تحریر: شھزادین
وزیرستان: یہاں زندگی کو ختم کرنے کے تمام وسائل تو موجود ہیں؛ ہر قسم کا اسلحہ، چھوٹا بڑا سب دستیاب ہے، مگر زندگی کو حسین اور خوبصورت بنانے کیلئے کچھ بھی مہیا نہیں کیا گیا ہے۔
سونا اگلتی زمین، مگر یہاں کے مکین بنیادی انسانی ضروریات کو آج بھی ترس رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کا قبائلی ضلع لوئر جنوبی وزیرستان، جس کا ضلعی ہیڈکوارٹر وانا ہے، قدرتی حسن، زرخیز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں اور مہمان نواز قبائلی روایات کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ ضلع انتظامی طور پر چار تحصیلوں پر مشتمل ہے؛ وانا، برمل، توئے خلہ اور تیارزہ بشمول شکئی۔
تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع کا کل رقبہ 6,620 مربع کلومیٹر جبکہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق آبادی 8 لاکھ 88 ہزار 675 افراد پر مشتمل ہے۔ وانا اس ضلع کا انتظامی، تجارتی اور زرعی مرکز ہے، جہاں سے پورے ضلع کے انتظامی امور چلائے جاتے ہیں۔ اس ضلع کی اکثریتی آبادی کا تعلق احمدزئی وزیر قبیلے سے ہے، جس کی مختلف ذیلی شاخیں صدیوں سے اپنی روایات، مہمان نوازی اور بہادری کیلئے جانی جاتی ہیں۔
وانا اور اس کے گرد و نواح کی زرخیز وادیاں خیبر پختونخوا کے بہترین زرعی علاقوں میں شمار ہوتی ہیں۔ یہاں پیدا ہونے والا “وانا کا سیب” اپنی منفرد مٹھاس اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی اور آبپاشی کے ناقص نظام نے باغات اور فصلوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
تعلیم کا فقدان اور تاریکی کا کھیل
بدقسمتی سے، اس خطے میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ایک گہری معاشرتی اور انتظامی سازش بھی کارفرما رہی ہے۔ دورِ جدید میں بھی یہاں کے بیشتر قبائل بچیوں کی تعلیم کو ‘گناہ’ کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، جو ایک انتہائی منفی سوچ بن چکی ہے اور اس نے آدھی آبادی کو ترقی کے دھارے سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ المیہ تعلیمی اداروں کی حالتِ زار ہے۔ انضمام سے قبل کا حال یہ رہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو پولیٹیکل ایجنٹ رشوت کے طور پر اپنے منظور نظر لوگوں کو نوازنے کیلئے استعمال کرتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ عمارتیں علمی درسگاہ کم اور نجی ہجرے یا اصطبل زیادہ بن کر رہ گئیں۔ یہ تعلیمی ادارے علم کے نور پھیلانے کے بجائے کسی ملک یا سردار کی ذاتی ملکیت یا رشوت کے عوض دئے گئے تحفے بنے رہے۔ تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا یہی حال ہے، چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا صحت کا، وہ عوام کی ملکیت کے بجائے کسی کی ذاتی جاگیر سمجھے جاتے ہیں، جہاں مالکِ مکان کی مرضی چلتی ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے بھی دانستہ طور پر اس خطے کو علم کی روشنی سے دور رکھنے کی پالیسی اپنائی۔
وزیرستان کے بچوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، ہر وزیرستانی بچی اور بچہ زندگی کے ہر میدان میں ایک کامیاب انسان ثابت ہو سکتا ہے، مگر افسوس کہ تاریکی میں ڈوبے ہوئے ایک مخصوص منصوبے کے تحت ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ گزشتہ تقریباً چوبیس برسوں سے دہشتگردی، بدامنی، نقل مکانی، لاقانونیت اور جبر نے یہاں کے عوام کو مزید پسماندہ کر دیا ہے۔ تعلیم، صحت، سڑکوں اور صاف پانی کے بیشتر منصوبے اب بھی صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔
اس کے باوجود وانا اور اس کے گرد و نواح کی خوبصورت وادیاں، سرسبز باغات اور ٹھنڈی آب و ہوا اس خطے کو سیاحت کیلئے نہایت موزوں بناتے ہیں۔ اگر یہاں دیرپا امن قائم ہو، بنیادی ڈھانچے کو نجی ملکیت کے بجائے عوامی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے اور تعلیمی رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، تو لوئر جنوبی وزیرستان نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے خوبصورت ترین اور روشن دماغ اضلاع میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
لوئر جنوبی وزیرستان صرف ایک سرحدی ضلع نہیں بلکہ قدرت کے حسین رنگوں، زرخیز زمین، بہادر عوام اور بے شمار امکانات کی سرزمین ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس خطے کو جدید انفراسٹرکچر، علم کی روشنی اور بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہاں کے بچوں کا ٹیلنٹ ضائع ہونے کے بجائے ملک و قوم کا فخر بن سکے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ
__________________________________________
Lower South Waziristan, with Wana as its headquarters, is one of Pakistan’s most naturally beautiful and agriculturally rich regions. Famous for its fertile valleys, apple orchards, and diverse fruit production, the district relies heavily on agriculture and livestock. Despite its abundant natural resources and tourism potential, decades of conflict, underdevelopment, and inadequate infrastructure have left the area deprived of essential services such as education, healthcare, clean water, and modern roads. With lasting peace, improved infrastructure, and investment in agriculture and tourism, Wana has the potential to become one of Pakistan’s leading tourist and agricultural destinations.




