اہم خبریں

مزید پڑھیں
اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کی بندش: لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پشاور ( رشید آفاق سے) وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کے خلاف جاری سخت کارروائیوں اور آئے روز چھاپوں کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ متاثرہ طبقے اور کاروباری حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دوست کے بجائے ’غریب دشمن‘ پالیسی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غریبوں کا روزگار چھیننے کے بجائے ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر ایک اوسط گیسٹ ہاؤس میں 10 ملازمین کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تک پہنچتی ہے، جبکہ بڑے گیسٹ ہاؤسز میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس اہم شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے بجائے اسے بند کروانے پر تلی ہوئی ہے، جس سے ایک بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو کر فاقہ کشی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ گیسٹ ہاؤس انڈسٹری سے وابستہ ایک شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی حکومت کا دعویٰ تو ملک سے غربت ختم کرنے کا تھا، لیکن موجودہ اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت غربت ختم کرنے کے بجائے غریب کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مار رہی ہے، مالکان اور ملازمین کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے، اور معمولی مسائل پر گیسٹ ہاؤسز کو سیل کر کے سیکڑوں افراد کو ایک ہی دن میں بے روزگار کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے مالکان اس کاروبار سے مایوس ہو کر اسے ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ان گیسٹ ہاؤسز کا یومیہ کرایہ 3 سے 4 ہزار روپے تک ہوتا ہے، جو کہ عام آدمی یا متوسط طبقے کی پہنچ میں ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مسافر، مریض اور ملازمت پیشہ افراد، جو دیگر فائیو اسٹار ہوٹلوں کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، انہی گیسٹ ہاؤسز میں قیام کرتے ہیں۔ متاثرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیسٹ ہاؤسز مالکان اور ان کے ہزاروں ملازمین کے روزگار پر رحم کرے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ کارروائیاں نہ صرف ایک پورے شعبے کو تباہ کر رہی ہیں، بلکہ ان غریب مسافروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کر رہی ہیں جو مجبوری کے تحت وفاقی دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ سخت گیر رویہ ترک کر کے افہام و تفہیم اور ضابطہ اخلاق کے تحت معاملات کو حل کرے۔

اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کی بندش: لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

پشاور ( رشید آفاق سے) وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز کے خلاف جاری سخت کارروائیوں اور آئے روز چھاپوں کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ متاثرہ طبقے اور کاروباری حلقوں نے حکومت کے مزید پڑھیں

آج کے کالمز

مزید پڑھیں

افغان مہاجرین ۔۔ واپسی کی کہانی

طورخم کے قریب جب سورج ڈھلتا ہے، تو مٹی اور دھول کے بادلوں کے بیچ لمبی قطاریں بنتی ہیں، مائیں اپنے بچوں کے ہاتھ تھامے، بوڑھے اپنے لاٹھیوں کے سہارے، اور نوجوان اپنے کاندھوں پر بوجھ کے ساتھ چلتے ہیں، مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں بدامنی کا بڑھتا ہوا طوفان: عوامی احتجاج،…

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز خیبرپختونخوا اور بالخصوص سابقہ قبائلی اضلاع ایک بار پھر شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ، اغواء، دھمکی آمیز واقعات اور بم دھماکوں نے نہ صرف امن و امان کو پارہ پارہ مزید پڑھیں