خصوصی رپورٹ: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع اور معاشی مراکز میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور سیاسی خلیج کی اندرونی کہانی
رپورٹ: ناصر داوڑ (ایڈیٹر، دی خیبر ٹائمز)
خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے پیچیدہ بحران سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی دوریاں، اور معاشی بدحالی نے حکومتی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبے کے عام شہری اور سرمایہ کار مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں، پشاور سے لے کر جنوبی اضلاع تک پھیلی یہ بدامنی محض مقامی نوعیت کی نہیں رہی بلکہ اس نے ملک کے دفاعی اور اقتصادی ڈھانچے پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔
وفاق اور صوبے کے مابین سیکیورٹی کے معاملات پر پائی جانے والی سرد جنگ، افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سرحد پار سے جدید ترین اسلحہ کی منتقلی اور مقامی سطح پر قبائلی و عوامی حلقوں میں عسکری آپریشنز کے خلاف پایا جانے والا ردعمل اس بحران کی وہ بنیادی کڑیاں ہیں جن کو سمجھے بغیر پائیدار امن کا خواب نامکمل معلوم ہوتا ہے۔
قبائلی اضلاع: عسکری تنظیموں کی تنظیمِ نو کا محور
اس سنگین بحران کا بنیادی مرکز قبائلی اضلاع ہیں جو اب مسلح عسکریت پسند تنظیموں کی دوبارہ منظم ہونے کی سرگرمیوں کا محور بن چکے ہیں۔ خطے کے معروضی حالات اور انٹیلی جنس معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں متعدد خطرناک تنظیموں کی فعال موجودگی کے پختہ امکانات پائے جاتے ہیں:
تحریکِ طالبان پاکستان (TTP): یہ یہاں کا سب سے بڑا اور منظم نیٹ ورک ہے۔ یہ گروپ پاکستان کے وجود کو غیر آئینی قرار دے کر فاٹا انضمام کے خاتمے، قبائلی علاقوں سے ریاستی افواج کے انخلا اور اپنے سخت نظریات کے نفاذ کے لیے برسرِپیکار ہے۔ عسکریت پسندوں کا یہ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہے، جہاں سے یہ مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے ٹرانزٹ ٹیکس، اغوا برائے تاوان، لکڑی کی غیر قانونی تجارت، معدنیات کی اسمگلنگ اور مدارس سے عطیات کا استعمال کرتا ہے۔
اتحاد المجاہدین پاکستان (حافظ گل بہادر گروپ): یہ خطے میں ایک اور طاقتور عسکری قوت کے طور پر سرگرم ہے، جو بنیادی طور پر شمالی وزیرستان اور بنوں کے علاقوں کو نشانہ بناتا ہے اور عسکری کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے بارود سے بھری گاڑیوں کے خودکش دھماکوں اور راکٹ حملوں کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد اب اس گروپ کا نام اتحادالمجاہدین پاکستان بن چکا ہے۔
دولتِ اسلامیہ خراسان (ISKP): یہ شدت پسند تنظیم خلافت کے عالمی ایجنڈے کے تحت باجوڑ، پشاور اور کرم ایجنسی جیسے اضلاع میں فعال ہے۔ یہ تنظیم زیادہ تر شہری مراکز میں بم دھماکوں، سیاسی و مذہبی جلسوں پر خودکش حملوں اور مذہبی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
چھوٹے متشدد دھڑے: اس خطے میں اسود الخراسان اور الحمید خودکش فورس جیسے چھوٹے اور انتہائی متشدد عسکری دھڑے بھی سیکیورٹی فورسز کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
عسکری آپریشنز اور قبائلی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ
ان حالات میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی عسکری کارروائی مئی 2026 میں شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں کی گئی جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن میں دو اہم عسکری کمانڈروں سمیت درجن سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔ اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کرنے کے لیے دروزاندہ میں واقع علم خیل مارکیٹ کو بھی مسمار کیا گیا۔
دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئر کے انتظامی مرکز وانا میں قبائلی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ایک منظم سلسلہ جاری ہے تاکہ مقامی آبادی اور ریاست کے مابین رابطے کا نظام مفلوج ہو جائے۔ اس کی حالیہ ہولناک مثال 18 مئی 2026 کو وانا کے مصروف ترین رستم بازار میں دیکھنے میں آئی جہاں گلشن پلازہ اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب احمد زئی وزیر قبیلے کے معتبر سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرولڈ بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
اس طاقتور دھماکے میں ملک طارق وزیر کے علاوہ ان کے قریبی قبائلی ساتھی ملک سرفراز اور غلام رسول یار گل خیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ قبائلی عمائدین کو منظم طریقے سے قتل کرنے کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2004 سے اب تک تقریباً ڈھائی سے تین ہزار بااثر قبائلی عمائدین کو عسکریت پسندوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث روایتی قبائلی نظامِ مصالحت اور مقامی قیادت کا ڈھانچہ بری طرح پامال ہو چکا ہے۔
شہری مراکز تک پھیلاؤ: لکی مروت اور باجوڑ کے المیے
یہ لہر اب وزیرستان کے جغرافیائی دائرے سے نکل کر باجوڑ اور لکی مروت جیسے دیگر اہم اضلاع کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جہاں پولیو مہم پر مامور پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جنوری 2024: باجوڑ کے علاقے ماموند میں پولیو کی حفاظت پر تعینات پولیس کی گاڑی پر ایک آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار شہید اور 27 افراد زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
ستمبر 2024: باجوڑ میں ہی کانسٹیبل لقمان کی ٹارگٹ کلنگ نے مقامی فورسز میں اس قدر غم و غصہ پیدا کیا کہ پولیس اہلکاروں نے باجوڑ میں پولیو ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔
12 مئی 2026: دہشت گردی کا ایک اور ہولناک منظر لکی مروت کے تحصیل سرائے نورنگ بازار میں پیش آیا، جہاں عسکریت پسندوں نے بارود سے بھری لوڈر رکشہ کے ذریعے کاروباری مرکز کو اڑا دیا۔ اس ہولناک دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں (عادل جان اور راحت اللہ) اور ایک معصوم خاتون سمیت 9 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 33 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ اگرچہ اس دھماکے کی فوری طور پر کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن یہ حملے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند اب شہری علاقوں اور بازاروں میں گھس کر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔
وسطی کرم گینگ وار: عسکری دھڑوں کا خونی ٹکراؤ
سیکیورٹی کی اس دگرگوں صورتحال اور عسکریت پسند دھڑوں کے مابین بقا اور وسائل کی اندرونی جنگ کی ایک ہولناک اور تازہ ترین مثال حال ہی میں، یعنی 20 مئی 2026 کو وسطی کرم کے علاقے مناتو کامران کلے میں دیکھنے میں آئی ہے، جو تھانہ چینارک کی حدود میں واقع ہے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے دو انتہائی متشدد حریف دھڑوں، یعنی کمانڈر احمد کاظم (کاظم گروپ) اور کمانڈر ممتاز امتی (ممتاز امتی گروپ) کے مابین بھتے اور غیر قانونی ٹیکس (قلنگ) کی وصولی اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے تنازعے پر ایک ہولناک اور خونی مسلح تصادم ہوا۔
اس تصادم میں دونوں جانب سے راکٹوں اور مارٹروں سمیت بھاری اور خودکار جنگی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں عسکری کمانڈر ممتاز امتی سمیت مجموعی طور پر 18 یا 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی اور پولیس حکام کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 18 عسکریت پسندوں کا تعلق براہِ راست ممتاز امتی گروپ سے تھا (جبکہ اس گروپ کے مزید 3 جنگجو تاحال لاپتہ ہیں)، اور مخالف کاظم گروپ کا بھی ایک اہم جنگجو اس لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اگرچہ تصادم کے فوراً بعد مقامی قبائل نے کشیدہ حالات میں لاشوں کو اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا، لیکن اس واقعے نے پورے ضلع کرم میں شدید خوف اور انتہائی سنسنی خیز تناؤ کی فضا قائم کر دی ہے۔
مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، یہ تصادم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ مسلح عسکریت پسند گروہ کسی نظریاتی یا مذہبی جدوجہد کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً مال و دولت، بھتہ خوری، اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس جنگ کے بعد کرم میں عسکریت پسندوں کی آپس میں گینگ وار مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہے، جس سے ایک طرف تو ان کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہوگا، لیکن دوسری طرف پہلے سے ہی زمین کے دیرینہ تنازعات اور شدید فرقہ وارانہ حساسیت کے شکار ضلع کرم میں امن و امان کا نازک توازن بگڑنے اور بالخصوص ٹل پاراچنار ہائی وے جیسے کلیدی تجارتی راستوں پر نقل و حمل معطل ہونے کا سنگین اندیشہ پیدا ہو گیا ہے، جو کہ ریاستی رٹ کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہوگا۔
پشاور کا صنعتی و معاشی زوال اور رئیل اسٹیٹ کریش
اس تمام تر مخدوش صورتحال کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور میں عسکریت پسندوں کی پوشیدہ نقل و حرکت اور حیات آباد جیسے حساس اور متمول علاقوں میں ان کی سرگرمیوں نے شہر کی سماجی اور کاروباری زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں آنے والی حالیہ تاریخی مندی کے پیچھے دو بنیادی وجوہات کارفرما ہیں:
افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا اثر: غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حکومتی فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا، پشاور اور بالخصوص بورڈ بازار میں جعلی دستاویزات پر جائیدادیں خریدنے والے تقریباً 12 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں نے عجلت میں انتہائی کم داموں پر اپنی جائیدادیں اور کاروبار فروخت کرنا شروع کر دئے۔ خریداروں کی عدم موجودگی اور جائیدادوں کی بھرمار کے باعث پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں مکانات کے کرایوں اور قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔
بھتہ خوری کا عذاب: پشاور کا تجارتی طبقہ اس وقت پارہ چنار سے لے کر سرحد پار افغانستان تک پھیلے عسکریت پسند بھتہ خوروں کے نشانے پر ہے۔ انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (IAP) کے مطابق، سرمایہ کاروں کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں اور 20 ملین روپے تک کے بھتے کے مطالبے موصول ہو رہے ہیں۔ حیات آباد میں صنعتکاروں کے گھروں اور سابق صوبائی وزیر حاجی جاوید کی رہائش گاہ پر بھتہ نہ دینے کی پاداش میں دستی بم حملوں نے پوری بزنس کمیونٹی کو خوف زدہ کر دیا ہے۔
سیکیورٹی کی اس غیر واضح صورتحال کے باعث سرمایہ کار تیزی سے پشاور سے اپنے کاروبار بند کر کے پنجاب، کراچی یا پھر دبئی اور ملائشیا جیسے محفوظ اور ٹیکس فری مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ پشاور میں سرمایہ کاری کے کم ہوتے امکانات اور سیکیورٹی خدشات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں اپنے قونصلیٹ جنرل کو بند کر دیا۔
وفاق-صوبہ سیاسی مخاصمت اور آپریشنز کے اثرات
اس تمام تر مخدوش صورتحال میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا ریاستی عزم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت اور پالیسیوں کے تضاد کے باعث بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ وفاق کی جانب سے جب بھی کوئی نیا سیکیورٹی فریم ورک بالخصوص ‘آپریشن عزمِ استحکام’ کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اس کی کھل کر مخالفت کرتی ہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لیے بغیر بند کمروں میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماضی کے بڑے فوجی آپریشنز نے صرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی تباہی پیدا کی:
2008 (آپریشن شیردل): باجوڑ میں اس آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔
جولائی 2025 (آپریشن سر بکف): باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے بعد 55 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
وادی تیراہ آپریشن: آپریشن کی افواہوں پر تقریباً 70 ہزار افراد کو سردی کے موسم میں بے گھر ہونا پڑا۔
اس کے علاوہ شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل، تحصیل سپین وام اور شیواہ میں بھی مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہو رہے ہیں اور بنوں کے حالات بھی وزیرستان سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزراء صوبائی حکومت پر عسکریت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے اور تزویراتی سستی کا الزام عائد کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور پولیس کے مابین وفاقی ایجنسیوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آج خیبر پختونخوا جس عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی بنیادیں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت میں لیے گئے متنازع فیصلوں میں ملتی ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، جذبہ خیر سگالی کے نام پر ٹی ٹی پی کے ایک سو سے زائد انتہائی مطلوب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے گرفتار کیے تھے۔ اسی فیصلے کے تحت، افغانستان میں موجود تقریباً 6 ہزار مسلح جنگجوؤں کو ان کے خاندانوں سمیت قبائلی علاقوں میں واپسی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ تاہم، ان عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ان علاقوں میں دوبارہ اپنے نیٹ ورکس منظم کر لیے۔
7.1 ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ اور پاک-افغان سرحدی جنگ
افغانستان میں اگست 2021 کو رونما ہونے والی تبدیلی نے جہاں پاک افغان تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے، وہیں پاکستانی عسکریت پسندوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں اور وہاں سے آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کر دیا۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی افواج کے عجلت میں انخلا کے باعث تقریباً 7.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار بلیک مارکیٹ اور عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے۔
اب ٹی ٹی پی جیسے گروپ پاکستان کے خلاف ایم-4 اور ایم-16 خودکار رائفلیں، ایم-249 لائٹ مشین گنز، ریمنگٹن سنائپر رائفلیں اور سب سے بڑھ کر جدید تھرمل اور نائٹ ویژن آلات استعمال کر رہے ہیں، جن کی بدولت عسکریت پسندوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے۔
اسی دوران پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ افغان طالبان اور مقامی سرحدی قبائل ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔ کئی مقامات پر باڑ کاٹے جانے کے باعث کشیدگی اس حد تک بڑھی کہ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک کھلی سرحدی جنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی، جس میں پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور اسے ‘آپریشن غضب الحق’ کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں افغان فورسز کی جانب سے بھی شدید شیلنگ کی گئی.
بنوں امن مارچ، پولیس احتجاج اور عوامی ردعمل
بدامنی کی اس خوفناک تصویر کے خلاف اب مقامی سطح پر غیر معمولی عوامی ردعمل اور ریاستی پالیسیوں پر بے اعتمادی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔
جولائی 2024 (بنوں امن مارچ): بنوں کے شہریوں اور تاجروں نے کسی بھی پارٹی کے جھنڈے کے بغیر صرف سفید امن جھنڈے اٹھا کر تاریخی بنوں امن مارچ منعقد کیا تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور بیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
ستمبر 2024 (لکی مروت پولیس دھرنا): لکی مروت میں تایا چوک پر پولیس اہلکاروں نے اپنی چوکیاں اور ڈیوٹیاں چھوڑ کر پاکستان کی تاریخ کا انوکھا احتجاج شروع کیا اور کراچی-پشاور انڈس ہائی وے کو بلاک کر کے فوج کے انخلا اور پولیس کو مکمل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا، جس پر مروت قومی جرگہ کی ثالثی میں یہ معاہدہ طے پایا کہ تمام عسکری آپریشنز کی قیادت مقامی پولیس کے ہاتھ میں ہوگی۔
مئی 2026 (بنوں خودکش حملہ): بنوں کی فتح خیل چیک پوسٹ پر ہونے والے ہولناک خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پولیس فورس اور مقامی تاجروں کا غم و غصہ عروج پر پہنچ گیا۔
ماضی میں عسکریت پسندی کے خلاف قبائلی سطح پر تشکیل دیے گئے رضاکارانہ دفاعی نظام جیسے شمالی وزیرستان کے عیدک قبائل کا امن لشکر اپنی مثال آپ تھا۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے ان لشکروں کے عمائدین کی پے در پے ٹارگٹ کلنگ نے اس روایتی اور مقامی دفاعی نظام کو بھی تقریباً ختم کر دیا ہے۔
نوائے پاس معاہدہ: گراس روٹ لیول پر امن کی امید
ان تمام منفی اور خونریز حالات کے درمیان سرحد کے دونوں اطراف آباد عام قبائلی عوام نے امن قائم کرنے کے لیے تاریخ ساز کوششیں شروع کی ہیں۔ مئی 2026 کے آغاز میں پاکستان کے اضلاع باجوڑ اور مہمند کے قبائلی رہنماؤں اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے عمائدین کے مابین نوا پاس بارڈر کے مقام پر ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔
باجوڑ چیمبر آف کامرس کے صدر لال شاہ پختون یار اور افغان وفد کے سربراہ ظاہر گل کی مشترکہ قیادت میں طے پانے والے اس پانچ نکاتی امن معاہدے کے تحت دونوں اطراف کی سیکیورٹی فورسز اور مسلح قبائل ایک دوسرے پر فائرنگ سے مکمل گریز کریں گے اور کسی بھی سرحدی تنازعے کو جنگ کے بجائے باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔
اس معاہدے کے تحت بند تجارتی راستے کھولنے اور ہر تین ماہ بعد پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو کہ چترال اور افغانستان کے صوبہ نورستان کے مابین وسطِ اپریل 2026 میں ہونے والے سڑکوں کی بحالی کے کامیاب معاہدے کے بعد ایک بڑی مقامی کامیابی ہے۔ یہ مقامی معاہدات ثابت کرتے ہیں کہ گراس روٹ لیول پر عوام جنگ اور سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکے ہیں۔
نتیجہ اور آخری انتباہ
حال ہی میں چارسدہ کے ممتاز عالمِ دین اور شیخ الحدیث شیخ ادریس کی شہادت نے نہ صرف پورے خطے کو سوگوار کیا ہے، بلکہ یہ اس سنگین خطرے کی گھنٹی بھی ہے کہ ہمارا ملک ایک نئے اور پیچیدہ سیکیورٹی بحران کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی سیاسی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف کوئی مربوط، ٹھوس اور فیصلہ کن حکمتِ عملی نہ اپنائی، تو ریاست کا یہ حصہ ایک ایسی ہولناک دلدل میں دھنس جائے گا، جہاں سے نکلنا آنے والی نسلوں کے لیے ایک ناممکن خواب بن کر رہ جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی ادارے اپنی اناؤں کو پسِ پشت ڈال کر مقامی لوگوں کے ان مصالحتی اقدامات کو تسلیم کریں، مقامی پولیس کو بااختیار بنائیں اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک منظم، قومی اور جامع سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو امن اور اقتصادی استحکام کا وہ حق مل سکے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں۔ تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں، ورنہ اس غفلت کا خمیازہ صرف خیبر پختونخوا ہی نہیں، بلکہ پورا پاکستان بھگتے گا۔




