اہم خبریں

مزید پڑھیں
برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار مزید پڑھیں

آج کے کالمز

مزید پڑھیں

افغان مہاجرین ۔۔ واپسی کی کہانی

طورخم کے قریب جب سورج ڈھلتا ہے، تو مٹی اور دھول کے بادلوں کے بیچ لمبی قطاریں بنتی ہیں، مائیں اپنے بچوں کے ہاتھ تھامے، بوڑھے اپنے لاٹھیوں کے سہارے، اور نوجوان اپنے کاندھوں پر بوجھ کے ساتھ چلتے ہیں، مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بدامنی کا بڑھتا ہوا طوفان: عوامی احتجاج،…

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغواء، دھمکی آمیز واقعات اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کو پارہ پارہ مزید پڑھیں