تحریر: رسول داوڑ
سوات کی وادی جہاں اپنے دلکش مناظر کیلئے پہچانی جاتی ہے، وہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک ایسا انتظامی معمہ بھی چھپائے ہوئے ہے جو صوبائی حکومت کی ترجیحات اور تدریسی منصوبہ بندی پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں قائم ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی سوات بظاہر ایک خودمختار تعلیمی ادارہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری جامعہ اس وقت نہ تو اپنے کیمپس میں قائم ہے اور نہ ہی اس کے پاس اپنا ایک بھی مستقل استاد موجود ہے۔
جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کے فراہم کردہ تحریری حقائق اس ادارے کی دردناک داستان بیان کرتے ہیں۔ اس وقت یونیورسٹی میں 13 فعال شعبہ جات کے تحت 1,314 طالب علم زیر تعلیم ہیں، لیکن انہیں پڑھانے کیلئے ایک بھی مستقل پروفیسر یا لیکچرر موجود نہیں۔ تمام تر تدریسی نظام 74 کنٹریکٹ اساتذہ اور محض 3 سے 4 وزٹنگ فیکلٹی ممبران کے سہارے گھسیٹا جا رہا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ادارے میں اساتذہ کی 62 اور سپورٹ اسٹاف کی 80 خالی نشستوں سمیت کل 142 آسامیاں طویل عرصے سے منظوری کی منتظر ہیں۔
اپنا کیمپس نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کا پورا تعلیمی اور انتظامی سیٹ اپ پانچ مختلف کرائے کی عمارتوں میں تقسیم ہے، جن میں سے ایک عمارت کو طالبات کے ہاسٹل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق یونیورسٹی کے مستقل کیمپس کی تعمیر سال 2026 تک مکمل ہونا تھی، لیکن فنڈز کی عدم فراہمی نے اس اہم منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔ اگر اب بھی مطلوبہ وسائل بروقت جاری کر دئے جائیں تو اکیڈمک بلاک ایک سال میں مکمل ہو سکتا ہے، ورنہ یہ منصوبہ مزید چار سے پانچ سال کی التوا کا شکار ہو جائے گا۔
مالی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے (PC-1) کی کل لاگت 8.67 ارب روپے تخمینہ لگائی گئی تھی، مگر اب تک صرف 1.5 ارب روپے ہی ریلیز ہو سکے ہیں اور 7 ارب روپے کے فنڈز اب بھی جاری ہونا باقی ہیں۔ اکیڈمک اخراجات کیلئے صوبائی حکومت نے 2 ارب روپے مختص کئے تھے، لیکن جامعہ کو محض 400 ملین روپے مل سکے، جبکہ 1.6 ارب روپے کی رقم اب بھی کاغذی کارروائیوں میں اٹکی ہوئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ گزشتہ چار سالوں سے انہی محدود ترین فنڈز کے سہارے ادارے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
حالیہ دنوں میں گاڑیوں کے استعمال سے متعلق پھیلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے وائس چانسلر نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ یونیورسٹی کی کوئی گاڑی سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کے پاس کل 7 سرکاری گاڑیاں ہیں اور تمام کی تمام یونیورسٹی کے اپنے انتظامی و تدریسی کاموں کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویٹرنری یونیورسٹی سوات، یونیورسٹی آف سوات سے بالکل الگ اور ایک خود مختار ادارہ ہے۔
ان تمام تر نامساعد حالات، فنڈز کی شدید قلت اور عارضی انتظامات کے باوجود، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کا کہنا ہے کہ ان کا وژن اس ادارے کو جدید تحقیق اور معیاری تعلیم کا مرکز بنانا ہے۔ وہ آنے والے دو سالوں میں طلبہ کی تعداد 5 ہزار تک بڑھانے، ایک جدید ویٹرنری ٹیچنگ اسپتال قائم کرنے، موبائل کلینکس کے ذریعے مویشی پال حضرات کو خدمات فراہم کرنے اور ایم فل و پی ایچ ڈی پروگراموں کے آغاز کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت اس ادارے کو محض وعدوں پر چلاتی رہے گی یا واقعی سوات کے معاشی و تعلیمی مستقبل کیلئے درکار 7 ارب روپے کی فراہمی ممکن بنائی جائیگی؟
EXCLUSIVE: Swat Veterinary University Trapped in Rented Homes with Zero Permanent Faculty
By: Rasool Dawar
An investigation into the University of Veterinary and Animal Sciences (UVAS) Swat—Khyber Pakhtunkhwa’s dedicated veterinary institute—has revealed a severe administrative and financial crisis. According to written responses provided by Vice-Chancellor Prof. Dr. Shakeebullah, the university is currently operating entirely out of rented premises without a single permanent faculty member or civil servant on its payroll.
At a Glance: Key Findings
Zero Permanent Faculty: Over 1,314 students across 13 active departments are taught by 74 contract instructors and 3–4 visiting faculty. Not a single permanent lecturer or professor has been appointed.
* Infrastructure Crisis: Lacking a permanent campus, academic and administrative operations are split across 5 rented residential/commercial buildings, including one repurposed as a female hostel.
* Massive Vacancies: A total of 142 sanctioned positions remain unfilled, comprising 62 teaching faculty posts and 80 support staff slots.
* Severe Financial Deficit: The original PC-1 project cost stands at Rs 8.67 billion, but only Rs 1.5 billion has been released—leaving a staggering Rs 7 billion shortfall.
* Academic Funding Delay: Out of Rs 2 billion allocated by the provincial government for academic operations, only Rs 400 million has been disbursed over the last four years, leaving Rs 1.6 billion blocked.
* Completion Postponement: Originally targeted for completion by 2026, the main campus construction is stalled. Without immediate funds, completion could be pushed back by another 4 to 5 years.
Official Clarifications & Vehicle Controversy
Addressing rumors regarding official assets, the Vice-Chancellor clarified that:
“The university owns a fleet of 7 official vehicles, all of which are actively utilized for university operations. Reports claiming any vehicle is in the possession of former Chief Minister Ali Amin Gandapur are entirely baseless.”
He further emphasized that UVAS Swat is an independent, autonomous institution and completely separate from the University of Swat.
Future Roadmap vs. Ground Reality
Despite the severe financial bottleneck, the administration outlined an ambitious long-term vision, subject to fund release:
* Scaling student enrollment to 5,000 within two years.
* Establishing a state-of-the-art Veterinary Teaching Hospital and Mobile Veterinary Clinics.
* Launching advanced MPhil and PhD research programs.
* Building national and international research partnerships based on strict merit and transparency.




