تحریر: رفعت انجم
تعلیمی اداروں کو معاشرے میں اخلاقیات اور علم کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی گہوارے اب عدم تحفظ کی آماجگاہ بنتے جا رہے ہیں۔ گومل یونیورسٹی کے تلخ واقعے کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب تعلیمی اداروں میں ‘ہوس’ کا یہ گندہ کھیل ختم ہو جائے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ آج ہمیں پشاور کی تاریخی درسگاہ، اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی ایک ایسی کہانی سنانی ہے جس نے علم کے ایوانوں کو شرم سے جھکا دیا ہے۔
یہ کہانی پشاور کی اس تاریخی یونیورسٹی کی ہے جہاں ایک طالبہ نے گولڈ میڈل کے حصول کیلئے وائس چانسلر کے مبینہ غیر اخلاقی مطالبے کا انکشاف کیا ہے۔ متاثرہ طالبہ کے مطابق، جب وہ اپنے تھیسز جمع کروانے گئی تو اس وقت کے چیئرمین ڈیپارٹمنٹ (موجودہ وائس چانسلر) نے ان کے سامنے دو شرائط رکھیں: یا تو ایک لاکھ روپے رشوت دی جائے، یا پھر ہوٹل میں ڈنر پر چلیں۔ ایک باحیا طالبہ کیلئے یہ الفاظ کسی تازیانے سے کم نہ تھے۔ انکار کی سزا انہیں ‘وائیوا‘ میں کم نمبرز کی صورت میں دی گئی۔ یہاں تک کہ جس ممتحن کو بلایا گیا، وہ ان کے مضمون کا ماہر ہی نہیں تھا، بلکہ اسلامیات کا پی ایچ ڈی سکالر تھا، جس کا مقصد صرف طالبہ کی کامیابی کو روکنا تھا۔
جدوجہد اور انصاف کی تلاش
طالبہ نے ہمت نہیں ہاری اور اعلیٰ حکام تک فریاد پہنچائی۔ اپیلیٹ کمیٹی نے حقائق کا جائزہ لیا تو فیصلہ طالبہ کے حق میں آیا اور انہیں گولڈ میڈل کا مستحق قرار دے کر 2017 کے کانووکیشن میں گورنر کے ہاتھوں اعزاز سے نوازا گیا۔ مگر ظلم کی انتہا دیکھیں کہ جب طالبہ نے اوریجنل سرٹیفکیٹ مانگا تو اسی چیئرمین نے اپنی ہینڈ رائٹنگ سے فرسٹ پوزیشن کاٹ کر سیکنڈ لکھ دی۔ اب متاثرہ طالبہ نے اینٹی کرپشن اور وزیراعظم سیٹیزن پورٹل پر ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی ہراسگی اور تعلیمی حق تلفی پر کارروائی کی جائے۔
اس سنگین الزام پر وائس چانسلر کا موقف ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق طالبہ کی پوزیشن دوسری تھی اور وہ غیر قانونی طور پر نمبرز بڑھوانا چاہتی تھی۔ انہوں نے طالبہ کو اپنی بیٹیوں کے مساوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کرپشن کے خلاف مہم شروع کرنے کی وجہ سے سازشیں کی جا رہی ہیں اور وہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کریں گے۔
معاملے پر وائس چانسلر یونیورسٹی نے اپنے موقف میں طالبہ کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ طالبہ کی کلاس میں دوسری پوزیشن تھی اوررزلٹ کے بعد انہوں نے مارکس بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا جو قانونی طور پر ان کا حق نہیں بنتا تھا، جبکہ طالبہ ان کی بیٹیوں جیسی ہے جنہیں ہراساں کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔طالبہ کا تمام ریکارڈ کنٹرولرامتحانات آفس میں موجود ہے ، اسلامیہ کالج میں کرپشن کیخلاف مہم کا آغاز کیا ہے لیکن کچھ عناصر اس میں روڑے اٹکا کر ان کے خلاف سارشیں کررہے ہیں بہت جلد اپنے وکلاءسے مشاور ت کے بعد ان کیخلاف پشاور ہائیوکورٹ سے رجوع کریں گے۔ یہ معاملہ سامنے آنے میں ایک بڑی بات یہ ہے کہ ایک طالبہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف بول اٹھی ہے ۔ اس انصاف ملے یا نہ ملے لیکن اس کی یہ آواز دیگر کئی طالبات کے لیے حوصلہ بڑھانے کا سبب بننے گی ۔
بول کے لب آزاد ہیں تیرے
نوٹ: تحریر میں طالبہ اور وائس چانسلر کا نام دانستہ طور پر تحریر نہیں کیا گیا





12 تبصرے “تعلیم کے ایوانوں میں خاموش ظلم: خصوصی تحریر: رفعت انجم”