A newsroom analyst views a large digital screen displaying a map of Central and South Asia. Afghanistan is highlighted in yellow, Pakistan in red, and neighboring countries in orange. Arrows indicate tensions radiating from Afghanistan. Several bilingual (Urdu/English) text boxes highlight regional security and diplomatic threats, including ISIS-K and TTP, under the title 'Regional Trust Crisis'.

ہمسایہ ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کا بڑھتا ہوا علاقائی اعتماد کا بحران

دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ
افغانستان ایک ایسے جغرافیائی محلِ وقوع کا حامل ملک ہے جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، چین، ایران اور وسیع یوریشیائی خطے کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام، داخلی سلامتی اور متوازن خارجہ پالیسی نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ تاہم طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے تقریباً پانچ برس بعد صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ افغانستان نہ صرف سفارتی تنہائی کا شکار ہے بلکہ اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کا اعتماد بھی تیزی سے کھوتا جا رہا ہے۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات، جنہیں کبھی اسٹریٹجک اہمیت حاصل تھی، آج شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ سرحدی تنازعات، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں موجودگی کے الزامات، سرحد پار دہشتگردی اور سفارتی اختلافات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو انتہائی نازک مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ازبکستان، چین اور روس جیسے ممالک کے حالیہ بیانات بھی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ افغانستان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے اعتماد سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور معاشی بنیادوں پر استوار رہے ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا اور مختلف ادوار میں افغان حکومتوں کے ساتھ تعاون جاری رکھا۔ تاہم موجودہ دور میں سب سے بڑا تنازعہ دہشتگردی اور سرحدی سلامتی کا ہے۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے جنگجو افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشتگرد حملے کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام متعدد بار طالبان حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک، خصوصاً پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ اس کے باوجود پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، عوامی روابط اور سفارتی تعاون بھی متاثر ہوا۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان اگر اپنے قریبی ہمسائے کا اعتماد برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات بھی ناگزیر ہوں گے۔
حال ہی میں طالبان کے وزیر برائے امر بالمعروف و نہی عن المنکر خالد حنفی کے اس بیان نے ایک نئے سفارتی تنازع کو جنم دیا جس میں انہوں نے سمرقند، بخارا اور ترمذ جیسے تاریخی اسلامی مراکز کے بارے میں کہا کہ وہاں صرف اسلام کا نام باقی رہ گیا ہے۔
یہ بیان صرف ایک مذہبی رائے نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ملک کے خلاف غیر ضروری سفارتی اشتعال انگیزی تھی جس نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے، تجارت بڑھانے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ازبکستان نے نہ صرف اس بیان کو گمراہ کن قرار دیا بلکہ اپنے سفیر کے ذریعے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان کی بعض سیاسی اور مذہبی قیادت سفارتی نزاکتوں کو سمجھنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کا براہِ راست نقصان افغانستان کی علاقائی ساکھ کو پہنچ رہا ہے۔
طالبان حکومت نے حالیہ دنوں یہ دعویٰ کیا کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں افغانستان میں چینی شہریوں کو نشانہ بنا کر بیجنگ اور کابل کے تعلقات خراب کرنا چاہتی ہیں۔
اگرچہ اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان میں چینی شہری اور چینی مفادات مسلسل حملوں کی زد میں کیوں آ رہے ہیں؟
چین افغانستان میں معدنی وسائل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، مگر سلامتی کی غیر یقینی صورتحال بڑے منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سرمایہ کار صرف سیاسی بیانات پر نہیں بلکہ عملی سلامتی، قانون کی حکمرانی اور مستحکم ماحول کو دیکھتے ہیں۔ اگر افغانستان ان بنیادی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو علاقائی اقتصادی تعاون کے خواب عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں گے۔
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے حال ہی میں خبردار کیا کہ داعش خراسان وسطی ایشیا کیلئے سب سے بڑا دہشتگرد خطرہ بنی ہوئی ہے اور افغانستان کو علاقائی توسیع کے مرکز کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
طالبان اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ داعش خراسان کی افغانستان میں مؤثر موجودگی ختم ہو چکی ہے، لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران داعش خراسان نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں مساجد، تعلیمی ادارے، سفارتی مشنز، مذہبی اقلیتیں، امدادی ادارے اور خود طالبان کے اہلکار اور وزرا بھی نشانہ بنے۔ مارچ 2024 میں ماسکو میں ہونے والا دہشت گرد حملہ، جس میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، اس تنظیم کی سرحد پار کارروائیوں کی صلاحیت کو بھی واضح کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس اور بین الاقوامی تشویش
اقوام متحدہ کی مختلف نگرانی رپورٹس مسلسل اس امر کی نشاندہی کرتی رہی ہیں کہ افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، اسلامی تحریک ازبکستان، ترکستان اسلامک پارٹی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی مختلف سطحوں پر موجودگی یا سرگرمیاں برقرار ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں بیس سے زائد دہشتگرد تنظیمیں مختلف درجوں میں فعال یا منظم نیٹ ورکس رکھتی ہیں۔
اگرچہ طالبان ان جائزوں سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن افغانستان کے ہمسایہ ممالک اپنی سلامتی کی پالیسیاں سرکاری بیانات کے بجائے زمینی حقائق اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مرتب کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے بارے میں علاقائی تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد صرف بیانات سے قائم نہیں ہوتا بلکہ ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی، مؤثر سلامتی، قابلِ اعتماد سفارت کاری اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری سے حاصل ہوتا ہے۔
اگر افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو مسلسل مسترد کرتا رہے، دہشتگردی کے بارے میں موجود تحفظات کو نظر انداز کرے اور ہر مسئلے کی ذمہ داری بیرونی قوتوں پر ڈال دے تو اس کے نتیجے میں سفارتی تنہائی مزید بڑھے گی۔ اس کا براہِ راست اثر افغانستان کی معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی فلاح پر پڑے گا۔
آج افغانستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے صرف داخلی استحکام ہی نہیں بلکہ علاقائی اعتماد کی بحالی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات، ازبکستان کے ساتھ سفارتی تنازع، چین کے بڑھتے ہوئے تحفظات اور روس کی سلامتی سے متعلق تشویش دراصل ایک ہی بڑے مسئلے کی مختلف جہتیں ہیں۔
افغانستان اگر واقعی خطے کا ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، دہشتگردی کے خلاف قابلِ اعتماد اقدامات کرنا ہوں گے، ذمہ دار سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا اور داخلی سلامتی کو مضبوط بنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر سفارتی تنہائی، معاشی مشکلات اور علاقائی بداعتمادی مزید گہری ہوتی جائے گی، جس کا سب سے بڑا نقصان خود افغان عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان نہ صرف افغان عوام بلکہ پورے خطے کے امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔

Executive Summary: Afghanistan’s Growing Regional Trust Deficit with Neighbors

1. Overview of Diplomatic Isolation

Despite Afghanistan’s strategic geographic location as a vital bridge connecting Central Asia, South Asia, China, and Iran, the country faces severe diplomatic isolation approximately five years after the Taliban’s August 2021 return to power. Instead of fostering stability, Afghanistan is rapidly losing the trust of its immediate and regional neighbors.

2. Key Regional Friction Points

  • Pakistan: Once characterized by strategic cooperation, bilateral relations have reached a critically fragile stage. Key drivers of this tension include ongoing border disputes, cross-border terrorism, and Pakistan’s repeated accusations that the Taliban is allowing the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) to operate from Afghan soil.

  • Uzbekistan: A major diplomatic row erupted following provocative religious and political commentary by the Taliban’s Minister for Vice and Virtue, Khalid Hanafi, regarding historical Uzbek Islamic centers (Samarkand, Bukhara, and Termez). Uzbekistan formally protested the misleading statement, highlighting a lack of diplomatic sophistication among the Taliban leadership.

  • China: While China remains interested in investing in Afghanistan’s mineral, energy, and infrastructure sectors, continuous security threats against Chinese nationals remain a major barrier. The Taliban’s claims that foreign intelligence agencies are sabotaging relations do not override the practical need for a secure, rule-of-law environment necessary to attract economic investment.

  • Russia: Russian Foreign Minister Sergey Lavrov warned that ISIS-K (Daesh-Khorasan) poses the greatest terrorist threat to Central Asia, using Afghanistan as a base. Although the Taliban claims ISIS-K has been dismantled, high-profile domestic attacks and the devastating March 2024 Moscow theater attack prove the group’s cross-border capabilities.

3. UN Assessments and Global Concerns

United Nations monitoring reports counter the Taliban’s official rhetoric, consistently confirming that over twenty terrorist groups—including Al-Qaeda, TTP, the Islamic Movement of Uzbekistan (IMU), and the Turkistan Islamic Party (TIP)—maintain functional networks and varying levels of presence inside Afghanistan. Regional neighbors are actively shaping their security and intelligence policies based on these ground realities rather than Taliban assurances.

4. Conclusion and Way Forward

Afghanistan stands at a critical crossroads. Shifting blame onto external forces and ignoring the security concerns of its neighbors will only deepen economic stagnation and diplomatic alienation. To become a trusted regional partner and ensure its own shared prosperity, the Taliban administration must transition from mere rhetoric to actionable governance. This includes:

  • Executing credible, verifiable counter-terrorism measures against transnational militant networks.

  • Adopting professional, responsible diplomacy with neighboring states.

  • Securing internal stability to foster safe corridors for regional trade and foreign investment.