اہم خبریں

مزید پڑھیں
قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

آج کے کالمز

مزید پڑھیں

افغان مہاجرین ۔۔ واپسی کی کہانی

طورخم کے قریب جب سورج ڈھلتا ہے، تو مٹی اور دھول کے بادلوں کے بیچ لمبی قطاریں بنتی ہیں، مائیں اپنے بچوں کے ہاتھ تھامے، بوڑھے اپنے لاٹھیوں کے سہارے، اور نوجوان اپنے کاندھوں پر بوجھ کے ساتھ چلتے ہیں، مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بدامنی کا بڑھتا ہوا طوفان: عوامی احتجاج،…

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغواء، دھمکی آمیز واقعات اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کو پارہ پارہ مزید پڑھیں