پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 کے ایکٹ کے تحت پہلی بار جنرل سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا تھا تو اس کی شرح 12.5 فیصد تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی خساروں کو پورا کرنے کیلئے اسے بتدریج 18 فیصد کی معیاری سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ یہ پالیسی اس تلخ معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کر پانے کی وجہ سے تمام تر بوجھ بالواسطہ محصولات کے ذریعے عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، بالواسطہ ٹیکسیشن کا سب سے بڑا المیہ اس کا رجعتی کردار ہے، کیونکہ یہ امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ اگرچہ حکومت بعض اوقات غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے دالوں، لال مرچ، ادرک، ہلدی، انڈوں اور پولٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے ، لیکن عملی طور پر یہ ریلیف صرف کاغذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداواری عمل میں استعمال ہونے والے بین السطور ذرائع جیسے ایندھن، بجلی اور گیس پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، جو تسلسلی اثر کے تحت حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو کر مستثنیٰ اشیاء کو بھی مہنگا کر دیتے ہیں ۔    اس مالیاتی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنانے میں صوبائی اور وفاقی سطحوں پر لاگو الگ الگ سروسز ٹیکس کا ڈھانچہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، جہاں پنجاب میں سروسز پر 16 فیصد، سندھ میں 13 فیصد، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد سروسز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اشیاء پر معیاری سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے ۔ اس دوہرے دباؤ کے بھیانک اثرات ہمیں پیکڈ ڈیری اور پولٹری سیکٹر پر واضح نظر آتے ہیں، جہاں پیکڈ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے دودھ کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کر دیا ہے ۔ اس غیر متوقع فیصلے سے رسمی ڈیری سیکٹر کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں میں 500 سے زائد ملک کلیکشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں اور تقریباً 40,000 سے زائد کسانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر، صارفین جراثیم سے پاک پیکڈ دودھ چھوڑ کر کھلے اور ملاوٹ زدہ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی سٹنٹنگ کی شرح، جو کہ پہلے ہی 37 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے، کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا ۔ لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں بھی خوراک پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے عام شہریوں کیلئے پروٹین کا آخری ذریعہ بھی مہنگا کر دیا ہے، جس کے باعث پشاور جیسے بڑے شہروں میں زندہ مرغی 420 روپے فی کلو اور انڈے 240 سے 260 روپے فی درجن تک بک رہے ہیں، جبکہ بغیر ہڈی کا گائے کا گوشت سرکاری نرخ یعنی 900 روپے کے برعکس 1350 سے 1500 جبکہ پشاور کے بعض سٹوروں میں تو 1600 روپے کلو تک جا پہنچا ہے ۔    غذائی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور ٹیکس پالیسیوں کا تضاد چینی کے شعبے میں بھی عیاں ہے، جہاں مینوفیکچررز کو فراہم کی جانے والی چینی پر 15 روپے فی کلو وفاقی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے 500,000 میٹرک ٹن سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کو یکسر ختم کر کے سیلز ٹیکس کو محض 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ ادھر گندم کے بحران نے صوبائی سطح پر تنازعات کو ہوا دی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے فلور ملرز نے پنجاب کی طرف سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جسے وہ آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔ ان معاشی دباؤ کے متوازی، معیشت کا غیر دستاویزی چہرہ عید الاضحیٰ جیسے تہواروں پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں سال 2025 میں قربانی کے جانوروں اور ان سے منسلک سرگرمیوں پر عوام نے تقریباً 641 ارب روپے خرچ کیئے، جو ملکی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے ۔ یہ زبردست مالیاتی بہاؤ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کی جڑیں ٹیکسوں کے ناکارہ ڈھانچے اور سرمائے کے غیر دستاویزی بہاؤ میں پیوست ہیں۔    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ (2026-27) بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 37 ماہ کے توسیعی پروگرام کی کڑی شرائط کے سائے میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف نے وفاق کیلئے مجموعی طور پر 17.145 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کیلئے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ملا ہے ۔ اس ہدف کے تحت صوبوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ سروسز اور زرعی انکم ٹیکس سے 1.95 ٹریلین روپے اکٹھے کریں اور اپنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے مساوی سرپلس نقد وفاق کو سرنڈر کریں ۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی علاقوں کو دی گئی تمام رعایتوں کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے اور گندم و چینی کی سرکاری منڈیوں سے حکومت کو مکمل طور پر باہر نکالنے کی کڑی ضمانتیں دی گئی ہیں ۔ دوسری طرف، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو مزید نچوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں سالانہ 10 ملین سے زائد آمدنی پر 9 فیصد انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں ہنر مند پیشہ ور افراد کا شدید برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا وفاقی ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کر کے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا تزویراتی عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے روزمرہ کی ہر کھانے پینے والی شے پر پڑے گا ۔    حکومت کے ان جارحانہ ٹیکسیشن اقدامات نے تاجر برادری اور سیاسی حلقوں میں شدید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ستمبر 2023 میں جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کو یومیہ تقریباً 10 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اصل احتجاج بجلی کے بلوں میں غیر متناسب اضافے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی بھاری گنجائش کی ادائیگیوں کے خلاف تھا ۔ اسی طرح جولائی 2025 میں کراچی چیمبر آف کامرس نے فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو حاصل ہونے والے گرفتاری کے اختیارات اور نقد لین دین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ۔ سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے (جولائی 2024) نے حکومت کو دباؤ میں لا کر آئی پی پیز کے آڈٹ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا معاہدہ کروایا، لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جنوری 2025 میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی لہر شروع ہوئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عوام اور حکومت کے مابین معاشی معاہدے کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔    لیکن یہاں ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور معاشی لاچارگی کے باوجود کینیا یا سری لنکا کی طرح پاکستان میں کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر کیوں نہیں آیا؟ احتجاج کی سیاسیات کے ماہرین اس کی متبادل اور گہری وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلا عنصر مادی وسائل کی شدید قلت ہے، احتجاج منظم کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے وقت، پیسہ اور باہمی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے سسکتے ہوئے غریب خاندانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، کیونکہ ان کیلئے ایک دن کام چھوڑنے کا مطلب رات کا فاقہ ہے ۔ دوسرا بڑا عنصر پرامن مظاہرین کے خلاف ریاست کا غیر معمولی جبر، لاٹھی چارج اور بلاجواز گرفتاریوں کا خوف ہے، جس کی وجہ سے احتجاج کی ذاتی لاگت ایک عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے ۔ اس مایوسی کو سیاسی جماعتوں اور آزاد مزدور تنظیموں کی مکمل لاتعلقی اور آپس کی سیاسی و عدالتی کشمکش نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی قائدین عام آدمی کے معاشی وجود کی جنگ لڑنے کے بجائے صرف اقتدار کے جوڑ توڑ میں مگن ہیں ۔ اس سیاسی بیگانگی نے عوام کے اندر ایک گہرا نفسیاتی جمود اور مایوسی پیدا کر دی ہے، جس کے تحت وہ اجتماعی مزاحمت کو بے سود سمجھتے ہوئے انفرادی بقا کی تگ و دو یا پھر خاموش ہجرت کا راستہ چن رہے ہیں ۔    اس گھمبیر معاشی اور سماجی جمود کو توڑنے کیلئے اب پاکستان کو روایتی لیت و لعل سے ہٹ کر انقلابی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم پیکڈ ڈیری مصنوعات پر عائد 18 فیصد کا سفاکانہ سیلز ٹیکس واپس لے کر اسے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر لانا ہے، تاکہ دیہی معیشت کا تحفظ اور بچوں کی غذائی ضرورت کو سستی اور محفوظ قیمت پر پورا کیا جا سکے ۔ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد کا اضافی انکم ٹیکس سرچارج اور سولر پینلز پر عائد 18 فیصد کا ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ انسانی سرمائے کے برین ڈرین کو روکا جا سکے اور متبادل توانائی کا فروغ ہو سکے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ اور بااثر زرعی زمینداروں کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔ تاجروں کو ہراساں کرنے والے ایف بی آر کے گرفتاری کے تعزیری قوانین کو واپس لیتے ہوئے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے 10,000 روپے ماہانہ کا فلیٹ اور آسان فکسڈ ٹیکس نظام رائج کیا جائے، جو معیشت کو دستاویزی بنانے کا سب سے عملی اور پرامن طریقہ ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر، آئی پی پیز کو دی جانے والی گنجائش کی ادائیگیوں کا کڑا آڈٹ کر کے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو سستا کیا جائے، کیونکہ اس تزویراتی معاشی سرجری کے بغیر ملکی صنعتی پیداوار کی بحالی اور روپے کی قدر کو سہارا دینا محض ایک خام خیالی ہی رہے گا ۔   

پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی

ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 مزید پڑھیں

ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آج رات بوشہر کے علاقے میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی طور پر ان دھماکوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ یہ آوازیں فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور ایک نامعلوم طیارے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔ ضلع جام کے گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک دشمن طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں اب صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس اہم پیشرفت کے باوجود، تاحال امریکی حکام کی جانب سے کسی طیارے کے گرائے جانے یا تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ عالمی عسکری مبصرین اس واقعے کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزنے ایرانی خبر ایجنسی فارس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ اگرچہ ان میزائل حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، لیکن بوشہر کے حالیہ واقعے نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دی خیبر ٹائمز اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور جیسے ہی مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آئیں گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔

ایران: بوشہر میں فضائی دفاعی نظام کا دشمن طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

پشاور مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے ساحلی صوبے بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے مبینہ طور پر ایک دشمن (امریکی) طیارے کو مار گرایا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم مقامی حکام نے صورتحال مزید پڑھیں

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں ۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہے ۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کیلئے برسرِپیکار ہے ۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے ٹرانزٹ ٹیکس, اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے ۔ اسی خطے میں حافظ گل بہادر گروپ بھی ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن گیا، دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP) نامی شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے ۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔    ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کیلئے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا ۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئرکے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے ۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے ۔    یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جنوری 2024 میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی ۔ ستمبر 2024 میں باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ۔ اسی طرح کی دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر 12 مئی 2026 کو لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا ۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں، عادل جان اور راحت اللہ، اور ایک معصوم خاتون سمیت نو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ۔    سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم کے (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی کے (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونریز مسلح تصادم ہوا۔ اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممتاز امتی گروپ کے عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔ مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس خونریز تصادم کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر مفرور اور زخمی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کر دیا، تاہم اس واقعے کے مستقبل پر دور رس اور تشویشناک اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کیلئے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپسمیں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کیلئے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سے پہلی غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا وہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے ۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسری جانب پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے ۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں ۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھر وں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پورے بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔ سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں ۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کردیا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص آپریشن عزمِ استحکام کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لئے بغیر بند کمروں میں فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز جیسے ضربِ عضب یا راہِ راست نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی، جیسا کہ باجوڑ میں 2008 کے آپریشن شیردل کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ حالیہ دور میں بھی جولائی 2025 میں باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کئے جانے والے آپریشن سر بکف کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وادی تیراہ میں آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا ۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروئیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔    ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لئے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو بڑی مشکل اور فورسز نے جانوں کا نظرانہ پیش کرکے گرفتار لئے گئے تھے، اسی کمزور فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً چھ ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے یا پرامن شہری بننے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لئے، جس کا سنگین خمیازہ آج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے جلدی میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں, ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے ۔ اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ باڑ زمین کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو تقسیم کرتی ہے ۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے اسے آپریشن غضب الحق کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی ۔    بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ مئی 2026 میں بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے فوراً بعد ستمبر 2024 میں لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دئے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک کا (عیدک قبائل کا امن لشکر) اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے ۔    ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کیلئے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں ۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ۔ باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے ۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔   حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کیلئے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید مزید پڑھیں

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آگئے

سینئر رہنماؤں کو نظر انداز کرنے پر شکوے، وزیرستان اور بنوں کو نمائندگی نہ ملنے پر تحفظات پشاور (دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل ڈیسک) خیبرپختونخوا کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور مزید پڑھیں

میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس بحران کا ایک نمایاں اور خوفناک چہرہ انمول عرف پنکی ہے، جسے میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوکین کوئین کے لقب سے پکارا ہے ۔ یہ کیس محض ایک مجرمہ کی گرفتاری کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے اس تاریک نظام کا عکس ہے جہاں مجرمانہ گروہ، طاقتور اشرافیہ، اور ریاستی اداروں کے بعض عناصر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پیوست ہیں کہ انصاف کا تصور دھندلا کر رہ گیا ہے۔ انمول پنکی کی زندگی کی کہانی کسی جرم و سزا پر مبنی فلمی اسکرپٹ جیسی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح سماجی خواہشات اور غلط صحبت انسان کو جرائم کی دنیا کے آخری سرے تک لے جا سکتی ہے۔ 1995 میں کراچی کے علاقے بلوچ پاڑہ میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی انمول گلیمر اور فیشن کی دنیا میں نام کمانا چاہتی تھی ۔ چودہ سال کی چھوٹی عمر میں گھر چھوڑنے کے فیصلے نے اسے روایتی تحفظ سے دور کر کے جرائم کے ممکنہ خطرات کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کی جرائم کی دنیا میں باقاعدہ شمولیت اتفاقیہ نہیں بلکہ انتہائی سٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ تھی۔ اس نے پہلے ایک بین الاقوامی وکیل سے شادی کی جو مبینہ طور پر کوکین کی عالمی تجارت سے جڑا ہوا تھا، جہاں سے اس نے بین الاقوامی اسمگلنگ کے رموز سیکھے ۔ بعد ازاں، اس کی ایک سابق پولیس انسپیکٹر رانا اکرام سے وابستگی نے اسے وہ ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا جو کسی بھی منظم مجرمانہ نیٹ ورک کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ ان بااثر شوہروں اور اپنے بھائیوں، ناصر اور شوکت کی مدد سے اس نے ایک ایسا نیٹ ورک بنایا جو پنجاب سے کراچی تک پھیلا ہوا تھا ۔ پنکی کا نیٹ ورک روایتی ڈیلرز سے بالکل مختلف تھا کیونکہ اس نے اس میں برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول کا تصور متعارف کرایا۔ وہ موبائل لیبارٹریز چلاتی تھی جہاں کوکین ہائیڈروکلورائڈ اور کیٹامائن جیسے مہلک کیمیکلز کی مدد سے منشیات تیار کی جاتی تھیں ۔ اس کے نیٹ ورک کی طرف سے تیار کردہ کوکین کے مختلف گریڈز مارکیٹ میں دستیاب تھے، جن میں اعلیٰ ترین گولڈن کیٹیگری 13,728 روپے فی گرام کے حساب سے فروخت ہوتی تھی ۔ اس کی مارکیٹنگ کا نعرہ تھا: ملکہ میڈم پنکی - نام ہی کافی ہے، انجوائے کریں ۔ اس کیس کا سب سے چونکا دینے والا پہلو انمول پنکی کی عدالت میں دیدہ دلیری اور اسے ملنے والا شاہانہ پروٹوکول ہے ۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ بغیر ہتھکڑیوں کے، انتہائی پراعتماد انداز میں اور ایک وی آئی پی کی طرح داخل ہوئی، جس نے ریاستی رٹ کا مذاق اڑا کر رکھ دیا ۔ اس کی یہ بے خوفی ان خفیہ تعلقات کا نتیجہ تھی جو اس نے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بنائے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے گاہکوں میں بڑے سیاستدان، بیوروکریٹس، ان کی بیویاں اور معاشرے کے دیگر انتہائی بااثر افراد اور ان کے بچے شامل تھے ۔ سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے ان بااثر گاہکوں کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیوز بنا کر رکھتی تھی تاکہ انہیں بلیک میل کر سکے، یہی وجہ تھی کہ پولیس اسے بارہ سال تک چھونے سے بھی کتراتی رہی ۔ پاکستان میں ایسے طاقتور لوگوں کی کہانیاں عام ہیں جو سیاستدانوں اور افسران کے ساتھ گہرے تعلقات کی وجہ سے سنگین جرائم کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں۔ انمول پنکی کے کیس کا جب ہم رانا ثناء اللہ جیسے ہائی پروفائل سیاسی مقدمات سے موازنہ کرتے ہیں تو نظام کے تضادات واضح ہو جاتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کو 15 کلو ہیروئن کے الزام میں گرفتار کیا گیا، لیکن 2022 میں وہ بری ہو گئے کیونکہ استغاثہ ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ۔ اسی طرح آصف علی زرداری کے خلاف 2018 کا "فیک اکاؤنٹس اسکینڈل" منی لانڈرنگ کے گھناؤنے جرائم کا ایک بڑا ثبوت سمجھا جاتا ہے، جہاں اربوں روپے کی غیر قانونی ترسیلات کیلئے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس استعمال کئے گئے ۔ ایک طرف ٹھوس شواہد کے باوجود مجرموں کو عدالتوں میں پروٹوکول ملتا ہے اور دوسری طرف سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے سنگین مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔ تحقیقات کے دوران انمول پنکی کے موبائل فون سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اس نیٹ ورک کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں 835 رابطہ نمبرز ملے ہیں اور ان میں سے 300 نمبرز اس کے ایکٹو کسٹمرز کے بتائے جاتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان گاہکوں میں 30 کے قریب سیاستدانوں کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں وہ براہِ راست منشیات فراہم کرتی تھی۔ انمول عرف پنکی نے اس دھندے میں ملوث اور گاہکوں میں صرف سیاست دان، بیوروکریٹس یا ان کی بیویاں ہی نہیں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی بڑے بڑے نام اگل دئے ہیں، جن میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے کی گرفتاری بھی اس سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ میں غیر ملکی، خاص طور پر افریقی باشندے بھی شامل ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر اس نیٹ ورک کو چلا رہے تھے ۔ اگرچہ خوف کے بادلوں میں ابھی بہت سے نام منظر عام پر آنا مشکل ہیں، لیکن شاید وقت کے ساتھ ساتھ مزید حقائق سامنے آ جائیں گے، مگر بدقسمتی سے ہماری عدالتوں کے انتہائی کمزور استغاثے کی وجہ سے ان کی گرفتاری، انہیں منطقی انجام یا عبرت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

میڈم پنکی، نام ہی کافی ہے: کوکین کوئین کا شاہانہ پروٹوکول اور اشرافیہ کے ’نشیلے‘ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک

تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے سماجی اور قانونی منظر نامے میں منشیات کی اسمگلنگ نے حالیہ برسوں میں ایک ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی ہے جو روایتی جرائم کی حدود سے تجاوز کر کے قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن مزید پڑھیں

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ تحریر: ناصر داوڑ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی راکھ سے اب ایک ایسی چنگاری پھوٹی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فروری 2026 کا مہینہ تاریخ میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دہائیوں پر محیط تزویراتی گہرائی کا تصور کھلی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان فوجی تنصیبات پر فضائی حملے محض عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس صبر کے لبریز ہونے کا اعلان تھا جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر اسلام آباد میں پایا جاتا تھا۔ 16 مارچ 2026 کو کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے المناک حملے، جس میں 400 سے زائد جانیں گئیں، اور ایک لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی نے اس انسانی بحران کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم پاکستان اسے دہشتگردی کا ٹریننگ کیمپ بتا رہاہے، اسی سنگین صورتحال میں بیجنگ نے اپنی روایتی خاموشی توڑ کر ارومچی امن عمل کے ذریعے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر انٹری دی ہے جو اب صرف معاشی ہی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل ریفری بننا چاہتا ہے۔ ارومچی مذاکرات کا پس منظر اور سفارتی نشستوں کا ارتقاء چین نے اس ثالثی کیلئے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی کا انتخاب محض اتفاقاً نہیں کیا، بلکہ یہ کابل اور اسلام آباد کیلئے ایک خاموش پیغام تھا کہ اس خطے کی بدامنی براہِ راست چین کی سرحدوں کو متاثر کرتی ہے۔ اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں ہونے والے یہ مذاکرات پانچ مختلف مراحل پر محیط تھے، جن میں سفارتی نزاکتوں سے زیادہ عسکری حقائق پر زور دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں جہاں مذاکرات کے ضابطے طے ہوئے، وہیں دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اصل تپش محسوس کی گئی جب ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ کی حفاظت اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ چوتھی اور پانچویں نشست تک آتے آتے، چین نے دونوں فریقین کو ایک ایسے تیکنیکی فریم ورک پر لانے کی کوشش کی جہاں جذباتی بیانئے کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کو اہمیت دی جائے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اب صرف وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی مسماری کا مادی ثبوت چاہئے۔ ان مذاکرات میں شریک وفود کی ساخت دونوں ممالک کی ترجیحات کا آئینہ دار تھی۔ پاکستان نے اپنے وفد کو انتہائی مختصر اور تیکنیکی رکھا، جس کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی کر رہے تھے، جبکہ پسِ پردہ انٹیلی جنس اور عسکری حکام کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے خالصتاً سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کا وفد جس میں مولوی محب اللہ وسیق اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کے نمائندے شامل تھے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اسے طاقت کے توازن کا معاملہ سمجھتا ہے۔ طالبان کا یہ وفد سفارتی لفاظی کے بجائے زمینی عسکری قوت کے دفاع کیلئے ارومچی پہنچا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بیجنگ کے تزویراتی مفادات اور علاقائی استحکام کی ضرورت چین کی اس غیر معمولی مداخلت کے پیچھے کھربوں ڈالر کا داؤ لگا ہوا ہے۔ بیجنگ کیلئے سی پیک محض ایک سڑک نہیں بلکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی شہ رگ ہے۔ سی پیک 2 کے تحت چین اب اپنی سرمایہ کاری کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک لے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے، لیکن یہ خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب پاک افغان سرحد پر بندوقیں خاموش ہوں۔ داسو ڈیم جیسے منصوبوں پر چینی انجینئرز کی ہلاکت نے بیجنگ کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر اس نے اب مداخلت نہ کی تو اس کی معاشی سلطنت کو عسکریت پسندی کی دیمک چاٹ جائیگی۔ اس کے علاوہ، سنکیانگ کی سیکیورٹی چین کا سب سے حساس ترین پہلو ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)یا ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) جیسے گروہوں کا افغان سرزمین کو استعمال کرنا چین کیلئے ریڈ لائن ہے، اور وہ ارومچی عمل کے ذریعے کابل کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کاری کے بدلے میں اسے اپنی سرحدوں کو علیحدگی پسندوں سے پاک رکھنا ہوگا۔ جیو پولیٹیکل سطح پر چین خود کو امریکہ کے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد، پاک افغان تنازع کا حل بیجنگ کے گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہوگا۔ چین جانتا ہے کہ اگر وہ یہاں ناکام ہوا تو امریکہ کو بگرام ایئر بیس جیسے اڈوں کے ذریعے خطے میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل جائے گا، جو چینی جوہری تنصیبات کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے لیتھیم، کوبالٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر، جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے، چین کی جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کیلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مس عینک جیسے منصوبوں کی کامیابی کیلئے چین کسی بھی قیمت پر سرحد کے دونوں اطراف امن کا خواہاں ہے، چاہے اس کیلئے اسے دونوں اتحادیوں پر سخت دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کا پیچیدہ معاملہ 2020 کا دوحہ معاہدہ، جس کی بنیاد پر امریکہ نے افغانستان چھوڑا تھا، اب ایک بے معنی کاغذ کا ٹکڑا نظر آتا ہے۔ اس معاہدے کی روح یہ تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹیں اور زمینی حقائق اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور حافظ گل بہادر گروپ جیسے عناصر نہ صرف افغان سرزمین پر موجود ہیں بلکہ انہیں ایک طرح کی نظریاتی چھتری بھی میسر ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بنوں چھاؤنی جیسے حملوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔ امارتِ اسلامی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا تزویراتی مغالطہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو مطمئن کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی منتقلی کیلئے 10 ارب روپے کے مطالبے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے کیش کرانا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین بیعت کا رشتہ ہے جو کسی بھی سیاسی معاہدے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتے ہیں تو انہیں اندرونی بغاوت اور اپنے جنگجوؤں کے داعش خراسان (IS-KP) میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ یہی وہ نظریاتی بندھن ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ارومچی میں جن عسکری تنظیموں کی فہرست پیش کی ہے، ان میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکرِ اسلام، اتحاد المجاہدین پاکستان، جیشِ فرسانِ محمد اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) بھی شامل ہیں۔ بی ایل اے کے حوالے سے پاکستان کا یہ موقف کہ اسے افغان انٹیلی جنس کی خاموش حمایت حاصل ہے، اس تنازع کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر لے گیا ہے جہاں اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے باغیوں کو پناہ دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی اور بگرام ایئر بیس: پاک افغان تعلقات میں نئی تبدیلیاں مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اس پوری صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور تزویراتی شراکت داری نے کابل کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ اور پاکستان کی جانب سے امریکی مفادات کیلئے سیکیورٹی سب کنٹریکٹر کا ممکنہ کردار چین کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کی مدد سے امریکہ بگرام میں واپس آتا ہے تو سی پیک کا پورا منصوبہ امریکی نگرانی میں آ جائے گا۔ اسی لئے چین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی خوشنودی کیلئے پڑوسیوں کے ساتھ پل نہیں جلا سکتا۔ پاکستان، چین اور امریکہ کے اس تہرے تزویراتی مقابلے نے افغانستان کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اب بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کابل کی جانب سے بھارتی فوج سے تربیت کے مطالبات اور نئی دہلی سے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات نے اسلام آباد کی اس دیرینہ اسٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی کو دفن کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان، افغانستان میں ایک ایسی دوست حکومت چاہتا تھا جو مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔ اسلام آباد کے اسٹریٹجک ڈیپتھ کے تصور کو دفن کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان جسے اپنا زیرِ اثر علاقہ سمجھتا تھا، وہ اب اس کے حریفوں کا نیا ٹھکانہ بنتا جا رہا ہے۔ ارومچی عمل اگرچہ ایک (سیفٹی والو) کے طور پر کام کر رہا ہے جو کسی بڑے دھماکے کو روک رہا ہے، لیکن یہ مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ جب تک ٹی ٹی پی کا نظریاتی وجود اور ڈیورنڈ لائن کا سرحدی تنازع موجود ہے، تب تک کوئی بھی معاہدہ محض ایک عارضی فائر بندی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گا۔ ارومچی امن عمل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کیا چین اپنی معاشی طاقت کو عسکری دباؤ میں بدل سکتا ہے؟ پاکستان کی معاشی مجبوری اور افغانستان کی سفارتی تنہائی بیجنگ کے ہاتھ میں وہ پتے ہیں جنہیں وہ بہت احتیاط سے کھیل رہا ہے۔ تاہم، پاک افغان تعلقات کی تلخی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف میز پر بیٹھنے سے دل صاف نہیں ہوں گے۔ یہ ایک ایسی جیو پولیٹیکل بساط ہے جہاں ہر کھلاڑی دوسرے کو مات دینے کیلئے نئے مہرے چل رہا ہے، اور اس جنگ میں فی الوقت امن کی دستک بہت کمزور سنائی دے رہی ہے۔

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ

پاکستان، چین اور امریکہ کے تہرے مقابلے نے کابل کو دہلی کے قریب کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہو یا بگرام کی واپسی کا مطالبہ، پاک افغان تعلقات اب اس نہج پر ہیں جہاں صرف میز پر مزید پڑھیں

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش رفت میں آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم پاکستان میں سویلین شہریوں، غیر ملکی باشندوں، اہم قومی تنصیبات اور ریاستی اداروں پر حملوں میں براہِ راست ملوث ہے، جس کے باعث عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں۔ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انتہا پسند گروہوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کینبرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کا عزم غیر متزلزل ہے اور ان تازہ پابندیوں کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے اب تنظیم کے لیے نئے کارندوں کی بھرتی، کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر کو ناممکن بنایا جائے گا۔ آسٹریلوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے یہ پابندیاں انتہائی سخت ہیں، جن کے تحت اب ان نامزد افراد اور تنظیم کے اثاثوں کا استعمال، کسی بھی قسم کا لین دین یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا آسٹریلوی قانون کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو 10 سال تک قید کی سزا اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس اقدام کو پاکستان کی اس سفارتی مہم کی کامیابی قرار دے رہے ہیں جس کے تحت بی ایل اے کو پہلے ہی امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم عالمی کھلاڑی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں، بالخصوص چینی قونصل خانے اور کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ یہ گروہ اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اس مضمون اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کیا ہے، کہ آسٹریلیا کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ علیحدگی پسندی کی آڑ میں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے گروہوں کے لئے اب دنیا میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ دستاویز اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور مالیاتی نیٹ ورکس کی بندش سے ان کالعدم تنظیموں کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ کینبرا کا یہ سخت موقف اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ عالمی امن و سلامتی کا تحفظ ہر قیمت پر ممکن بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی گھیرا تنگ: آسٹریلیا نے بھی بی ایل اے اور اس کی قیادت پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے خلاف عالمی برادری کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اہم تزویراتی پیش مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں

کراچی پولیس کی کارروائی: این ڈی ایم سندھ کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت کئی رہنما زیرِ حراست کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ نے اپنے ایک سخت بیان میں ان گرفتاریوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا ہے، محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم سندھ کی قیادت شمالی وزیرستان کے علاقے درپہ خیل میں ملک سیف اللہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی تھی لیکن انتظامیہ نے جمہوری حق تسلیم کرنے کے بجائے قیادت کو ہی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس طرح کے جبر سے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام صوبائی عہدیداروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ وہ صرف اپنے علاقے میں ہونے والی ناانصافیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، پارٹی ذرائع کے مطابق ان گرفتاریوں کے باوجود امن اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

کراچی: این ڈی ایم سندھ کی قیادت کی گرفتاری، محسن داوڑ کا شدید ردعمل اور فوری رہائی کا مطالبہ

کراچی میں پولیس نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) سندھ کے صوبائی صدر محمد شیر، جنرل سیکرٹری غفور ایڈوکیٹ، سیکرٹری اطلاعات حمدان خان اور کلچرل سیکرٹری ابرار محسود کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سیاسی حلقوں میں شدید مزید پڑھیں