A detailed, four-part photo-montage serving as a visual executive summary of the crisis in Pakistan-Afghanistan relations from October 2025 to October 2026. The image is headlined, "A YEAR OF CRISIS IN PAKISTAN-AFGHANISTAN RELATIONS (OCTOBER 2025 - OCTOBER 2026)" and "RESEARCH REPORT BY NASIR DAWAR". It is divided into quadrants: Top Left (Military Escalation): A Pakistan Air Force (PAF) JF-17 conducting airstrikes on a TTP militant camp. Top Right (Infrastructure Damage): Smoke rising over the Kabul skyline and the Bagram Air Base, with visible destruction of hangars and warehouses. Bottom Left (Economic & Diplomatic Failure): A long line of trucks stranded at a border gate, labeled "ECONOMIC BLOCKADE: $1.4 BILLION LOSS". Next to it, a fractured diplomatic roundtable with envoys from four nations and embedded text: "سفارتی تعطل: کوئی مشترکہ اعلامیہ نہیں" (Diplomatic Stalemate: No Joint Communique). Bottom Right (Information Warfare): Two individuals viewing mobile phones displaying AI-generated fake news, toxic social media comments, and the logos of TikTok and X.

پاک افغان کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی (اکتوبر 2025 تا اکتوبر 2026): عسکری کارروائیاں، معاشی بحران، سفارتی تعطل اور اطلاعاتی جنگ کی جامع تحقیقی رپورٹ

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ اکتوبر 2025 سے اکتوبر 2026 کا ایک سالہ دورانیہ پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ کا تلخ ترین اور خونریز ترین باب ثابت ہوا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر اقتدار مزید پڑھیں

"A detailed shot of a modern newsroom desk in Lahore, Pakistan, with a Canon DSLR camera, Zoom audio recorder, open notebook, and microphone in the foreground. In the background, journalists work at computers facing a large matrix of screens displaying live feeds, stock markets, and the 'Khyber Times' logo. The historic Badshahi Mosque is visible through a large window on the left."

سوشل میڈیا نان سوشل ہاتھوں میں: سنجیدہ لوگوں کو ڈیجیٹل میدان سے باہر کیوں نہیں رہنا چاہئے؟

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کا نقشہ بدل دیا ہے۔ یہ اب محض تفریح، وقت گزاری یا دوستوں سے رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ آج خبر، رائے، کاروبار، تعلیم، آگاہی اور حتیٰ کہ معاشی خود کفالت مزید پڑھیں

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے کسی خاص ملک یا فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اعلامئے میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ یو اے ای میں کسی بھی ملک یا فرقے کے خلاف ایسی کوئی مخصوص ڈی پورٹیشن مہم نہیں چل رہی اور نہ ہی کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلامئے کے مطابق یو اے ای سے کسی بھی فرد کی بے دخلی کا عمل صرف اور صرف میزبان ملک کے قوانین کی خلاف ورزی، ویزا شرائط کی عدم پاسداری یا غیر قانونی دستاویزات رکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستانی شہری بدستور متحدہ عرب امارات اور دیگر دوست ممالک میں ورک ویزے حاصل کر رہے ہیں اور روزگار کے سلسلے میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی ذرائع سے رابطہ کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستانیوں سے متعلق ہر معاملے کو کیس ٹو کیس بنیاد پر میرٹ پر دیکھا جاتا ہے۔ وزارت داخلہ نے عوام اور میڈیا کو غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جعلی خبریں محض بدنیتی اور مذموم مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات اور تارکین وطن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جا سکے، لہٰذا صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ خبروں پر ہی یقین کیا جائے۔

یو اے ای سے مخصوص افراد کی بے دخلی کی خبریں من گھڑت ہیں، وفاقی وزارت داخلہ کی وضاحت

پشاور( دی خیبرٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد اور جعلی قرار دے دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے مزید پڑھیں