Map showing militant conflicts and geographical effects in Orakzai and Central Kurram involving TTP, Jamaat-ul-Ahrar and ISKP

اورکزئی اور کرم میں نئی خونی جنگ: TTP، جماعت الاحرار اور داعش آمنے سامنے

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے شمالی و مغربی سرحدی زون، بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اورکزئی اور کرم کے سنٹرل کرم میں طویل عرصے سے جاری غیر یقینی سیکیورٹی صورت حال ایک نئے اور انتہائی پیچیدہ مزید پڑھیں

An infographic map titled "MAP LOCATION: ORAKZAI DISTRICT, KHYBER PAKHTUNKHWA, PAKISTAN" shows a detailed district map of the province of Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan. The Orakzai District is highlighted in orange, and northeast of it, the Peshawar district is highlighted in blue. A red arrow points from Peshawar to Orakzai, labeled "Distance from Peshawar to Orakzai," illustrating their spatial relationship. Text boxes label Orakzai as a district and Peshawar as the provincial capital. A smaller inset map of Pakistan shows the general location of the province within the country. Other districts and bordering Afghanistan are also labeled.

اورکزئی: داعش اور لشکرِ اسلام کے مابین خونریز جھڑپیں، 2 جنگجو ہلاک، 4 اغوا

ہنگو (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) قبائلی شورش زدہ ضلع اورکزئی میں کالعدم شدت پسند تنظیموں داعش (آئی ایس کے پی) اور لشکرِ اسلام کے ‘چمتو’ نامی کمانڈر کے گروپ کے مابین متعدد مقامات پر شدید جھڑپیں پیش آئی ہیں۔ مزید پڑھیں

Pakistani Defence Minister Khawaja Asif shaking hands with Afghan Acting Defence Minister Mullah Mohammad Yaqoob during high-level bilateral security talks

پاک افغان امن مذاکرات میں چین کی ثالثی، ٹی ٹی پی کا بیانیہ اور علاقائی استحکام کے چیلنجز

دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ پاکستان اور افغانستان کے مابین طویل عرصے سے جاری سرحدی کشیدگی، عدم اعتماد اور عسکریت پسندی کے درپیش چیلنجز نے پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید متاثر کر رکھا ہے، اور اس مزید پڑھیں

Security forces operation in Hangu after Khazina Banda check post attack.

ہنگو: خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ امیر معاویہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہلاک

ہنگو (دی خیبر ٹائمز ڈسٹکٹ ڈیسک) سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ اہم کمانڈر احمد عرف امیر معاویہ ہلاک ہوگیا۔ حکام کا کہنا ہے مزید پڑھیں

Alt text improves accessibility for screen readers and serves as the primary SEO signal for Google Images. Keep it descriptive, concise, and under 125 characters.

بدخشان میں طالبان مخالف “محاذِ آزادی” کی سرگرمیوں کا دعویٰ، کیا افغانستان ایک نئے سیکیورٹی چیلنج کی طرف بڑھ رہا ہے؟

پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں طالبان مخالف گروپ محاذِ آزادی افغان فریڈم فرنٹنے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو پورے بدخشان میں متحرک ہیں اور چین سے ملحق اہم واخان راہداری مزید پڑھیں

Symbolic image of a clash between ISKP and TTP militants in Upper Orakzai, Khyber Pakhtunkhwa.

اپر اورکزئی میں داعش اور ٹی ٹی پی کے مابین خونریز جھڑپ، پانچ شدت پسند ہلاک

اورکزئی ( دی خیبر ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں کالعدم شدت پسند تنظیم داعش (آئی ایس کے پی) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مابین شدید جھڑپ ہوئی ہے، جس میں دونوں جانب سے مزید پڑھیں

A newsroom analyst views a large digital screen displaying a map of Central and South Asia. Afghanistan is highlighted in yellow, Pakistan in red, and neighboring countries in orange. Arrows indicate tensions radiating from Afghanistan. Several bilingual (Urdu/English) text boxes highlight regional security and diplomatic threats, including ISIS-K and TTP, under the title 'Regional Trust Crisis'.

ہمسایہ ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کا بڑھتا ہوا علاقائی اعتماد کا بحران

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ افغانستان ایک ایسے جغرافیائی محلِ وقوع کا حامل ملک ہے جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، چین، ایران اور وسیع یوریشیائی خطے کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں مزید پڑھیں

"A wide-angle photograph capturing an 'All Parties Conference' and sit-in held at the foothills of the mountains in the Hanna Urak region of Balochistan. Hundreds of male participants, dressed in traditional Balochi shalwar kameez and turbans, are seated on colorful mats spread on the ground. Behind the stage, a large banner is displayed with the protest's demands written in both Urdu and English: '1. Recovery of 11 Missing Persons', '2. Clearance of Area from Armed Groups', and '3. Talks with Empowered Government Authorities'. A few leaders are standing on the stage, speaking into microphones. Participants are holding placards displaying slogans for the recovery of missing persons. Green and white flags are waving in the air, and an arid mountain range is visible in the background under a cloudy sky."

حنا اوڑک دھرنا: آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات، لاپتہ افراد کی بازیابی اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) حنا اوڑک میں جاری دھرنے کے مقام پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور حالیہ دلخراش واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں مزید پڑھیں

Analysis of ISKP new 37-minute video discussing regional security threats in Pakistan and Afghanistan

داعش خراسان کی نئی ویڈیو: کیا خطے میں سکیورٹی خدشات دوبارہ بڑھ رہے ہیں؟ پہلا قسط

37 منٹ کی تازہ ویڈیو میں شیخ ادریس حقانی کے قتل کی ذمہ داری کا دعویٰ، خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا ذکر — یہ سب داعش خراسان کی بدلتی حکمت مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں