یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست 'فضول' قرار، وکیل کو جرمانہ راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست 'غیر ضروری اور فضول' قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔ وکیل فیصل ملک نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملاقات کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی کی ڈسپینسری میں جمع کرایا جائے۔ یہ رقم غریب مریضوں کے علاج پر خرچ ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا طریقہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ طے کر چکی ہے۔ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے احکامات کے برعکس کوئی نیا حکم جاری نہیں کر سکتی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور وہ اس وقت جوڈیشل تحویل میں نہیں ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پہلے بھی دو درخواستیں دائر ہو چکی ہیں۔ درخواست گزار متعلقہ فورم پر جانے کے بجائے بار بار عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔ عدالت نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیر سنجیدہ درخواستوں کے ذریعے وقت کا ضیاع ناقابل قبول ہے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست ‘فضول’ قرار، وکیل کو جرمانہ

راولپنڈی (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی درخواست ‘غیر ضروری اور فضول’ قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے درخواست گزار وکیل پر 10 ہزار مزید پڑھیں

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے نشے کی عکاسی کرتی ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر کی وادی ہو یا چارسدہ کے زرخیز میدان، یہاں اجنبی حکمرانوں نے صرف انسانوں کو ہی پابندِ سلاسل نہیں کیا بلکہ درختوں اور دروازوں کو بھی "باغی" قرار دے کر زنجیروں میں جکڑ دیا۔ لنڈی کوتل: وہ درخت جو سوا صدی سے قید ہے لنڈی کوتل کی تاریخی فوجی چھاؤنی (کینٹ) میں داخل ہوں تو ایک بوڑھا اخروٹ کا درخت ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ اس درخت کی شاخیں اب پھل نہیں دیتیں، مگر اس کے تنے کے گرد لپٹی بھاری بھرکم زنجیریں اور اس پر نصب تختی جس پر انگریزی میں "I am under arrest" (میں زیرِ حراست ہوں) لکھا ہے، ایک مضحکہ خیز مگر تلخ داستان سناتی ہے۔ یہ واقعہ 1898 کا ہے جب ایک برطانوی فوجی افسر نشے کی حالت میں یہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ درخت اپنی جگہ سے ہل کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بغاوت پر افسر نے اسے مجرم قرار دے کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس درخت کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ آج 125 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ زنجیریں اسی طرح موجود ہیں، جو برطانوی راج کے اس تکبر کی یاد دلاتی ہیں جہاں ایک افسر کا وہم بھی قانون بن جاتا تھا۔ لنڈی کوتل سے کچھ فاصلے پر چارسدہ کے علاقے شبقدر میں موجود ایف سی قلعہ (شنکر گڑھ) ایک اور انوکھی سزا کا گواہ ہے۔ اس قلعے کے بھاری بھرکم لکڑی کے دروازے آج بھی موٹی زنجیروں اور تالوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق، برطانوی دور میں ان دروازوں کو بھی قیدی بنا دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مہم یا حملے کے دوران یہ دروازے بروقت بند نہ ہو سکے تھے، جس پر برطانوی حکام نے انہیں غفلت اور نافرمانی کا مرتکب قرار دے کر تاحکمِ ثانی زنجیروں سے جکڑنے کا حکم دے دیا۔ آج یہ مقفل دروازے اس دور کے اس آمرانہ نظام کی گواہی دے رہے ہیں جہاں جزا و سزا کا تصور منطق اور عقل سے بالاتر تھا۔ تاریخ دان ان واقعات کو محض اتفاق یا کسی افسر کی انفرادی حرکت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ دراصل، یہ نوآبادیاتی طاقت کا ایک گہرا نفسیاتی حربہ تھا۔ سرحد کے ان علاقوں میں جہاں قبائلی حریت پسندی انگریزوں کے لئے مستقل دردِ سر تھی، وہاں اس قسم کے اقدامات کا مقصد ایک خاموش اور خوفناک پیغام دینا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اس خطے پر ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) جیسا سیاہ قانون مسلط کیا گیا تھا۔ جس طرح لنڈی کوتل کے درخت کو زنجیروں میں جکڑا گیا اور چارسدہ کے دروازوں کو تالے لگائے گئے، اسی طرح ایف سی آر کے ذریعے پورے قبائل کو اجتماعی ذمہ داری کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی زبانوں پر تالے لگا دئے گئے تھے۔ نوآبادیاتی حکمران یہ جتانا چاہتے تھے کہ، جب برطانوی راج کے قانون سے بے زبان درخت اور بے جان دروازے نہیں بچ سکتے، تو بغاوت کرنے والے انسانوں کا انجام کیا ہوگا؟ یہ زنجیریں دراصل اس نوآبادیاتی ذہنیت کی علامت تھیں جو قانون کے نام پر جبر کو جائز سمجھتی تھی۔ آج یہ درخت اور دروازے صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ عبرت کے نشان ہیں۔ یہاں آنے والے سیاح ہوں یا مقامی شہری، سب کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ کیا اب ان بے زبانوں کو آزادی نہیں ملنی چاہیے؟ وقت بدل گیا، سلطنتیں ختم ہو گئیں اور برطانوی راج قصہ پارینہ بن گیا، مگر یہ زنجیریں آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جب اختیار اور طاقت کے ساتھ عقل کا دامن چھوٹ جائے، تو فیصلے تاریخ کے صفحات پر تمسخر بن کر رہ جاتے ہیں۔ لنڈی کوتل کا گرفتار درخت اور چارسدہ کے مقفل دروازے آج بھی اپنی آزادی کے منتظر ہیں، یا شاید وہ اسی حال میں رہ کر ہمیں ماضی کی تلخ حقیقتیں سنانا چاہتے ہیں۔

قانون کی زنجیریں اور بے زبان قیدی: لنڈی کوتل کے درخت سے چارسدہ کے دروازوں تک

تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا کی مٹی اپنے سینے میں جہاں بہادری اور مزاحمت کی داستانیں چھپائے ہوئے ہے، وہیں یہاں کچھ ایسی انوکھی تاریخی نشانیاں بھی موجود ہیں جو برطانوی راج کے عجیب و غریب فیصلوں اور طاقت کے مزید پڑھیں

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی کارروائیاں کیں اور اس کے چند ہی گھنٹوں بعد امارت اسلامی افغانستان نے سرحدی پٹی کے ساتھ زمینی جوابی حملے شروع کر دئے۔ چمن سے سپن بولدک تک، باجوڑ سے کنڑ تک، مہمند سے ننگرہار تک اور خیبر و کرم کے پہاڑی راستوں تک رات بھر دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ سرحد کے دونوں جانب آباد ہزاروں خاندان ایک بار پھر خوف کے عالم میں جاگتے رہے۔ مقامی لوگوں کے لئے یہ اب کوئی نیا منظر نہیں رہا مگر ہر نئی بمباری کے ساتھ ان کے دلوں میں یہ احساس اور گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ جنگ اب محض سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل تصادم میں بدل رہی ہے جس کا دائرہ کسی بھی وقت وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق تازہ فضائی حملے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا حصہ تھے جن میں افغانستان کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک طالبان پاکستان، اس کے معاون جنگجو اور بعض دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا اور سپن بولدک کے اطراف کم از کم پندرہ سے بیس مقامات پر جنگی طیاروں اور مسلح ڈرونز نے بمباری کی۔ بعض مقامات پر زیر زمین اسلحہ ڈپو، لاجسٹک سرنگیں، عارضی تربیتی مراکز اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے باضابطہ مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن غیر رسمی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ حملے صرف انہی مقامات پر کئے گئے جہاں پاکستان کے خلاف فوری خطرات موجود تھے۔ افغانستان کی امارت اسلامی نے ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ناکام داخلی پالیسیوں کا ملبہ افغان سرزمین پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق بمباری سے شہری آبادی کے قریب متعدد علاقے متاثر ہوئے اور چند مقامات پر رہائشی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا۔ افغان حکام نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حملے صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہیں کیونکہ اسلام آباد کابل پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ تاہم امارت اسلامی نے واضح کر دیا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی اور اسی اعلان کے چند گھنٹوں بعد سرحدی علاقوں میں جوابی زمینی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے بلوچستان کے چمن اور سپن بولدک سیکٹر میں شدید فائرنگ رپورٹ ہوئی۔ سرحدی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے اور پاکستانی فورسز نے توپخانے سے جواب دیا۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان کے نزدیک رات گئے فوجی نقل و حرکت بڑھ گئی۔ ادھر خیبر پختونخوا میں باجوڑ کے لوئی ماموند، غاخی پاس، چارمنگ اور سالارزئی بیلٹ میں سرحد پار سے مارٹر گولے گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی دیہات کے مکین گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔ مہمند کے پنڈیالی اور یکہ غنڈ سیکٹر میں بھی فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ خیبر کے باڑہ اور تیراہ کے پہاڑی راستوں پر سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا۔ کرم کے خرلاچی اور پاراچنار کے نزدیک مقامی لوگوں نے توپوں کی گھن گرج سنی۔ افغان ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امارت اسلامی کے جنگجوؤں نے چند پاکستانی سرحدی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا اور بعض مقامات پر پاکستانی فورسز کو پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ پاکستانی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ سرحد کے دونوں طرف بسنے والے عام لوگوں کے لئے یہ تمام دعوے اور جوابی دعوے اب صرف خبروں کی زبان نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکے ہیں۔ باجوڑ کے سرحدی گاؤں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ رات بھر بچوں کو سلا نہ سکے۔ مویشی کھلے چھوڑنے پڑے۔ خواتین خوف سے قرآن ہاتھ میں لے کر بیٹھیں۔ چمن میں تجارتی منڈی کے دکانداروں نے بتایا کہ سرحد پر دھماکوں کی آواز کے ساتھ ہی سامان اتارنے والے مزدور بھاگ گئے۔ سپن بولدک میں افغان خاندانوں نے اپنے گھروں سے ضروری اشیا نکال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ کنڑ اور ننگرہار میں بھی کئی دیہات سے نقل مکانی کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی آبادی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ جنگ آخر کب رکے گی کیونکہ ہر نئی کارروائی کے بعد اگلے جواب کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ تازہ جھڑپیں دراصل فروری میں شروع ہونے والے اس عسکری سلسلے کی توسیع ہیں جسے پاکستان نے آپریشن غضب الحق کا نام دیا تھا۔ ابتدا میں اسے ایک محدود دفاعی اقدام قرار دیا گیا تھا مگر چند ہی ہفتوں میں یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر پالیسی کی مکمل تبدیلی کر چکا ہے۔ اب اسلام آباد محض سفارتی احتجاج یا سرحدی بندش تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اندر گہرائی تک جا کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ ٹی ٹی پی اور اس کے سہولت کاروں کے مراکز سمجھتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے مطابق 2025 میں ملک کے اندر دہشتگردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسلام آباد کی مسجد میں خودکش دھماکہ، باجوڑ اور شمالی قبائلی اضلاع میں سکیورٹی چوکیوں پر حملے، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور کوہاٹ بیلٹ میں مسلسل خونریزی نے فوجی قیادت کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ محض دفاعی حصار کافی نہیں رہا۔ اسی سوچ کے تحت فروری کے آخری ہفتے سے پاکستان نے افغانستان کے اندر وسیع فضائی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں پچاس سے زائد مقامات ٹارگٹ کئے جا چکے ہیں جن میں کنڑ، ننگرہار، پکتیا، خوست، پکتیکا، قندھار اور کابل کے مضافات تک شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز، سرحدی اسلحہ ڈپو، لاجسٹک نیٹ ورک، سرنگی راستے اور مواصلاتی مراکز شامل بتائے گئے۔ پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں نے سرحد پار حملہ آور نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان اسے کھلی جنگ قرار دے رہے ہیں اور مسلسل یہ بیانیہ دے رہے ہیں کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ کا میدان صرف فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی بن چکا ہے۔ پاکستان ہر حملے کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر مزید برداشت نہیں کرے گا۔ افغان امارت ہر جوابی شیلنگ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب عسکری نقصان سے زیادہ بیانیاتی برتری کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اسے قومی سلامتی کی جنگ کہا جا رہا ہے جبکہ افغان حلقے اسے خود مختاری کے دفاع کی لڑائی قرار دے رہے ہیں۔ اس بیانیاتی جنگ کے بیچ سرحدی عوام پِس رہے ہیں۔ معاشی سطح پر اس تصادم نے حالات مزید خراب کر دئے ہیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں مسلسل دباؤ میں ہیں۔ ہزاروں تجارتی کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ افغان پھل، سبزیاں اور خشک میوہ خراب ہو رہا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چمن کے مزدور طبقے کے لئے روزگار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سپن بولدک کے افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار آدھا نہیں بلکہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ سرحدی تجارت پر انحصار کرنے والے خاندان اب قرض اور امداد کے سہارے جی رہے ہیں۔ جنگ کا ایک محاذ توپوں سے کھلا ہے تو دوسرا محاذ بھوک اور بے روزگاری نے کھول رکھا ہے۔ سفارتی سطح پر صورتحال اس لئے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ چند ہی روز قبل امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دی تھی۔ چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی رابطوں کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ اسلام آباد اور کابل شاید کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بیان غیر معمولی حد تک نرم اور مثبت تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازعات کے حل، تجارت کی بحالی اور سرحدی اعتماد سازی کے لئے سنجیدہ ہے۔ اسی بیان نے خطے میں یہ تاثر پیدا کیا کہ شاید دونوں ممالک مسلسل محاذ آرائی سے تھک چکے ہیں اور اب سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بعض حلقوں نے اسے ایک مثبت موڑ قرار دیا اور کہا کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کم از کم علامتی تعاون دکھا دے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر کل کی تازہ فضائی بمباری اور اس کے جواب میں ہونے والی زمینی کارروائیوں نے ارومچی کے بعد پیدا ہونے والی وہ تمام امیدیں تقریباً منجمد کر دی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان مذاکراتی کوششوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب ایک فریق جنگی طیارے بھیج رہا ہو اور دوسرا فریق سرحدی توپخانہ چلا رہا ہو تو مذاکراتی میز پر اعتماد کی فضا قائم نہیں رہتی۔ ارومچی عمل کی اصل بنیاد اعتماد سازی تھی مگر کل کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ارادوں پر اب بھی شدید بداعتماد ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کابل نے مثبت بیانات تو دئے مگر عملی طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ کابل سمجھتا ہے کہ اسلام آباد سفارتی بات چیت کو صرف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اصل پالیسی عسکری ہے۔ اس باہمی شکوک نے مذاکراتی عمل کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ارومچی عمل مکمل طور پر مر چکا ہے۔ چین جیسی علاقائی طاقت اس تصادم کو لمبا نہیں دیکھنا چاہے گی کیونکہ اس سے نہ صرف سی پیک کی توسیع بلکہ پورے خطے کے تجارتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لئے امکان یہی ہے کہ بیجنگ، دوحہ اور شاید انقرہ دوبارہ دونوں ملکوں کو رابطے پر لانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اب مذاکرات پہلے جیسے نرم ماحول میں نہیں ہوں گے۔ اب ہر ملاقات کے پیچھے تازہ خون، تباہ شدہ چیک پوسٹیں، خوفزدہ آبادی اور شدید بداعتمادی کی دیوار کھڑی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بات چیت دوبارہ شروع بھی ہوئی تو وہ امن کے رومانوی وعدوں کے ساتھ نہیں بلکہ ایک سرد جنگی حقیقت کے سائے میں ہوگی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کل کے واقعات نے پاک افغان تعلقات کو پھر اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بندوق کی آواز سفارت کاری سے زیادہ بلند سنائی دے رہی ہے۔ ارومچی مذاکرات نے جو مختصر سا دروازہ کھولا تھا وہ ابھی مکمل بند نہیں ہوا مگر اس کے پٹ ایک بار پھر بارود کے دھماکوں سے لرز اٹھے ہیں۔ اب فیصلہ دونوں دارالحکومتوں کو کرنا ہے کہ وہ اس دروازے کو کھلا رکھتے ہیں یا اسے مکمل جنگ کے اندھیرے میں بند کر دیتے ہیں۔ فی الحال سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ امن کی امید ابھی زندہ تو ہے مگر شدید زخمی حالت میں۔

پاک فضائیہ کی افغانستان میں کارروائی، پاک افغان سرحدی خطہ دوبارہ جنگ کے دہانے پر

تحریر:ناصر داوڑ گزشتہ روز پاک افغان سرحد ایک بار پھر آگ اور دھویں میں ڈوب گئی۔ کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموش مگر بے یقینی سے بھری فضا کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد حساس مقامات پر تازہ فضائی مزید پڑھیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں خصیوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ نہیں بلکہ معاشی طور پر ایک دوسرے پر گہرے انحصار رکھتے ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش، ٹرانزٹ میں رکاوٹیں اور سیاسی کشیدگی نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو متاثر کیا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک جانے والے تجارتی نیٹ ورک کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس بندش کے اثرات افغانستان پر نسبتاً زیادہ شدید پڑے ہیں، جہاں برآمدی خسارہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی حجم میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ 2024 میں جہاں مجموعی دوطرفہ تجارت 2.461 ارب ڈالر کے قریب تھی، وہیں 2025 میں یہ کم ہو کر 1.766 ارب ڈالر تک آ گئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ سرحدی بندشیں، لاجسٹک مسائل اور سیاسی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جو 1.644 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.261 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات 817 ملین ڈالر سے کم ہو کر 505 ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس معاشی جال کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو برسوں میں آہستہ آہستہ قائم ہوا تھا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ نظر آتی ہے۔ افغانستان کی درآمدی ضروریات جو پہلے پاکستان کے راستے سے بڑی حد تک پوری ہوتی تھیں، ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ تجارت محدود ہو کر تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اس دوران سینکڑوں کنٹینرز مختلف سرحدی راستوں پر پھنس گئے، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سامان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے بھی تاجروں پر بوجھ بنے رہے۔ اس صورتحال نے لاجسٹک کمپنیوں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس بندش کا اثر صرف بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں رہا بلکہ زمینی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ واضح ہیں۔ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کی روزی براہ راست اس تجارت سے وابستہ ہے۔ جب سرحدیں بند ہوئیں تو ٹرانسپورٹ، چھوٹے کاروبار، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور زرعی اجناس کے تاجر سب متاثر ہوئے۔ زرعی پیداوار کی برآمد رکنے سے کسانوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ ان کی پیداوار منڈی تک نہ پہنچ سکی اور انہیں کم قیمت پر مقامی سطح پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ریونیو کے لحاظ سے بھی دونوں ممالک کو واضح نقصان ہوا ہے۔ کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانزٹ فیس اور دیگر تجارتی محصولات میں کمی نے سرکاری آمدنی پر اثر ڈالا ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں پر اضافی دباؤ اور غیر کلیئر شدہ سامان کی موجودگی نے لاجسٹک اخراجات بڑھا دئے ہیں، جبکہ افغانستان میں بھی اسی نوعیت کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہو جاتی تو دونوں معیشتوں پر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے تھے۔ ان معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان جو روزگار کے لئے ان راستوں پر انحصار کرتے تھے، اچانک آمدنی سے محروم ہو گئے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے مزدوروں اور تاجروں کو ویزہ اور سرحدی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں معاشی دباؤ بڑھنے کے ساتھ سماجی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں غربت میں اضافہ اور بے روزگاری نمایاں ہیں۔ اسی پس منظر میں چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کے امکانات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چین کی ثالثی نے اس عمل کو ایک نیا رخ دیا ہے، جہاں سیکیورٹی اور تجارت کو ایک ساتھ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محدود پیمانے پر پھنسے ہوئے کنٹینرز کی ری-ایکسپورٹ کی اجازت جیسے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مکمل تعطل کے بجائے مرحلہ وار بحالی کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم تین امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر سیاسی اعتماد بحال ہو اور سیکیورٹی خدشات کم ہوں تو تجارت تیزی سے بحال ہو سکتی ہے۔ دوسرا امکان جزوی بحالی کا ہے، جس میں محدود گزرگاہیں اور کنٹرولڈ تجارت شامل ہو سکتی ہے۔ تیسرا اور کم مثبت امکان یہ ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرحدی بندشیں طویل ہو سکتی ہیں، جس کا اثر صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کی تجارت متاثر ہو گی۔ اس پوری صورتحال کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تجارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا خطے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر اپنی تجارتی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ اسی لئے ماہرین مشترکہ کسٹمز نظام، ڈیجیٹل ٹریکنگ، فاسٹ ٹریک گزرگاہوں اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک زیادہ مستحکم تجارتی فریم ورک کی تجویز دیتے ہیں۔ اگر اعتماد کی فضا بحال ہو جائے تو یہ تعلق صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ خلا نہ صرف دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت: بندش، نقصان اور بحالی کی امیدیں

خصوصی تحریر: دی خیبر ٹائمز …. ریسرچ ڈیسک پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تجارتی بندش نے خطے کی معیشت کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے محض ہمسایہ مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ رپورٹ ان تعلقات میں آنے والی حالیہ خرابی، اس کے تاریخی اسباب، شدت پسند گروہوں کے کردار، سفارتی مذاکرات کی ناکامیوں اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کا ایک ماہرانہ اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ اس مخالفت کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا، جسے افغانستان نے ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ افغان قیادت کا موقف رہا ہے کہ 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر محض ایک عارضی انتظامی تقسیم تھی جس نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔    آزادی کے فوراً بعد افغانستان نے پاکستان کے اندر پشتونستان کی تحریک کی حمایت کی، جس کا مقصد پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کو الگ کر کے ایک آزاد ریاست قائم کرنا یا انہیں افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس نظریاتی اور علاقائی تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی دہائیوں میں ہی عدم اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی، جو 1961 اور 1963 کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل منقطع ہونے پر منتج ہوئی ۔    تعلقات میں خرابی کے دوسرے بڑے مرحلے کا آغاز 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، منشیات اور شدت پسندی کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خود پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، تو طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے، جس سے ڈبل گیم کا تاثر ابھرا اور دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔    دورانیہ تعلقات کی نوعیت اہم تنازع / محرک 1947–1960 شدید تناؤ ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان تحریک 1961–1963 سفارتی بائیکاٹ سرحدی جھڑپیں اور قونصل خانوں پر حملے 1979–1989 تزویراتی تعاون سوویت یونین کے خلاف جہاد اور مہاجرین کی آمد 1996–2001 قریبی تعلقات طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنا 2021 تا حال تزویراتی دشمنی ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پر باقاعدہ جنگ    طالبان اور پاکستان: تزویراتی گہرائی سے تزویراتی بوجھ تک یہ سوال کہ کیا یہ طالبان پہلے پاکستان کے تھے؟ تزویراتی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی تحریک کو افغانستان میں استحکام لانے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے سپورٹ کیا جو پاکستان کے مفادات کی نگران ہو اور بھارت کے اثر و رسوخ کو روک سکے ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا ۔    تاہم، 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ تزویراتی حساب کتاب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کو "غلامی کی زنجیریں توڑنے" سے تعبیر کیا تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ افغان طالبان اب اسلام آباد کے زیر اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر ابھرے ہیں ۔ سب سے بڑا بحران "تحریک طالبان پاکستان" (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ان کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور تنظیمی روابط اتنے مضبوط ہیں کہ افغان طالبان انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔    پاکستان کی نظر میں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ تزویراتی گہرائی کا جو تصور پاکستان نے برسوں سے پال رکھا تھا، وہ اب ایک تزویراتی بوجھ بن چکا ہے کیونکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے ۔    عسکری تصادم اور فضائی کارروائیوں کے اہداف پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر براہ راست فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ عسکری مداخلت اس بات کا واضح اعلان تھی کہ پاکستان اب صبر کی پالیسی ترک کر چکا ہے ۔    مارچ 2024 اور دسمبر 2024 کی فضائی کارروائیاں 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں ملوث تھے ۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے ایک بار پھر پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائی کی، جہاں پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ۔    پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان نے کابل میں ایک ڈرامائی فضائی حملہ کیا جس کا بنیادی ہدف ٹی ٹی پی کا امیر نور ولی محسود تھا ۔ اگرچہ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن کابل جیسے شہر کے اندر اس نوعیت کی کارروائی نے افغان طالبان کو شدید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔    استاد قریشی: اکتوبر 2024 میں ایک سینیئر ٹی ٹی پی لیڈر استاد قریشی کو بھی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ۔    امید کیمپ (Omid Camp) پر حملہ: 16 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں واقع ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا مرکز تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ نیٹو کا سابقہ اڈہ تھا جسے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی ۔    پاکستان نے ان گروہوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیا ہے اور میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ انہیں اسی نام سے پکاریں، تاکہ ان کے مذہبی لبادے کو بے نقاب کیا جا سکے ۔    سفارتی مذاکرات کا سفر: دوحہ سے ارومچی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کو روکنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان مذاکرات میں قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تعطل کی وجہ سے دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات (اکتوبر-نومبر 2025) مذاکرات کے اس سلسلے کا آغاز قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہوا، جہاں 18 سے 19 اکتوبر 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد مذاکرات کا مرکز ترکی کا شہر استنبول بن گیا۔ استنبول میں مذاکرات کے تین دور ہوئے:    پہلا دور: 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، جس میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی ۔    تیسرا دور: 6 سے 7 نومبر 2025 کو ہوا ۔    شرکاء: افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب کر رہے تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے ۔    پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ ایک باقاعدہ فتویٰ جاری کریں جس میں پاکستان کے خلاف جنگ کو غیر اسلامی قرار دیا جائے ۔ افغان وفد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فتویٰ جاری کرنا دارالافتاء کا کام ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے افغان حکومت نے عدم کنٹرول کا عذر پیش کر کے مسترد کر دیا ۔    ریاض کانفرنس (دسمبر 2025) دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب نے ریاض میں مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہاں بھی فریقین نے جنگ بندی کی توسیع پر تو اتفاق کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے کوئی تحریری ضمانت نہ مل سکی ۔ پاکستان نے واضح کیا کہ محض خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمین پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے ۔    اپریل 2026 کو سب سے اہم مذاکرات چین کے شہر ارومچی (Urumqi)، سنکیانگ میں ہوئے ۔ یہ مذاکرات یکم اپریل سے 7 اپریل 2026 تک جاری رہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے دفاعی، خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے خصوصی ایلچی اور سفارت کاروں نے ثالثی کے فرائض انجام دئے۔    اگرچہ چین نے اسے ایک تعمیری عمل قرار دیا اور فریقین نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا، لیکن بنیادی ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کابل کا اصرار ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اسے افغان سرزمین سے جوڑنا غلط ہے ۔    شہر / مقام تاریخ ثالثی بنیادی نتیجہ / تعطل کی وجہ دوحہ 18–19 اکتوبر 2025 قطر، ترکی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ استنبول 25 اکتوبر – 7 نومبر 2025 ترکی، قطر فتویٰ کے مطالبے پر تعطل ریاض 4–6 دسمبر 2025 سعودی عرب جنگ بندی کی تجدید، تحریری ضمانت کا فقدان ارومچی 1–7 اپریل 2026 چین کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، بنیادی مطالبات پر ڈیڈ لاک    پاک افغان تعلقات میں خرابی کا سب سے براہ راست اثر سرحد پر ہونے والی تجارت پر پڑا ہے۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر طورخم، چمن اور سپن بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں کو کئی بار بند کیا ۔    افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2024 میں 2.46 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں گر کر 1.77 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی، جبکہ پاکستان سے درآمدات بھی 23 فیصد تک گر گئیں ۔ پاکستان کے لئے یہ بندش ماہانہ 2.5 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔    تجارت میں اس تعطل کی وجہ سے افغانستان نے اپنا رخ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان اور قازقستان کی طرف کر لیا ہے ۔ 2025 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغان تجارت 122 ملین ڈالر سے بڑھ کر 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت لاکھوں افغانوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔    پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں غیر دستاویزی افغانوں کو نکالا گیا ۔    دوسرا مرحلہ اپریل 2024 میں افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔    تیسرا مرحلہ اگست 2025 میں شروع ہوا جس کا ہدف 1.4 ملین پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز ہیں ۔    انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس جبری انخلاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ واپس جانے والے افغانوں کو طالبان کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مستقبل میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک مستقل وجہ بنا رہے گا، کیونکہ پاکستان اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دیتا ہے جبکہ کابل اسے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی سمجھتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں سوشل میڈیا نے پٹرول کا کام کیا ہے۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈا اور غلط معلومات (Misinformation) کی تشہیر نے عوامی سطح پر نفرتوں کو ہوا دی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے حامیوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم چلا رکھی ہے ۔    طالبان کے پروپیگنڈا سیل نے تاجکستان کے انٹیلی جنس چیف اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان سفارتی تعلقات خراب کیے جا سکیں ۔    سوشل میڈیا پر پشتون اور بلوچ قوم پرستی کو ہوا دے کر پاکستانی شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔    اسلام آباد میں دھماکوں یا سیاسی بحران کے بارے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے ۔    تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، شدت پسند گروہوں میں داعش خراسان (ISK) ڈیجیٹل میدان میں سب سے زیادہ نفیس اور خطرناک پروپیگنڈا کر رہی ہے، جو 12 سے زائد زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے ۔ تاہم، افغان سرزمین سے ہونے والے سوشل میڈیا استعمال میں ٹی ٹی پی کے حامی اور طالبان کے ڈیجیٹل اثاثے زیادہ متحرک ہیں جو براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی قوم پرست اور مخصوص سیاسی حلقے ان بیانیوں کو نادانستہ یا دانستہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطے کے پل ٹوٹ رہے ہیں ۔    تعلقات میں خرابی کا ایک ابھرتا ہوا اور انتہائی خطرناک پہلو دریائے کنڑ (Kunar River) پر ڈیم کی تعمیر ہے ۔ افغانستان نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر اس دریا پر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے لئے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان اسے آبی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔    تزویراتی لحاظ سے، پاکستان کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے ۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کے لئے لانچنگ پیڈ بن جائے گا، جیسا کہ سابقہ دورِ حکومت میں تھا ۔    پاکستان کا سرکاری بیانیہ اب انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے کھلی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کابل نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہونا چاہئے ۔    دوسری طرف، طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے ۔ ان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور کابل کسی کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ تزویراتی گہرائی کا پرانا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی میں عارضی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن جب تک ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ڈیورنڈ لائن کی شناخت جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مستقبل میں پاکستان کی پالیسی مزید جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس میں فضائی حملے اور معاشی پابندیاں ایک معمول بن جائیں گی۔ دوسری طرف، افغانستان کا اپنی معیشت کو پاکستان سے الگ کر کے ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑنا پاکستان کے تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید کم کر دے گا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور ان لاکھوں مہاجرین کا ہو رہا ہے جو دو ریاستوں کے انا اور مفادات کی جنگ میں پس رہے ہیں۔

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ

دی خیبر ٹائمز کوصی تحریر: پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا اسمبلی کا تاریخی امن جرگہ: سیکیورٹی پر سیاست سے بالاتر رہنے کا عزم، وفاق سے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ

پشاور: خیبر پختونخوا کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک طویل عرصے کے بعد صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بدھ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں منعقدہ امن مزید پڑھیں

“کردیش” کہنے سے مٹ گیا سرحدوں کا فاصلہ، تحریر رسول داوڑ

پاکستان، ترکی اور آذربائیجان ۔ اخوت اور قانون پسندی کا ایک سبق خصوصی تحریر: تحریر رسول داوڑ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان آج کل بہترین دوست مسلم ممالک کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان تینوں کے درمیان دوستی اور تعاون مزید پڑھیں

سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما صاحبزادہ حامد رضا گرفتار، فیصل آباد جیل منتقل


اسلام آباد ( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو پولیس نے فیصل آباد سے گرفتار کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، حامد رضا مختلف مقدمات میں عدالت مزید پڑھیں