A high-level signing ceremony in a Kabul conference room with Afghan and Saudi delegates seated at a mahogany table displaying energy blueprints, maps, and model pipelines against a backdrop of mountains at sunset.

سعودی اورافغان توانائی معاہدہ: جیو اکنامکس اور علاقائی تزویراتی توازن

سعودی افغان 50 ارب ڈالر معاہدہ: جنوبی ایشیا کی جیو اسٹریٹیجک بساط پر نیا موڑ تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ جنوبی اور وسطی ایشیا کی جیو اسٹریٹیجک بساط پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت نے مزید پڑھیں

Afghan refugees hold protest signs outside the UNHCR office in Peshawar, urging protection and third-country resettlement.

طالبان کا خوف اور عالمی ادارے کی بے حسی: بے وطن افغانوں کا آخری احتجاج

دی خیبر ٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: کاشف عزیز پشاور کی جھلساتی ہوئی تپتی دھوپ میں، جب سڑکوں سے دُھواں اٹھ رہا تھا اور آسمان سے آگ برس رہی تھی، پسینے میں شرابوربافغان مہاجر خاتون صفیہ اپنے پامال شدہ انسانی حقوق مزید پڑھیں

Alt text improves accessibility for screen readers and serves as the primary SEO signal for Google Images. Keep it descriptive, concise, and under 125 characters.

بدخشان میں طالبان مخالف “محاذِ آزادی” کی سرگرمیوں کا دعویٰ، کیا افغانستان ایک نئے سیکیورٹی چیلنج کی طرف بڑھ رہا ہے؟

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف گروپ محاذِ آزادی افغان فریڈم فرنٹنے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو پورے بدخشان میں متحرک ہیں اور چین سے ملحق اہم واخان راہداری مزید پڑھیں

Symbolic illustration of security forces in Badakhshan, Afghanistan, following the killing of a Taliban provincial official during an ongoing investigation.

بدخشان میں طالبان کے ثقافتی ڈائریکٹر کے قتل کا معمہ: گرفتار ملزم نے داعش خراسان سے تعلق کا دعویٰ کیا، تفتیش نئے مرحلے میں داخل

پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں صوبائی محکمۂ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر مولوی صدیق اللہ قریشی کے قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طالبان زرائع کے مطابق مزید پڑھیں

Armed anti-Taliban resistance fighters operating in Afghanistan's mountainous Badakhshan region.

افغانستان میں مزاحمت عروج پر: بدخشان سمیت شمالی صوبوں کی تازہ ترین صورتحال

دی خیبر ٹائمز : تحقیقی رپورٹ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں گزشتہ چند ہفتوں سے امارتِ اسلامیہ (طالبان حکومت) کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ عسکریت پسند تحریکوں اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت مزید پڑھیں

A newsroom analyst views a large digital screen displaying a map of Central and South Asia. Afghanistan is highlighted in yellow, Pakistan in red, and neighboring countries in orange. Arrows indicate tensions radiating from Afghanistan. Several bilingual (Urdu/English) text boxes highlight regional security and diplomatic threats, including ISIS-K and TTP, under the title 'Regional Trust Crisis'.

ہمسایہ ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کا بڑھتا ہوا علاقائی اعتماد کا بحران

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ افغانستان ایک ایسے جغرافیائی محلِ وقوع کا حامل ملک ہے جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، چین، ایران اور وسیع یوریشیائی خطے کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں مزید پڑھیں

Federal Interior Minister Mohsin Naqvi discussing regional security and Afghan terror networks at the United Nations

افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کا جال: محسن نقوی کا عالمی فورم پر انتباہ

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں عالمی رہنماؤں اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتوں کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے انکشاف کیا مزید پڑھیں

"Ahmad Massoud and the National Resistance Front (NRF) delegation walking on a red carpet at an official government reception in Tehran, flanked by Iranian honor guards."

ایران، این آر ایف اور طالبان: تہران کی ’دو رخی‘ سفارت کاری نے خطے میں ہلچل مچا دی

رپورٹ: دی خیبر ٹائمز خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے درمیان، ایران کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تہران کی جانب سے طالبان مخالف افغان مزاحمتی تحریک (NRF) کی قیادت کو نہ مزید پڑھیں

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں خصیوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ نہیں بلکہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر گہرے انحصار رکھتے ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سیاسی کشیدگی نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک جانے والے تجارتی نیٹ ورک کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بندش کے اثرات افغانستان پر نسبتاً زیادہ شدید پڑے ہیں، جہاں برآمدی خسارہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں جہاں مجموعی دوطرفہ تجارت 2.461 ارب ڈالر کے قریب تھی، وہیں 2025 میں یہ کم ہو کر 1.766 ارب ڈالر تک آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ سرحدی بندشیں، لاجسٹک مسائل اور سیاسی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جو 1.644 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.261 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات 817 ملین ڈالر سے کم ہو کر 505 ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس معاشی جال کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں میں آہستہ آہستہ قائم ہوا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ افغانستان کی درآمدی ضروریات جو پہلے پاکستان کے راستے سے بڑی حد تک پوری ہوتی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ تجارت محدود ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں کنٹینرز مختلف سرحدی راستوں پر پھنس گئے، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سامان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے بھی تاجروں پر بوجھ بنے رہے۔ اس صورتحال نے لاجسٹک کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بندش کا اثر صرف بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ واضح ہیں۔ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کی روزی براہ راست اس تجارت سے وابستہ ہے۔ جب سرحدیں بند ہوئیں تو ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور زرعی اجناس کے تاجر سب متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار کی برآمد رکنے سے کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان کی پیداوار منڈی تک نہ پہنچ سکی اور انہیں کم قیمت پر مقامی سطح پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریونیو کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کو واضح نقصان ہوا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانزٹ فیس اور دیگر تجارتی محصولات میں کمی نے سرکاری آمدنی پر اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر اضافی دباؤ اور غیر کلیئر شدہ سامان کی موجودگی نے لاجسٹک اخراجات بڑھا دئے ہیں، جبکہ افغانستان میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو جاتی تو دونوں معیشتوں پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے تھے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان جو روزگار کے لئے ان راستوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک آمدنی سے محروم ہو گئے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے مزدوروں اور تاجروں کو ویزہ اور سرحدی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں غربت میں اضافہ اور بے روزگاری نمایاں ہیں۔ اسی پس منظر میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کے امکانات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین کی ثالثی نے اس عمل کو ایک نیا رخ دیا ہے، جہاں سیکیورٹی اور تجارت کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محدود پیمانے پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی ری-ایکسپورٹ کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مکمل تعطل کے بجائے مرحلہ وار بحالی کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر سیاسی اعتماد بحال ہو اور سیکیورٹی خدشات کم ہوں تو تجارت تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان جزوی بحالی کا ہے، جس میں محدود گزرگاہیں اور کنٹرولڈ تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور کم مثبت امکان یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرحدی بندشیں طویل ہو سکتی ہیں، جس کا اثر صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی تجارت متاثر ہو گی۔ اس پوری صورتحال کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا خطے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر اپنی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ اسی لئے ماہرین مشترکہ کسٹمز نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ، فاسٹ ٹریک گزرگاہوں اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک زیادہ مستحکم تجارتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہیں۔ اگر اعتماد کی فضا بحال ہو جائے تو یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خلا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز …. ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ مزید پڑھیں