دی خیبر ٹائمز : خصوصی رپورٹ
پاکستان اور افغانستان کے مابین طویل عرصے سے جاری سرحدی کشیدگی، عدم اعتماد اور عسکریت پسندی کے درپیش چیلنجز نے پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید متاثر کر رکھا ہے، اور اس پرپیچ صورتحال میں چین ایک فعال اور اثر انگیز ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے تاکہ دونوں ہمسایہ برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ افغانستان کیلئے چین کے خصوصی نمائندے یوئے شیاؤ یونگ کے کابل اور اسلام آباد کے متواتر دورے اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ روایتی اختلافات کو ختم کر کے دونوں ممالک کو ایک ایسے مشترکہ فریم ورک پر لانے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے جس کے تحت ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو ختم کیا جا سکے۔
چین کی ان سفارتی کوششوں کے پسِ پردہ محض دوطرفہ تعلقات کی بہتری ہی نہیں بلکہ اس کے گہرے اقتصادی اور تزویراتی مفادات بھی کارفرما ہیں، کیونکہ چین نے چین ، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو پچھلے کچھ سالوں میں 25 بلین ڈالر کے سنگِ میل کو چھو چکی ہے۔ اس کے علاوہ بیجنگ افغانستان کو اپنے وسیع تر علاقائی تجارتی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم حصہ سمجھتا ہے، اور پاک افغان سرحدی تجارتی راستوں کی بار بار بندش سے چینی سرمائے اور نقل و حمل کو زبردست معاشی نقصان پہنچتا ہے، لہٰذا بیجنگ کا واضح اور موثر نقطہ نظر ہے کہ خطے میں معاشی خوشحالی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان پائیدار امن قائم ہو۔
سفارتی کوششوں کے اس نازک اور حساس موڑ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر مفتی نور ولی محسود کی جانب سے قبائلی ضلع کرم سے جاری کردہ مبینہ ویڈیو پیغام نے اس جیو پولیٹیکل منظر نامے کو مزید اہم اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس ویڈیو میں مفتی نور ولی نے خود کرم جیسے تزویراتی ضلع میں موجودگی کا تاثر دے کر اسلام آباد کے اس موقف کو رد کرنے کی کوشش کی ہے کہ عسکریت پسندوں کی تمام سرگرمیاں صرف افغان سرزمین سے منظم ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف کرم کے مقامی و قبائلی تنازعات کو استعمال کر کے مقامی حمایت حاصل کرنے کا بیانیہ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سرحد پار موجود اپنے جنگجو گروہوں کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کرنے میں محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ افغان طالبان حکومت پر بیجنگ اور اسلام آباد کی طرف سے پڑنے والا شدید سفارتی دباؤ کم سے کم کیا جا سکے۔
پاکستان ایک عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار عسکریت پسندی، بالخصوص ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، اور دوسری طرف چین بھی خطے میں ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) جیسے عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے برابر کا تشویش مند ہے۔ اس تناظر میں چین کا بنیادی سفارتی و سیکیورٹی ہدف یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے سیکیورٹی گارنٹی اور پائیدار حل کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ اس تمام تر اطلاعاتی اور بیانئے کی جنگ میں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ دونوں ریاستیں زبانی دعووں اور عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے سے بالاتر ہو کر گراؤنڈ حقائق پر مبنی سیکیورٹی میکانزم تشکیل دیں۔ چین کا فراہم کردہ یہ ثالثی کا فریم ورک پاکستان اور افغانستان کو اپنے دیرینہ مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جس سے نہ صرف سرحدی علاقوں میں امن قائم ہوگا بلکہ پورے جنوبی و وسطی ایشیا میں ترقی کا ایک نیا باب روشن ہو سکتا ہے۔
Exclusive Briefing: China’s Mediation, TTP’s Kurram Gambit, and Pak-Afghan Peace
Source: The Khyber Times | Special Investigative Desk
Topic: Geopolitics of Pak-Afghan Security & Regional Stability
Executive Summary
China has intensified its diplomatic mediation between Islamabad and Kabul to de-escalate rising border friction and counter-terrorism disputes that threaten regional stability. Beyond diplomatic goodwill, Beijing’s push led by Special Envoy Yue Xiaoyong is driven by vital economic and strategic stakes, particularly safeguarding over $25 billion invested in the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) and preserving transit routes integral to the Belt and Road Initiative (BRI).
Simultaneously, the strategic landscape has grown more complex following a video message from Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) chief Mufti Noor Wali Mehsud, reportedly recorded in Pakistan’s tribal district of Kurram. This move aims to reshape the insurgency narrative, exploit local tribal grievances, and alleviate diplomatic pressure on the Afghan Taliban.
Core Takeaways
- Beijing’s Shuttle Diplomacy: Chinese Special Envoy Yue Xiaoyong has conducted back-to-back visits to Kabul and Islamabad, urging both leaderships to abandon rigid public rhetoric in favor of a structured, bilateral security framework.
- Economic Imperatives: Recurring border closures and cross-border skirmishes directly jeopardize CPEC infrastructure and regional connectivity. Beijing views durable peace between Pakistan and Afghanistan as a non-negotiable prerequisite for economic expansion into Central Asia.
- TTP’s Kurram Narrative Shift:
- Claiming In-Country Presence: By releasing media from Kurram district, TTP leadership attempts to counter Islamabad’s primary assertion that all attack planning and leadership reside strictly on Afghan soil.
- Diplomatic Cover for Kabul: Mufti Noor Wali instructed fighters to curb unsanctioned social media releases, an intentional tactic to reduce diplomatic heat on the Afghan Taliban from Islamabad and Beijing.
- Shared Counter-Terrorism Interests: While Pakistan seeks concrete action against TTP sanctuaries, China remains equally focused on neutralizing threats from the Turkistan Islamic Party (TIP). Both nations agree that unaddressed militancy is the core driver of regional instability.
Strategic Outlook
Beijing’s neutral mediating position offers a rare diplomatic window for Islamabad and Kabul to move beyond intelligence friction and establish verifiable, ground-level security mechanisms. For long-term stability, both governments must rely on objective intelligence sharing rather than insurgent propaganda.




