ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی و معاشی کشیدگی اور اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظِ آئین پاکستان” کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کے قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت اہم اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس (APC) بلانے اور حکومت مخالف تحریک کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو دوسری جانب انتظامیہ نے اسلام آباد کو ناکہ بندی کے ذریعے سیل کرنے کیلئے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز مختلف شاہراہوں پر پہنچا دئے ہیں۔
اسلام آباد کی ناکہ بندی اور کارکنان کا عزم
عدالتی احکامات اور انتظامیہ کے سخت اقدامات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان لانگ مارچ کو ہر قیمت پر کامیاب بنانے کیلئے صف بندی کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز کی آمد اور خندقوں کی کھدائی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ردِعمل کے طور پر پی ٹی آئی کارکنان بھی غیر معمولی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کارکنان شیلنگ اور پولیس فورس کا مقابلہ کرنے کیلئے خصوصی ماسک، غلیلیں، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس کا انتظام کر رہے ہیں۔ دارالحکومت کے گرد و پیش میں بننے والا یہ منظر نامہ روایتی سیاسی احتجاج سے ہٹ کر ایک شدید تصادم کی تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں کارکنان کسی ممکنہ رکاوٹ کو توڑنے کیلئے مکمل تیار نظر آتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کا اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا اعلان
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کیلئے تمام جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا، جس کیلئے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کی خاطر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ اعلامئے کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد ہوگی جس کا مقصد عوامی قوت کے بل بوتے پر عوام کا حقِ حکمرانی واپس لینا ہے۔ اس احتجاج کے بنیادی ایجنڈے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور خیبر پختونخوا و بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال شامل ہیں۔
28 ویں آئینی ترمیم اور صوبائی خود مختاری
اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی کی لہر، مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تجاویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامئے میں واضح کیا گیا کہ موجودہ حکومت کے پاس صوبوں کو توڑنے یا انہیں محض انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا کوئی اخلاقی یا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔ ایسی تجاویز وفاق اور قومی وحدت انتہائی کیلئے نقصان دہ ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے زور دیا کہ کسی ریفرینڈم یا دوسرے حربے کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سندھ کی موجودہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت کو برقرار رکھنے پر خصوصی اتفاق کیا گیا۔
اعلامئے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے قائدین کی براہِ راست ملاقات کروانے اور ان کی صحت کے متعلق درست معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے تحریک انصاف کے کارکنان کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی شدید مذمت کی۔ اس کے علاوہ سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب کے دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے ناخوشگوار روئے کو بھی جمہوریت اور صوبائی ہم آہنگی کے خلاف قرار دیا گیا۔
بارڈر تجارت اور سفارتی کردار
اجلاس کے دوران پاک افغان بارڈر تجارت فوری بحال کرنے اور متنازع مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتحاد نے مطالبہ کیا کہ قدرتی وسائل سے متعلق تمام فیصلوں میں مقامی آبادی اور متعلقہ صوبوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر بات چیت کی گئی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے پاکستان کے مؤثر سفارتی و ثالثی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
-
Capital Blockade & Protest Gear: Islamabad administration has placed over 1,000 shipping containers and dug trenches across major entry/exit routes. In response, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) activists are equipping themselves with protective jackets, tear gas masks, helmets, and slingshots to overcome police barricades.
-
Coalition Strategy & Key Demands: Following a meeting chaired by Opposition Leader Mahmood Khan Achakzai, the alliance resolved to convene an APC to address national political and economic stability. The September 27 march centers on rising inflation, fuel prices, unemployment, and deteriorating security in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan.
-
Rejection of 28th Amendment: TTAP rejected proposed constitutional revisions regarding new provinces or administrative re-division, stating an unrepresentative government lacks the authority to alter provincial boundaries or compromise Sindh’s territorial integrity.
-
Imran Khan & Worker Crackdown: The alliance demanded direct access to PTI founder Imran Khan and official updates on his health, while strongly condemning night raids, arrests of party workers, and the treatment meted out to Sohail Afridi in Punjab.
-
Trade & External Policy: The meeting called for the immediate restoration of Pak-Afghan border trade, opposed the Mines and Minerals Act without local provincial consent, and backed active Pakistani diplomatic mediation to de-escalate Middle East tensions.
- About Author: Nasir Dawar: Editor The Khyber Times and Researcher: Contact, dawarjab@gmail.com




