پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ان کی دو اور بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادھر پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس ذرائع کے مطابق ورین نیازی اور عظمیٰ خان کو 30 روز کیلئے نظر بند کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے پولیس کی سفارش پر دونوں کے خلاف تھری ایم پی او (3 MPO) کے تحت نظربندی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
احکامات کے فوری نفاذ کے بعد دونوں کو سخت سیکیورٹی میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی تیسری بہن علیمہ خان کو حراست میں لے کر اسی جیل میں منتقل کیا تھا۔
پنجاب کے بعد اب خیبر پختونخوا کی سطح پر بھی پی ٹی آئی کے خلاف انتظامی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، جس کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں، رپورٹس کے مطابق ایک صوبائی وزیر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے۔ کوہاٹ اور ڈی آئی خان سمیت مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی کے ورکرز اور رہنماؤں کی پکڑ دھڑ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقامات پر قائم احتجاجی کیمپس کو اکھاڑ پھینکا گیا ہے، ورکرز کو زبردستی بھگایا گیا ہے اور متعدد افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔




