بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران: پنجاب سے سپلائی میں رکاوٹیں یا بین الصوبائی تنازع؟

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔ پنجاب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ گزشتہ مزید پڑھیں

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ کے والد جان محمد اور مقتول پرویز کی بیوہ پریاز بیگم نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران تراویح کی نماز میں ان کے پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، مگر تاحال ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے میں ملوث افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ جان محمد نے کہا کہ انہیں اپنے بیٹے اور رشتہ دار کے جنازے میں شرکت تک کی اجازت نہیں دی گئی اور الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کا گھر اور کاروبار تباہ ہو چکا ہے جبکہ بچے تعلیم سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ لواحقین نے مزید الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس حکام نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور ملزمان کی سرپرستی کی، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پریاز بیگم نے کہا کہ ان کے شوہر کو خانۂ خدا میں شہید کیا گیا، لیکن آج تک انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ خاندان نے حکومت خیبر پختونخوا، پولیس کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

تراویح کی رات دو جنازے، انصاف آج بھی غائب، پشاور پریس کلب میں لواحقین کی فریاد

پشاور(دی خیبر ٹائمز نیوز) پشاور پریس کلب میں مسجد کے اندر فائرنگ سے قتل کیے گئے افراد کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقتول عنایت اللہ مزید پڑھیں

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم مینگورہ ( عزیز خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، خصوصاً محلہ لنڈیکس اور محلہ بنگلہ دیش میں آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود بجلی، گیس اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بحال نہ ہوسکیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان محلوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کے فوری بعد وقتی امدادی سرگرمیاں تو دیکھنے میں آئیں، مگر مستقل بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہا۔ گلیاں اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نکاس آب کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ جگہ جگہ پانی جمع رہتا ہے اور نالیاں ریت اور ملبے سے بھری پڑی ہیں، جس سے نہ صرف آمد و رفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یونین کونسل کے سابق چیئرمین فضل ربی راجا کے مطابق، مقامی لوگوں نے بارہا اپنے منتخب نمائندوں کو مسائل سے آگاہ کیا، مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وعدے تو کئے، لیکن متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صفائی ستھرائی اور عارضی بحالی کے کئی کام علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام دئے، تاہم بڑے پیمانے پر درکار اقدامات کے لئے حکومتی وسائل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیلابی ریلوں نے ندیوں پر قائم کئی چھوٹے بڑے پل بہا دئے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بچے اسکول اور مدارس جانے سے محروم ہوچکے ہیں، جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے ندی میں اترنا پڑتا ہے۔ کاروباری افراد کو بھی روزانہ اسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے ندی پار کرنا ایک خطرناک مرحلہ بن چکا ہے، اور اکثر حادثات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ فضل ربی راجا کے مطابق، علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی عارضی پل تعمیر کئے، لیکن پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث یہ پل چند ہی دنوں میں بہہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرچکی ہے، مگر ایسے منصوبے جن کے لئے بھاری مشینری اور خطیر فنڈز درکار ہوں، وہ حکومت ہی انجام دے سکتی ہے۔ مقامی رہائشی محمد علی نے بتایا کہ گیس کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہے، اور کئی مقامات پر پائپ لائنیں سیلاب میں بہہ چکی ہیں۔ اسی طرح بجلی کا نظام بھی مکمل بحال نہیں ہو سکا، کیونکہ کئی کھمبے اور ٹرانسفارمر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جبکہ نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہونے کے باعث زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ یہ علاقے، جو سیلاب سے قبل مینگورہ کے اہم اور قیمتی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتے تھے، اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی، ہر طرف پھیلی گندگی، کیچڑ اور ملبہ نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی خوبصورتی کو بھی گہنا چکا ہے۔ صفائی اور ترقیاتی کاموں کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب، مینگورہ کے سٹی میئر شاہد علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی کمی کے باعث بحالی کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جلد مرکزی پل کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی بتدریج کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں تنگ گلیاں سرکاری مشینری کے استعمال میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، اور اضافی فنڈز کے حصول کے لئے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ مینگورہ کے ان گنجان آباد محلوں میں لاکھوں افراد مقیم ہیں، جن میں سے کئی خاندان سیلاب کے بعد عارضی طور پر نقل مکانی کر گئے تھے، تاہم بعد ازاں اپنے گھروں کو آباد کرنے کی غرض سے واپس آنا پڑا۔ اب سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث یہ خاندان ایک بار پھر مشکلات کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ صورتحال میں نہ تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور مستقل طور پر منتقل ہونے کی سکت رکھتے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بنیادی سہولیات کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔

مینگورہ شہر کے سیلاب زدہ محلے تاحال بنیادی سہولیات سے محروم

مینگورہ ( عزیر خان ) ضلع سوات کا مرکزی شہر مینگورہ، جو کبھی اپنی گنجان آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج بھی سیلاب کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ نکل سکا۔ شہر کے متاثرہ علاقوں، مزید پڑھیں

لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش متعدد اہم انکشافات کیے ہیں، جن سے خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق عامر سہیل بنوں، لکی مروت اور میانوالی سمیت مختلف اضلاع میں تنظیمی سرگرمیوں کی کمانڈ، رابطہ کاری اور نیٹ ورک کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم میں شامل ہوا۔ گرفتار کمانڈر نے انکشاف کیا کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم ایک تربیتی مرکز میں دہشتگردی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مراکز کو مبینہ طور پر طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔ مزید برآں اس نے اپنے روابط کالعدم تنظیم داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کے ساتھ ہونے کا بھی اعتراف کیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اسے افغانستان سمیت دیگر مبینہ ذرائع سے مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی، جن میں "را" سے منسوب عناصر بھی شامل ہیں۔ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افراد شامل تھے، جن میں بعض افغان شہری بھی تھے۔ تحقیقات کے مطابق گرفتار دہشتگرد بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسے پشاور میں علاج کی غرض سے آنے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اپنے بیان میں ملزم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے سرگرم ہے اور پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار کمانڈر کے انکشافات کی روشنی میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق ان بیانات سے سرحد پار روابط اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے مختلف پہلوؤں پر مزید روشنی پڑنے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ واقعات اور گرفتاریوں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہو رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کرک ایسے اضلاع ہیں جہاں ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہ متحرک ہیں۔ ان علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا جغرافیائی پھیلاؤ جنوبی پنجاب کے ساتھ مل رہا ہے، جو سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک اہم تشویش ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو یہ صورتحال پنجاب تک عدم استحکام پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

لکی مروت: کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی گرفتاری، دورانِ تفتیش اہم انکشافات

لکی مروت ( دی خیبرٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) لکی مروت کے علاقے شہباز خیل سے تعلق رکھنے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر عامر سہیل عرف مولوی حیدر کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔ مزید پڑھیں

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سال: دعوے، تنقید اور عوامی رائے

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا 13سالہ دور اقتدار…حکمرانوں کے دعوے …اپوزیشن کی تنقید…عوامی اظہار راۓ خصوصی تحریر: سفیراللہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)خیبر پختونخوا میں 2013 سے مسلسل برسر اقتدار ہے تب سے لے کر اب تک مزید پڑھیں

لکی مروت میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ، ٹی ٹی پی کمانڈر ہلاک

لکی مروت دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) ضلع لکی مروت کے علاقے ظریفوال سربند میں سکیورٹی فورسز اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین مزید پڑھیں

ٹی ٹی پی میں بڑی پھوٹ اور نئے عسکری اتحاد، کیا پاکستان کی سرحدی پٹی پر ’شمالی بلاک‘ جنم لے رہا ہے؟



دی خیبر ٹائمز اسپیشل رپورٹ پاکستان کی شمال مغربی سرحدی پٹی ایک بار پھر عسکریت پسند تنظیموں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ، نئی صف بندیوں اور ممکنہ تزویراتی اتحادوں کے باعث ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی مزید پڑھیں

خیبرپختونخوا میں ہر گھر کا علاج ممکن ، حکومت نے صحت کارڈ پر 500 ملین روپے خرچ کر دئے ، مزمل اسلم

پشاور ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت صحت کے شعبے میں دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید پڑھیں