"A wide-angle photograph capturing an 'All Parties Conference' and sit-in held at the foothills of the mountains in the Hanna Urak region of Balochistan. Hundreds of male participants, dressed in traditional Balochi shalwar kameez and turbans, are seated on colorful mats spread on the ground. Behind the stage, a large banner is displayed with the protest's demands written in both Urdu and English: '1. Recovery of 11 Missing Persons', '2. Clearance of Area from Armed Groups', and '3. Talks with Empowered Government Authorities'. A few leaders are standing on the stage, speaking into microphones. Participants are holding placards displaying slogans for the recovery of missing persons. Green and white flags are waving in the air, and an arid mountain range is visible in the background under a cloudy sky."

حنا اوڑک دھرنا: آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات، لاپتہ افراد کی بازیابی اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) حنا اوڑک میں جاری دھرنے کے مقام پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور حالیہ دلخراش واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے متفقہ طور پر حکومتی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور علاقے کو مسلح گروہوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس کے اہم مطالبات
اجلاس کے دوران شرکاء نے حکومت سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے:
لاپتہ افراد کی بازیابی: علاقے سے لاپتہ ہونے والے 11 افراد کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
علاقے کی صفائی: حنا اوڑک اور گردونواح کے علاقوں کو مسلح گروہوں کے اثر سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔
بااختیار مذاکرات: مسائل کے پائیدار حل کے لیے بااختیار حکومتی حکام کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
سیاسی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز شام 4 بجے وہ دھرنے کے مقام پر پہنچ کر عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
10 افراد کے قتل کا واقعہ اور متضاد دعوے:
کانفرنس کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ سانحے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقامی اور سرکاری ذرائع نے ناموں کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ کم از کم 10 افراد کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد ازاں ٹی ٹی پی (TTP) کے حملے کے دوران انہیں قتل کر دیا گیا۔
تاہم، اس حوالے سے صورتحال تاحال کشیدہ ہے کیونکہ دوسری جانب عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد تاحال ان کی تحویل میں ہیں۔ حکومتی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات اور بازیابی کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ لواحقین نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حنا اوڑک کا یہ واقعہ ان بارود کے ڈھیر پر بیٹھے علاقوں کی تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جہاں شہریوں کی زندگی شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ محض ایک قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے و ریاست اور اس کے باسیوں کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
جب مقامی اور سرکاری ذرائع کی جانب سے تصدیق شدہ ہلاکتوں کے برعکس عسکریت پسند گروہ متضاد دعوے کر رہے ہوں، تو یہ صورتحال سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ دی خیبر ٹائمز کا ادارتی موقف ہے کہ صرف طاقت کا استعمال اس مسئلے کا واحد حل نہیں ہے۔ جب تک حکومت ان علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ م قامی آبادی کے تحفظ اور ان کے بنیادی انسانی حقوق (بشمول لاپتہ افراد کی بازیابی) کو یقینی نہیں بناتی، تب تک ایسے واقعات کا تسلسل خطے کو مزید انارکی اور عدم استحکام کی طرف دھکیلتا رہے گا۔
حکومتِ وقت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ شفافیت برتے۔ امن کا قیام صرف ٹھوس مذاکرات اور انصاف کی فراہمی سے ہی ممکن ہے، نہ کہ خاموشی اور لاقانونیت کو پنپنے دینے سے۔