تحریر : ناصر داوڑ
پاکستان کے سکیورٹی منظر نامے میں داعش خراسان (ISKP) کا معاملہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سکیورٹی اداروں اور پالیسی سازوں نے اس تنظیم کی جڑیں کاٹنے کیلئے جو کوششیں کی ہیں، ان کے باوجود اس گروہ کا ‘بکھرا ہوا نیٹ ورک وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا ہے۔
تنظیم کی عسکری حکمت عملی میں گزشتہ کچھ عرصے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ داعش خراسان نے اب بڑے پیمانے پر ہونے والے اسپیکٹیکولر حملوں کے بجائے ٹارگٹڈ کارروائیوں اور علامتی حملوں کو ترجیح دینا شروع کی ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بڑی کارروائیوں کیلئے زیادہ وسائل اور منظم نیٹ ورک درکار ہوتا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ، مذہبی شخصیات یا سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا نسبتاً کم لاگت اور کم افرادی قوت سے ممکن ہے۔ اس طرزِ عمل کا مقصد محض تباہی نہیں، بلکہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ تنظیم ابھی بھی فعال اور موجود ہے۔
اس بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل بھی انتہائی فعال رہا ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے ذریعے متعدد خفیہ نیٹ ورکس کا سراغ لگانا اور انہیں ناکارہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، یہاں سب سے بڑا چیلنج تنظیم کے لوکل سیلز اور انفرادی عناصر کا ہے، جن کا سراغ لگانا روایتی انٹیلی جنس کیلئے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ داعش خراسان کا اصل خطرہ محض عسکری نہیں، بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ اگرچہ اس تنظیم کی مرکزی عسکری طاقت کو کافی حد تک کمزور کیا جا چکا ہے، لیکن اس کا بکھرا ہوا ڈھانچہ اور آن لائن نظریاتی پروپیگنڈا اب بھی نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر افغانستان اور پاکستان کے مابین سرحدی حرکیات، سیاسی عدم استحکام اور سماجی بے چینی جیسے عوامل اس گروہ کیلئے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے نظرئے کو فروغ دے سکتے ہیں۔
حتمی تجزئے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش خراسان کا خطرہ ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں اسے مکمل ختم شدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تنظیم کی بدلتی حکمت عملی، خفیہ نیٹ ورکس کی موجودگی، اور علامتی کارروائیوں کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ مسلسل نگرانی کا متقاضی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری کیلئے اب محض عسکری طاقت کافی نہیں، بلکہ انٹیلی جنس میں جدت، سرحد پار سخت نگرانی، اور سماجی سطح پر انتہا پسندانہ بیانیے کا توڑ کرنا ناگزیر ہے۔ یہ سیریز اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اگرچہ داعش خراسان کی کمر ٹوٹ چکی ہے، لیکن اس کے باقی ماندہ عناصر کو نظر انداز کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور ایک مستقل بیداری ہی اس خطرے سے نمٹنے کا واحد حل ہے۔
دی خیبر ٹائمز اسپیشل انویسٹی گیشن (Complete Series)
:اختتامی نوٹ
یہ رپورٹ چار حصوں پر مشتمل ایک خصوصی تحقیقی سیریز تھی جس کا مقصد داعش خراسان کی بدلتی ہوئی حکمت عملی، اس کی علاقائی موجودگی اور سکیورٹی اثرات کو ایک جامع تناظر میں پیش کرنا تھا۔
مضمون کے پچھلے تین اقساط درجہ ذیل لنکس پر کلک کرکے ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
پہلا قسط دیکھنے کے بعد دوسرے قسط یہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں
لنک: افغانستان میں داعش خراسان طالبان حکومت کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج؟ قسط دوم
دوسرا قسط دیکھنے کے بعد تیسرا قسط: درجہ ذیل لنک پر کلک کرکے ملاحظہ کرسکتے ہیں
لنک: : پاکستان میں داعش خراسان ، نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال: قسط سوم
____________________________________________
Executive Summary (Exclusive)
This fourth and final installment of The Khyber Times Special Investigation examines reported attacks and targeted killings attributed to the Islamic State Khorasan Province (ISKP) in Pakistan, along with the broader implications for future security trends in the region.
The report outlines how ISKP-linked incidents in Pakistan, though reduced in frequency compared to previous years, continue to raise concerns among security analysts. These incidents include attacks on security personnel, religious figures, and public gatherings, reflecting a pattern of both symbolic and operational targeting. While official sources have attributed several counterterrorism successes to intelligence-based operations, the persistence of sporadic incidents indicates that remnants of the network may still be active in fragmented forms.
The analysis also highlights the evolving nature of ISKP’s operational strategy, which appears to have shifted from large-scale coordinated attacks to smaller, decentralized, and high-impact actions. This shift has made detection and prevention more challenging for security institutions.
Overall, the report suggests that although ISKP’s operational strength in Pakistan has been significantly weakened, the group’s ideological influence and residual networks continue to pose a limited but persistent security risk.
This report concludes The Khyber Times four-part investigative series on ISKP and its evolving threat across Pakistan and Afghanistan.




