صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک بار پھر خطرناک ثابت ہونے لگے ہیں جہاں صومالیہ کے قریب سرگرم بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرکے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق “اونر 25” نامی اس آئل ٹینکر پر 21 اپریل کو مسلح قزاقوں نے دھاوا بولا اور جہاز کو یرغمال بنا لیا، جبکہ اس پر سوار 11 پاکستانی ملاحوں سمیت مجموعی عملہ تاحال قزاقوں کے قبضے میں ہے۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے کئی روز گزر جانے کے باوجود جہاز سے رابطہ بحال نہیں ہوسکا، جس کے باعث پاکستان میں موجود عملے کے اہل خانہ شدید اضطراب اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف پورٹس اینڈ شپنگ کی جانب سے بھی پاکستانی کریو سے براہِ راست رابطہ قائم نہیں ہوسکا، جبکہ جہاز بھیجنے والی متعلقہ شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہاز پر موجود عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ دیگر ممالک کے ملاح بھی شامل ہیں۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف غیر رسمی ذرائع سے اتنی اطلاع ملی ہے کہ جہاز پر موجود انڈونیشین کپتان کی رہائی کے لئے انڈونیشیا کی حکومت نے قزاقوں سے رابطے شروع کر دئے ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے بارے میں اب تک کوئی واضح حکومتی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ یرغمال پاکستانی ملاحوں کے اہل خانہ کے مطابق کئی دن گزر چکے ہیں مگر نہ شپنگ کمپنی کوئی جواب دے رہی ہے، نہ سرکاری ادارے تسلی بخش معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اہل خانہ نے کہا ، کہ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے بچے زندہ ہیں یا زخمی، ان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، حکومت فوراً عملی اقدامات کرے۔" متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم، وزارت خارجہ، وزارت بحری امور اور پاکستانی سفارتی مشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر رابطے کرکے پاکستانی عملے کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب خلیج عدن اور بحیرۂ عرب کے بعض حصے طویل عرصے سے بحری قزاقوں کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے خطرناک ترین سمندری روٹس میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی بحری گشت کے باعث قزاقی کے واقعات میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں دوبارہ ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بحری قزاق عموماً تجارتی جہازوں یا آئل ٹینکرز کو گھیر کر ان کے عملے کو یرغمال بناتے ہیں اور بعد ازاں بھاری تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض کیسز میں مذاکرات ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک جاری رہتے ہیں، جس کے دوران ملاح انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ سمندری شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ملاح بڑی تعداد میں غیر ملکی جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں لیکن بیرونِ سمندر ہنگامی حالات میں ان کی سکیورٹی، انشورنس، قانونی تحفظ اور فوری سفارتی معاونت کے حوالے سے پاکستان کا نظام اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اونر 25 کے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا پاکستانی حکام نے جہاز کے روٹ، سکیورٹی پروٹوکول اور ہائی رسک زون میں داخلے سے متعلق پہلے سے کوئی نگرانی کی تھی یا نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جہاز پر مسلح سکیورٹی موجود تھی یا نہیں اور حملے کے وقت ایمرجنسی سگنل کیوں مؤثر ثابت نہ ہوسکا۔ تاحال وزارت بحری امور، وزارت خارجہ یا متعلقہ پاکستانی سفارتی حکام کی جانب سے کوئی جامع باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر خاندانوں اور بحری ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بین الاقوامی رابطے نہ کئے گئے تو عملے کی رہائی کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال پورے ملک کی نظریں حکومت کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں جبکہ 11 پاکستانی خاندان اپنے پیاروں کی ایک خیریت کی خبر کے منتظر ہیں۔

صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر دھاوا، 11 پاکستانی ملاح یرغمال، خاندانوں میں شدید بے چینی

اونر 25 نامی جہاز 21 اپریل سے لاپتہ، پاکستانی حکام اور شپنگ ایجنسی کی خاموشی نے معاملہ مزید تشویشناک بنا دیا پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) بحیرۂ عرب سے افریقی ساحل کی جانب جانے والے سمندری راستے ایک مزید پڑھیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں خصیوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ نہیں بلکہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر گہرے انحصار رکھتے ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سیاسی کشیدگی نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک جانے والے تجارتی نیٹ ورک کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بندش کے اثرات افغانستان پر نسبتاً زیادہ شدید پڑے ہیں، جہاں برآمدی خسارہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں جہاں مجموعی دوطرفہ تجارت 2.461 ارب ڈالر کے قریب تھی، وہیں 2025 میں یہ کم ہو کر 1.766 ارب ڈالر تک آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ سرحدی بندشیں، لاجسٹک مسائل اور سیاسی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جو 1.644 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.261 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات 817 ملین ڈالر سے کم ہو کر 505 ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس معاشی جال کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں میں آہستہ آہستہ قائم ہوا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ افغانستان کی درآمدی ضروریات جو پہلے پاکستان کے راستے سے بڑی حد تک پوری ہوتی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ تجارت محدود ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں کنٹینرز مختلف سرحدی راستوں پر پھنس گئے، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سامان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے بھی تاجروں پر بوجھ بنے رہے۔ اس صورتحال نے لاجسٹک کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بندش کا اثر صرف بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ واضح ہیں۔ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کی روزی براہ راست اس تجارت سے وابستہ ہے۔ جب سرحدیں بند ہوئیں تو ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور زرعی اجناس کے تاجر سب متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار کی برآمد رکنے سے کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان کی پیداوار منڈی تک نہ پہنچ سکی اور انہیں کم قیمت پر مقامی سطح پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریونیو کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کو واضح نقصان ہوا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانزٹ فیس اور دیگر تجارتی محصولات میں کمی نے سرکاری آمدنی پر اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر اضافی دباؤ اور غیر کلیئر شدہ سامان کی موجودگی نے لاجسٹک اخراجات بڑھا دئے ہیں، جبکہ افغانستان میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو جاتی تو دونوں معیشتوں پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے تھے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان جو روزگار کے لئے ان راستوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک آمدنی سے محروم ہو گئے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے مزدوروں اور تاجروں کو ویزہ اور سرحدی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں غربت میں اضافہ اور بے روزگاری نمایاں ہیں۔ اسی پس منظر میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کے امکانات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین کی ثالثی نے اس عمل کو ایک نیا رخ دیا ہے، جہاں سیکیورٹی اور تجارت کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محدود پیمانے پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی ری-ایکسپورٹ کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مکمل تعطل کے بجائے مرحلہ وار بحالی کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر سیاسی اعتماد بحال ہو اور سیکیورٹی خدشات کم ہوں تو تجارت تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان جزوی بحالی کا ہے، جس میں محدود گزرگاہیں اور کنٹرولڈ تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور کم مثبت امکان یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرحدی بندشیں طویل ہو سکتی ہیں، جس کا اثر صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی تجارت متاثر ہو گی۔ اس پوری صورتحال کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا خطے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر اپنی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ اسی لئے ماہرین مشترکہ کسٹمز نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ، فاسٹ ٹریک گزرگاہوں اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک زیادہ مستحکم تجارتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہیں۔ اگر اعتماد کی فضا بحال ہو جائے تو یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خلا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز …. ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ مزید پڑھیں

واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار 
واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں تقریب میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقریب واشنگٹن کے معروف ہلٹن ہوٹل میں جاری تھی جہاں وائٹ ہاؤس کی کوریج کرنے والے صحافیوں، میڈیا نمائندوں، حکومتی شخصیات اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ عشائیے کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ہال میں ایک زور دار آواز گونجی جسے ابتدائی طور پر کچھ شرکا نے دھماکہ یا شیشے ٹوٹنے کی آواز سمجھا، لیکن چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز تھی۔ رپورٹس کے مطابق واقعے سے چند سیکنڈ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیکورٹی پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی پرچی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دی گئی تھی۔ پرچی ملتے ہی صدر ٹرمپ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے جبکہ ان کے قریب بیٹھی ایک خاتون کو بھی واضح طور پر حیرت اور پریشانی میں دیکھا گیا۔ اس کے فوراً بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار حرکت میں آئے اور پورے بال روم میں ایمرجنسی ردعمل شروع ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دینے پر تقریب میں موجود متعدد مہمان چیخ اٹھے اور کئی افراد اپنی میزوں کے نیچے چھپ گئے۔ کچھ صحافیوں نے موبائل فونز بند کر کے زمین پر لیٹنے کو ترجیح دی جبکہ سیکریٹ سروس کے مسلح اہلکاروں نے چند ہی لمحوں میں صدر ٹرمپ کو حصار میں لے کر ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ اسی دوران کئی اہلکاروں نے اسلحہ تان کر داخلی راستوں کو گھیر لیا اور مشتبہ شخص کی تلاش شروع کردی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب نصب میگنیٹو میٹر کی جانب تیزی سے بڑھا اور اسی دوران اس نے بال روم کے قریب موجود ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی مارنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اہلکار جوابی کارروائی کے لئے فوراً متحرک ہوئے اور حملہ آور کو قابو میں کر لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی حالت سے متعلق فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد پورے ہوٹل کو سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا اور بم ڈسپوزل، فرانزک اور وفاقی تفتیشی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا سیاسی محرک کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں حملہ آور کے پس منظر، اس کی ہوٹل تک رسائی اور اسلحہ اندر لانے کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ تقریب میں صدر کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں ہونے والا یہ عشائیہ امریکی سیاسی اور صحافتی حلقوں کا ایک اہم سالانہ اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں صدور عموماً صحافیوں سے غیر رسمی انداز میں ملاقات کرتے ہیں۔ ایسے حساس موقع پر فائرنگ نے امریکی سیکیورٹی سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فائرنگ کے واقعے کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں یہ ایک غیر معمولی شام تھی، سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار اور بہادرانہ کام کیا، انہوں نے چند لمحوں میں صورتحال کو قابو میں لیا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہوں نے سفارش کی تھی کہ شو جاری رہنے دیا جائے، تاہم تمام فیصلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ہدایات کے مطابق کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کو یہ جان کر اطمینان ہونا چاہئے کہ سیکیورٹی ادارے ہر خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ آئندہ صدارتی انتخابی ماحول میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کئی متنازع سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے بیچ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پیش آنے والی اس فائرنگ نے ایک بار پھر امریکی داخلی سلامتی کے نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

واشنگٹن میں ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس میڈیا ڈنر پر فائرنگ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور گرفتار


واشنگٹن ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے مزید پڑھیں

پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ 
پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے محتاط سفارت کاری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو جذباتی بیانات یا وقتی تنازعات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ قومی مفاد، خطے کے استحکام اور عوامی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ افغان وزارت خارجہ کے ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کی چھٹی تخصصی تربیتی کورس کی تقریبِ فراغت سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ چین کے شہر ارومچی میں کابل اور اسلام آباد کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کو افغانستان میں سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی، سرحدی تنازعات، مہاجرین کی واپسی اور دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے دباؤ کا شکار رہے، بیجنگ میں ہونے والا سفارتی رابطہ ایک نئی امید کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مولوی امیر خان متقی نے تقریب سے خطاب میں نئے افغان سفارتکاروں کو خصوصی طور پر ہدایت دی کہ وہ ایسے بڑے اور حساس معاملات میں انتہائی محتاط رہیں جن میں دو برادر اسلامی اور پڑوسی ممالک شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفارتکار کی اصل آزمائش انہی نازک مواقع پر ہوتی ہے جب اسے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ کس بیان، کس مؤقف اور کس سفارتی انداز سے ملک کو فائدہ ہو سکتا ہے اور کس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول افغانستان اس وقت خطے میں تنہائی نہیں بلکہ روابط، تعاون اور توازن کی پالیسی چاہتا ہے، اس لیے نئی سفارتی کھیپ کو جذبات سے زیادہ تدبر اور حکمت کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں گزشتہ ایک سال کے دوران مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ اسی دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں، افغان مہاجرین کی بے دخلی، اور دونوں جانب سے سخت بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر کہا کہ افغانستان کو اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہوگا، جبکہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ مسائل کا حل دباؤ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات میں ہے۔ انہی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث چین نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلے کم کرنے کے لئے متحرک کردار ادا کیا۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی اتحادی ہے بلکہ افغانستان میں بھی معدنیات، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بیجنگ یہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سی پیک کے توسیعی امکانات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی کے علاقائی اہداف کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اسی پس منظر میں چین نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سرگرم سفارت کاری کی۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، مہاجرین، ٹرانزٹ تجارت، سفارتی رابطوں کی بحالی اور باہمی اعتماد سازی جیسے امور زیر بحث آئے۔ اگرچہ مذاکرات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، تاہم دونوں فریقوں کی جانب سے لہجے میں نرمی دیکھی گئی، جسے مبصرین ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پشاور اور کابل کے تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کو مثبت قرار دینا محض رسمی بیان نہیں بلکہ کابل کی پالیسی میں ایک محتاط سفارتی اشارہ ہے۔ یہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنا چاہتی ہے، کیونکہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور اندرونی دباؤ کے باعث افغانستان مزید علاقائی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ متقی کا سفارتکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ ہر حساس مسئلے میں “ملکی فائدہ اور نقصان” کو سمجھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل حکومت اپنی نئی سفارتی ٹیم کو زیادہ عملی، مفاداتی اور کم جذباتی خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہ صرف افغان تجارت کے لئے ضروری ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک معتدل اور ذمہ دار ریاستی روئے کا تاثر دینے کے لیے بھی ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق چین کی میزبانی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی رابطوں کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اگر بیجنگ مذاکرات کے بعد اعتماد سازی کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی راستوں کی بحالی، سفارتی نمائندگی کے دائرہ کار میں اضافہ اور سیکیورٹی تعاون کے نئے فریم ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مولوی امیر خان متقی کے حالیہ بیان نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو تصادم سے نکال کر سفارت کاری کی پٹڑی پر واپس لانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسلام آباد اور کابل اس نرم ہوتے ہوئے سفارتی ماحول کو عملی پیش رفت میں بدل پاتے ہیں یا نہیں؟

پاکستان سے اچھے تعلقات ناگزیر، ارومچی مذاکرات نے بہتر مستقبل کی راہ کھول دی، افغان وزیر خارجہ


پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے مزید پڑھیں

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے چند ہفتوں میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے اس اعلان نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے ضروری قانونی مسودہ جلد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ اس اقدام کو برطانیہ میں موجود بعض یہودی تنظیموں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالف گروہوں کی دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جو کافی عرصے سے اس ادارے پر پابندی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ برطانوی قانونی نظام میں اب تک یہ روایت رہی ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کے تحت صرف غیر ریاستی عناصر اور تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی باقاعدہ ریاستی فوج یا سرکاری ادارے کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم مجوزہ قانون سازی اس روایت میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو برطانیہ پہلی بار کسی غیر ملکی ریاستی فوجی ادارے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ایران برطانیہ تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے بلکہ یورپی یونین کی پالیسی سے بھی ہم آہنگ ہوتا دکھائی دیتا ہے، کیونکہ یورپی یونین پہلے ہی فروری میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لئے ابتدائی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد برطانیہ کا ممکنہ اقدام مغربی دنیا میں ایران کے خلاف ایک مشترکہ سخت مؤقف کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات برقرار ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ کا یہ قدم ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے اور سخت مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون سے متعلق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی ریاستی فوجی ادارے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا اقدام عالمی سفارتی نظام میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے اور اس کے طویل مدتی سیاسی و قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ قانون سازی آنے والے ہفتوں میں پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید بحث متوقع ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور بین الاقوامی امن کے مفاد میں ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیاں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں خطے میں اپنے سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہیں۔

برطانیہ میں پاسداران انقلاب کو دہشتگرد قرار دینے کی قانون سازی کی تیاری

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) لندن میں برطانوی حکومت نے ایران کے حوالے سے ایک بڑے اور غیر معمولی قانونی اقدام کی تیاری شروع کر دی ہے جس کے تحت ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار مزید پڑھیں

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام آباد پہنچنا خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں اور اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و سفارتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے سفارتی کردار سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص امریکا کی جانب سے مسلط کردہ اقدامات کے اثرات پر پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے تمام سفارتی مشاہدات اور موجودہ صورتحال پر مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا تاہم امریکا کے ساتھ کسی ملاقات یا باضابطہ مذاکرات کا کوئی ایجنڈا زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور موجودہ حالات میں ترجیح خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی برسوں سے عروج پر ہے اور مختلف ادوار میں اگرچہ بالواسطہ سفارتی رابطے سامنے آتے رہے ہیں تاہم براہ راست مذاکرات کبھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پہلے مرحلے کے دوران عمان اور کچھ یورپی ممالک کی ثالثی سے محدود رابطے ہوئے تھے جن میں بنیادی طور پر جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی غیر رسمی چینلز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے وزیر خارجہ کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال حساس ہے اور مختلف ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ پاکستان کو اس پورے عمل میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست ملاقات کی تردید سامنے آ چکی ہے لیکن خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پس پردہ رابطوں اور بالواسطہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے کیونکہ خطے میں اس کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ موجود ہیں اور وہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک نرم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے واضح تردید کے بعد یہ بات مزید نمایاں ہو گئی ہے کہ فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی براہ راست مذاکراتی عمل کی باضابطہ شروعات نہیں ہوئی تاہم اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں خطے کی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

ایران نے امریکا سے ملاقات کی خبروں کی تردید کر دی، ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد دورہ، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز

پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے طے ہونے کی خبروں کو تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کا اسلام مزید پڑھیں

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے کر اپنے ہی ملک کے عوام کو چونکا دیا ہے۔ رضا پہلوی نے ان تباہ کن حملوں میں مرنے والے بچوں خواتین اور عام شہریوں کی اموات کو ضمنی نقصان کہہ کر نہ صرف ایک بڑا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا بلکہ اپنی سیاسی سوچ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دئے گئے انٹرویو میں صحافی نے جب ان سے دو ٹوک سوال کیا کہ آپ جسے ضمنی نقصان کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہزاروں ایرانی شہریوں کی جانیں ہیں۔ کیا آپ ایران پر مسلط جنگ کی حمایت کرکے اپنے لئے ایرانی سیاست میں کوئی جگہ باقی چھوڑ رہے ہیں۔ اس پر رضا پہلوی نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ کے نزدیک بڑے نقصان سے کیا مراد ہے کیونکہ مجھے ایرانی حکومت کے اعداد و شمار پر یقین نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں اموات ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر ہلاکتیں حکومتی عناصر کی ہیں۔ رضا پہلوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ عالمی رپورٹس ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس تصویر پیش کر رہی ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے جنگ بندی تک امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بمباری میں کم از کم 3 ہزار 400 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ تباہ ہونے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات اسکول اسپتال اور بنیادی شہری تنصیبات شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر بمباری سے 168 کمسن بچے جان سے گئے تھے۔ ان مناظر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر رضا پہلوی نے ان جانوں کو بھی سیاسی مقصد کے نیچے دبا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے رضا پہلوی کے بیان کو غیر انسانی اور بے حس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کو ضمنی نقصان کہنا دراصل ظلم کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ایسا شخص جو اپنے ہی ملک کے بچوں کی لاشوں پر سیاسی تبدیلی کی امید باندھے وہ اخلاقی طور پر قیادت کا دعویٰ کھو دیتا ہے۔ رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جن کے خاندان کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔ تب سے وہ مغربی دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ایران میں نظام کی تبدیلی کا متبادل چہرہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ایران کے اندر انہیں ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بیرونی طاقتوں کے سہارے اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ ان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ایران مخالف ایجنڈے کے قریب ہیں۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہوا جب رضا پہلوی گزشتہ برس اسرائیل کے غیر معمولی دورے پر گئے اور وہاں اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کرکے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی اداروں اور تھنک ٹینکس میں بھی بارہا ایران پر مزید پابندیوں اور عالمی دباؤ کی وکالت کی۔ اب تازہ بیان نے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیا ہے کہ رضا پہلوی صرف حکومت کے مخالف نہیں بلکہ ایران پر بیرونی حملوں کے بھی سیاسی حامی بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے اس مؤقف پر صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ بیرون ملک موجود ایرانی اپوزیشن کے کئی حلقے بھی ان سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ متعدد اپوزیشن کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومت سے اختلاف اپنی جگہ مگر غیر ملکی بمباری میں معصوم شہریوں کی موت کو نظرانداز کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایسے بیانات کسی بھی ممکنہ قومی رہنما کو عوام کے دلوں سے نکالنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ جو شخص اپنے ہی وطن کے بچوں خواتین اور عام شہریوں کے خون کو محض ضمنی نقصان کہے وہ ایران کا نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ کئی صارفین نے انہیں جنگ کا سیاسی تماشائی اور مغربی منصوبے کا ترجمان قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ جنگی دباؤ سے ایرانی حکومت کمزور ہوگی اور وہ خود ایک متبادل سیاسی چہرے کے طور پر ابھریں گے لیکن شہری ہلاکتوں پر ان کی بے حسی نے یہ امکان بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایرانی عوام پہلے ہی بیرونی حملوں پر مشتعل ہیں اور اب ایسے بیانات ان شخصیات کے خلاف بھی نفرت بڑھا رہے ہیں جو اس تباہی کو جائز قرار دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق رضا پہلوی کا یہ بیان صرف ایک سیاسی لغزش نہیں بلکہ ان کی سوچ کی عکاسی ہے جس میں اقتدار کی خواہش انسانی جانوں کے احترام سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب ایران کی جنگی سیاست میں ایک نئے اور نہایت تلخ تنازعے کا مرکز بن چکا ہے۔

رضا پہلوی نے ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کو بھی نظرانداز کردیا، امریکا اسرائیل بمباری میں ہزاروں اموات کو ضمنی نقصان قرار دیدیا

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے معزول شاہ کے بیٹے اور خود ساختہ جلاوطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی شدید بمباری میں ہونے والی ہزاروں شہری ہلاکتوں کو بھی معمولی قرار دے مزید پڑھیں

امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور اداروں کو خبردار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اسے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ چین کی ایک معروف نجی آئل ریفائنری اور اس سے منسلک شپنگ نیٹ ورک ایران سے خام تیل خریدنے، ذخیرہ کرنے اور عالمی منڈیوں تک منتقل کرنے میں ملوث پایا گیا، جس کے بعد ان پر باضابطہ پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں متعدد شپنگ فرمیں، سمندری لاجسٹک آپریٹرز، آئل بروکرز اور تقریباً 40 ٹینکرز شامل ہیں جو مبینہ طور پر ایرانی تیل کو خفیہ راستوں، جعلی دستاویزات اور مختلف جھنڈوں کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچاتے رہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی تیل برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خطے میں عسکری سرگرمیوں، اتحادی ملیشیاؤں کی معاونت اور حساس جوہری پروگرام کے لئے استعمال کرتا ہے، اس لیے واشنگٹن ایران کے ہر اس مالی ذریعے کو نشانہ بنا رہا ہے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود زندہ رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ، جو کمپنیاں، بینک، شپنگ ادارے یا ریفائنریز ایرانی تیل کے کاروبار میں شریک ہوں گی، انہیں امریکی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صرف ایران ہی نہیں بلکہ ان تمام بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف ہیں جو تہران کی تیل تجارت کو سہارا دے رہے ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ جو بھی ملک یا کمپنی ایران سے تیل خریدے گی یا اس کے ساتھ کاروبار کرے گی، اسے امریکی پابندیوں کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا تھا کہ ایران کو معاشی طور پر مکمل تنہائی میں دھکیلنا واشنگٹن کی ترجیح ہے تاکہ تہران کو اپنے جوہری اور علاقائی پالیسیوں پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ پابندیاں اسی زیرو ایرانی آئل ایکسپورٹ حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران سے خام تیل خریدنے والے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اگرچہ چین سرکاری سطح پر امریکی یکطرفہ پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، تاہم چینی نجی ریفائنریز اور آزاد شپنگ نیٹ ورکس ایران سے رعایتی نرخوں پر خام تیل حاصل کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی یومیہ لاکھوں بیرل تیل کی فروخت کا بڑا حصہ چین کو مختلف غیر رسمی راستوں سے بھیجتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اکثر جہازوں کے نام تبدیل کئے جاتے ہیں سمندر میں تیل ایک ٹینکر سے دوسرے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ کارگو دستاویزات میں اصل ملک چھپایا جاتا ہے، مختلف ممالک کے جھنڈے استعمال کئے جاتے ہیں امریکا کا دعویٰ ہے کہ تازہ پابندیاں اسی خفیہ نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے لگائی گئی ہیں۔ ایران کی معیشت پہلے ہی شدید افراط زر، کرنسی کی گراوٹ، بے روزگاری اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔ ایسے میں تیل کی برآمدات ہی تہران کیلئے سب سے بڑا زرمبادلہ ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر چین کی ریفائنریز اور شپنگ نیٹ ورکس پر امریکی دباؤ مؤثر ثابت ہوتا ہے تو ایران کی یومیہ تیل برآمدات میں کمی آسکتی ہے، حکومت کی آمدنی متاثر ہوگی، عالمی ادائیگیوں کا نظام مزید محدود ہوگا، ایرانی ریال پر دباؤ بڑھے گا۔ بیجنگ نے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں چین امریکی یکطرفہ اقتصادی اقدامات کو بین الاقوامی تجارت میں مداخلت قرار دیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب، امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایران امریکا جوہری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، اس لئے تازہ پابندیاں صرف ایران مخالف اقدام نہیں بلکہ چین کو بھی ایک واضح سفارتی پیغام تصور کی جا رہی ہیں۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایرانی تیل کی سپلائی مزید محدود ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سیکیورٹی خدشات اور سمندری راستوں کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری گزرگاہوں میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایران کے خلاف صرف براہ راست پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ تہران کے ہر تجارتی شراکت دار، خریدار اور ترسیلی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ، واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر اس نہج پر لے جانا چاہتا ہے جہاں وہ یا تو مذاکرات میں مکمل لچک دکھائے یا شدید مالی بحران کا سامنا کرے۔

امریکا نے چین کی آئل ریفائنری اور شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں، ایران کی تیل برآمدات نشانے پر

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والی چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری، تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ مزید پڑھیں

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یقینی، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری اسلام آباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جب کہ سفارتی حلقے کسی حتمی پیش رفت کے منتظر ہیں۔ اسلام آباد میں موجود باخبر سفارتی ذریعے کے مطابق اب تک نہ تو کسی نئی تاریخ کی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی تہران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی جواب سامنے آیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کئی برسوں سے کشیدگی کا شکار ہیں، جس کی بڑی وجوہات میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، اور باہمی اعتماد کا فقدان شامل ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکا کی علیحدگی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے محدود اور بالواسطہ سفارتی کوششیں زیادہ اہم ہوگئیں۔ گزشتہ عرصے میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث مختلف ممالک، بالخصوص پاکستان، نے دونوں فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں تیز کیں۔ اسلام آباد میں موجود سرکاری زرائع کے مطابق جب آئندہ مذاکراتی دور کے بارے میں پیش رفت سے متعلق سوال کیا گیا تو جواب مختصر مگر معنی خیز تھا: انتظار کر رہے ہیں۔ اس جواب کو سفارتی حلقے محتاط مگر امید افزا ماحول کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور مختلف سطحوں پر بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک سہولت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ فعال رابطے میں ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور پائیدار امن کے امکانات کو فروغ دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری کا بنیادی مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا اور ایسے کسی بھی تصادم سے بچاؤ ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے امیدوں پر بات کرتے ہوئے ایک سرکاری زرائع نے مذہبی حوالے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مثبت پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم سفارتی ماہرین کے مطابق صورتحال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی، سیکیورٹی اور سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ فی الحال صورتحال جوں کی توں ہے اور دنیا ایک واضح اشارے کی منتظر ہے، چاہے وہ کسی نئی تاریخ کا اعلان ہو یا تہران کی جانب سے باضابطہ جواب، جو اسلام آباد میں مجوزہ مذاکراتی عمل کے دوسرے دور کی راہ ہموار کر سکے۔

امریکا اور ایران مذاکرات کے دوسرے دور پر غیر یقینی، پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری

اسلام آباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے، جب کہ سفارتی حلقے کسی حتمی پیش رفت کے منتظر ہیں۔ اسلام آباد میں موجود مزید پڑھیں