خصوصی رپورٹ: دی خیبر ٹائمز
پشاور کے مضافاتی علاقے تھانہ ارمڑ کی حدود میں واقع شمشتو کیمپ کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور سیکیورٹی اداروں نے 10 ستمبر 2026ء کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم داعش خراسان (ISKP) کے 5 خطرناک دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا انتہائی مطلوب اور سفاک کمانڈر عمران (عرف عبداللہ / بلال / ابو بکر) بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت حکومت کی جانب سے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران دوسرا ہلاک دہشتگرد شاہد اللہ سکنہ چارسدہ کے نام سے شناخت ہوا، جبکہ دیگر تین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ اس آپریشن میں سی ٹی ڈی نے روایتی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تکنیکی نگرانی اور ٹارگٹڈ کارروائی کیلئے ڈرون کیمروں کا بھی مؤثر استعمال کیا۔
آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی کمین گاہ سے ایک ایس ایم جی (SMG)، چار پستول، دستی بم، پانچ میگزین، بڑی تعداد میں کارتوس اور ایک خود ساختہ بم (IED) برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک صوبائی دارالحکومت اور ملحقہ اضلاع میں حساس تنصیبات، عبادت گاہوں اور سیاسی شخصیات پر مزید بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جسے بروقت سیکیورٹی کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
سی ٹی ڈی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والا کمانڈر عمران محض ایک عام جنگجو نہیں بلکہ ملک بھر میں ہونے والی کئی خونریز اور ہائی پروفائل دہشتگردانہ کارروائیوں کا مرکزی ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار تھا۔ سی ٹی ڈی کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق عمران کے خلاف پشاور، باجوڑ اور دیگر اضلاع میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کے 20 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔
سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں اس نیٹ ورک کی ملوث ہونے والی بڑی دہشت گردانہ کارروائیوں کی تفصیلی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔ ان میں 6 فروری 2026ء کو ترلائی (اسلام آباد) کی امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ سرفہرست ہے، جس کا مرکزی ماسٹر مائنڈ یہی کمانڈر عمران تھا۔ تفتیش کے مطابق عمران نے اس حملے کے لیے باجوڑ سے خودکش جیکٹ منگوا کر بمبار کو نوشہرہ کے راستے اسلام آباد منتقل کیا، جبکہ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے دوسرے دہشت گرد شاہد اللہ نے ہدف کی ریکی کی اور امام بارگاہ کی نشاندہی کی تھی۔
اسی طرح جولائی 2023ء کو باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے دلسوز خودکش دھماکے میں بھی یہی داعش خراسان کا یہ سیل براہِ راست ملوث تھا۔
سی ٹی ڈی رپورٹس کے مطابق یہ گروپ باجوڑ اور گردونواح میں سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے میں پیش پیش رہا۔ باجوڑ سے سابق سینیٹر ہدایت اللہ (سابق گورنر شوکت اللہ کے بھائی)، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خانزیب، اور 2024 کے عام انتخابات کے دوران باجوڑ سے قومی اسمبلی کے متحرک امیدوار ریحان زیب کی شہادت کے واقعات میں بھی یہی کمانڈر عمران براہِ راست ملوث تھا۔
پشاور کے مضافات میں داعش خراسان کے اس ہائی پروفائل سیل کی موجودگی اور تباہی صرف ایک سیکیورٹی آپریشن کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ خیبر پختونخوا اور پورے ملک میں دہشتگردی کے بدلتے ہوئے انداز اور انتظامی خلا کا روشن ثبوت ہے۔
ماضی میں جو سیکیورٹی چیلنج محض قبائلی علاقوں تک محدود سمجھا جاتا تھا، وہ پہلے جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو اپنی لپیٹ میں لے چکا اور اب پشاور، چارسدہ اور مردان کے راستے بلوچستان اور دیگر اہم شہری مراکز میں اپنے سلیپر سیلز قائم کر چکا ہے۔
اس جغرافیائی پھیلاؤ اور کالعدم تنظیموں کی بحالی کے پیچھے کئی اہم انتظامی و سیاسی عوامل کارفرما ہیں:
سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع اور مستقل پالیسی بنانے کی بجائے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلسل سیاسی کشمکش جاری رہی۔ ماضی اور حال میں ان تنظیموں کے بارے میں اختیار کیا گیا نرم گوشہ اور عدم وضاحت کی حکمت عملی ان گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر گئی۔
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ سیکیورٹی اداروں کا ایک پیج پر نہ ہونا وہ بنیادی کمزوری ہے جس کا فائدہ دہشتگرد تنظیمیں مسلسل اٹھا رہی ہیں۔ جب تک سیکیورٹی پالیسی کو سیاسی مفادات کی نظر کیا جاتا رہے گا، اس قسم کے سیلز مختلف ناموں سے ابھرتے رہیں گے۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت اور قانون ساز ادارے پیشگی حکمت عملی بنانے کے بجائے ہمیشہ کسی واقعے کے بعد ہی ایوانوں میں متحرک ہوتے ہیں۔ لیکن ان اسمبلیوں سے بھی قومی یکجہتی کے بجائے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور مفاداتی بیانات سامنے آتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا اپنا الگ ایجنڈا اور باہمی اختلافات یہ واضح کر رہے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کوئی ایک متفقہ قومی آواز موجود نہیں، اور ریاست محض خاموشی سے کسی اگلے سانحے کی منتظر دکھائی دیتی ہے۔
پشاور میں سی ٹی ڈی کی یہ کامیابی بلاشبہ ایک بڑا بریک تھرو ہے، لیکن جب تک وفاق اور صوبہ مل کر دہشتگردی کے خلاف بغیر کسی سیاسی تفریق کے ایک ٹھوس، یکسو اور پائیدار قومی حکمت عملی نہیں اپنائیں گے، تب تک ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بعد دوسرا سیل کھڑا ہونے کا خدشہ قائم رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست فوری طور پر اندرونی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان تمام نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے آپریشنل اور سیاسی سطح پر کامل یکسوئی کا مظاہرہ کرے۔
EXCLUSIVE SUMMARY:
CTD Peshawar Neutralizes Top ISKP Mastermind; Analysis Highlights Growing Regional Security & Political Gaps
1. High-Value Intelligence-Based Operation
On September 10, 2026, the Counter Terrorism Department (CTD) and security forces conducted a targeted operation near Shamshtoo Camp in the Urmar police jurisdiction, suburban Peshawar. Utilizing drone surveillance and advanced tactical planning, security forces neutralized five Islamic State Khorasan Province (ISKP) operatives. Arms recovered included an SMG, four pistols, hand grenades, ammunition, and an Improvised Explosive Device (IED).
2. Elimination of High-Bounty Terror Commander
Among those killed was Imran (aliases: Abdullah / Bilal / Abu Bakr), a top ISKP commander carrying a government bounty of PKR 12 million. Imran was wanted in over 20 cases of target killings and bomb blasts across Khyber Pakhtunkhwa. A second operative was identified as Shahidullah (resident of Charsadda/Mohmand), while the identification of three others remains underway.
3. Involvement in Major Terror Attacks
Official CTD records link this ISKP network to several high-profile attacks:
* Tarlai Imambargah Attack, Islamabad (Feb 6, 2026): Imran acted as the primary mastermind who procured the suicide vest from Bajaur and transported the bomber via Nowshera, while Shahidullah conducted reconnaissance on the target.
* Bajaur JUI-F Convention Bombing (July 2023): The cell played a direct role in facilitating the devastating suicide attack on political workers.
* Assassination of Political Leaders: Imran directly organized the targeted killings of key political figures in Bajaur, including former Senator Hidayatullah, ANP leader Maulana Khanzeb, and National Assembly candidate Rehan Zeb.
4. Geographic Expansion of Security Threat
The operation highlights a concerning geographical shift in terrorist activity. A menace once largely confined to tribal districts expanded into southern KP (Bannu, Lakki Marwat, Tank, D.I. Khan), and has now established active urban sleeper cells in central KP (Peshawar, Charsadda, Mardan), Balochistan, and major metropolitan centers across Pakistan.
5. Editorial Critique: Political Friction and Strategic Inaction
The article delivers a sharp critique of the political and administrative response:
* Reactive Policy: Parliament and political leadership consistently fail to build proactive counter-terrorism frameworks or empower security institutions ahead of time, opting instead for reactive noise following tragedy.
* Political Point-Scoring: Rather than presenting a unified national voice, political parties utilize security crises for partisan point-scoring and conflicting agendas.
* Lack of Convergence: The disconnect between federal and provincial authorities creates operational vacuums that militant groups exploit. The piece warns that without a unified, non-partisan national policy, individual tactical successes will not prevent future attacks.
Nasir Dawar: Editor The Khyber Times & Researcher. dawarjan@gmail.com




