Wide photograph of a multilateral diplomatic press conference featuring Afghan, Pakistani, Chinese, and Turkish officials. Numerous press photographers are in the foreground, and a large multi-panel video screen in the background shows illustrative scenes of Kabul, Islamabad, Beijing, and Istanbul.

علاقائی سفارت کاری اور پاک افغان کشیدگی: ترک انٹیلی جنس چیف کا دورہ اور سیکیورٹی و تجارتی تناظر

دی خیبر ٹائمز ویب ڈیسک
خطے میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے مابین درپیش کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی (MIT) کے سربراہ ابراہیم کالن نے افغانستان کے تفصیلی دورے کے فوراً بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے، جسے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ترک انٹیلی جنس چیف کا کابل کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر قندھار کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ قندھار امارتِ اسلامی افغانستان کا وہ کلیدی مرکز ہے جہاں سے تمام اہم سیاسی و سیکیورٹی فیصلے صادر ہوتے ہیں اور جہاں امارتِ اسلامی کے امیر ملا ہیبت اللہ مقیم ہیں۔ اگرچہ اب تک خبروں میں ترک انٹیلی جنس چیف کی ملا ہیبت اللہ سے باقاعدہ ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم قندھار جیسے اہم فیصلے ساز مرکز کا دورہ اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ترکیہ افغانستان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو (Anadolu Agency) کی رپورٹ کے مطابق، قندھار اور کابل کے اہم دوروں سے فارغ ہوتے ہی ابراہیم کالن نے اسلام آباد کا رخ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت، ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیراعظم سمیت سول قیادت سے اہم اور تفصیلی ملاقاتیں انجام دیں۔
اس اعلیٰ سطحی سفارتی تحرک کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی و سیاسی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ اور تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔ کابل میں افغان طالبان کی اہم قیادت بشمول ملا عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، ملا یعقوب اور انٹیلی جنس چیف عبدالحق وثیق اور قندھار کی اہم نشستوں کے بعد اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے گفتگو ایک جامع سفارتی حکمتِ عملی کی کڑی ہے۔
ترک انٹیلی جنس چیف کے عزم کے مطابق ترکیہ ماضی کی طرح آئندہ بھی دونوں برادر ممالک کے درمیان بات چیت کی فضا قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ماضی میں بھی ترکیہ اور قطر نے دوحہ اور استنبول میں پاک افغان مذاکرات کی میزبانی کی تھی اور ترکیہ ایک بار پھر دونوں اطراف کو ایک میز پر لانے کا خواہاں ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کے بیان کے مطابق، اگرچہ ترکیہ، قطر اور چین نے ثالثی کا مثبت کردار ادا کیا ہے، لیکن پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے سیکیورٹی خدشات پر ضروری اور متوقع اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث ماضی کے مذاکرات متوقع نتائج حاصل نہ کر سکے۔

اس سفارتی و سیاسی تعطل کے نتیجے میں دوطرفہ عوامی و تجارتی روابط شدید متاثّر ہوئے ہیں:

سرحدی بندش: گزشتہ 11 ماہ سے پاک افغان سرحدی راستے اور ٹرانزٹ تجارت مکمل طور پر معطل ہیں۔
ویزا پابندیاں: پاکستان نے گزشتہ 6 ماہ سے افغان شہریوں کیلئے ویزا اجراء بھی بند کر رکھا ہے۔
ان پابندیوں اور راستوں کی طویل بندش کے باعث دونوں ممالک کے عام عوام، مریضوں اور تجارتی طبقے کو شدید معاشی و انسانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی بیٹھک میں صرف پاک افغان تعلقات ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے دیگر سیکیورٹی امور بھی زیرِ بحث آئے۔ ترکیہ اور پاکستان کی قیادت کے درمیان درج ذیل نکات پر اہم تبادلہ خیال ہوا:

دوطرفہ سیکیورٹی و دفاعی تعاون کی مضبوطی۔
مکہ دفاعی معاہدے کا جائزہ۔
مشرقِ وسطیٰ کا ابھرتا ہوا بحران (خصوصاً امریکہ و اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع، اور بحیرہ احمر و یمن کی بگڑتی صورتحال) اور اس کے علاقائی و معاشی اثرات۔
5. چین کا متحرک کردار اور تاجر برادری کا موقف
پاک افغان تعلقات کی بحالی کیلئے ترکیہ کے ساتھ ساتھ خطے کا دوسرا اہم ہمسایہ ملک چین بھی مسلسل اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین ایک بار پھر دونوں ممالک کے سربراہان کو ایک میز پر بٹھا کر تنازع کا حتمی حل نکالنا چاہتا ہے، جس سے مذاکرات میں اہم پیش رفت کی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب، پاک افغان تاجر برادری نے ان جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ، اس بار جاری مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے۔ پاک افغان تعلقات میں سیاسی و سفارتی اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہو سکتا ہے، لیکن تجارت کو سیاست اور سیکیورٹی تنازعات سے الگ رکھا جائے۔
تجارت کو سیاست سے جدا رکھنا نہ صرف دونوں ممالک کے عوام اور بزنس کمیونٹی کیلئے سود مند ثابت ہوگا، بلکہ اس سے خطے اور دونوں ممالک کی معیشت کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔

Executive Summary: Regional Diplomacy, Pak-Afghan Security Dynamics, and Turkish Mediation

  • High-Stakes Diplomatic Mission: Ibrahim Kalın, Chief of Türkiye’s National Intelligence Organization (MİT), conducted a pivotal diplomatic tour covering Kabul, Kandahar, and Islamabad. His visit to Kandahar—the central decision-making hub of the Islamic Emirate under Supreme Leader Hibatullah Akhundzada—highlights Ankara’s high-level commitment to resolving regional friction. In Islamabad, Kalın met with Pakistan’s senior military leadership, the Director-General of Inter-Services Intelligence (DG ISI), and the Prime Minister.
  • Reviving Mediation Frameworks: Building on prior diplomatic initiatives in Doha and Istanbul alongside Qatar, Türkiye is actively seeking to restore dialogue between Islamabad and Kabul to address security grievances, counter-terrorism concerns, and bilateral stability.
  • Border Impasse and Trade Stalemate: The ongoing security standoff has resulted in an 11-month closure of primary Pak-Afghan border crossings and transit trade, alongside a 6-month suspension of Pakistani visas for Afghan nationals. While Pakistan maintains that Afghan authorities have yet to take decisive measures against border security threats, the prolonged freeze continues to severely impact regional traders and border communities.
  • Broader Geopolitical Context: Talks in Islamabad extended to wider Middle Eastern security dynamics, including the US-Israel-Iran escalation, Red Sea tensions, and defense cooperation frameworks such as the Mecca Defense Agreement.
  • Trilateral Engagement & Economic Priority: Parallel mediation efforts by China are adding renewed momentum toward bringing Pakistani and Afghan leadership back to the negotiating table. Concurrently, regional business communities are calling for cross-border trade and transit commerce to be insulated from political and security disputes.

About the Author / Background: Nasir Dawar

Nasir Dawar (Abdul Nasir) is a Pakistani journalist, field reporter, and news editor serving as the Chief Editor of The Khyber Times and Editor of Wahdat News Digital.
  • Research & Policy Focus: He is a Regional Security Researcher at the Center for Research and Security Studies (CRSS) in Islamabad.
  • Geographic & Domain Expertise: Originally from North Waziristan and operating between Peshawar and Islamabad, his work focuses on regional security dynamics, counter-terrorism, border trade, governance, and geopolitical developments across Khyber Pakhtunkhwa, the merged tribal districts, and Afghanistan.
  • contact: dawarjan@gmail.com