دی خیبر ٹائمز خصوصی تحریر
کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا خودکش دھماکہ محض ایک دہشتگردانہ کارروائی نہیں، بلکہ پاکستان کی داخلی سلامتی، خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات کی موجودہ حساسیت کا عکاس ہے۔ اس خونریز سانحے میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ واقعے کے فوراً بعد جہاں سکیورٹی فورسز نے ایک جامع آپریشن کے ذریعے حملے میں ملوث تمام خوارج کو کیفر کردار تک پہنچایا، وہیں اس حملے نے ایک بار پھر ملک کے اندر سلامتی کی پالیسیوں اور افغان بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے ایک نیا سیاسی اور سفارتی مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔
کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں نمازیوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاک فوج، کمانڈوز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے سکیورٹی فورسز کے ہمراہ علاقے کی مکمل گھیرا بندی کی۔
جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) کوہاٹ کی براہِ راست نگرانی میں فجر کے بعد شروع کئے گئے حتمی آپریشن میں پولیس لائنز کے احاطے میں چھپے آخری 2 خودکش بمباروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس آپریشن میں مجموعی طور پر 7 حملہ مارے گئے، جس کے بعد علاقے کو مکمل کلیئر کر کے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ اس انکشاف نے ایک بار پھر سرحد پار سلیپر سیلز اور دہشتگرد گروہوں کے متحرک ہونے کے خدشات کو سچ ثابت کر دیا ہے۔
سانحے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور گورنر خیبرپختونخوا نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
سانحہ کوہاٹ کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسپتال میں زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی اور شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ملک کی موجودہ سکیورٹی پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے دہشتگردی کی فرنٹ لائن پر ہے اور اس جنگ میں اب تک 80 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی بنیادی وجہ “ناکام خارجہ پالیسی” اور “بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کا روایتی طریقہ کار” ہے، جو موجودہ دور میں غیر موثر اور ناکارہ ثابت ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا میں امن قائم رہا۔ ان کے مطابق اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو وہ 100 دن کے اندر امن بحال کر سکتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کون کرائے گا؟
سہیل آفریدی نے وفاقی اداروں اور سیاسی حریفوں پر الزام عائد کیا کہ وہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا:
“اگر ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے جاتا ہے تو اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور احتجاج سے روکا جاتا ہے۔ ہمیں ایک طرف دہشتگرد کہا جاتا ہے اور دوسری طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگر بھارت سے خطرہ نہیں تو اپنے ہی تین صوبوں سے خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟”
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس فورس پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق اور دفاع کیلئے خود کھڑے ہوں، اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر ممکن حد تک ان کے ساتھ رہیں گے۔
وزیراعلیٰ کی تنقید اور کوہاٹ حملے کے تناظر میں وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایک سخت اور تفصیلی بیان جاری کیا گیا، جس میں افغان طالبان حکومت کے روئے اور بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے افغان وزارتِ خارجہ کے مذمتی بیان کو غیر تسلی بخش اور ناکام قرار دیا، کیونکہ افغان حکام نے اپنے سرکاری بیان میں “دہشتگردی” کے لفظ کے استعمال سے بھی گریز کیا۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا کہ صرف زبانی ہمدردی اور رسمی مذمتوں کا وقت گزر چکا ہے۔ افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر موجود “فتنہ الخوارج” کے نیٹ ورکس اور سلیپر سیلز کے خلاف قابلِ تصدیق عملی قدم اٹھانا ہوگا۔
وفاق کے مطابق کوہاٹ حملے کے تار براہِ راست افغانستان میں موجود دہشتگرد پناہ گاہوں سے ملتے ہیں، لہٰذا افغان حکومت اپنی بین الاقوامی اور پڑوسی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔
کوہاٹ واقعے اور پاک افغان سرحدی کشیدگی کے بیچ خطے میں سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔
افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، پاکستان کے ساتھ پرامن اور بہتر تعلقات کا خواہش مند ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے دل میں سعودی عرب کیلئے شدید احترام ہے، اور طالبان حکومت کو توقع ہے کہ سعودی عرب ایک دوست ملک کی حیثیت سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود تنازعات کے حل کیلئے مثبت ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے اور سعودی عرب کے تمام ثالثی اقدامات کا احترام کرے گی۔
اسی سلسلے میں ترکیہ اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود نے کابل اور پھر قندھار کا دورہ کیا اور طالبان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کے مطابق ان ملاقاتوں کے ایجنڈے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل عرصے سے معطل مذاکراتی عمل کی بحالی کا امکان اور حکمتِ عملی شامل تھی۔
سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا افغانستان سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشتگردی یا بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال نہ ہو۔ جب تک طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کرتی، تب تک پائیدار مذاکرات بے سود رہیں گے۔
کوہاٹ پولیس لائنز کا بم دھماکہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کو بیک وقت دو محاذوں کا سامنا ہے، اول یہ کہ جہاں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر شدید سیاسی اختلاف رائے پایا جاتا ہے، دوسری یہ کہ افغان سرزمین سے ہونے والی ترسیل اور سلیپر سیلز قومی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
افغان خودکش بمباروں کی شمولیت اس حقیقت کو تقویت دیتی ہے کہ محض زبانی سفارت کاری یا علاقائی ثالثی (سعودی عرب، قطر یا ترکیہ) اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کابل حکومت سرحد پار دہشتگردی کے ڈھانچے کا خاتمہ نہ کرے۔ دوسری جانب، ملکی سطح پر امن و امان کی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں باہمی سیاسی تنازعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک مربوط اور متفقہ قومی سلامتی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔
Key Highlights of the Kohat Attack & Regional Fallout
-
The Attack & Security Operation: A suicide bombing at a Kohat Police Lines mosque martyred 22 people (including 16 police officers) and injured over 100. Security forces killed seven terrorists during the clearance operation. Investigations identified one of the suicide bombers as an Afghan national named Matiullah.
-
KP Chief Minister’s Critique: KP Chief Minister Sohail Afridi visited the site and attributed the surge in terrorism to a “failed foreign policy” and “closed-door decision-making.” He claimed that his party’s policy could restore peace within 100 days and accused federal authorities of focusing on political opposition rather than security.
-
Federal Government Response: The Federal Ministry of Information dismissed the Afghan Taliban’s condemnation as inadequate for omitting the term “terrorism.” Islamabad demanded verifiable, concrete action against terrorist sanctuaries and sleeper cells operating from Afghan territory.
-
Diplomatic Dynamics: Afghan Taliban spokesperson Zabihullah Mujahid voiced hope for good relations with Pakistan and welcomed potential mediation by Saudi Arabia. Meanwhile, Qatari and Turkish delegations visited Kandahar to discuss restoring bilateral dialogue, while Pakistan reiterated its non-negotiable demand that Afghan soil must not be used against it.




