Map showing militant conflicts and geographical effects in Orakzai and Central Kurram involving TTP, Jamaat-ul-Ahrar and ISKP

اورکزئی اور کرم میں نئی خونی جنگ: TTP، جماعت الاحرار اور داعش آمنے سامنے

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ

پاکستان کے شمالی و مغربی سرحدی زون، بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اورکزئی اور کرم کے سنٹرل کرم میں طویل عرصے سے جاری غیر یقینی سیکیورٹی صورت حال ایک نئے اور انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ماموزئی اخون کوٹ اور سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں رونما ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات محض مقامی کمانڈروں کے باہمی تنازعات نہیں ہیں، بلکہ یہ تحریک طالبان پاکستان (TTP)، اس کے منحرف دھڑے جماعت الاحرار (JuA) اور اسلامی اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP/داعش) کے مابین نظریاتی، ساخت اور سیکیورٹی کی سطح پر پیدا ہونے والی گہری دراڑوں کا عکاس ہیں۔ ریاستی اداروں اور پولیس کے محدود کنٹرول کے باعث پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا نے ان مسلح گروہوں کو اپنے اثر و رسوخ کی جنگ کو خونریز تصادم میں بدلنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کے اثرات مقامی آبادی سے لے کر پاک افغان علاقائی تعاملات پر مرتب ہو رہے ہیں۔

جغرافیائی سیکیورٹی خلا اور انسانی و ڈیموگرافک بحران

ضلع اورکزئی کا علاقہ ماموزئی اور سنٹرل کرم کا مناتو کامران کلے تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے انتہائی حکمتِ عملی کے حامل خطے سمجھے جاتے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں اورکزئی کا افغانستان کے ساتھ سرحد تو نہیں مل رہاہے، مگر کرم کا مغربی سرحد افغانستان کے صوبہ ننگر ہار، پکتیا اور خوست جیسے افغان صوبوں کے ساتھ قدرتی راستے فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مسلح تنظیمیں انہیں ایک محفوظ آپریشنل پناہ گاہ اور رسد کی راہداری کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔

یہاں مکمل طور پر پاک افغان سرحد یا ڈیورنڈ لائن پر خاردار تار بچھایا گیا تھا، لیکن افغانستان میں امارت اسلامی کی حکومت آنے کے بعد یہاں درجنوں مقامات پر خاردار تار کو کاٹ کر مصنوعی راستے قائم کرلہئے گئے ہیں،  ان علاقوں میں پاکستان کی باقاعدہ انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا رسوخ محدود ہونے کی وجہ سے مسلح گروہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو قائم کر رکھا ہے، جس کا بوجھ براہ راست مقامی سویلین آبادی اٹھا رہی ہے۔

طویل مدتی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کی طرف سے برپا کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ان علاقوں میں شدید ڈیموگرافک اور انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔ خطے کی سویلین آبادی کی مجموعی صورت حال کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ سنٹرل کرم سے تقریباً 20 فیصد آبادی نقل مکانی کر کے محفوظ علاقوں مثلاً لوئر کرم، ہنگو اور کوہاٹ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، باقی ماندہ 80 فیصد آبادی شدید معاشی زبوں حالی اور وسائل کی عدم دستیابی کے باعث انہی متاثرہ علاقوں میں محصور ہے۔ یہ محصور آبادی بنیادی حقوق سے محروم اور مسلح تنظیموں کی باہمی چپقلش اور جبر کے مسلسل رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

مناتو فائرنگ کا واقعہ: TTP اور جماعت الاحرار کے مابین تاریخی اتحاد کا خاتمہ

تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے مابین تعلقات تاریخی طور پر انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اگست 2014 میں عمر خالد خراسانی کی قیادت میں TTP سے الگ ہونے والے اس دھڑے نے اگست 2020 میں موجودہ TTP امیر مفتی نور ولی محسود کی مرکزیت قائم کرنے کی پالیسی کے تحت دوبارہ انضمام کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم، 2023 کے بعد سے TTP کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے تمام فیصلوں کو اپنے کنٹرول میں لینے اور کمانڈروں کی خودمختاری سلب کرنے کے اقدامات کے باعث دونوں فریقین میں ایک بار پھر شدید اختلافات پیدا ہوئے، جو 2025 اور 2026 میں کھلی دشمنی میں بدل گئے۔

مئی اور جون 2026 میں سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں رونما ہونے والا واقعہ اس کشیدگی کا سب سے خوفناک موڑ ثابت ہوا۔ TTP کے طاقتور کمانڈر احمد کاظم اور جماعت الاحرار کے ممتاز المعروف ‘امتی’ گروپ کے درمیان خطے کے مستقبل کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کے عنوان سے ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ جب جماعت الاحرار کا 28 رکنی قافلہ، جس کی قیادت ممتاز امتی خود کر رہا تھا، کاظم کے ٹھکانے پر پہنچا تو پہلے سے گھات لگائے کاظم گروپ کے جنگجوؤں نے ان کی گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے کے نتیجے میں ممتاز امتی سمیت 18 سے 19 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے اور متعدد شدید زخمی ہو گئے۔ کاظم گروپ نے نہ صرف باقی ماندہ زخمیوں اور افراد کو یرغمال بنا لیا بلکہ مقامی زرائع کے مطابقجماعت الاحرار کے مغوی 10 جنگجوؤں کو سرحد پار افغانستان منتقل کر دیا۔

اس واقعے کے بعد جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے ایک انتہائی معاندانہ اور باضابطہ بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے TTP کے امیر مفتی نور ولی محسود پر “یکطرفہ فتویٰ” جاری کر کے اپنے ساتھیوں کو سفاکی سے قتل کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس بیان نے چار سال سے قائم نازک توازن کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور جماعت الاحرار نے نور ولی محسود اور TTP کی مرکزی قیادت کے خلاف کھلے عام انتقامی جنگ کا اعلان کر دیا۔

اورکزئی کا نیا محاذ: TTP اور ISKP کے مابین خونریز تصادم

سنٹرل کرم میں جماعت الاحرار کی صفائی کے ساتھ ہی، اورکزئی کے علاقے ماموزئی اخون کوٹ میں TTP کے احمد کاظم گروپ اور ISKP (داعش) کے کمانڈر صادق یار گروپ کے درمیان باقاعدہ فائرنگ اور مسلح جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔ حالیہ دنوں میں 6اگست کو ہونے والی ان پرتشدد جھڑپوں کے دوران TTP کے کم از کم 2 جنگجو شدید زخمی ہوئے، جبکہ اس سے قبل 27 جولائی کو انہی دو کمانڈروں کے حامیوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں TTP کے 5 عسکریت پسند مارے گئے تھے اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

یہ جھڑپیں اس لحاظ سے انتہائی اہم ہیں کہ ماضی میں یہ دونوں تنظیمیں ایک ہی جغرافیائی pocket میں مقیم ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ کھلے تصادم سے گریز کرتی تھیں۔ اس عدم تصادم کے ماحول کے خاتمے اور باقاعدہ جنگ کے آغاز کے پیچھے TTP کے اندرونی انحرافات اور مقامی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی بنیادی عوامل ہیں۔

اس سیکیورٹی بگاڑ کے دوران، پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بھی ان علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) تیز کر رکھے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے ایک بڑے معرکے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور میجر طیب راحت سمیت 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ فورسز کی موثر جوابی کارروائی میں 19 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔ یہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاستی فورسز اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان تصادم کے ساتھ ساتھ اب غیر ریاستی عناصر کا باہمی تصادم بھی عروج پر پہنچ چکا ہے۔

غیر اعلانیہ اتحاد: جماعت الاحرار اور ISKP کا خفیہ گٹھ جوڑ

TTP کے باوثوق ذرائع اور مقامی انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مناتو واقعے میں اپنے ساتھیوں کے قتل کے بعد جماعت الاحرار  جو اس علاقے میں ان کے 18 جنگجو کے مارے جانے اور 10  کو یرغمال بنانے کے بعد کرم اور اورکزئی میں کمزور پڑ گئے، تاہم ٹی ٹی پی سے اپنے ساتھیوں کی انتقام کیلئے اورکزئی میں متحرک ISKP کے ساتھ سیکیورٹی و آپریشنل تعاون بڑھانے کیلئے باقاعدہ کاوشیں شروع کی ہیں۔ TTP کے مطابق جماعت الاحرار اور ISKP کے اعلیٰ نمائندوں کے درمیان اورکزئی کے علاقوں ڈبوری اور ماموزئی میں کم از کم دو اہم سٹریٹجک اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جن کا واحد مقصد TTP کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا ہے۔

اس صورت حال پر دونوں گروہوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا موقف تین متضاد مگر انتہائی اہم زوایوں کو سامنے لاتا ہے:

جماعت الاحرار زرائع نے باضابطہ طور پر ISKP کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جماعت الاحرار نے امارت اسلامی افغانستان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخندزادہ کے ہاتھ پر بیعت کر رکھی ہے۔ چونکہ افغان طالبان کی حکومت نے ISKP کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے، اس لئے جماعت الاحرار بھی امارت اسلامی کے ہر دشمن کو اپنا دشمن مانتی ہے اور ISKP کے ساتھ ان کا کوئی اتحاد ممکن نہیں۔

TTP کے مرکزی ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت الاحرار کا یہ انکار نظریاتی کے بجائے مکمل طور پر سیکیورٹی کی مجبوریوں پر مبنی ہے۔ جماعت الاحرار کی اعلیٰ قیادت، شوریٰ اور اہم جنگجوؤں کی غالب اکثریت اس وقت افغانستان میں پناہ گزین ہے۔ اگر جماعت الاحرار علانیہ طور پر ISKP (جو افغان طالبان کی خونریز حریف ہے) کے ساتھ اپنے اتحاد کو تسلیم کر لیتی ہے، تو افغان طالبان افغان صوبوں نورستان، ننگرہار اور خوست اور پکتیکا میں موجود ان کے تمام ٹھکانوں پر کریک ڈاؤن کر کے ان کی قیادت کو ختم کر دیں گے۔ اس لئے وہ اعلانیہ انکار کے باوجود غیر اعلانیہ طور پر TTP کے خلاف متحد ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ اور خطے کے سینئر دفاعی صحافیوں کا تجزیہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اورکزئی اور کرم کے پیچیدہ عسکری منظرنامے میں جماعت الاحرار اور ISKP حقیقت میں TTP کے خلاف ایک مشترکہ آپریشنل پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو چکے ہیں۔ اپنے وجود کی بقا اور TTP کے بڑھتے ہوئے تسلط کو توڑنے کیلئے جماعت الاحرار نے ISKP کے ساتھ گوریلا ہم آہنگی پیدا کی ہے، جس کے تحت وہ TTP کو انٹیلی جنس اور آپریشنل نقصان پہنچا رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے پیچیدہ عسکری منظرنامے کو مکمل طور پر سمجھنے کیلئے سیکیورٹی واقعات کے سلسلے اور اس میں ملوث تینوں کلیدی غیر ریاستی تنظیموں کا گہرائی سے تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ خطے میں رونما ہونے والے واقعات محض حادثاتی نہیں بلکہ ہر گروپ کی تنظیمی ساخت، نظریاتی لائحہ عمل اور استوار کئے گئے تعلقات کا منطقی نتیجہ ہیں۔

اورکزئی اور کرم کے علاقوں میں سیکیورٹی صورت حال کی بتدریج خرابی کا آغاز اس وقت ہوا جب اکتوبر 2025 میں پاک فوج نے اورکزئی کے مختلف حصوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا۔ اس معرکے میں فورسز نے موثر حکمت عملی سے 19 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور میجر طیب راحت سمیت 11 سیکیورٹی اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس واقعہ نے ثابت کیا کہ خطے میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کتنی گہرائی تک پھیل چکے ہیں اور ریاست کے خلاف ان کی مزاحمت کس قدر شدید ہے۔

تاہم، ریاستی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند گروہوں کی آپسی جنگ نے بھی سیکیورٹی خدشات کو دوچند کر دیا۔ جولائی میں ضلع اورکزئی کے علاقے ماموزئی میں TTP کے احمد کاظم گروپ اور ISKP (داعش) کے صادق یار گروپ کے درمیان باقاعدہ تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں TTP کے 5 جنگجو مارے گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب دونوں گروہوں کے مابین برسوں سے قائم غیر اعلانیہ عدم مداخلت کا معاہدہ یا خاموشی کا دور ختم ہوا اور وہ ایک دوسرے کے خلاف میدانِ جنگ میں اتر آئے۔

اس کے فوراً بعد، مئی اور جون 2026 کے دوران سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں TTP کے کاظم گروپ اور جماعت الاحرار کے ممتاز امتی گروپ کے درمیان خونریز تصادم پیش آیا۔ ایک مبینہ مذاکراتی دعوت پر بلا کر جماعت الاحرار کے 18 سے 19 جنگجوؤں کو قتل کر دیا گیا اور 10 افراد کو یرغمال بنا کر افغانستان منتقل کیا گیا۔ اس ڈرامائی اور سفاکانہ واقعے نے 2020 میں ہونے والے TTP-JuA انضمام کا جنازہ نکال دیا اور دونوں دھڑوں کے مابین انتقامی کارروائیوں کا ایک نیا باب کھول دیا۔

اس کا تسلسل حالیہ دنوں میں اورکزئی کے علاقے ماموزئی اخون کوٹ میں دیکھا گیا، جہاں TTP کاظم گروپ اور ISKP صادق یار گروپ ایک بار پھر آمنے سامنے آئے، جس میں TTP کے 2 جنگجو شدید زخمی ہوئے۔ یہ حالیہ جھڑپ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ جماعت الاحرار اور ISKP کا غیر اعلانیہ گٹھ جوڑ اب محض خفیہ ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ میدانی سطح پر TTP کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔

متحرک گروہوں کا نظریاتی، ساخت اور آپریشنل تقابل

ان تینوں عسکریت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، جماعت الاحرار (JuA) اور اسلامی اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) کا باہمی موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے اہداف، قیادت کا انداز اور حلیف کس قدر مختلف اور متصادم ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان (TTP) اس وقت مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ اس کا بنیادی نظریاتی سائنسی اور سیاسی ویژن دیوبندی جہادیت اور پختون قوم پرستی کا ایک آمیزہ ہے، جس کا فوکس بنیادی طور پر پاکستان کی حد تک محدود ہے۔ TTP نے امارت اسلامی افغانستان (افغان طالبان) کی اعلیٰ ترین قیادت کے ہاتھ پر باقاعدہ بیعت کر رکھی ہے اور افغان طالبان کی مکمل حمایت اور سرپرستی کا لطف اٹھاتی ہے۔ TTP کی بنیادی آپریشنل سرگرمیاں خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع، شمالی بلوچستان اور پنجاب کے سرحدوں سے متصل حصوں پر محیط ہیں۔ اس کا موجودہ سٹریٹجک ہدف تمام منحرف گروہوں کو زبردستی اپنے زیرِ سایہ لا کر تنظیم کی مرکزیت قائم کرنا اور پاکستان کی ریاستی تنصیبات پر حملے تیز کرنا ہے۔

جماعت الاحرار (JuA) کا باگ ڈور اس وقت عمر مکرم خراسانی کے پاس ہے جبکہ اس کے بیانات اور ترجمانی اسد منصور کی طرف سے کی جاتی ہے۔ یہ ایک شدت پسند اور تکفیری نظریات کا حامل دھڑا ہے جو انتہائی خودمختار گوریلا نیٹ ورک کی شکل میں کام کرنا پسند کرتا ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی وجوہات اور افغان سرزمین کے استعمال کی خاطر یہ ظاہری طور پر افغان طالبان سے وفاداری کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن عمل میں یہ اپنی آپریشنل اور سٹریٹجک خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتی۔ JuA کے بنيادی آپریشنل زونز میں کرم، اورکزئی، مہمند، پشاور شہر اور پاک افغان سرحدی بیلٹ شامل ہیں۔ مناتو میں اپنے 18 ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد جماعت الاحرار کا واحد اور سب سے بڑا اسٹریٹجک ہدف TTP کے امیر مفتی نور ولی محسود یا ان کے دیگر ساتھیوں سے بدلہ لینا اور تحریک طالبان کی صریح بالادستی کے خلاف اپنے وجود کو برقرار رکھنا بن چکا ہے۔

اسلامی اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) عالمی سلفی جہادیت اور ایک عالمی خلافت کے قیام کی حامی ہے، جس کے اندر شدید ترین تکفیری نظریات پائے جاتے ہیں۔ ISKP کی قیادت اس وقت شہاب المہاجر کر رہا ہے۔ یہ افغان طالبان کی شدید ترین حریف اور وجودی دشمن سمجھی جاتی ہے اور ان دونوں کے درمیان افغانستان میں ایک خونی معرکہ برپا ہے۔ ISKP کے فعال ترین خطوں میں افغانستان کے ننگرہار اور کنڑ صوبوں کے علاوہ پاکستان کے قبائلی اضلاع باجوڑ، اورکزئی، اور کراچی و بلوچستان کے شہری و صحرائی زونز شامل ہیں۔ ISKP کا بنیادی اور سب سے اہم اسٹریٹجک ہدف TTP اور افغان طالبان کے صفوف میں دراڑیں ڈالنا، ان کے منحرف جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں شامل کرنا اور برصغیر میں اپنے متوازی نیٹ ورک کو وسیع کرنا ہے۔

ثانوی اور ثالثی جیو پولیٹیکل اثرات

اورکزئی اور سنٹرل کرم میں رونما ہونے والے یہ واقعات محض تین گروہوں کی باہمی جنگ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کے ملکی اور علاقائی سیکیورٹی پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں:

1. پہلا درجہ: عسکریت پسند نیٹ ورکس کی ٹوٹ پھوٹ اور اندرونی ٹارگٹ کلنگ

مناتو میں جماعت الاحرار کے 18 عسکریت پسندوں کے قتل اور اس کے بعد اسد منصور کے دھمکی آمیز بیان نے TTP کی اندرونی مرکزیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مفتی نور ولی محسود کی جانب سے دیگر قبائلی و علاقائی دھڑوں کو زبردستی کنٹرول کرنے کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا ہے۔ جماعت الاحرار کی جانب سے TTP کی اعلیٰ قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کی کوششیں تیز ہوں گی، جس سے اورکزئی، کرم اور سرحد پار ننگرہار و پکتیکا کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کی باہمی خونریزی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

2. دوسرا درجہ: ISKP کا تنظیمی تحرک اور بھرتی کی کامیاب اسٹریٹجی

ISKP طویل عرصے سے TTP کے منحرف اور نالاں عسکریت پسندوں کو اپنے ساتھ ملانے کی تلاش میں تھی۔ TTP کاظم گروپ کے اس سخت گیر قدم نے جماعت الاحرار کے جنگجوؤں کو وجودی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ISKP ان جنگجوؤں کو رسد، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر کے اپنے نظریاتی دائرے میں شامل کر رہی ہے۔ اورکزئی اور کرم میں TTP کی کمزوری کا سیدھا مطلب ISKP کے نیٹ ورک کی مضبوطی اور پھیلاؤ ہے، جو بالآخر پاکستان کے شہری علاقوں میں شیعہ برادری، سیاسی جماعتوں (مثلاً JUI-F) اور ریاستی تنصیبات پر حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔

3. تیسرا درجہ: ڈیورنڈ لائن پر پاک افغان عسکری تصادم کی شدت

پاکستان اور افغان طالبان کی حکومت کے مابین تعلقات پہلے ہی نہ صرف TTP بلکہ دیگر جنگجو تنظیموں کی افغان سرزمین پر موجودگی کے باعث انتہائی کشیدہ ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی کارروائیاں (مثلاً آپریشن غضب للحق) کی گئی ہیں۔ اورکزئی اور کرم میں TTP کاظم گروپ کی جانب سے JuA عسکریت پسندوں کو یرغمال بنا کر افغان سرحد پار منتقل کرنا اور جواباً JuA اور ISKP کا غیر اعلانیہ اتحاد افغان طالبان کی سرحدی سیکیورٹی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اگر جماعت الاحرار افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ISKP کی مدد سے پاکستان میں حملے کرتی ہے، تو اس کا ملبہ افغان طالبان پر آئے گا، جس سے پاک افغان سرحدی جنگ کے مزید بھڑکنے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔

قبائلی اضلاع اورکزئی اور سنٹرل کرم میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، جماعت الاحرار (JuA) اور اسلامی اسٹیٹ خراسان پروونس (ISKP) کے مابین ابھرنے والی یہ سہ فریقی جنگ خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک گہری، پیچیدہ اور خطرناک تبدیلی کی واضح علامت ہے۔ اس تمام تر سیکیورٹی بگاڑ کا بنیادی محرک TTP کے امیر مفتی نور ولی محسود کی اپنے تمام ذیلی و منحرف دھڑوں پر سخت مرکزیت قائم کرنے کی پالیسی اور مناتو میں کاظم گروپ کے ہاتھوں جماعت الاحرار کے 18 جنگجوؤں کے سفاکانہ قتل کا واقعہ بنا ہے۔ اس خونریز کارروائی اور وجودی خطرے نے جماعت الاحرار کو اپنی بقا اور TTP کی مرکزی قیادت سے بدلہ لینے کی خاطر ISKP جیسے شدید تکفیری و عالمی عسکریت پسند دھڑے کے ساتھ ہاتھ ملانے اور ایک غیر اعلانیہ عملی و آپریشنل اتحاد قائم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس غیر اعلانیہ گٹھ جوڑ کی منطق اور تزویراتی مجبوری کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے: جماعت الاحرار کی قیادت اور جنگجوؤں کی غالب اکثریت چونکہ افغان سرزمین پر مقیم ہے اور انہوں نے افغان طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخندزادہ کی بیعت کر رکھی ہے، اس لئے وہ اعلانیہ طور پر ISKP (جو افغان طالبان کی سخت ترین دشمن ہے) کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعتراف کبھی نہیں کر سکتے۔ اگر جماعت الاحرار اس گٹھ جوڑ کا باقاعدہ اعلان کرتی ہے تو افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں ان کے ٹھکانوں پر فوری اور نفی بخش کریک ڈاؤن کا خدشہ ہے۔ چنانچہ، سیاسی اور سیکیورٹی کی اسی مجبوری کے باعث یہ اتحاد علانیہ کے بجائے ‘غیر اعلانیہ’ (De facto) ہے—جس کی تصدیق اورکزئی کے علاقوں ڈبوری اور ماموزئی میں دونوں گروہوں کے مابین ہونے والے انٹیلی جنس اجلاسوں اور TTP کے خلاف حالیہ جوابی اور پرتشدد جھڑپوں سے مکمل طور پر ہو جاتی ہے۔

ریاستی اور سیکیورٹی اداروں کیلئے یہ بدلتی ہوئی صورت حال ایک دہری اور انتہائی خطرناک چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان کو TTP کے بڑھتے ہوئے حملوں اور مرکزیت کا سامنا ہے، تو دوسری طرف جماعت الاحرار کے تعاون سے ISKP کا اورکزئی اور کرم کے سیکیورٹی خلا میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینا خطے کے امن و استحکام کو بوجھل تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس تمام تر عسکری کھینچ تان اور طاقت کی خونی جنگ کے نتیجے میں سب سے بڑا جانی و مالی نقصان ان مقامی سویلین شہریوں کا ہو رہا ہے جو 80 فیصد کی تعداد میں انہی متاثرہ علاقوں میں بغیر کسی تحفظ کے ان عسکریت پسند گروہوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے اور اس غیر اعلانیہ جنگ کے درمیان محصور رہنے پر مجبور ہیں۔   

یہ بھی پڑھئے:  امارتِ اسلامی کا ’ہنی مون پیریڈ‘ ختم؟: بدخشان کی دراڑیں اور طالبان کا بڑھتا ہوا داخلی و علاقائی بحران

Nasir Dawar is a tribal and Peshawar-based journalist who has worked with various news channels as a Special Correspondent. He has extensively covered militancy, counterterrorism operations, and security developments across the tribal districts and Swat.
Dawar has also worked in Afghanistan, covering militancy, security developments, and all major elections held in the country. His extensive field experience has provided him with deep insight into conflict dynamics, militant networks, and regional security issues.
He is currently working as an Investigative Journalist from Khyber Pakhtunkhwa, focusing on investigative reporting, conflict, security, militancy, and emerging regional issues. He is also working as a digital content creator, producing independent journalistic and multimedia content for digital platforms. Contact: dawarjan@gmail.com

———————————————————————————

Exclusive Summary

The Khyber Times Exclusive Investigation examines a major and increasingly complex shift in the militant landscape of Pakistan’s tribal districts, particularly Orakzai and Central Kurram, where rival factions of the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), Jamaat-ul-Ahrar (JuA) and Islamic State Khorasan Province (ISKP/ISIS-K) are increasingly coming into direct conflict.

The investigation finds that the violence in Mamozai of Orakzai and Manato in Central Kurram appears to go beyond isolated disputes between local commanders. According to sources and assessments cited in the report, the confrontations reflect deeper ideological, organizational and strategic divisions among militant factions competing for territorial influence, operational space, manpower and control.

A major turning point came in Manato during May and June 2026, when an alleged meeting between TTP commander Ahmad Kazim and the Jamaat-ul-Ahrar faction led by Mumtaz Aamti reportedly ended in a deadly ambush. The report says that between 18 and 19 JuA militants were killed, while around 10 others were reportedly taken hostage and subsequently moved across the border into Afghanistan. The incident is described as a decisive rupture in the already fragile relationship between TTP and JuA and a possible end to the reconciliation that had brought Jamaat-ul-Ahrar back into the TTP structure in 2020.

The investigation further traces the subsequent escalation in Orakzai, where fighters associated with Ahmad Kazim’s TTP faction and an ISKP group led by Sadiq Yar reportedly engaged in armed clashes. Earlier fighting in Mamozai on July 27 reportedly left five TTP militants dead, followed by another confrontation on August 6 in which at least two TTP fighters were reportedly wounded.

One of the most significant findings examined by The Khyber Times is the alleged emergence of an undeclared operational understanding between Jamaat-ul-Ahrar and ISKP against TTP. The report cites TTP sources and local intelligence assessments claiming that representatives of the two groups held strategic meetings in the Dabori and Mamozai areas of Orakzai to explore cooperation against TTP.

Jamaat-ul-Ahrar, however, reportedly rejects any alliance with ISKP, arguing that it has pledged allegiance to Afghan Taliban leader Sheikh Haibatullah Akhundzada and therefore cannot openly cooperate with ISKP, which the Afghan Taliban regard as a major enemy. TTP sources cited in the investigation offer a different explanation, arguing that JuA’s denial is driven by security considerations because much of its leadership and fighters are believed to be based in Afghanistan.

The report also examines the competing ideological and organizational structures of the three militant organizations. TTP is portrayed as seeking greater centralization under Mufti Noor Wali Mehsud and attempting to bring dissident factions under its authority. Jamaat-ul-Ahrar is described as maintaining a more autonomous militant structure, while ISKP follows a transnational Salafi-jihadist ideology and regards both the Afghan Taliban and TTP linked structures as potential rivals.

Beyond militant infighting, the investigation highlights the consequences for civilians living in the affected areas. The report estimates that around 20 percent of Central Kurram’s population has been displaced toward safer areas including Lower Kurram, Hangu and Kohat, while the remaining population continues to face severe economic hardship, limited access to resources and insecurity.

The investigation argues that the evolving conflict could produce consequences extending beyond Orakzai and Kurram. A prolonged struggle among TTP, JuA and ISKP could contribute to further fragmentation of militant networks, increased recruitment by ISKP, retaliatory attacks against rival commanders and greater instability along the Pakistan-Afghanistan border.

According to the report’s assessment, the situation represents a dangerous transformation from a conflict primarily between the state and militant organizations into a multi-layered security environment in which militant factions are simultaneously fighting the Pakistani state and one another.

The Khyber Times investigation concludes that the emerging three-way confrontation between TTP, Jamaat-ul-Ahrar and ISKP could become a significant new security challenge for Pakistan’s tribal districts, with the greatest burden falling on civilians trapped between competing armed groups and an increasingly volatile security environment.

Editorial note: Since several key elements in the investigation particularly the alleged JuA ISKP coordination and intelligence-based assessments are attributed claims rather than independently verified facts, this wording deliberately uses terms such as “alleged,” “reportedly,” “according to sources,” and “the investigation finds.” This is safer for publication while preserving the investigative character of the story.

Writer: Nasir Dawar is a tribal and Peshawar-based journalist who has worked with various news channels as a Special Correspondent. He has extensively covered militancy, counterterrorism operations, and security developments across the tribal districts and Swat.

Dawar has also worked in Afghanistan, covering militancy, security developments, and all major elections held in the country. His extensive field experience has provided him with deep insight into conflict dynamics, militant networks, and regional security issues.

He is currently working as an Investigative Journalist from Khyber Pakhtunkhwa, focusing on investigative reporting, conflict, security, militancy, and emerging regional issues. He is also working as a digital content creator, producing independent journalistic and multimedia content for digital platforms.

Contact: dawarjan@gmail.com