اہم خبریں

مزید پڑھیں
عوام کو ریلیف کیوں نہ ملا؟ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی حقیقت بے نقاب اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد اس فیصلے کی اصل وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکسوں اور مارجنز میں اضافہ کرکے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی حساب کتاب میں دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کم ہوئی جبکہ اسی مدت میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ اصولی طور پر اس کمی کے بعد صارفین کو قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی کا فائدہ ملنا چاہئے تھا، مگر حکومت نے اس کے برعکس دونوں مصنوعات کی قیمتیں یکساں طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھا دیں۔ مالیاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) میں ردوبدل ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی مزید بڑھا دی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اندرون ملک ترسیل اور تقسیم کے نام پر لیا جانے والا فریٹ مارجن بھی اوپر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں کا پورا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت پیٹرول پر لیوی ٹیکس نہ بڑھاتی اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں اضافہ نہ کرتی تو موجودہ حساب کتاب کے مطابق قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ہرگز نہ ہوتا، بلکہ امکان تھا کہ دونوں مصنوعات کی قیمتیں تقریباً جوں کی توں رہتیں یا معمولی کمی بھی ہو سکتی تھی۔ تاہم حکومتی ریونیو بڑھانے کے لئے قیمتوں کے تعین میں ٹیکس عنصر کو غالب رکھا گیا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے نہ صرف نجی ٹرانسپورٹ بلکہ مال برداری، زرعی مشینری، صنعتی پیداوار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مہنگائی کی نئی لہر متوقع ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے اور مال بردار گاڑیوں پر پڑے گا کیونکہ کھیتوں میں استعمال ہونے والے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور دیگر مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر چلتی ہیں۔ اسی طرح بین الصوبائی سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے سبزی، آٹا، دالیں اور روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور کار استعمال کرنے والے متوسط طبقے کی ماہانہ آمدورفت لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔ سیاسی و عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے ٹیکس وصولی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی صارف کو ریلیف نہیں ملتا تو پھر قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام صرف حکومتی محصولات بڑھانے کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع غیر رسمی طور پر یہ مؤقف دے رہے ہیں کہ مالیاتی خسارے، آئی ایم ایف اہداف اور ریونیو ضروریات کے باعث پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ناگزیر تھا، تاہم اس فیصلے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آئندہ ہفتوں میں بھی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو جمع کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تو مہنگائی کا مجموعی اشاریہ دوبارہ اوپر جا سکتا ہے۔ یوں واضح ہو گیا ہے کہ اس بار پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتی ٹیکس پالیسیوں اور اندرونی مارجن بڑھانے کے باعث کیا گیا، جس کا براہ راست خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔

پیٹرول سستا ہونا تھا مگر حکومت نے مہنگا کر دیا، 26 روپے 77 پیسے اضافے کے پیچھے ٹیکسوں کا چونکا دینے والا کھیل بے نقاب

اسلام آباد: ملک بھر کے کروڑوں شہری اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار آیا تھا اور مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت مزید پڑھیں

آج کے کالمز

مزید پڑھیں

افغان مہاجرین ۔۔ واپسی کی کہانی

طورخم کے قریب جب سورج ڈھلتا ہے، تو مٹی اور دھول کے بادلوں کے بیچ لمبی قطاریں بنتی ہیں، مائیں اپنے بچوں کے ہاتھ تھامے، بوڑھے اپنے لاٹھیوں کے سہارے، اور نوجوان اپنے کاندھوں پر بوجھ کے ساتھ چلتے ہیں، مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بدامنی کا بڑھتا ہوا طوفان: عوامی احتجاج،…

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغواء، دھمکی آمیز واقعات اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کو پارہ پارہ مزید پڑھیں