

11. عدالتی کارروائی اور گواہان
* عدالتی مقدمات میں کسی گواہ کو رقم کی پیشکش کرنا یا ادائیگی کرنا سختی سے منع ہے، کیونکہ یہ عدالتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
* ایڈیٹرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گواہوں کو دی جانے والی کوئی بھی مدد (اگر انتہائی ضروری ہو) مقدمے کے نتائج پر اثر انداز نہ ہو۔

12. تنازعات اور سیکیورٹی معاملات کی رپورٹنگ
* غیر جانبدارانہ مشاہدہ: ہم کسی بھی سیکیورٹی ایشو یا تنازعہ پر رپورٹنگ کرتے وقت صرف مشاہدہ کار (Observer) کا کردار ادا کریں گے۔ “دی خیبر ٹائمز” کسی بھی غیر ریاستی یا کالعدم تنظیم کے ایجنڈے، نظریے یا کارروائی کی تائید یا تشہیر نہیں کرتا۔
* ریاستی و غیر ریاستی فریقین کا توازن: سیکیورٹی ایشوز پر رپورٹنگ کرتے وقت، جہاں ممکن ہو، ریاستی اداروں کے موقف کو بھی جگہ دی جائے گی تاکہ خبر میں توازن (Balance) برقرار رہے۔
* قانونی حدود: تمام رپورٹس ملکی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر لکھی جائیں گی۔ ایسی کوئی تحریر شائع نہیں کی جائے گی جو ریاستی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو یا جس سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہو۔

13. نفرت انگیز مواد اور اشتعال انگیزی
* نفرت کی ممانعت: کسی بھی ایسی تحریر، انٹرویو یا رائے کو جگہ نہیں دی جائے گی جو لسانی، نسلی، یا مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلانے یا تشدد پر اکسانے کا باعث بنے۔
* اشتعال انگیز زبان: ہم اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق اشتعال انگیز زبان کے استعمال کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد معلومات پہنچانا ہے، عوام کو کسی کے خلاف بھڑکانا نہیں۔

14. حقائق کی تصدیق
* تصدیق اولین ترجیح: سیکیورٹی ایشوز اور حساس موضوعات پر کسی بھی خبر یا دعوے کو شائع کرنے سے قبل کم از کم دو آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا لازمی ہے۔
* افواہوں سے گریز: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں یا پراپیگنڈا مواد کو بغیر تصدیق کے رپورٹ نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی اطلاع مشکوک ہو تو اسے “افواہ” یا “غیر مصدقہ اطلاع” کے طور پر واضح کر کے پیش کیا جائے گا۔
ایڈیٹوریل نوٹ:
“دی خیبر ٹائمز” ایک آزاد نیوز پلیٹ فارم ہے جو حقائق پر مبنی رپورٹنگ پر یقین رکھتا ہے۔ ہماری کوریج کا مقصد کسی بھی تنظیم یا گروہ کی حمایت نہیں، بلکہ علاقائی سیکیورٹی صورتحال کی غیر جانبدارانہ عکاسی کرنا ہے۔

نوٹ: ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے صحافی یا رپورٹر کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ دی خیبر ٹائمز ذمہ دار اور اخلاقی صحافت کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔