اہم خبریں

مزید پڑھیں
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ : قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا، جب ضلع کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مقامی کاظم گروپ اور کالعدم جماعت الاحرار (JuA) کے امتی گروپ کے درمیان گھات لگا کر کیا گیا ایک مسلح تصادم ہوا۔ اس وحشیانہ مڈبھیڑ کے نتیجے میں 18 جنگجو ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں بعد ازاں مقامی افراد نے سپردِ خاک کر دیں۔ خیبر پختونخوا کے صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر ہونے والی بحث کے مطابق، یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہونے والا سب سے بڑا اور خونیں ترین واقعہ ہے، جس نے اس عسکریت پسند نیٹ ورک کی نام نہاد تنظیمی یکجہتی کے پردے کو چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے مابین کئی بار اختلافات پیدا ہوئے، لیکن وہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کر کے دوبارہ متحد ہو جاتے تھے۔ تاہم، اس حالیہ واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے مابین تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کے دوبارہ متحد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات میں بگاڑ کی اصل جڑ 7 اگست 2022 کو صوبہ پکتیکا میں عمر خالد خراسانی کو ان کے دیگر ساتھیوں سمیت ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں مارےگئے تھے۔ اس وقت بھی جماعت الاحرار ٹی ٹی پی سے الگ ہو گئی تھی، لیکن سراج الدین حقانی کی مداخلت اور عمر خالد خراسانی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے وعدے پر وہ دوبارہ متحد ہو گئے تھے۔ تاہم، آج تک نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس واقعے کی کوئی شفاف تحقیقات کی ہیں، جس کے نتیجے میں اب حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ اس تصادم کے فوری بعد جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان اسد منصور نے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کر کے تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے دھڑے پر اپنے 18 ساتھیوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ الزام عائد کیا۔ جماعت الاحرار نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اب اس خون کا بدلہ لینا ہم پر فرض ہو چکا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے کمانڈر کاظم نے مرکزی امیر مفتی نور ولی محسود کی براہِ راست ہدایات پر ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسد منصور کے مطابق، ان کے کل 28 ساتھی تھے جنہیں کمانڈر کاظم نے کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور پیغام بھیجا تھا کہ چند ضروری امور پر مشاورت کے لئے اکٹھے بیٹھیں اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ تاہم، اس مقام تک پہنچنے سے قبل ہی کمانڈر کاظم اپنے دیگر مسلح ساتھیوں سمیت گھات لگا کر بیٹھے تھے۔ جوں ہی ان کے ساتھیوں کی گاڑیاں وہاں پہنچیں، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کے 18 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 ساتھیوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اسد منصور نے بتایا کہ ان یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے افغانستان میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں انہیں رکھا گیا ہے۔ البتہ مقامی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ یرغمال بنائے گئے ان 10 افراد کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسد منصور کا ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی نے ان افراد کو غالباً اس لئے گرفتار کیا ہے تاکہ انہیں سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اسد منصور نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں ان کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ٹی ٹی پی ان یرغمالیوں کو بطور دباؤ استعمال کر کے ان تینوں اضلاع سے انہیں بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں عزم کا اظہار کیا کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک وہ ان تینوں اضلاع سے تحریک طالبان پاکستان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے، کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں جتنی بھی بڑی قربانی دینی پڑی، وہ اس کے لئے تیار ہیں اور ان علاقوں سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کئے بغیر دم نہیں لیں گے۔ دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے اس انتہائی حساس عسکری دھچکے پر مکمل سکوت اختیار کر رکھا ہے، جسے عسکری ماہرین تنظیم کے داخلی انتشار کو مزید بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے ایک تزویراتی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ اس خونریز مڈبھیڑ کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس میں شامل مقامی کمانڈروں کے تنظیمی کردار اور ان کے پس منظر کا احاطہ کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ تصادم بنیادی طور پر دو بااثر نیٹ ورکس کے مابین علاقائی بالادستی کی جنگ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سب سے نمایاں نام جماعت الاحرار کے اہم ترین فیلڈ کمانڈر ممتاز المعروف 'امتی' کا ہے، جو عمر خالد خراسانی کے انتہائی معتمد تھے اور کرم، خیبر، اور اورکزئی کے اضلاع میں 'امتی گروپ' کے سربراہ کے طور پر متحرک تھے۔ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ایک محسود کمانڈر نے ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی سے رابطہ کر کے اس واقعے اور جماعت الاحرار کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ مفتی نور ولی نے مختصر جواب میں کہا کہ یہ واقعہ تشویشناک ضرور ہے، مگر مرکزی قیادت کو اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ضلع کی سطح پر مقامی گروپوں کا باہمی تصادم ہے اور تاحال ان کی کرم کے مقامی ذمہ داروں سے اس معاملے پر بات نہیں ہو سکی ہے۔ مذکورہ محسود کمانڈر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس واقعے اور جماعت الاحرار کی جانب سے الزامات کے بعد انہوں نے امیرِ ٹی ٹی پی کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے، کیونکہ جماعت الاحرار نے اپنے بیانات میں براہِ راست مرکزی قیادت کا نام لیا ہے۔ کمانڈر کے مطابق، ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کیسے اور کیوں رونما ہوا ہے، لہٰذا کرم کے ذمہ داروں سے رابطے کے بعد ہی اس پر کوئی ٹھوس بات ہو سکے گی۔ فی الحال مرکزی قیادت کے پاس اس واقعے کی کوئی باضابطہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ کرم میں ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر کاظم ہیں، جن کے بارے میں ان کے آبائی علاقے کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاظم کی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں، البتہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے انتہائی رازدار اور بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں کاظم ایک انتہائی بااثر اور کٹر آپریشنل کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہیں ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ اس سارے عمل میں جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور اپنا میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی قیادت کو مسلسل انتقام کا انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں اور کرم پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے دس افراد کا تعلق افغانستان سے ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے کمانڈر کاظم کے علاوہ دیگر جنگجوؤں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی بڑی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں۔ جوپورے ضلع میں تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ کمانڈر کاظم کا تعلق لوئر کرم کے علاقے بگن سے ہے اور ان کا خاندان مقامی طور پر خاصا بااثر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے والد ملک گل رحمان المعروف گلے ملک، اپنے علاقے میں اورکزئی قوم کے معتبر نمائندے تھے۔ تاہم، گزشتہ سال 2025 میں کمانڈر کاظم کی عسکریت پسندی اور طالبان میں شمولیت کی پاداش میں گزشتہ سال 2025 میں حکومتی کارروائی کے دوران ان کا آبائی گھر مسمار کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا خاندان علاقہ چھوڑ کر روپوش ہو گیا ہے۔ جب قبائلی عمائدین سے اس خاندان کی روپوشی کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی کارروائی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اس ہجرت کا سبب بنے ہیں۔ عمائدین کے مطابق، کمانڈر کاظم کے ملوث ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کے خاندان کو شدید سکیورٹی خدشات لاحق ہو گئے تھے۔ انہیں یہ خوف تھا کہ کاظم کی دشمنیوں کے نتیجے میں ان کے دیگر بھائیوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک قبائلی ملک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کاظم کے بھائی کسی جہادی تنظیم سے ان کا تعلق نہیں، وہ محنت مزدوری کیلئے پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے والد بھی وہیں چلے گئے ہیں۔ تاہم، جس دن سے یہ خاندان گاؤں سے نکلا ہے، تب سے ان کا اپنے آبائی علاقے میں کسی بھی شخص سے کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔ یہ تصادم کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک دہائی پر محیط نظریاتی اور تنظیمی کشمکش کا منطقی انجام ہے۔ جماعت الاحرار نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اور اگرچہ 2020 میں انضمام کی کوشش کی گئی، لیکن 2022 میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت نے یہ خلیج ناقابلِ تلافی بنا دی۔ جماعت الاحرار کو یقین ہے کہ ان کے بانی نور ولی محسود نے قتل کروایا، اور اسی کشمکش کے باعث 2025 سے جماعت الاحرار نے اپنے متوازی دفاتر دوبارہ بحال کر لئے تھے۔ اس سے قبل جماعت الاحرار نے شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ اتحاد کی کوشش بھی کی تھی جو آپریشنل حدود اور کابل کے دباؤ کے باعث ناکام رہی، تاہم اب قوی امکان ہے کہ موجودہ خونریزی کے بعد وہ 'اتحاد المجاہدین پاکستان' میں شامل ہو جائے۔ سراج الدین حقانی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کیلئے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ وہ داعش (ISKP) کے پھیلاؤ کو روکنے، اپنی سرزمین پر داخلی جنگ سے بچنے، اور پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ان گروہوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس خونی تصادم کے معاشی محرکات بھی نہایت اہم ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق یہ کشیدگی دراصل ایک طویل عرصے سے جاری بھتہ خوری کی جنگ کا تسلسل ہے۔ قبائلی ضلع خیبر میں پہلے تحریک طالبان پاکستان (TTP) مائننگ کے ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتی تھی، تاہم جماعت الاحرار کے الگ ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ جماعت الاحرار نے ضلع خیبر میں منرلز کے ٹھیکیداروں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے ٹی ٹی پی کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا۔ یہی عمل بعد ازاں قبائلی ضلع اورکزئی میں دہرایا گیا، جہاں جماعت الاحرار نے کوئلے کی کانوں کے ٹھیکیداروں کو ٹی ٹی پی کو بھتہ دینے سے منع کر کے یہ سلسلہ خود سنبھال لیا۔ اب یہی تنازع ضلع کرم منتقل ہو چکا ہے، جس پر کمانڈر کاظم کو شدید اعتراض تھا۔ کرم، جو اپر، لوئر اور سینٹرل تین حصوں میں تقسیم ہے، وہاں کے منرلز ٹھیکیداروں سے کمانڈر کاظم کا گروپ بھتہ وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع بھر میں جاری تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں سے بھی کمانڈر کاظم پانچ فیصد بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ لہٰذا، جماعت الاحرار کی کرم میں آمد کمانڈر کاظم اور ان کے نیٹ ورک کیلئے اپنے وسیع معاشی مفادات پر ایک براہِ راست ضرب کی مانند تھی۔ مقامی عمائدین اور عوام سے کی گئی بات چیت کی روشنی میں، مستقبل کے حوالے سے دو اہم منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جماعت الاحرار باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے ایک الگ عسکری بلاک تشکیل دے دیں، جس سےقبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کا ڈھانچہ طاقت کے کئی مراکز میں بٹ جائے گا۔ دوسرا منظرنامہ یرغمالی بحران سے جڑا ہے، اگر مذاکرات ناکام رہے تو ٹارگٹ کلنگ کی ایک ایسی لامتناہی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کا حتمی فائدہ داعش (ISKP) کو پہنچے گا۔ داعش اس عسکری خلا کا فائدہ اٹھا کر کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرات کی زد میں آ جائے گا۔ مقامی عمائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یرغمال بنائے گئے دس افراد کے بدلے میں ٹی ٹی پی ایک مشروط معاہدے کی جانب جا سکتی ہے، جس میں یہ شرط رکھی جا سکتی ہے کہ جماعت الاحرار کا کوئی بھی رکن مستقبل میں ضلع کرم میں داخل نہیں ہوگا۔ اس تصادم کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس خطے کی عسکری تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اورکزئی کے عمائدین کے مطابق، پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کا پہلا امیر حافظ سعید خان تھا جس کا تعلق اورکزئی سے تھا۔ وہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے ناراض ہو کر داعش میں شامل ہوا اور 2016 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ حافظ سعید خان کے ہمراہ ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈروں نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان ابتدائی ساتھیوں میں کمانڈر گل زمان فتح نمایاں تھا، جو حافظ سعید خان کا دستِ راست اور داعش خراسان کا نائب امیر مقرر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹی ٹی پی کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد (اصل نام شیخ مقبول اورکزئی) اور کمانڈر دولت خان بھی داعش میں شامل ہونے والے اہم اورکزئی نژاد کمانڈر تھے۔ دوسری جانب، قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے خلیفہ عمر منصور کی داعش میں شمولیت ابتدائی طور پر متنازع رہی۔ اگرچہ وہ حافظ سعید خان کے قریبی ساتھی تھے، لیکن وہ ٹی ٹی پی مہمند (حال جماعت الاحرار) کے سربراہ مرحوم عمر خالد خراسانی کے ساتھ بھی گہری وابستگی رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی باضابطہ وابستگی ایک طویل عرصے تک غیر واضح رہی۔ مجموعی طور پر، ان ابتدائی بیعت کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا، کیونکہ حافظ سعید خان کا وہاں مضبوط اثر و رسوخ تھا۔ یہ تمام افراد بعدازاں مختلف امریکی ڈرون حملوں، افغان سیکیورٹی فورسز یا افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے۔ ان کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد داعش خراسان کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور تنظیم میں غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ اس تاریخی پس منظر کے باوجود، آج بھی اورکزئی اور ملحقہ ضلع کرم میں ایسے عناصر کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کا نظریاتی اور تنظیمی اتحاد اب ممکن دکھائی نہیں دیتا، جبکہ جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی سے راہیں جدا کرنے کے بعد ان کے مابین قربتوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ گروہ نہ صرف علاقے میں مشترکہ عسکری کارروائیوں میں ملوث ہیں، بلکہ معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری بھی کر رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ عناصر اب امیر کاروباری شخصیات اور بیرونِ ملک (خصوصاً متحدہ عرب امارات) میں مقیم خاندانوں کو بھی بھتے کی دھمکیاں دے کر وصولیوں کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔ اس عسکری انتشار کے ساتھ ساتھ کرم اور اورکزئی میں متحارب مذہبی و مسلکی جیسے نظریاتی مسائل بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ کرم کے عمائدین کے مطابق، داعش کا بنیادی ہدف مقامی اہل تشیع برادری ہے، جس کے پیشِ نظر اہل تشیع نے اپنے دفاع کیلئے کرم میں "زینبیون" اور "مہدی ملیشیا" جیسے جہادی نیٹ ورکس کو فعال کر رکھا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی اور فنڈنگ حاصل ہے۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کیلئے یہ ملیشیاز اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر ان کیلئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عمائدین کا خیال ہے کہ جماعت الاحرار اور داعش کے مقامی عناصر کے مابین بڑھتی ہوئی قربتیں اور ان کا کرم و اورکزئی میں متحرک ہونا، آنے والے دنوں میں سیکیورٹی فورسز اور اہل تشیع برادری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ گروہ اپنی معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی اداروں اور اہل تشیع برادری کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے۔ اس صورتحال نے کرم کو ایک ایسی نئی عسکری اور مسلکی کشمکش کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے، جہاں کسی بھی وقت فرقہ وارانہ تصادم کا نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس کے حکام سمیت ایک درجن سے زائد ذرائع کے ساتھ ہونے والی تفصیلی بات چیت کی بنیاد پر، میں تشویشناک نتائج کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ ان حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریاست کو اس باہمی لڑائی سے فائدہ ہو سکتا ہے، اس مفروضے کے ساتھ کہ جیسے جیسے یہ عسکریت پسند گروہ ایک دوسرے کو کمزور کریں گے، وہ فطری طور پر کمزور ہو جائیں گے اور ریاست کیلئے خطرہ کم ہوگا۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے سینیئر صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ جاری تنازعہ کے جلد ہی اورکزئی اور خاص طور پر کرم اضلاع میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عسکریت پسندی کے خاتمے کے بجائے، یہ داخلی جنگ ایک ایسا تزویراتی خلا پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے جسے دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (ISKP) استعمال کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر ISKP اس خلا میں متحرک ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ فرقہ وارانہ عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا بلکہ پاکستانی ریاست کیلئے ایک زیادہ خوفناک اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی ابھرے گا۔

قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ

دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ : قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی مزید پڑھیں

آج کے کالمز

مزید پڑھیں

افغان مہاجرین ۔۔ واپسی کی کہانی

طورخم کے قریب جب سورج ڈھلتا ہے، تو مٹی اور دھول کے بادلوں کے بیچ لمبی قطاریں بنتی ہیں، مائیں اپنے بچوں کے ہاتھ تھامے، بوڑھے اپنے لاٹھیوں کے سہارے، اور نوجوان اپنے کاندھوں پر بوجھ کے ساتھ چلتے ہیں، مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بدامنی کا بڑھتا ہوا طوفان: عوامی احتجاج،…

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغواء، دھمکی آمیز واقعات اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کو پارہ پارہ مزید پڑھیں