سینئر رہنماؤں کو نظر انداز کرنے پر شکوے، وزیرستان اور بنوں کو نمائندگی نہ ملنے پر تحفظات
پشاور (دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل ڈیسک) خیبرپختونخوا کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور ناراضگیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے کابینہ سازی کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف مشاورت کا فقدان رہا بلکہ کئی تجربہ کار اور نظریاتی رہنماؤں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور صوبائی حکومت کو درپیش سیاسی و انتظامی چیلنجز کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ پارٹی کے اندر ہی مختلف گروپس کابینہ میں شمولیت کے فیصلوں پر نالاں نظر آرہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شاہ فرمان، نیک محمد اور دیگر سینئر رہنماؤں کو مشاورت سے دور رکھنے کے اثرات مستقبل میں حکومتی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے سابق گورنر اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ فرمان نے کابینہ میں شامل ہونے والے نئے اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی کی انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی کمیٹی کے رکن ہونے کے باوجود کابینہ سازی سے متعلق کسی قسم کی مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔
شاہ فرمان نے کہا ہے کہ میں نئے کابینہ اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابینہ سے متعلق نہ کسی نے مجھ سے مشورہ کیا اور نہ ہی میں نے کسی کے نام کی تجویز دی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر نیک محمد نے بھی کابینہ کی توسیع پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نئے افراد کو میرٹ کے برعکس شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کے قریبی حلقوں نے فیصلے اپنی مرضی سے کئے جبکہ پارٹی کے پرانے اور متحرک کارکنوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ نیک محمد کے مطابق وزیراعلیٰ کے مشیر سہیل آفریدی پارٹی رہنماؤں کی بات سننے کیلئے بھی تیار نہیں۔
انہوں نے کہا، کہ سہیل آفریدی ہمارا فون تک اٹھانے کو تیار نہیں، ہم وزارت مانگنے کے لیے تو کال نہیں کرتے۔
نیک محمد نے مزید کہا کہ کابینہ میں بعض ایم این ایز کے بھائیوں، منظور نظر اور نا اہل افرادکو شامل کیا گیا، جبکہ جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور ضلع بنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا، جو ان علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا، کہ کابینہ میں وزیرستان اور بنوں کی کوئی نمائندگی نہیں، جس سے وہاں کے عوام میں شدید مایوسی پائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے حالیہ کابینہ توسیع میں 6 نئے وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل کئے ہیں۔ نئے کابینہ اراکین سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر ہاؤس پشاور میں حلف لیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کابینہ میں توسیع کا مقصد حکومتی امور کو مضبوط بنانا اور پارٹی کے مختلف دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنا تھا، تاہم حالیہ بیانات نے واضح کردیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض گروپس اب بھی خود کو نظر انداز شدہ محسوس کررہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں صوبائی حکومت کیلئے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔




