دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران سرحدی گزرگاہوں کی بندش، ٹی ٹی پی (TTP) کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور اسلام آباد و کابل کے درمیان اعتماد کے فقدان نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس نے نہ صرف دوطرفہ سلامتی بلکہ پورے خطے کے جیو پولیٹیکل استحکام کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں چین، ترکیہ، قطر اور روس جیسے اہم علاقائی کھلاڑی تحرک اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ کابل انتظامیہ کو غیر ملکی عسکریت پسند گروہوں کے خلاف عملی اقدامات پر آمادہ کیا جا سکے اور سیکیورٹی بحران کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اگست 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان اعلیٰ سطح کی متعدد سیکیورٹی و سفارتی نشستیں منعقد ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ، انٹیلی جنس اداروں اور عسکری قيادت کے اعلیٰ وفود نے کابل اور قندھار کے بارہا دورے کئے، جبکہ افغان طالبان کے وزراء اور سیکیورٹی حکام نے بھی اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت کی۔
ان ملاقاتوں اور نشستوں میں پاکستان کا مدعا ہمیشہ بالکل واضح اور دوٹوک رہا ہے، جیسا کہ کابل انتظامیہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی قیادت اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوتوں کی روشنی میں بلا تفریق اور حتمی کارروائی کرے۔
تاہم اس کے برعکس افغان طالبان کی قیادت ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین پر آزادانہ موجودگی کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہی ہے اور اسے ہمیشہ پاکستان کا “داخلی معاملہ” قرار دے کر سیکیورٹی اقدامات سے پہلو تہی کرتی آئی ہے۔
مسلسل مذاکراتی نشستوں کے باوجود کابل انتظامیہ کا یہ رویہ دوطرفہ تعلقات کو بہتری کی طرف لے جانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں سرحد پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے اور بالآخر 11 ماہ سے سرحدی تجارتی راہداریاں معطل ہیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتِ حال میں روس کا کردار ایک انتہائی اہم اور دلچسپ پہلو کا حامل ہے۔ روس دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے افغان طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے اور کابل کے سفارت کاروں کو ماسکو میں مکمل سفارتی پذیرائی دی ہے۔ تاہم، اس باضابطہ تسلیم کے باوجود ماسکو نے افغانستان میں موجود غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر جس شدت سے تحفظات کا اظہار کیا ہے، وہ عالمی سطح پر توجہ کا مرکز ہے۔
روسی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کونسل نے اپنے سرکاری بیانات میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان کے شمالی اور مشرقی اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی دہشتگرد، جن میں داعش (ISKP)، مرکزی ایشیائی عسکریت پسند گروہ اسلامک موومنٹ اف ازبکستان، ترکستان اسلامک پارٹی، القائدہ، تحریک طالبان پاکستان، اتحادلمجاہدین پاکستان اور دیگر عالمی جنگجو شامل ہیں، بلا روک ٹوک آزادانہ تحرک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
روس نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے ان عسکریت پسندوں کی نکیل نہ کسی تو یہ عناصر تاجکستان، ازبکستان اور پورے مرکزی ایشیا (Central Asia) کے امن کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
روس کا یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ باضابطہ سفارتی تسلیم کا مطلب کابل انتظامیہ کو ان کی بین الاقوامی سیکیورٹی ذمہ داریوں سے مبرّا کرنا نہیں ہے۔
روس، پاکستان اور چین کے خدشات کو اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں اور سیکیورٹی کونسل کی رپورٹوں سے مکمل تقویت ملتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تجزیاتی رپورٹس میں افغان سرزمین پر موجود شدت پسندوں کا تفصیلی احوال بیان کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اگست 2021ء کے بعد سے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں زیادہ سازگار ماحول اور محفوظ پناہ گاہیں میسر آئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو افغان طالبان کے بعض عناصر کی جانب سے لاجسٹک سپورٹ، مالی معاونت اور بعض اوقات جدید امریکی ہتھیار بھی منتقل ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق القاعدة، ٹی ٹی پی، اور ایسٹ ترکستان اسلامک پارٹی (ETIM) افغان سرزمین پر باہم مربوط طریقے سے کام کر رہی ہیں، جو کہ خطے کے تمام پڑوسی ممالک کیلئے یکساں خطرہ ہے۔
16 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان، چین، روس، ایران اور امریکہ جیسے حریف ممالک نے یک زبان ہو کر افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
چین کیلئے افغانستان میں معاشی سرمایہ کاری، معدنیات کی کھدائی اور سی پیک (CPEC) کی امتداد کا خواب اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب خطہ ہر قسم کے تشدد سے پاک ہو۔ شنگھائی کی ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی میں منعقدہ خصوصی سیمینار میں سابق چینی سفیر لو زاوئی اور ماہرین نے زور دیا کہ افغان طالبان کو بیجنگ کے سیکیورٹی تحفظات پر فوری عمل درآمد کرنا ہوگا۔ چین کو اپنے مغربی صوبے سنکیانگ سے جڑی ایسٹ ترکستان اسلامک پارٹی (ETIM / TIP) کے جنگجوؤں کی افغانستان میں موجودگی پر شدید تحفظات ہیں۔
شینڈو یونیورسٹی کے پروفیسر ہوانگ ین سونگ اور دیگر علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی گزشتہ چار دہائیوں پر محیط “اسٹریٹجک ڈیپتھ” کی پالیسی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ یہ خام خیالی کہ کابل میں ایک ہمدرد حکومت پاکستان کے مغربی بارڈر کو محفوظ بنا دے گی، موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکی ہے۔
دوطرفہ اور کثیر الجہتی تعطل کو توڑنے کیلئے ترکیہ اور قطر نے سفارتی ثالث کا کردار سنبھالا ہے، جس میں ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن اور قطر کے اعلیٰ عہدیدار حمد بن خمیس الکبیسی نے کابل اور قندھار میں طالبان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں تاکہ 11 ماہ سے بند سرحد کو کھولنے کیلئے ایک قابلِ عمل سیکیورٹی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
جہاں پاکستان، چین اور روس سیکیورٹی تحفظات پر بات کر رہے ہیں، وہیں بھارت سیکیورٹی کونسل کے اجلاسوں میں دہشتگردی کے ذکر سے گریز کرتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ معاشی و سفارتی تعلقات استوار کرنے پر زور دے رہا ہے تاکہ خطے میں اپنے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کو بڑھا سکے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی بحران کا حل محض زبانی باتوں، تعزیتی ملاقاتوں یا وقتی معاہدوں میں نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور روس و چین کی جانب سے ظاہر کردہ تحفظات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغانستان میں غیر ملکی دہشتگردوں کی موجودگی محض پاکستان کا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
روس جیسے ملک کی جانب سے افغان حکومت کو تسلیم کئے جانے کے باوجود سیکیورٹی خدشات پر دیا جانے والا سخت پیغام کابل انتظامیہ کیلئے ایک واضح اشارہ ہے: جب تک وہ القائدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف عملی، شفاف اور قابلِ تصدیق قدم نہیں اٹھاتے، اس وقت تک نہ تو پاک افغان بارڈر کی دیرپا بحالی ممکن ہے اور نہ ہی کابل کو خطے میں ایک ذمہ دار حکومت کا درجہ مل سکتا ہے۔
Executive Summary: Pak-Afghan Security Crisis and Regional Diplomacy
- Bilateral Security Stalemate: Relations between Pakistan and Afghanistan remain severely strained due to cross-border terrorism, leading to an 11-month border closure and trade deadlock. Islamabad demands decisive action against Tehrik-e-Taliban Pakistan (TTP) sanctuaries, while Kabul continues to dismiss the issue as Pakistan’s internal matter.
- Russia’s Diplomatic Paradox: Despite being the sole nation to formally recognize the Taliban regime, Moscow has voiced severe alarm over thousands of foreign militants operating in Afghanistan (including ISKP and Central Asian militant groups), warning that unchecked terrorism directly threatens Central Asian security.
- UN Security Council Confirmation: UN monitoring reports corroborate regional concerns, confirming that post-2021, groups like TTP, Al-Qaeda, and ETIM enjoy enhanced operational freedom, logistical backing, and access to advanced weaponry on Afghan soil.
- China & the End of ‘Strategic Depth’: Beijing faces security risks from the East Turkestan Islamic Movement (ETIM) targeting its Xinjiang region and CPEC infrastructure. Security analysts emphasize that Pakistan’s four-decade-old “Strategic Depth” policy has effectively collapsed, requiring hard security accountability from Kabul.
- Regional Mediation Efforts: Turkiye and Qatar are actively conducting high-level intelligence and diplomatic visits to negotiate a workable security framework and restore trade corridors, while India expands economic and diplomatic engagements with Kabul without addressing regional terrorism concerns.
About Author: Nasir Dawar Editor The Khyber Times and Researcher. Contact: dawarjan@gmail.com




