A photograph of a residential street in Pakistan after an explosion. Debris litters the road. A mosque is partially collapsed, with thick smoke rising behind its minaret. A group of men in traditional attire stand distressed on the right, and other people walk on the street.

کوہاٹ: پرانی پولیس لائنز کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران دہشتگردانہ حملہ، 6 اہلکاروں سمیت 17 افراد شہید، 78 زخمی

کوہاٹ (خصوصی رپورٹ) کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں سمیت 17 افراد شہید جبکہ 78 زخمی ہو گئے۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے پولیس لائنز میں داخل ہونے والے اب تک 6 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پاک فوج کے کمانڈوز اور سی ٹی ڈی کے دستوں نے علاقے کا محاصرہ کر کے مشترکہ کلیئرنس و سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی دفتر اور مال خانے کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پورے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا اور سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) پشاور کے مطابق بارود سے بھری ایک گاڑی پرانی پولیس لائنز کے مرکزی گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد زبردست دھماکا ہوا اور شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش دھماکا کیا گیا۔

کوہاٹ پولیس حکام کے مطابق پولیس لائنز میں داخل ہونے والے  مسلح دہشتگردوں میں خودکش بمبار اور اسنائپر بھی شامل تھے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اب تک 6 حملہ آوروں کو موقع پر ہلاک کر دیا۔

دھماکا نمازِ جمعہ کے وقت ہوا جس کی شدت سے مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا، دیوار گر گئی اور باہر گہرا گڑھا پڑ گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے سے قریب موجود دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔

ہسپتال میں ایمرجنسی اور زخمیوں کی صورتحال

واقعے کے فوراً بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق:

  • شہدا: مجموعی طور پر 17 لاشیں ہسپتال لائی گئیں، جن میں 6 پولیس اہلکار اور 11 عام شہری شامل ہیں۔
  • زخمی: مجموعی طور پر 78 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
  • طبی امداد: 3 شدید زخمیوں کو علاج کیلئے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، 50 سے زائد زخمی مختلف وارڈوں میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ معمولی چوٹیں آنے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نوٹس اور مذمت

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کوہاٹ واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے واقعے کی تمام پہلوؤں پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے ایسے واقعات سے قوم اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور شدید زخمیوں کی دیگر ہسپتالوں میں منتقلی کے تمام انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رات کو بھی پولیس لائنز کے اندر سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔ سی ٹی ڈی اور پاک فوج کے خصوصی دستے آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ پولیس لائنز کو جلد از جلد مکمل طور پر کلیئر کرایا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے مقام پر سی ٹی ڈی کا دفتر اور مال خانہ موجود ہے جہاں بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر دہشتگردوں کی رسائی مال خانے تک ہوئی تو رات کی تاریکی میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

اسی پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز نے پولیس لائنز کے اطراف کا تمام علاقہ سخت محاصرے میں لے لیا ہے جبکہ ہنگو کوہاٹ روڈ کو بھی آمدورفت کیلئے مکمل بند کر دیا گیا ہے تاکہ کلیئرنس آپریشن کو بلا تعطل اور جلد ممکن بنایا جا سکے۔

  • Deadly Coordinated Attack: At least 17 people including 6 police personnel and 11 civilians were killed, and 78 others were injured when terrorists attacked the Old Police Lines in Kohat during Friday prayers.
  • Attack Strategy: The assault began with an explosive-laden vehicle detonating at the main entrance, followed by intense gunfire from militants equipped with sniper rifles and suicide vests. A secondary suicide blast was detonated near the Special Branch building. The main blast severely damaged the mosque’s outer wall and surrounding infrastructure.
  • Casualties & Hospital Response: An emergency was declared at DHQ Hospital Kohat. Out of 78 injured victims, 3 critically wounded were shifted to Peshawar, over 50 remain hospitalized in various wards, and those with minor injuries were discharged after treatment.
  • Ongoing Clearance Operation: Joint forces of the Pakistan Army commandos, Police, and CTD neutralized 6 terrorists during the response. Intermittent firing continued into the night as security forces cordoned off the area and closed the Hangu-Kohat Road to clear the premises and secure the CTD office armory.
  • Government Notice: The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa condemned the attack, requested a full report from police leadership, and instructed health authorities to ensure optimal medical care for all victims.

About Author: Nasir Dawar- Editor the khyber Times and researcher

contact: dawarjan@gmail.com