شنگریلا ڈائیلاگ میں امریکی وزیر دفاع کے بیان ک. Pakistan role in Iran-US peace talksے بعد پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری: ایران ، امریکہ امن مذاکرات میں کلیدی کردار

دی خیبر ٹائمز سنگاپور کے پرتعیش اور پُرشور ہوٹل کے ہال میں بین الاقوامی میڈیا کا ہجوم تھا۔ سیکیورٹی سخت تھی اور فضا میں ایک خاص قسم کی سفارتی تپش محسوس کی جا رہی تھی۔ موقع تھا شنگریلا ڈائیلاگ کا، مزید پڑھیں

پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 کے ایکٹ کے تحت پہلی بار جنرل سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا تھا تو اس کی شرح 12.5 فیصد تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے معاشی خساروں کو پورا کرنے کیلئے اسے بتدریج 18 فیصد کی معیاری سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے ۔ یہ پالیسی اس تلخ معاشی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کر پانے کی وجہ سے تمام تر بوجھ بالواسطہ محصولات کے ذریعے عام صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، بالواسطہ ٹیکسیشن کا سب سے بڑا المیہ اس کا رجعتی کردار ہے، کیونکہ یہ امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ اگرچہ حکومت بعض اوقات غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے دالوں، لال مرچ، ادرک، ہلدی، انڈوں اور پولٹری کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے ، لیکن عملی طور پر یہ ریلیف صرف کاغذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیداواری عمل میں استعمال ہونے والے بین السطور ذرائع جیسے ایندھن، بجلی اور گیس پر بھاری ٹیکس عائد ہیں، جو تسلسلی اثر کے تحت حتمی مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہو کر مستثنیٰ اشیاء کو بھی مہنگا کر دیتے ہیں ۔    اس مالیاتی بوجھ کو مزید پیچیدہ بنانے میں صوبائی اور وفاقی سطحوں پر لاگو الگ الگ سروسز ٹیکس کا ڈھانچہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، جہاں پنجاب میں سروسز پر 16 فیصد، سندھ میں 13 فیصد، اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 15 فیصد سروسز ٹیکس لاگو ہے، جبکہ وفاقی سطح پر اشیاء پر معیاری سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے ۔ اس دوہرے دباؤ کے بھیانک اثرات ہمیں پیکڈ ڈیری اور پولٹری سیکٹر پر واضح نظر آتے ہیں، جہاں پیکڈ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے دودھ کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کر دیا ہے ۔ اس غیر متوقع فیصلے سے رسمی ڈیری سیکٹر کی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث دیہی علاقوں میں 500 سے زائد ملک کلیکشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں اور تقریباً 40,000 سے زائد کسانوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے ۔ نتیجے کے طور پر، صارفین جراثیم سے پاک پیکڈ دودھ چھوڑ کر کھلے اور ملاوٹ زدہ دودھ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو پاکستان میں بچوں کی سٹنٹنگ کی شرح، جو کہ پہلے ہی 37 فیصد کی خطرناک سطح پر ہے، کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا ۔ لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں بھی خوراک پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ نے عام شہریوں کیلئے پروٹین کا آخری ذریعہ بھی مہنگا کر دیا ہے، جس کے باعث پشاور جیسے بڑے شہروں میں زندہ مرغی 420 روپے فی کلو اور انڈے 240 سے 260 روپے فی درجن تک بک رہے ہیں، جبکہ بغیر ہڈی کا گائے کا گوشت سرکاری نرخ یعنی 900 روپے کے برعکس 1350 سے 1500 جبکہ پشاور کے بعض سٹوروں میں تو 1600 روپے کلو تک جا پہنچا ہے ۔    غذائی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور ٹیکس پالیسیوں کا تضاد چینی کے شعبے میں بھی عیاں ہے، جہاں مینوفیکچررز کو فراہم کی جانے والی چینی پر 15 روپے فی کلو وفاقی ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے، جبکہ دوسری طرف مارکیٹ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے 500,000 میٹرک ٹن سفید کرسٹل چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی کو یکسر ختم کر کے سیلز ٹیکس کو محض 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ ادھر گندم کے بحران نے صوبائی سطح پر تنازعات کو ہوا دی ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے فلور ملرز نے پنجاب کی طرف سے گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے، جسے وہ آئین کے آرٹیکل 151 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں ۔ ان معاشی دباؤ کے متوازی، معیشت کا غیر دستاویزی چہرہ عید الاضحیٰ جیسے تہواروں پر نمایاں ہوتا ہے، جہاں سال 2025 میں قربانی کے جانوروں اور ان سے منسلک سرگرمیوں پر عوام نے تقریباً 641 ارب روپے خرچ کیئے، جو ملکی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے ۔ یہ زبردست مالیاتی بہاؤ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کی جڑیں ٹیکسوں کے ناکارہ ڈھانچے اور سرمائے کے غیر دستاویزی بہاؤ میں پیوست ہیں۔    آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ (2026-27) بھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 37 ماہ کے توسیعی پروگرام کی کڑی شرائط کے سائے میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ آئی ایم ایف نے وفاق کیلئے مجموعی طور پر 17.145 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کیلئے ایف بی آر کو 15.264 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف ملا ہے ۔ اس ہدف کے تحت صوبوں کو بھی مجبور کیا گیا ہے کہ وہ سروسز اور زرعی انکم ٹیکس سے 1.95 ٹریلین روپے اکٹھے کریں اور اپنی جی ڈی پی کے 1.4 فیصد کے مساوی سرپلس نقد وفاق کو سرنڈر کریں ۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی علاقوں کو دی گئی تمام رعایتوں کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے اور گندم و چینی کی سرکاری منڈیوں سے حکومت کو مکمل طور پر باہر نکالنے کی کڑی ضمانتیں دی گئی ہیں ۔ دوسری طرف، تنخواہ دار اور متوسط طبقے کو مزید نچوڑنے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں سالانہ 10 ملین سے زائد آمدنی پر 9 فیصد انکم ٹیکس کا اضافی بوجھ برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں ہنر مند پیشہ ور افراد کا شدید برین ڈرین ہو رہا ہے ۔ بجلی اور ایندھن کے نرخوں میں اضافے کے علاوہ پٹرولیم لیوی کا وفاقی ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کر کے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا تزویراتی عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس کا حتمی بوجھ ٹرانسپورٹیشن کے ذریعے روزمرہ کی ہر کھانے پینے والی شے پر پڑے گا ۔    حکومت کے ان جارحانہ ٹیکسیشن اقدامات نے تاجر برادری اور سیاسی حلقوں میں شدید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ ستمبر 2023 میں جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے کی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے باعث ملک کو یومیہ تقریباً 10 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جہاں اصل احتجاج بجلی کے بلوں میں غیر متناسب اضافے اور آئی پی پیز کو دی جانے والی بھاری گنجائش کی ادائیگیوں کے خلاف تھا ۔ اسی طرح جولائی 2025 میں کراچی چیمبر آف کامرس نے فنانس ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو حاصل ہونے والے گرفتاری کے اختیارات اور نقد لین دین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ۔ سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کے راولپنڈی دھرنے (جولائی 2024) نے حکومت کو دباؤ میں لا کر آئی پی پیز کے آڈٹ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کا معاہدہ کروایا، لیکن ان وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث جنوری 2025 میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کی لہر شروع ہوئی، جو اس بات کی غماز ہے کہ عوام اور حکومت کے مابین معاشی معاہدے کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے ۔    لیکن یہاں ایک انتہائی اہم سوال جنم لیتا ہے کہ ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی اور معاشی لاچارگی کے باوجود کینیا یا سری لنکا کی طرح پاکستان میں کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر کیوں نہیں آیا؟ احتجاج کی سیاسیات کے ماہرین اس کی متبادل اور گہری وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلا عنصر مادی وسائل کی شدید قلت ہے، احتجاج منظم کرنے اور سڑکوں پر نکلنے کیلئے وقت، پیسہ اور باہمی رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے سسکتے ہوئے غریب خاندانوں کے پاس بالکل نہیں ہے، کیونکہ ان کیلئے ایک دن کام چھوڑنے کا مطلب رات کا فاقہ ہے ۔ دوسرا بڑا عنصر پرامن مظاہرین کے خلاف ریاست کا غیر معمولی جبر، لاٹھی چارج اور بلاجواز گرفتاریوں کا خوف ہے، جس کی وجہ سے احتجاج کی ذاتی لاگت ایک عام آدمی کیلئے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے ۔ اس مایوسی کو سیاسی جماعتوں اور آزاد مزدور تنظیموں کی مکمل لاتعلقی اور آپس کی سیاسی و عدالتی کشمکش نے مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی قائدین عام آدمی کے معاشی وجود کی جنگ لڑنے کے بجائے صرف اقتدار کے جوڑ توڑ میں مگن ہیں ۔ اس سیاسی بیگانگی نے عوام کے اندر ایک گہرا نفسیاتی جمود اور مایوسی پیدا کر دی ہے، جس کے تحت وہ اجتماعی مزاحمت کو بے سود سمجھتے ہوئے انفرادی بقا کی تگ و دو یا پھر خاموش ہجرت کا راستہ چن رہے ہیں ۔    اس گھمبیر معاشی اور سماجی جمود کو توڑنے کیلئے اب پاکستان کو روایتی لیت و لعل سے ہٹ کر انقلابی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم پیکڈ ڈیری مصنوعات پر عائد 18 فیصد کا سفاکانہ سیلز ٹیکس واپس لے کر اسے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر لانا ہے، تاکہ دیہی معیشت کا تحفظ اور بچوں کی غذائی ضرورت کو سستی اور محفوظ قیمت پر پورا کیا جا سکے ۔ بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد کا اضافی انکم ٹیکس سرچارج اور سولر پینلز پر عائد 18 فیصد کا ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ انسانی سرمائے کے برین ڈرین کو روکا جا سکے اور متبادل توانائی کا فروغ ہو سکے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ اور بااثر زرعی زمینداروں کو حقیقی معنوں میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔ تاجروں کو ہراساں کرنے والے ایف بی آر کے گرفتاری کے تعزیری قوانین کو واپس لیتے ہوئے چھوٹے خوردہ فروشوں کیلئے بجلی کے بلوں کے ذریعے 10,000 روپے ماہانہ کا فلیٹ اور آسان فکسڈ ٹیکس نظام رائج کیا جائے، جو معیشت کو دستاویزی بنانے کا سب سے عملی اور پرامن طریقہ ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر، آئی پی پیز کو دی جانے والی گنجائش کی ادائیگیوں کا کڑا آڈٹ کر کے بجلی کے بنیادی ٹیرف کو سستا کیا جائے، کیونکہ اس تزویراتی معاشی سرجری کے بغیر ملکی صنعتی پیداوار کی بحالی اور روپے کی قدر کو سہارا دینا محض ایک خام خیالی ہی رہے گا ۔   

پاکستان کا معاشی بحران: بھاری ٹیکس، ٹوٹتی معیشت اور عوامی لاچارگی

ناصر داوڑ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ روایتی طور پر براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر بے پناہ انحصار کرتا ہے، جو وفاقی حکومت کے کل حاصل کردہ محصولات کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں ۔ جب 1990 مزید پڑھیں

قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ : قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا، جب ضلع کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مقامی کاظم گروپ اور کالعدم جماعت الاحرار (JuA) کے امتی گروپ کے درمیان گھات لگا کر کیا گیا ایک مسلح تصادم ہوا۔ اس وحشیانہ مڈبھیڑ کے نتیجے میں 18 جنگجو ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں بعد ازاں مقامی افراد نے سپردِ خاک کر دیں۔ خیبر پختونخوا کے صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر ہونے والی بحث کے مطابق، یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہونے والا سب سے بڑا اور خونیں ترین واقعہ ہے، جس نے اس عسکریت پسند نیٹ ورک کی نام نہاد تنظیمی یکجہتی کے پردے کو چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے مابین کئی بار اختلافات پیدا ہوئے، لیکن وہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کر کے دوبارہ متحد ہو جاتے تھے۔ تاہم، اس حالیہ واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے مابین تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کے دوبارہ متحد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات میں بگاڑ کی اصل جڑ 7 اگست 2022 کو صوبہ پکتیکا میں عمر خالد خراسانی کو ان کے دیگر ساتھیوں سمیت ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں مارےگئے تھے۔ اس وقت بھی جماعت الاحرار ٹی ٹی پی سے الگ ہو گئی تھی، لیکن سراج الدین حقانی کی مداخلت اور عمر خالد خراسانی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے وعدے پر وہ دوبارہ متحد ہو گئے تھے۔ تاہم، آج تک نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس واقعے کی کوئی شفاف تحقیقات کی ہیں، جس کے نتیجے میں اب حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ اس تصادم کے فوری بعد جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان اسد منصور نے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کر کے تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے دھڑے پر اپنے 18 ساتھیوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ الزام عائد کیا۔ جماعت الاحرار نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اب اس خون کا بدلہ لینا ہم پر فرض ہو چکا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے کمانڈر کاظم نے مرکزی امیر مفتی نور ولی محسود کی براہِ راست ہدایات پر ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسد منصور کے مطابق، ان کے کل 28 ساتھی تھے جنہیں کمانڈر کاظم نے کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور پیغام بھیجا تھا کہ چند ضروری امور پر مشاورت کے لئے اکٹھے بیٹھیں اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ تاہم، اس مقام تک پہنچنے سے قبل ہی کمانڈر کاظم اپنے دیگر مسلح ساتھیوں سمیت گھات لگا کر بیٹھے تھے۔ جوں ہی ان کے ساتھیوں کی گاڑیاں وہاں پہنچیں، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کے 18 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 ساتھیوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اسد منصور نے بتایا کہ ان یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے افغانستان میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں انہیں رکھا گیا ہے۔ البتہ مقامی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ یرغمال بنائے گئے ان 10 افراد کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسد منصور کا ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی نے ان افراد کو غالباً اس لئے گرفتار کیا ہے تاکہ انہیں سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اسد منصور نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں ان کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ٹی ٹی پی ان یرغمالیوں کو بطور دباؤ استعمال کر کے ان تینوں اضلاع سے انہیں بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں عزم کا اظہار کیا کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک وہ ان تینوں اضلاع سے تحریک طالبان پاکستان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے، کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں جتنی بھی بڑی قربانی دینی پڑی، وہ اس کے لئے تیار ہیں اور ان علاقوں سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کئے بغیر دم نہیں لیں گے۔ دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے اس انتہائی حساس عسکری دھچکے پر مکمل سکوت اختیار کر رکھا ہے، جسے عسکری ماہرین تنظیم کے داخلی انتشار کو مزید بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے ایک تزویراتی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ اس خونریز مڈبھیڑ کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس میں شامل مقامی کمانڈروں کے تنظیمی کردار اور ان کے پس منظر کا احاطہ کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ تصادم بنیادی طور پر دو بااثر نیٹ ورکس کے مابین علاقائی بالادستی کی جنگ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سب سے نمایاں نام جماعت الاحرار کے اہم ترین فیلڈ کمانڈر ممتاز المعروف 'امتی' کا ہے، جو عمر خالد خراسانی کے انتہائی معتمد تھے اور کرم، خیبر، اور اورکزئی کے اضلاع میں 'امتی گروپ' کے سربراہ کے طور پر متحرک تھے۔ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ایک محسود کمانڈر نے ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی سے رابطہ کر کے اس واقعے اور جماعت الاحرار کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ مفتی نور ولی نے مختصر جواب میں کہا کہ یہ واقعہ تشویشناک ضرور ہے، مگر مرکزی قیادت کو اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ضلع کی سطح پر مقامی گروپوں کا باہمی تصادم ہے اور تاحال ان کی کرم کے مقامی ذمہ داروں سے اس معاملے پر بات نہیں ہو سکی ہے۔ مذکورہ محسود کمانڈر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس واقعے اور جماعت الاحرار کی جانب سے الزامات کے بعد انہوں نے امیرِ ٹی ٹی پی کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے، کیونکہ جماعت الاحرار نے اپنے بیانات میں براہِ راست مرکزی قیادت کا نام لیا ہے۔ کمانڈر کے مطابق، ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کیسے اور کیوں رونما ہوا ہے، لہٰذا کرم کے ذمہ داروں سے رابطے کے بعد ہی اس پر کوئی ٹھوس بات ہو سکے گی۔ فی الحال مرکزی قیادت کے پاس اس واقعے کی کوئی باضابطہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ کرم میں ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر کاظم ہیں، جن کے بارے میں ان کے آبائی علاقے کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاظم کی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں، البتہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے انتہائی رازدار اور بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں کاظم ایک انتہائی بااثر اور کٹر آپریشنل کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہیں ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ اس سارے عمل میں جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور اپنا میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی قیادت کو مسلسل انتقام کا انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں اور کرم پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے دس افراد کا تعلق افغانستان سے ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے کمانڈر کاظم کے علاوہ دیگر جنگجوؤں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی بڑی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں۔ جوپورے ضلع میں تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ کمانڈر کاظم کا تعلق لوئر کرم کے علاقے بگن سے ہے اور ان کا خاندان مقامی طور پر خاصا بااثر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے والد ملک گل رحمان المعروف گلے ملک، اپنے علاقے میں اورکزئی قوم کے معتبر نمائندے تھے۔ تاہم، گزشتہ سال 2025 میں کمانڈر کاظم کی عسکریت پسندی اور طالبان میں شمولیت کی پاداش میں گزشتہ سال 2025 میں حکومتی کارروائی کے دوران ان کا آبائی گھر مسمار کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا خاندان علاقہ چھوڑ کر روپوش ہو گیا ہے۔ جب قبائلی عمائدین سے اس خاندان کی روپوشی کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی کارروائی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اس ہجرت کا سبب بنے ہیں۔ عمائدین کے مطابق، کمانڈر کاظم کے ملوث ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کے خاندان کو شدید سکیورٹی خدشات لاحق ہو گئے تھے۔ انہیں یہ خوف تھا کہ کاظم کی دشمنیوں کے نتیجے میں ان کے دیگر بھائیوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک قبائلی ملک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کاظم کے بھائی کسی جہادی تنظیم سے ان کا تعلق نہیں، وہ محنت مزدوری کیلئے پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے والد بھی وہیں چلے گئے ہیں۔ تاہم، جس دن سے یہ خاندان گاؤں سے نکلا ہے، تب سے ان کا اپنے آبائی علاقے میں کسی بھی شخص سے کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔ یہ تصادم کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک دہائی پر محیط نظریاتی اور تنظیمی کشمکش کا منطقی انجام ہے۔ جماعت الاحرار نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اور اگرچہ 2020 میں انضمام کی کوشش کی گئی، لیکن 2022 میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت نے یہ خلیج ناقابلِ تلافی بنا دی۔ جماعت الاحرار کو یقین ہے کہ ان کے بانی نور ولی محسود نے قتل کروایا، اور اسی کشمکش کے باعث 2025 سے جماعت الاحرار نے اپنے متوازی دفاتر دوبارہ بحال کر لئے تھے۔ اس سے قبل جماعت الاحرار نے شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ اتحاد کی کوشش بھی کی تھی جو آپریشنل حدود اور کابل کے دباؤ کے باعث ناکام رہی، تاہم اب قوی امکان ہے کہ موجودہ خونریزی کے بعد وہ 'اتحاد المجاہدین پاکستان' میں شامل ہو جائے۔ سراج الدین حقانی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کیلئے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ وہ داعش (ISKP) کے پھیلاؤ کو روکنے، اپنی سرزمین پر داخلی جنگ سے بچنے، اور پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ان گروہوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس خونی تصادم کے معاشی محرکات بھی نہایت اہم ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق یہ کشیدگی دراصل ایک طویل عرصے سے جاری بھتہ خوری کی جنگ کا تسلسل ہے۔ قبائلی ضلع خیبر میں پہلے تحریک طالبان پاکستان (TTP) مائننگ کے ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتی تھی، تاہم جماعت الاحرار کے الگ ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ جماعت الاحرار نے ضلع خیبر میں منرلز کے ٹھیکیداروں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے ٹی ٹی پی کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا۔ یہی عمل بعد ازاں قبائلی ضلع اورکزئی میں دہرایا گیا، جہاں جماعت الاحرار نے کوئلے کی کانوں کے ٹھیکیداروں کو ٹی ٹی پی کو بھتہ دینے سے منع کر کے یہ سلسلہ خود سنبھال لیا۔ اب یہی تنازع ضلع کرم منتقل ہو چکا ہے، جس پر کمانڈر کاظم کو شدید اعتراض تھا۔ کرم، جو اپر، لوئر اور سینٹرل تین حصوں میں تقسیم ہے، وہاں کے منرلز ٹھیکیداروں سے کمانڈر کاظم کا گروپ بھتہ وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع بھر میں جاری تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں سے بھی کمانڈر کاظم پانچ فیصد بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ لہٰذا، جماعت الاحرار کی کرم میں آمد کمانڈر کاظم اور ان کے نیٹ ورک کیلئے اپنے وسیع معاشی مفادات پر ایک براہِ راست ضرب کی مانند تھی۔ مقامی عمائدین اور عوام سے کی گئی بات چیت کی روشنی میں، مستقبل کے حوالے سے دو اہم منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جماعت الاحرار باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے ایک الگ عسکری بلاک تشکیل دے دیں، جس سےقبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کا ڈھانچہ طاقت کے کئی مراکز میں بٹ جائے گا۔ دوسرا منظرنامہ یرغمالی بحران سے جڑا ہے، اگر مذاکرات ناکام رہے تو ٹارگٹ کلنگ کی ایک ایسی لامتناہی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کا حتمی فائدہ داعش (ISKP) کو پہنچے گا۔ داعش اس عسکری خلا کا فائدہ اٹھا کر کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرات کی زد میں آ جائے گا۔ مقامی عمائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یرغمال بنائے گئے دس افراد کے بدلے میں ٹی ٹی پی ایک مشروط معاہدے کی جانب جا سکتی ہے، جس میں یہ شرط رکھی جا سکتی ہے کہ جماعت الاحرار کا کوئی بھی رکن مستقبل میں ضلع کرم میں داخل نہیں ہوگا۔ اس تصادم کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس خطے کی عسکری تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اورکزئی کے عمائدین کے مطابق، پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کا پہلا امیر حافظ سعید خان تھا جس کا تعلق اورکزئی سے تھا۔ وہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے ناراض ہو کر داعش میں شامل ہوا اور 2016 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ حافظ سعید خان کے ہمراہ ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈروں نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان ابتدائی ساتھیوں میں کمانڈر گل زمان فتح نمایاں تھا، جو حافظ سعید خان کا دستِ راست اور داعش خراسان کا نائب امیر مقرر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹی ٹی پی کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد (اصل نام شیخ مقبول اورکزئی) اور کمانڈر دولت خان بھی داعش میں شامل ہونے والے اہم اورکزئی نژاد کمانڈر تھے۔ دوسری جانب، قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے خلیفہ عمر منصور کی داعش میں شمولیت ابتدائی طور پر متنازع رہی۔ اگرچہ وہ حافظ سعید خان کے قریبی ساتھی تھے، لیکن وہ ٹی ٹی پی مہمند (حال جماعت الاحرار) کے سربراہ مرحوم عمر خالد خراسانی کے ساتھ بھی گہری وابستگی رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی باضابطہ وابستگی ایک طویل عرصے تک غیر واضح رہی۔ مجموعی طور پر، ان ابتدائی بیعت کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا، کیونکہ حافظ سعید خان کا وہاں مضبوط اثر و رسوخ تھا۔ یہ تمام افراد بعدازاں مختلف امریکی ڈرون حملوں، افغان سیکیورٹی فورسز یا افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے۔ ان کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد داعش خراسان کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور تنظیم میں غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ اس تاریخی پس منظر کے باوجود، آج بھی اورکزئی اور ملحقہ ضلع کرم میں ایسے عناصر کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کا نظریاتی اور تنظیمی اتحاد اب ممکن دکھائی نہیں دیتا، جبکہ جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی سے راہیں جدا کرنے کے بعد ان کے مابین قربتوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ گروہ نہ صرف علاقے میں مشترکہ عسکری کارروائیوں میں ملوث ہیں، بلکہ معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری بھی کر رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ عناصر اب امیر کاروباری شخصیات اور بیرونِ ملک (خصوصاً متحدہ عرب امارات) میں مقیم خاندانوں کو بھی بھتے کی دھمکیاں دے کر وصولیوں کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔ اس عسکری انتشار کے ساتھ ساتھ کرم اور اورکزئی میں متحارب مذہبی و مسلکی جیسے نظریاتی مسائل بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ کرم کے عمائدین کے مطابق، داعش کا بنیادی ہدف مقامی اہل تشیع برادری ہے، جس کے پیشِ نظر اہل تشیع نے اپنے دفاع کیلئے کرم میں "زینبیون" اور "مہدی ملیشیا" جیسے جہادی نیٹ ورکس کو فعال کر رکھا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی اور فنڈنگ حاصل ہے۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کیلئے یہ ملیشیاز اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر ان کیلئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عمائدین کا خیال ہے کہ جماعت الاحرار اور داعش کے مقامی عناصر کے مابین بڑھتی ہوئی قربتیں اور ان کا کرم و اورکزئی میں متحرک ہونا، آنے والے دنوں میں سیکیورٹی فورسز اور اہل تشیع برادری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ گروہ اپنی معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی اداروں اور اہل تشیع برادری کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے۔ اس صورتحال نے کرم کو ایک ایسی نئی عسکری اور مسلکی کشمکش کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے، جہاں کسی بھی وقت فرقہ وارانہ تصادم کا نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس کے حکام سمیت ایک درجن سے زائد ذرائع کے ساتھ ہونے والی تفصیلی بات چیت کی بنیاد پر، میں تشویشناک نتائج کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ ان حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریاست کو اس باہمی لڑائی سے فائدہ ہو سکتا ہے، اس مفروضے کے ساتھ کہ جیسے جیسے یہ عسکریت پسند گروہ ایک دوسرے کو کمزور کریں گے، وہ فطری طور پر کمزور ہو جائیں گے اور ریاست کیلئے خطرہ کم ہوگا۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے سینیئر صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ جاری تنازعہ کے جلد ہی اورکزئی اور خاص طور پر کرم اضلاع میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عسکریت پسندی کے خاتمے کے بجائے، یہ داخلی جنگ ایک ایسا تزویراتی خلا پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے جسے دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (ISKP) استعمال کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر ISKP اس خلا میں متحرک ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ فرقہ وارانہ عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا بلکہ پاکستانی ریاست کیلئے ایک زیادہ خوفناک اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی ابھرے گا۔

قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ

ناصر داوڑ قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش مزید پڑھیں

سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ پاکستان کا تعلیمی نظام دو متوازی دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں ملک کی اکثریتی آبادی اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہے، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جو جدید سہولیات اور معیاری تعلیم کے دعوے دار ہیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پالیسی ساز یعنی وزراء، بیوروکریٹس، اعلیٰ افسران اور کاروباری اشرافیہ میں سے شاذ و نادر ہی کسی کے بچے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم نظر آتے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس بات کا کوئی شفاف ریکارڈ موجود نہیں کہ کتنے سرکاری عہدیداران کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ شرح تقریباً صفر ہے۔ جب تک حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے انہی بوسیدہ بینچوں یا ٹاٹ پر نہیں بیٹھتے جن پر ایک غریب کا بچہ بیٹھتا ہے، تب تک پالیسی سازی میں وہ درد شامل نہیں ہو سکتا جو نظام کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کیلئے سرکاری اسکول کی چھت کا گرنا، پینے کا پانی کی یا دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان یا اساتذہ کی غیر حاضری محض ایک فائل کا مسئلہ رہ جاتا ہے، نہ کہ زندگی اور موت کا سوال۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی کامیابی کا راز کوئی جادو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی طلب اور سرکاری نظام کی ناکامی ہے۔ ان اداروں میں اساتذہ کی حاضری اور کارکردگی کا سخت احتساب ہوتا ہے کیونکہ والدین فیس ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نجی تعلیمی مافیا سرکاری نظام کو بہتر نہیں ہونے دیتا؟ اس کا جواب دو رخی ہے۔ بہت سے سرکاری عہدیداران خود پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان یا شراکت دار ہیں۔ جب کسی کا مالی مفاد سرکاری اسکولوں کے زوال میں وابستہ ہو، تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ سرکاری اسکول اتنے معیاری ہو جائیں کہ نجی اسکولوں کی دکانیں بند ہو جائیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں ثانوی تعلیمی بورڈز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا گٹھ جوڑ تشکیل پا چکا ہے جس میں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کسی بھی صورت سبقت نہ ملنے دی جائے۔ پرائیویٹ اسکول مالکان کے درمیان اس بات کا مقابلہ ہے کہ ان کے طلبا بورڈ کے ٹاپ ٹین میں جگہ بنائیں، جس کے حصول کیلئے سفارش، تحفے تحائف اور رشوت خوری کا کھل کر سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں چیئرمین کی کرسی کے حصول کیلئے سیاسی رسہ کشی اور بھاری رقوم کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار نجی اداروں کے برابر ہو جائے، تو غیر ضروری پرائیویٹ اسکول بند ہو جائیں گے اور تعلیم ایک منافع بخش کاروبار سے نکل کر دوبارہ بنیادی انسانی حق بن جائے گی۔ پاکستان میں تعلیمی اصلاحات تب ہی ممکن ہیں جب مفادات کا یہ ٹکراؤ ختم ہو۔ جب تک بیوروکریسی، سیاستدانوں اور بااثر شخصیات کیلئے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنا لازمی نہیں کیا جاتا، تب تک سرکاری درسگاہوں کی حالتِ زار تبدیل ہونا محال ہے۔ جس دن حکمران طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں کے ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں والے کمروں میں بیٹھنے لگیں گے، اسی دن تعلیمی بجٹ میں اضافہ بھی ہوگا اور نظامِ تعلیم کی کایا پلٹ بھی، کیونکہ تب یہ ان کی اپنی مجبوری اور ضرورت بن جائے گی۔ دی خیبر ٹائمز ۔ عوامی آواز، حقائق کی تلاش

سرکاری اسکولوں کی بربادی: نجی مافیا، تعلیمی بورڈز اور حکمران طبقے کا گٹھ جوڑ

دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ پاکستان کا تعلیمی نظام دو متوازی دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف سرکاری اسکول ہیں جہاں ملک کی اکثریتی آبادی اپنے بچوں کو بھیجنے پر مجبور ہے، تو دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں جو مزید پڑھیں

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔ اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں ۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کا ہے ۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کیلئے برسرِپیکار ہے ۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کیلئے ٹرانزٹ ٹیکس, اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے ۔ اسی خطے میں حافظ گل بہادر گروپ بھی ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کیلئے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے ۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن گیا، دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP) نامی شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے ۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں ۔    ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کیلئے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا ۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئرکے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے ۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ۔ اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے ۔    یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جنوری 2024 میں باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی ۔ ستمبر 2024 میں باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ۔ اسی طرح کی دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر 12 مئی 2026 کو لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا ۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں، عادل جان اور راحت اللہ، اور ایک معصوم خاتون سمیت نو افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں ۔    سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم کے (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی کے (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونریز مسلح تصادم ہوا۔ اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممتاز امتی گروپ کے عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔ مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس خونریز تصادم کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر مفرور اور زخمی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ سرچ آپریشن شروع کر دیا، تاہم اس واقعے کے مستقبل پر دور رس اور تشویشناک اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کیلئے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپسمیں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کیلئے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں، جن میں سے پہلی غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا وہ حکومتی فیصلہ ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے ۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسری جانب پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے ۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں ۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھر وں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پورے بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے ۔ سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں ۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کردیا۔ اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص آپریشن عزمِ استحکام کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے ۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لئے بغیر بند کمروں میں فیصلے کئے جا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز جیسے ضربِ عضب یا راہِ راست نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی، جیسا کہ باجوڑ میں 2008 کے آپریشن شیردل کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ۔ حالیہ دور میں بھی جولائی 2025 میں باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کئے جانے والے آپریشن سر بکف کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وادی تیراہ میں آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا ۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروئیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہورہے ہیں۔ بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بھی بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کیلئے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔    ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لئے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو بڑی مشکل اور فورسز نے جانوں کا نظرانہ پیش کرکے گرفتار لئے گئے تھے، اسی کمزور فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً چھ ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے یا پرامن شہری بننے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لئے، جس کا سنگین خمیازہ آج سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا ۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے جلدی میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے ۔ اب ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں, ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے ۔ اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ باڑ زمین کو نہیں بلکہ ان کے دلوں کو تقسیم کرتی ہے ۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کئے اسے آپریشن غضب الحق کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی ۔    بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ مئی 2026 میں بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا ۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس کے فوراً بعد ستمبر 2024 میں لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی ۔ ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دئے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک کا (عیدک قبائل کا امن لشکر) اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے ۔    ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کیلئے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں ۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا ۔ باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا ۔ اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے ۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔   حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کیلئے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی!

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ! خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں ریستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کے بعد سے، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر عسکری دھڑوں کی کارروائیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس نے صوبے کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق، عسکریت پسندوں کے حملوں کی تعداد جو 2021 میں محض 282 تھی، غیر معمولی رفتار سے بڑھتی ہوئی 2024 میں 1,758 سالانہ تک جا پہنچی ہے ۔ یہ خوفناک رجحان ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے نہ صرف جدید ترین امریکی ساختہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات تک رسائی حاصل کر لی ہے، بلکہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اس عسکری پھیلاؤ کے نتیجے میں صوبے میں سیکیورٹی فورسز شدید دباؤ کا شکار ہیں، ریاستی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور شہری حقوق و عوامی جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے ۔    صوبائی سیکیورٹی کے اس مجموعی بگاڑ اور ریاستی عملداری کے زوال کا سب سے تشویشناک مظہر صوبے کے جنوبی اضلاع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کبھی عسکریت پسندی سے محفوظ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب وہاں عسکریت پسندی کا نیا گڑھ قائم ہو چکا ہے جس نے پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ خاص طور پر ضلع کرک میں، جو کبھی پرامن سمجھا جاتا تھا، اب ایک اہم میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پہلی بار شدت پسند تنظیموں نے اس ضلع تک براہِ راست رسائی حاصل کر کے سرکاری عملداری کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ شام ہونے سے قبل ہی پولیس کو تھانوں اور قلعہ نما چوکیوں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ کرک میں حالیہ دنوں میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے بمباری کی گئی، اور جب زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسیں روانہ ہوئیں تو عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا، لاشوں کو نذرِ آتش کیا اور گاڑیوں کو پھونک دیا ۔ اس منظم عسکری اجارہ داری نے پولیس فورس کی دن ڈھلنے کے بعد نقل و حرکت کو صفر کر دیا ہے اور مضافاتی و دیہی پٹی پر عسکریت پسندوں کی غیر اعلانیہ حکمرانی قائم ہو چکی ہے ۔    کرک کی اس ابتر صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جنوبی اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پسپائی اور عسکریت پسندوں کا گہرا نفوذ نمایاں ہے۔ ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے پولیس کا وہ حشر نشر کر دیا ہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ لکی مروت میں پولیس اسٹیشنوں پر مسلسل ہونے والے راکٹ اور دستی بموں کے حملوں، اور سڑک کنارے نصب بارودی سرنگوں کے ذریعے پولیس افسران کی ہلاکتوں نے فورس کے حوصلے پست کر دئے ہیں ۔ ستمبر 2024 میں، عاجز آ کر لکی مروت کے پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑیں اور تاجہ زئی کے مقام پر انڈس ہائی وے بلاک کر کے تاریخی دھرنا دیا ۔ ان مظاہرین کا کھلا مطالبہ تھا کہ اگر سیکیورٹی فورس کو جدید ہتھیار اور جنگی اختیارات دئے جائیں تو وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی حکام انہیں بے یار و مددگار چھوڑ چکے ہیں ۔ اسی طرح ضلع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عسکریت پسندوں نے نہ صرف سرکاری عملداری کو شدید متاثر کیا ہے، بلکہ یہاں کے عوام کا جینا بھی محال ہو گیا ہے ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں روزانہ کی بنیاد پر بینک کی کیش گاڑیوں کی لوٹ مار، تاجروں کا اغوا برائے تاوان اور بنوں میں مئی 2026 میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے کئے گئے خودکش دھماکے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پورا جنوبی ریجن عسکریت پسندوں کے چنگل میں آ چکا ہے ۔    جنوبی اضلاع کی اس سیکیورٹی دلدل کا موازنہ اگر قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مئی 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (FATA) کا خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق اس تزویراتی وعدے کے باوجود ناکام رہا کہ اس سے یہاں کی محرومیوں کا خاتمہ ہوگا، ترقیاتی خوشحالی آئے گی اور امن کا بول بالا ہوگا ۔ انضمام کے آٹھ سال بعد بھی ریاستی دعووں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ نہ تو ان قبائلی اضلاع کی تاریخی محرومیوں کا ازالہ کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس یہ خطہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ شدید بدامنی کا شکار ہو چکا ہے ۔ ریاستی ڈھانچے کی منتقلی اتنی ناقص اور عجلت پسندانہ تھی کہ نوآبادیاتی دور کے قانون (FCR) کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی اور انتظامی خلا کو پورا نہیں کیا جا سکا ۔ اس سنگین سیکیورٹی بحران کا سب سے ہولناک سماجی اثر یہ نکلا ہے کہ کوئی بھی طاقت اور مالی حیثیت رکھنے والا قبائلی شخص عسکریت پسندوں کے ڈر اور معاشی زوال کی وجہ سے قبائلی اضلاع سے نکل کر پشاور ، اسلام آباد یا ملک کے دیگر شہروں میں منتقل ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے برعکس، جس غریب شخص کے پاس ہجرت کرنے کی طاقت اور وسائل نہ ہوں، وہ ان جنگ زدہ اضلاع میں عملاً یرغمال بنے اپنے تلخ ترین دن گزارنے پر مجبور ہے ۔    قبائلی اضلاع کے اس سماجی و سیکیورٹی خلا کے معاشی اثرات پورے صوبے کی کاروباری برادری اور عام شہریوں پر بھی بھتہ خوری کی شکل میں مرتب ہو رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سب سے سنگین مالی مظہر بھتہ خوری (Bhatta) کا وہ منظم جال ہے جس نے اب باقاعدہ ایک متوازی متحرک ٹیکسیشن کی شکل اختیار کر لی ہے اور عسکریت پسندوں کی بقا و فنانسنگ کا ایک بڑا حصہ اسی بھتے سے حاصل ہوتا ہے ۔ صوبے میں بھتہ خوری اس وقت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں عسکریت پسند گروہ اب نہ صرف بڑے سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کو واٹس ایپ کالز اور ٹی ٹی پی کے لیٹر ہیڈز پر دھمکیاں دے کر لاکھوں ڈالر وصول کر رہے ہیں بلکہ انتہائی غریب طبقہ بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں ہے ۔ حالت یہ ہے کہ سڑک کنارے ریڑھیاں لگانے والے غریب ریڑھی فروش بھی شدت پسند تنظیموں کو باقاعدہ بھتے کی وصولی کر کے ہی پیاز، آلو اور ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں ۔ انکار کی صورت میں ان کی ریڑھیوں کو نذرِ آتش کر دیا جاتا ہے یا ان پر فائرنگ کی جاتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے احساس ریڑھی بان روزگار تحفظ بل 2025 کا مسودہ تیار کرنا اس معاشی المئے کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جس کا بنیادی مقصد 140,000 سے زائد غریب دکانداروں کو اس منظم بھتہ خور مافیا کے چنگل سے بچانا ہے ۔    مذکورہ معاشی نچوڑ کی جڑیں عسکریت پسندی کی مالیاتی فنڈنگ کے منظم نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہیں۔ عسکریت پسندوں کے ان فنڈنگ نیٹ ورکس کے بنیادی اہداف میں بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار شامل ہیں جنہیں واٹس ایپ پیغامات، غیر ملکی نمبرز اور براہ راست اغوا برائے تاوان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے ۔ ان کی اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ کابل، خوست اور لغمان میں بنے حوالہ اور ہنڈی کے نیٹ ورکس کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، عسکریت پسند سرکاری اور نجی ٹھیکیداروں سے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں پر 5% سے 15% تک جبری ٹیکسیشن کی شکل میں بھتہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبے اور سی پیک فیز 2.0 کے کام معطل ہو رہے ہیں ۔ اس کام کو منظم کرنے میں شمالی و جنوبی وزیرستان کے عسکری کمانڈرز براہِ راست ملوث ہیں ۔ اس کے علاوہ، شدت پسندوں کو چرس اور افیون کی فصلوں پر 20% سے 30% تک کا براہ راست شیئر دے کر منشیات کے ڈیلرز اور اسمگلر بھی بھتہ دیتے ہیں، جس سے غیر قانونی معیشت کو فروغ ملتا ہے اور یہ کالا دھن عسکریت پسندی کی فنڈنگ کے کام آتا ہے ۔ اس غیر قانونی منشیات ٹیکسیشن کو تحریک طالبان پاکستان اور وادی تیراہ میں متحرک لشکرِ اسلام جیسی تنظیمیں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ، انتہائی نچلے درجے پر غریب ریڑھی فروشوں اور دکانداروں سے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر مائیکرو بھتہ خوری کی جاتی ہے جہاں مقامی فعال عسکری سیل اور غنڈہ مافیا کا گٹھ جوڑ غریب خاندانوں کا معاشی استحصال کرتا ہے ۔    ریاستی سطح پر ان معاشی اور مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے دہائیوں پر محیط بدامنی کو ختم کرنے کے نام پر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک متعدد عسکری آپریشنز (مثلاً سوات آپریشن، ضربِ عضب، رد الفساد اور حالیہ آپریشن عزم استحکام) کئے جا چکے ہیں، لیکن یہاں مستقل امن کا قیام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اس ناکامی کے برعکس، حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا کے متعدد نیٹ ورکس بنا کر یہاں ترقی، بحالی اور خوشحالی کے ایسے قصیدے گھڑے ہیں جو تھکنے کا نام نہیں لیتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہے ۔ قبائلی اور جنوبی اضلاع میں وہی پرانی محرومی، وہی خوفناک بدامنی، بلکہ اب تو یہ کہا جاتا ہے کہ عسکریت پسندی کی موجودہ لہر 2014 سے قبل کی بدامنی سے بھی زیادہ ہولناک اور سنگین شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اس تضاد کو چھپانے کے لئے ریاستی سطح پر ایک غیر اعلانیہ سنسرشپ لاگو ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی قومی میڈیا پر بھی خیبر پختونخوا کی اس ابتر بدامنی، روزانہ کی ہلاکتوں، اور قبائلی اضلاع کی گہری سیکیورٹی و سماجی محرومی کو بالکل رپورٹ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہاں کا عام شہری خود کو ملک سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔    اس میڈیا بلیک آؤٹ کے پسِ پردہ عسکریت پسندوں کا تنظیمی ڈھانچہ جس تیزی سے مضبوط ہوا ہے، وہ ایک تزویراتی حقیقت ہے۔ مثال کے طور پر، سال 2014 میں شروع کئے گئے آپریشن ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسندوں کا جو تنظیمی نیٹ ورک عارضی طور پر توڑ دیا گیا تھا، عسکری منصوبہ بندی میں تزویراتی خامیوں کے باعث وہ نیٹ ورک اب نہ صرف دوبارہ جوڑ دیا گیا ہے، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور فعال ہو کر سامنے آیا ہے ۔ اس نیٹ ورک کے جڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ضربِ عضب کے دوران عسکریت پسند بھاگ کر افغانستان چلے گئے تھے ۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان کی کابل آمد کے بعد، ان جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں، جہاں سے انہوں نے سرحد پار نقل و حرکت تیز کی اور جدید امریکی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اور جنوبی اضلاع میں اپنے نیٹ ورکس کو دوبارہ سے بحال اور فعال کر دیا ۔    عسکریت پسندوں کی اس دوبارہ تنظیمِ نو میں ان کی تنظیمی مضبوطی اور نت نئے تزویراتی اتحادوں کا کلیدی کردار ہے ۔ گزشتہ چند سالوں میں عسکریت پسندوں کے کئی منتشر اور الگ ہو جانے والے دھڑوں کو دوبارہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مرکزی ڈھانچے میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ عسکری امور کے ماہرین کے مطابق، ٹی ٹی پی کا موجودہ امیر مفتی نور ولی محسود بکھری ہوئی شدت پسند تنظیموں اور دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا غیر معمولی ماہر مانا جاتا ہے، جس نے سخت نظم و ضبط قائم کر کے عسکریت پسندوں کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت کو مضبوط کیا ہے ۔ اس عسکری ارتقاء کا سب سے خطرناک پہلو شمالی وزیرستان کے روایتی حافظ گل بہادر گروپ (HGBG) کا دن بہ دن مضبوط ہونا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے لئے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے ۔ اب اس گروپ نے اپنا باقاعدہ تنظیمی نام بدل کر اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) رکھ لیا ہے اور اس مہلک عسکری اتحاد میں ٹی ٹی پی حکیم اللہ محسود گروپ، لشکرِ اسلام گروپ اور حرکت الانقلابِ اسلامی پاکستان جیسے دھڑے شامل ہو چکے ہیں ۔    شدت پسندوں کے ان نیٹ ورکس کی تفصیلی اندرونی دھڑے بندیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے عزائم اور اثرات واضح ہوتے ہیں۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) مفتی نور ولی محسود کی کلیدی قیادت میں تقریباً 80 سے زائد چھوٹے مقامی عسکری سیلز (ڈالگئی) کے اتحاد کی شکل میں متحرک ہے ۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر جنوبی و مغربی اضلاع، سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں سرگرم ہے اور منظم گوریلا حملوں، سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھاتی ہے ۔ دوسری جانب، اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کا نیا اتحاد حافظ گل بہادر، لشکرِ اسلام اور حرکت الانقلابِ اسلامی کی شراکت داری سے شمالی وزیرستان، بنوں، خیبر اور وادی تیراہ میں فعال ہے ۔ یہ گروہ فوجی چھاؤنیوں پر بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش حملوں اور نائٹ ویژن اسنائپنگ میں مہارت رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ ساتھ، ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والا متشدد گروپ ٹی ٹی پی جماعت الاحرار (JuA) پشاور، مہمند، باجوڑ اور نوشہرہ پٹی پر سرگرم ہے، جو اگرچہ ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی الحاق رکھتا ہے مگر آزاد فیلڈ آپریشنز کے تحت شہری علاقوں میں دستی بموں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگز کرتا ہے، جس کے باعث عام شہری روز بہ روز شدید غیر یقینی اور خوف و ہراس کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔    اس مسلسل اور منظم بدامنی کے براہِ راست اور مہلک معاشی اثرات صوبے کے غریب عوام اور کاروباری طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں ہوشربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ (HIE)، جو کبھی صوبے کی معاشی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی تھی، اب عملاً کھنڈر بننے جا رہی ہے کیونکہ وہاں درجنوں صنعتیں اور فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی ہیں ۔ فیکٹری مالکان اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے اس صنعتی بندش کی دو بڑی اور بنیادی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ پہلی وجہ بدامنی اور بھتہ خوری ہے جس کے تحت حیات آباد کے فیکٹری مالکان کو عسکریت پسندوں کی جانب سے واٹس ایپ پر کروڑوں روپے کے بھتے کے پیغامات مل رہے ہیں اور انکار کرنے والوں کے گھروں اور فیکٹریوں کو دستی بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ سے سینکڑوں مینوفیکچررز اپنا تمام سرمایہ لے کر بیرونِ ملک یا پنجاب منتقل ہو چکے ہیں ۔ دوسری بڑی وجہ بجلی کے ناقابلِ برداشت بلز اور گیس کنکشنز پر پابندی ہے، جس کی وجہ سے اب کارخانہ دار فیکٹریاں چلانے کی مالی سکت ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے روزانہ کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہو رہے ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ (SIDB) کے تحت 55 فیصد اور سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SDA) کے زیرِ انتظام 64 فیصد کارخانے اب مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں ۔    خیبر پختونخوا کے بگڑتے ہوئے سلامتی کے حالات کا براہِ راست تعلق پاکستان اور افغان امارتِ اسلامی کے مابین بڑھتے ہوئے تزویراتی اور سرحدی تنازعات سے ہے ۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان بھڑک اٹھنے والی باقاعدہ سرحدی جنگ، جس میں فضائی حملے اور ڈرون حملے شامل تھے، نے دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کو بدترین نہج پر پہنچا دیا ہے ۔ چین، جس نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ان حملوں اور سیکیورٹی بحران سے شدید تشویش کا شکار ہے ۔ اس جیو پولیٹیکل تعطل میں سب سے تشویشناک تزویراتی موڑ اس وقت آیا جب امارتِ اسلامی افغانستان نے چین کو ایک اہم اجلاس میں مطلع کیا کہ کابل کی یہ کوشش ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت اور ان کے تمام عسکری دھڑوں کو زبردستی افغان سرزمین سے نکال کر واپس پاکستان کی سرحد کے اندر دھکیل دے رہے ہیں ۔ افغان طالبان یہ اقدام اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کے لگنے والے عالمی الزامات اور سفارتی بلیک میلنگ کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے ۔ اس تزویراتی فیصلے کے تحت، سنکیانگ کے ایغور علیحدگی پسندوں کا مہلک گروہ ای ٹی آئی ایم یا رکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) بھی مجبوراً افغانستان سے نکل کر پاکستان کے قبائلی اضلاع کا رخ کرے گا ۔ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں انتہائی تربیت یافتہ جنگجوؤں کی قبائلی اضلاع کی طرف یہ زبردستی منتقلی خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلنے والی ہے جہاں سے نکلنا شاید ریاست کے بس میں نہ رہے، اور یہ خدشہ روز بہ روز حقیقت بنتا جا رہا ہے کہ امن و امان کی یہ بدترین صورتحال ناقابلِ تلافی حد تک مزید خراب ہو جائے گی ۔

خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ کا چیلینج، عسکری نیٹ ورکس کی بحالی، انتقامی خلا اور مقامی ابادی پر اثرات کا تنقیدی مطالعہ

خصوصی رپورٹ : ناصر داوڑ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال محض ایک مقامی انتظامی تعطل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی تزویراتی بحران کا شاخسانہ ہے جس نے ریاست کی رٹ کو ہلا کر مزید پڑھیں

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز بلیٹن عوام کیلئے حتمی سچ سمجھا جاتا تھا۔ صحافی معاشرے میں فکری رہنما تصور کئے جاتے تھے، اخبارات قومی مباحثے کی سمت متعین کرتے تھے اور ٹی وی چینلز عوامی رائے سازی کا سب سے طاقتور ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی شدید بحران کا شکار ہے، ہزاروں میڈیا ورکرز بے یقینی کا شکار ہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات، خبروں اور رائے سازی کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں صحافت ختم ہورہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ اس کی شکل تبدیل ہورہی ہے۔ ماضی میں صحافت کا مرکز اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی چینلز تھے، مگر اب صحافت موبائل فون، یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک، پوڈکاسٹس اور ویب سائٹس میں منتقل ہورہی ہے۔ پہلے ادارے صحافی کو شناخت دیتے تھے، آج صحافی خود ایک ادارہ بنتا جارہا ہے۔ اب کسی بڑے چینل یا اخبار سے وابستگی ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی بلکہ ذاتی ساکھ، ڈیجیٹل موجودگی اور عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ زیادہ اہم بن چکا ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا زوال دراصل اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کی معلومات حاصل کرنے کی عادت تبدیل کردی۔ لوگ صبح اخبار خریدنے کے بجائے موبائل فون پر خبریں پڑھنے لگے۔ اشتہارات، جو اخبارات کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھے، گوگل اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہوگئے۔ نتیجتاً اخبارات مالی بحران کا شکار ہوگئے، صفحات کم ہوئے، تنخواہیں رُکیں اور صحافی فارغ کئے جانے لگے۔ اسی طرح 2002 کے بعد پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے عروج نے ایک نئی میڈیا انڈسٹری کو جنم دیا۔ جیو، اے آر وائی، دنیا، ایکسپریس، سما اور دیگر چینلز نے صحافت کو نئی رفتار دی، ہزاروں نوجوان اس شعبے میں آئے اور میڈیا ایک طاقتور صنعت بن گیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی الیکٹرانک میڈیا شدید مسائل کا شکار ہوگیا۔ اشتہارات میں کمی، ریٹنگ کی دوڑ، سیاسی دباؤ، ادارتی آزادی پر قدغنیں اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے نیوز چینلز کی بنیادیں کمزور کردیں۔ اب نوجوان نسل ٹی وی اسکرین سے زیادہ موبائل اسکرین پر وقت گزارتی ہے۔ لوگ بریکنگ نیوز کیلئے ٹی وی آن کرنے کے بجائے یوٹیوب، ایکس، فیس بک یا واٹس ایپ کھولتے ہیں۔ اسی بحران کے باعث میڈیا انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ہورہی ہیں۔ کئی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور میں بے روزگار صحافی کی اصطلاح مکمل طور پر درست ہے؟ شاید پہلے یہ لفظ زیادہ مناسب تھا، مگر آج صورتحال مختلف ہے۔ اب صحافت صرف کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی نوکری کا نام نہیں رہی۔ اگر کوئی صحافی روایتی میڈیا ادارے سے الگ ہوکر بھی یوٹیوب، فیس بک، ویب سائٹ، پوڈکاسٹ، ڈیجیٹل رپورٹنگ یا فری لانس جرنلزم کررہا ہے تو اسے مکمل طور پر بے روزگار کہنا درست نہیں ہوگا۔ آج زیادہ مناسب اصطلاح آزاد صحافی، ڈیجیٹل صحافی یا فری لانس جرنلسٹ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ بے روزگاری سے زیادہ ذہنی جمود کا ہے۔ موجودہ دور میں بے کار صحافی وہ نہیں جو کسی ادارے میں ملازم نہیں، بلکہ وہ ہے جو بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کیلئے تیار نہیں۔ وہ صحافی جو اب بھی صرف روایتی نیوز روم کے انتظار میں بیٹھا رہے، نئی ٹیکنالوجی نہ سیکھے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رہے اور جدید میڈیا کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، وہ عملی طور پر خود کو محدود کررہا ہے۔ آج کا دور ملٹی میڈیا جرنلزم کا ہے، جہاں ایک شخص لکھ بھی سکتا ہے، ویڈیو بھی بنا سکتا ہے، پوڈکاسٹ بھی کرسکتا ہے اور سوشل میڈیا پر اپنا براہِ راست سامعین بھی بنا سکتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کیلئے اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کن پلیٹ فارمز پر کام کرنا چاہئے؟ موجودہ حالات میں یوٹیوب سب سے طاقتور پلیٹ فارم بنتا جارہا ہے۔ یہاں تجزیے، وی لاگز، انٹرویوز، ڈاکیومنٹریز اور پوڈکاسٹس کیلئے بڑی گنجائش موجود ہے۔ فیس بک اب بھی اردو صحافت کیلئے اہم پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر مقامی خبروں اور لائیو سیشنز کیلئے۔ ٹک ٹاک نوجوان نسل تک پہنچنے کا تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ ایکس فوری خبروں اور سیاسی مباحثوں کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انسٹاگرام، واٹس ایپ چینلز اور ذاتی ویب سائٹس بھی مستقبل کی صحافت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اب کامیاب صحافی وہ ہوگا جو صرف ایک پلیٹ فارم پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں اکثر سنجیدہ، علمی اور فکری لوگ پس منظر میں رہ جاتے ہیں، جبکہ شور مچانے والے، جذبات بھڑکانے والے اور غیر سنجیدہ عناصر زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا الگورتھم ہے، جو تحقیق، دلیل اور متوازن گفتگو کے بجائے جذباتی، متنازع اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے۔ چیخنے، لڑنے، الزامات لگانے اور سنسنی پھیلانے والے مواد کو زیادہ ویوز ملتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مواد اکثر نظر انداز ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف بہت سے پڑھے لکھے، باشعور اور سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا کو غیر سنجیدہ سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میدان غیر ذمہ دار لوگوں کیلئے خالی رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً عوامی بیانیہ اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو معلومات اور تحقیق سے زیادہ جذبات فروخت کرتے ہیں۔ بعض عناصر لوگوں کو احساسِ محرومی میں مبتلا کرنے، انہیں غصے اور مایوسی کی طرف دھکیلنے اور جذباتی ردعمل پیدا کرنے کیلئے اشتعال انگیز الفاظ اور منفی بیانئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جس کا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ صحافت کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی، تقسیم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا حل یہ نہیں کہ سنجیدہ لوگ سوشل میڈیا چھوڑ دیں۔ اگر باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار لوگ جدید پلیٹ فارمز پر فعال نہیں ہوں گے تو پھر یہ میدان مکمل طور پر شور، نفرت اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی، سیاسی بیانیے، سماجی شعور اور معلومات کی ترسیل کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ اس لئے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر آنا چاہئے، مگر تحقیق، ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ۔ پاکستانی میڈیا اس وقت ایک بڑے انتقالی دور سے گزر رہا ہے۔ روایتی میڈیا کمزور ضرور ہورہا ہے، مگر صحافت ختم نہیں ہورہی بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں نئی شکل اختیار کررہی ہے۔ مستقبل ان صحافیوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سیکھیں گے، ویڈیو، آڈیو اور تحریر تینوں پر عبور حاصل کریں گے، اپنی ذاتی ساکھ بنائیں گے اور جدید پلیٹ فارمز پر خود کو منظم انداز میں پیش کریں گے۔ اب صرف کسی ادارے کی نوکری پر انحصار کافی نہیں رہا۔ آج کامیاب وہی ہوگا جو خود کو ایک برانڈ، ایک پلیٹ فارم اور ایک مستقل آواز کے طور پر منوا سکے۔ وقت ہمیشہ اُنہی لوگوں اور اداروں کو زندہ رکھتا ہے جو خود کو حالات اور تقاضوں کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صرف ماضی کی شہرت، تجربہ یا نام کسی کی بقا کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایک وقت تھا جب “نوکیا” موبائل فون کی دنیا کا سب سے بڑا اور قابلِ اعتماد نام سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کے تقریباً ہر کونے میں اگر بہترین موبائل فون کا ذکر ہوتا تو نوکیا سرفہرست ہوتا، مگر وقت کے بدلتے تقاضوں، اسمارٹ ٹیکنالوجی اور نئی دنیا کے ساتھ خود کو مکمل طور پر ہم آہنگ نہ کرسکنے کے باعث وہ آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہوگیا، اور اس کی جگہ نئے اور جدید اسمارٹ فونز نے لے لی۔ صحافت کی دنیا میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اگر کوئی صحافی صرف ماضی کے تجربات، روایتی انداز اور پرانے نظام پر اصرار کرے گا، اور نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بدلتی میڈیا دنیا کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا، تو وہ بھی وقت کے ساتھ اسی طرح منظر سے غائب ہوجائے گا۔ آج کا دور اُنہی صحافیوں کا ہے جو سیکھنے، بدلنے اور وقت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روایتی میڈیا سے ڈیجیٹل دنیا تک؛ پاکستانی صحافیوں کیلئے نئے چیلنجز

تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں صحافت ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں میڈیا کی پوری ساخت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اخبار میں شائع ہونے والی خبر یا رات نو بجے کا نیوز مزید پڑھیں

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ تحریر: ناصر داوڑ پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی راکھ سے اب ایک ایسی چنگاری پھوٹی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فروری 2026 کا مہینہ تاریخ میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب دہائیوں پر محیط تزویراتی گہرائی کا تصور کھلی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان فوجی تنصیبات پر فضائی حملے محض عسکری کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ اس صبر کے لبریز ہونے کا اعلان تھا جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر اسلام آباد میں پایا جاتا تھا۔ 16 مارچ 2026 کو کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے المناک حملے، جس میں 400 سے زائد جانیں گئیں، اور ایک لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی نے اس انسانی بحران کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، تاہم پاکستان اسے دہشتگردی کا ٹریننگ کیمپ بتا رہاہے، اسی سنگین صورتحال میں بیجنگ نے اپنی روایتی خاموشی توڑ کر ارومچی امن عمل کے ذریعے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر انٹری دی ہے جو اب صرف معاشی ہی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل ریفری بننا چاہتا ہے۔ ارومچی مذاکرات کا پس منظر اور سفارتی نشستوں کا ارتقاء چین نے اس ثالثی کیلئے سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی کا انتخاب محض اتفاقاً نہیں کیا، بلکہ یہ کابل اور اسلام آباد کیلئے ایک خاموش پیغام تھا کہ اس خطے کی بدامنی براہِ راست چین کی سرحدوں کو متاثر کرتی ہے۔ اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں ہونے والے یہ مذاکرات پانچ مختلف مراحل پر محیط تھے، جن میں سفارتی نزاکتوں سے زیادہ عسکری حقائق پر زور دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں جہاں مذاکرات کے ضابطے طے ہوئے، وہیں دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اصل تپش محسوس کی گئی جب ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، ڈیورنڈ لائن پر باڑ کی حفاظت اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ چوتھی اور پانچویں نشست تک آتے آتے، چین نے دونوں فریقین کو ایک ایسے تیکنیکی فریم ورک پر لانے کی کوشش کی جہاں جذباتی بیانئے کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق کو اہمیت دی جائے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اب صرف وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی مسماری کا مادی ثبوت چاہئے۔ ان مذاکرات میں شریک وفود کی ساخت دونوں ممالک کی ترجیحات کا آئینہ دار تھی۔ پاکستان نے اپنے وفد کو انتہائی مختصر اور تیکنیکی رکھا، جس کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی کر رہے تھے، جبکہ پسِ پردہ انٹیلی جنس اور عسکری حکام کی موجودگی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے خالصتاً سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کا وفد جس میں مولوی محب اللہ وسیق اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کے نمائندے شامل تھے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کابل اسے طاقت کے توازن کا معاملہ سمجھتا ہے۔ طالبان کا یہ وفد سفارتی لفاظی کے بجائے زمینی عسکری قوت کے دفاع کیلئے ارومچی پہنچا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ بیجنگ کے تزویراتی مفادات اور علاقائی استحکام کی ضرورت چین کی اس غیر معمولی مداخلت کے پیچھے کھربوں ڈالر کا داؤ لگا ہوا ہے۔ بیجنگ کیلئے سی پیک محض ایک سڑک نہیں بلکہ اس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی شہ رگ ہے۔ سی پیک 2 کے تحت چین اب اپنی سرمایہ کاری کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک لے جانے کا خواب دیکھ رہا ہے، لیکن یہ خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب پاک افغان سرحد پر بندوقیں خاموش ہوں۔ داسو ڈیم جیسے منصوبوں پر چینی انجینئرز کی ہلاکت نے بیجنگ کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر اس نے اب مداخلت نہ کی تو اس کی معاشی سلطنت کو عسکریت پسندی کی دیمک چاٹ جائیگی۔ اس کے علاوہ، سنکیانگ کی سیکیورٹی چین کا سب سے حساس ترین پہلو ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)یا ترکستان اسلامک پارٹی (TIP) جیسے گروہوں کا افغان سرزمین کو استعمال کرنا چین کیلئے ریڈ لائن ہے، اور وہ ارومچی عمل کے ذریعے کابل کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کاری کے بدلے میں اسے اپنی سرحدوں کو علیحدگی پسندوں سے پاک رکھنا ہوگا۔ جیو پولیٹیکل سطح پر چین خود کو امریکہ کے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے بعد، پاک افغان تنازع کا حل بیجنگ کے گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہوگا۔ چین جانتا ہے کہ اگر وہ یہاں ناکام ہوا تو امریکہ کو بگرام ایئر بیس جیسے اڈوں کے ذریعے خطے میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل جائے گا، جو چینی جوہری تنصیبات کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے لیتھیم، کوبالٹ اور تانبے کے وسیع ذخائر، جن کی مالیت کھربوں ڈالر ہے، چین کی جدید ٹیکنالوجی کی صنعت کیلئے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مس عینک جیسے منصوبوں کی کامیابی کیلئے چین کسی بھی قیمت پر سرحد کے دونوں اطراف امن کا خواہاں ہے، چاہے اس کیلئے اسے دونوں اتحادیوں پر سخت دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔ دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور ٹی ٹی پی کا پیچیدہ معاملہ 2020 کا دوحہ معاہدہ، جس کی بنیاد پر امریکہ نے افغانستان چھوڑا تھا، اب ایک بے معنی کاغذ کا ٹکڑا نظر آتا ہے۔ اس معاہدے کی روح یہ تھی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹیں اور زمینی حقائق اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور حافظ گل بہادر گروپ جیسے عناصر نہ صرف افغان سرزمین پر موجود ہیں بلکہ انہیں ایک طرح کی نظریاتی چھتری بھی میسر ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بنوں چھاؤنی جیسے حملوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔ امارتِ اسلامی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور منتقل کر دیا ہے، ایک ایسا تزویراتی مغالطہ ہے جس کا مقصد عالمی برادری کو مطمئن کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی منتقلی کیلئے 10 ارب روپے کے مطالبے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے کیش کرانا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین بیعت کا رشتہ ہے جو کسی بھی سیاسی معاہدے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتے ہیں تو انہیں اندرونی بغاوت اور اپنے جنگجوؤں کے داعش خراسان (IS-KP) میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ یہی وہ نظریاتی بندھن ہے جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان نے ارومچی میں جن عسکری تنظیموں کی فہرست پیش کی ہے، ان میں ٹی ٹی پی کے علاوہ لشکرِ اسلام، اتحاد المجاہدین پاکستان، جیشِ فرسانِ محمد اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) بھی شامل ہیں۔ بی ایل اے کے حوالے سے پاکستان کا یہ موقف کہ اسے افغان انٹیلی جنس کی خاموش حمایت حاصل ہے، اس تنازع کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر لے گیا ہے جہاں اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے باغیوں کو پناہ دینے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی اور بگرام ایئر بیس: پاک افغان تعلقات میں نئی تبدیلیاں مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین اس پوری صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور تزویراتی شراکت داری نے کابل کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ اور پاکستان کی جانب سے امریکی مفادات کیلئے سیکیورٹی سب کنٹریکٹر کا ممکنہ کردار چین کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کی مدد سے امریکہ بگرام میں واپس آتا ہے تو سی پیک کا پورا منصوبہ امریکی نگرانی میں آ جائے گا۔ اسی لئے چین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کی خوشنودی کیلئے پڑوسیوں کے ساتھ پل نہیں جلا سکتا۔ پاکستان، چین اور امریکہ کے اس تہرے تزویراتی مقابلے نے افغانستان کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اب بھارت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ کابل کی جانب سے بھارتی فوج سے تربیت کے مطالبات اور نئی دہلی سے بڑھتے ہوئے سفارتی تعلقات نے اسلام آباد کی اس دیرینہ اسٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی کو دفن کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان، افغانستان میں ایک ایسی دوست حکومت چاہتا تھا جو مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔ اسلام آباد کے اسٹریٹجک ڈیپتھ کے تصور کو دفن کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان جسے اپنا زیرِ اثر علاقہ سمجھتا تھا، وہ اب اس کے حریفوں کا نیا ٹھکانہ بنتا جا رہا ہے۔ ارومچی عمل اگرچہ ایک (سیفٹی والو) کے طور پر کام کر رہا ہے جو کسی بڑے دھماکے کو روک رہا ہے، لیکن یہ مستقل امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ جب تک ٹی ٹی پی کا نظریاتی وجود اور ڈیورنڈ لائن کا سرحدی تنازع موجود ہے، تب تک کوئی بھی معاہدہ محض ایک عارضی فائر بندی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گا۔ ارومچی امن عمل کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کیا چین اپنی معاشی طاقت کو عسکری دباؤ میں بدل سکتا ہے؟ پاکستان کی معاشی مجبوری اور افغانستان کی سفارتی تنہائی بیجنگ کے ہاتھ میں وہ پتے ہیں جنہیں وہ بہت احتیاط سے کھیل رہا ہے۔ تاہم، پاک افغان تعلقات کی تلخی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف میز پر بیٹھنے سے دل صاف نہیں ہوں گے۔ یہ ایک ایسی جیو پولیٹیکل بساط ہے جہاں ہر کھلاڑی دوسرے کو مات دینے کیلئے نئے مہرے چل رہا ہے، اور اس جنگ میں فی الوقت امن کی دستک بہت کمزور سنائی دے رہی ہے۔

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیو پولیٹیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفادات کا گہرا تجزیہ

پاکستان، چین اور امریکہ کے تہرے مقابلے نے کابل کو دہلی کے قریب کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا مسئلہ ہو یا بگرام کی واپسی کا مطالبہ، پاک افغان تعلقات اب اس نہج پر ہیں جہاں صرف میز پر مزید پڑھیں

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ طور پر اتارا جانا محض ایک دفتری منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے ایک ایسے طویل اور ہنگامہ خیز باب کا خاتمہ ہے جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ فیصلہ کہ پشاور سے تمام سفارتی امور اسلام آباد منتقل کر دئے جائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں کسی بھی بیرونِ ملک امریکی مشن کی پہلی مستقل بندش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس فیصلے کا بظاہر سبب بجٹ میں کٹوتی اور سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی تزویراتی وجوہات اس ڈھانچے کی مکمل تحلیل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس نے سرد جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک واشنگٹن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا تھا۔ اب نئی ٹیکنالوجی اور بدلی ہوئی عالمی ترجیحات نے پشاور میں فزیکل موجودگی کی ضرورت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اس کہانی کی جڑیں 1952 میں پیوست ہیں جب پشاور میں پہلی بار امریکی قونصل خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ وہ دور سرد جنگ کا تھا اور پشاور کی جغرافیائی حیثیت اسے کمیونزم کے خلاف ایک بہترین واچ ٹاور بناتی تھی۔ پشاور محض ایک سفارتی دفتر نہیں تھا بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کا وہ حساس مہرہ تھا جہاں سے سوویت یونین اور وسطی ایشیا کی فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ اسی مقصد کے لئے پشاور ایئر اسٹیشن یا (بڈھ بیر اڈہ) قائم کیا گیا، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایک انتہائی حساس مانیٹرنگ مرکز مانا جاتا تھا۔ اس دور میں اسے لٹل یو ایس اے کہا جاتا تھا، جہاں سینکڑوں امریکی اہلکار ایک خود کفیل بستی کی طرح رہتے تھے۔ یہ وہی مقام تھا جہاں سے اڑنے والے امریکی یو ٹو (U-2) جاسوس طیارے کو سوویت یونین نے مار گرایا، جس کے بعد دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا جب سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے پشاور کے گرد نقشے پر سرخ لکیر کھینچ کر اسے تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پشاور قونصل خانے کی تاریخ کا سب سے متحرک اور ہنگامہ خیز دور افغان جنگوں کے دوران سامنے آیا۔ اسی قونصل خانے نے 1979 سے 1989 کے دوران افغان مزاحمت کے اعصابی مرکز کے طور پر کام کیا۔ سی آئی اے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار اسی عمارت سے افغان مجاہدین اور پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ اسی دور میں بڈھ بیر کے مقام پر وہ خونی معرکہ بھی پیش آیا جس میں قید سوویت اور افغان فوجیوں نے مسلح بغاوت کی اور پورا اسلحہ خانہ دھماکے سے اڑ گیا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ایک بار پھر اس خطے میں جنگ کے لیے اترا تو پشاور قونصل خانہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ تورخم بارڈر کے راستے نیٹو سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے اور قبائلی علاقوں میں جاری عسکری کارروائیوں کی نگرانی کا سب سے بڑا لاجسٹک اور انٹیلی جنس مرکز بن کر ابھرا۔ لیکن اس تزویراتی اہمیت کی ایک بھاری قیمت سیکیورٹی کی صورت میں چکانی پڑی۔ پشاور میں امریکی سفارت کاروں پر ہونے والے حملے محض اتفاق نہیں تھے بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ تھے۔ اگست 2008 میں جب مسلح افراد نے یونیورسٹی ٹاؤن میں قونصل جنرل لِن ٹریسی کی گاڑی کو گھیر کر اندھا دھند فائرنگ کی، تو یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب شہر کے گنجان علاقوں میں امریکی اہلکار محفوظ نہیں رہے۔ اسی سال نومبر میں یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر اسٹیفن وینس کو ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر دیا گیا۔ اپریل 2010 میں پشاور نے وہ ہولناک دن دیکھا جب پانچ خودکش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی اور راکٹوں کے ساتھ قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور قونصل خانے کا دفاعی ڈھانچہ بری طرح لرز گیا۔ اس کے بعد بھی 2011 اور 2012 میں موٹر سائیکل بموں اور مارٹر شیلز کے ذریعے مسلسل حملے جاری رہے، جس نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ پشاور کے شہری علاقے میں سفارتی عملے کی موجودگی اب ایک ناقابلِ برداشت رسک ہے۔ یونیورسٹی ٹاؤن کا علاقہ برسوں تک ان خفیہ سرگرمیوں کا اصل گڑھ بنا رہا۔ چونکہ قونصل خانے کی مرکزی عمارت چھوٹی تھی، اس لئے امریکی عملے کی رہائش اور ترقیاتی سرگرمیوں کو یونیورسٹی ٹاؤن کے وسیع مکانات اور ولاز میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ ولاز بظاہر عام رہائشی مکانات لگتے تھے لیکن ان کے اندر کا نظام انتہائی پیچیدہ اور دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا۔ یہاں سی آئی اے کے اہلکار اور نجی سیکیورٹی فرمز کے کارندے مشکوک افراد کی نگرانی اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ اسی نیٹ ورک کا ایک حصہ ریمنڈ ڈیوس جیسے متنازع کرداروں سے بھی جڑا تھا جن کے ان خفیہ کمپاؤنڈز سے روابط اکثر مقامی مقتدر حلقوں کے لئے شک کا باعث بنتے رہے۔ یو ایس ایڈ اور مختلف این جی اوز کی آڑ میں ہونے والے انٹیلی جنس روابط نے پشاور کے سماجی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مئی 2026 میں اس مشن کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس کی بڑی وجہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے بعد اب واشنگٹن کو پشاور میں اس قدر بڑے اور مہنگے مشن کی ضرورت نہیں رہی۔ مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کا جو پروگرام شروع کیا ہے، اس کے تحت پشاور جیسے ریموٹ مشنز کا جواز ختم ہو گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 7.5 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور کراچی میں امریکی مشن پر ہونے والے حملوں نے سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس نے پشاور قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ پشاور میں فزیکل موجودگی کے خاتمے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ اس خطے سے مکمل طور پر لاتعلق ہو رہا ہے۔ اب امریکہ کی دلچسپی کا محور بوٹس آن گراؤنڈ کے بجائے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اب جدید ترین فضائی نگرانی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کر رہا ہے جو پہلے پشاور میں بیٹھ کر حاصل کئے جاتے تھے۔ اس فیصلے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ عسکریت پسندوں کے لئے اب کوئی آسان اور فزیکل امریکی ہدف باقی نہیں رہے گا، جس سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانے کی یہ تاریخی بندش پاکستان اور افغانستان کے خطے میں امریکہ کے اس روایتی فرنٹ لائن اسٹیٹ والے کردار کے باقاعدہ خاتمے کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب اس خطے کو ماضی کی طرح جنگی مہم جوئی کے بجائے ایک انتہائی محدود اور دور رس سفارتی نظر سے دیکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بالخصوص پشاور کے لئے یہ ایک بڑی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی ہے۔ وار آن ٹیرر اور افغان جہاد کے دوران پشاور جو عالمی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا، اب اس فزیکل موجودگی کے ختم ہونے سے اس خطے کی وہ حیثیت بدل رہی ہے جسے بین الاقوامی میڈیا میں خطرناک ترین سرحد کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ اب امریکہ اس خطے کو براہِ راست مداخلت کے بجائے دور سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی بندش: ایک تاریخی و تزویراتی تجزیہ

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ پشاور سے امریکی پرچم کی رخصتی: سات دہائیوں پر محیط تزویراتی تعلق کا خاتمہ اور پاک-افغان سرحد پر بدلتی ہوئی عالمی بساط کا تجزیہ مئی 2026 کی ایک خاموش صبح پشاور میں امریکی پرچم کا باقاعدہ مزید پڑھیں