پشاور(دی خیبرٹائز مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور حکومتی و قانونی چیلنجز عروج پر ہیں، لیکن اس تمام صورتحال کے دوران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خاموشی نے سیاسی حلقوں میں شدید حیرت اور چہ مگوئیوں کو جنم دے دیا ہے۔ صوبے میں رونما ہونے والے اہم اور تشویشناک واقعات کے باوجود وزیر اعلیٰ کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل یا بیان سامنے نہ آنا ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
اہم واقعات جن پر وزیر اعلیٰ کی خاموشی برقرار ہے، ان میں انصاف لائرز فورم کے ریجنل جنرل سیکرٹری امیر اعجاز کو لاپتہ ہوئے چار روز گزر چکے ہیں، لیکن اس سنگین معاملے پر وزیر اعلیٰ کی طرف سے تاحال ایک لفظ تک نہیں بولا گیا۔ پشاور میں بانی چیئرمین عمران خان، بشریٰ بی بی اور خود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے آویزاں بینرز پھاڑ دئے گئے، مگر اس کے باوجود وزیر اعلیٰ کی طرف سے کوئی جوابی مؤقف یا مذمت سامنے نہیں آئی۔ داوڑ کنڈی اور فتح الملک ناصر سمیت پی ٹی آئی کے 7 پارلیمنٹیرینز کو حراست میں لیا جا چکا ہے، لیکن اتنے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں پر بھی وزیر اعلیٰ کے لبوں کو جنبش نہیں ملی۔صوبائی وزیر سی اینڈ ڈبلیو شکیل احمد پر حملہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں یوتھ کنونشن کے شرکا پر تشدد اور مار پٹائی کے واقعات پیش آئے، لیکن اس صورتحال پر بھی وزیر اعلیٰ مکمل طور پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔
علیمہ خان کی گرفتاری کے معاملے پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر اکتفا کیا گیا ہے، جو موجودہ حالات کی سنگینی کے لحاظ سے انتہائی کم معلوم ہوتی ہے۔
کیا یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں اور پارٹی کارکنوں کے ذہنوں میں اس وقت ایک ہی بڑا سوال گردش کر رہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں، کارکنوں پر تشدد اور صوبائی وزراء و ارکانِ اسمبلی پر حملوں کے باوجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی یہ معنی خیز خاموشی کس حکمت عملی کا حصہ ہے؟
آیا یہ خاموشی کسی بڑے سیاسی طوفان کا پیش خیمہ ہے، یا اس کے پشپردہ کوئی گہری سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی مل سکے گا۔




