Conceptual illustration representing the reported proposal to divide Pakistan into 33 administrative provinces.

پاور راہداریوں کا سنسنی خیز ڈرافٹ: کیا پاکستان 4 صوبوں سے 33 اکائیوں میں بدلنے جا رہا ہے؟

دی خیبرٹائمز اسپیشل رپورٹ:

اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں اور پاور راہداریوں میں اس وقت ایک ایسا سنسنی خیز اور خفیہ پلان زیرِ بحث ہے، جو اگر عملی شکل اختیار کر لے تو پاکستان کا سیاسی، آئینی اور جغرافیائی نقشہ ہمیشہ کیلئے بدل کر رکھ دے گا۔
اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں نئے انتظامی صوبوں کی ضرورت پر ایک غیر متوقع اور چونکا دینے والا بیان دیا۔ بظاہر ایک عام سیاسی گفتگو معلوم ہونے والا یہ بیان دراصل اس بڑی اور مفصل پریزنٹیشن کا حصہ تھا، جو مقتدر حلقوں اور ملک کے طاقتور ترین مراکز کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان کو چار رواں صوبوں کے بجائے 33 فیڈریٹنگ یونٹس (32 نئے صوبے اور 1 وفاقی دارالحکومت) میں تقسیم کرنے کا ایک مکمل خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔
تختِ پشاور سے تختِ لاہور تک: نقشے پر نیا پاکستان
اس ماسٹر پلان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ صوبوں کی یہ تقسیم لسانی یا قومپرستی کے بجائے محض انتظامی بنیادوں پر کی جائے گی۔
پلان کے مطابق خیبر[ختونخوا کو سات نئے انتظامی صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے، جن میں پشاور، ملاکنڈ، ہزارہ، مردان، کوہاٹ، ڈی آئی خان اور بنوں شامل ہیں۔
تختِ لاہور کی روایتی اجارہ داری کو ختم کرتے ہوئے اسے 10 صوبوں میں بانٹا جائے گا، منصوبے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان، سرگودھا، ساہیوال اور گجرات کے فیڈریشن یونٹس شامل ہیں۔
اسی طرز پر سندھ کو بھی7 یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے ، جس میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپور خاص، بھور ، ٹھٹہ، بدین ،سجاول اور شہید بینظیر آباد صوبے شامل ہیں۔
بلوچستان کو رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کو 8 اکائیوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں کوئٹہ، قلات، نصیر آباد، مکران، سبی، رخشان، اور لورالائی شامل ہیں۔
حاصل کئے جانے والے سرکاری دستاویزات میں یہ منطق پیش کی گئی ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے دنیا کے 150 سے زائد ممالک سے بھی آبادی میں بڑے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف گورننس کا نظام مفلوج ہو چکا ہے بلکہ عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
منصوبے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ، تمام 32 نئے صوبوں میں الگ ہائی کورٹس قائم کی جائیں گی جن میں 137 ججز تعینات ہوں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، غیر ضروری سول و انتظامی عملے کی کٹوتی کر کے عدلیہ کا سالانہ بجٹ 56 ارب روپے سے گھٹا کر 24 ارب روپے پر لایا جائے گا۔
ملک بھر سے 40,363 غیر ضروری سرکاری اسامیاں ختم کی جائیں گی، جس سے قومی خزانے کو ہر سال 318 ارب روپے کی خطیر بچت ہوگی۔
ارکانِ اسمبلی (MPAs) کی تعداد وہی رہے گی لیکن وہ اپنے اپنے چھوٹے صوبوں کی اسمبلیوں میں بیٹھیں گے اور اسمبلی سیکرٹریٹ کا سائز 52 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔
اس درپردہ منصوبے کے سیاسی اثرات گہرے اور دور رس ہوں گے۔ پلان کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ 33 نئے صوبوں میں 33 وزرائے اعلیٰ بننے سے روایتی سیاسی خاندانوں کی بالادستی کا خاتمہ ہوگا اور مقامی سطح پر گراس روٹ لیول کی نئی سیاسی قیادت سامنے آئیگی۔
تاہم، سیاسی اور آئینی ماہرین کے نزدیک اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ 18ویں ترمیم اور آئینی طریقہ کار ہے۔ کسی بھی صوبے کی حدود کی تبدیلی کیلئے اس صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کا ووٹ درکار ہوتا ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادتیں بظاہر نئے صوبوں کی مخالفت کرتی ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے علاقائی رہنماؤں مثلاً ہزارہ سے نون لیگ کے سردار یوسف اور پی پی پی رہنماؤں کی جانب سے اس پیش رفت کو سراہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایوانوں کے پیچھے سیاسی جوڑ توڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
دی خیبر ٹائمز کے قارئین کیلئے یہ نقطہ فکر انگیز ہے کہ کیا چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام واقعی خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں اور پورے ملک کے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف اور سہولیات فراہم کر سکے گا؟ یا پھر یہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے مالیاتی و انتظامی اختیارات کو کمزور کر کے پاور دوبارہ اسلام آباد منتقل کرنے کی ایک کڑی ہے؟
آنے والے دن یہ ثابت کریں گے کہ پاور راہداریوں کا یہ خفیہ خاکہ کاغذوں تک محدود رہتا ہے یا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوتا ہے۔

EXCLUSIVE: Inside the Blueprint to Carve Pakistan into 33 Administrative Units

ISLAMABAD / PESHAWAR : A comprehensive, high-level presentation prepared within influential decision-making circles outlines a massive proposed overhaul of Pakistan’s governance structure. The blueprint proposes restructuring the nation’s existing four provinces into 33 federating units (32 new administrative provinces and 1 Federal Capital unit for Islamabad).

Key Highlights of the Proposed Restructuring Plan

1. Provincial Breakdown (33 Units)

  • Punjab (10 Provinces): Division of the province into 10 smaller administrative units, including Lahore, Faisalabad, Multan, Bahawalpur, D.G. Khan, Gujranwala, Rawalpindi, Sargodha, Sahiwal, and Gujarat.

  • Khyber Pakhtunkhwa (7 Provinces): Reorganization into 7 units comprising Peshawar, Malakand, Hazara, Mardan, Kohat, D.I. Khan, and Bannu.

  • Sindh (7 Provinces): Restructuring into 7 units including Karachi, Hyderabad, Larkana, Sukkur, Mirpur Khas, Bhor (Thatta/Badin/Sujawal), and Shaheed Benazirabad.

  • Balochistan (8 Provinces): Creation of 8 administrative units including Quetta, Kalat, Nasirabad, Makran, Sibi, Rakhshan, and Loralai.

  • Islamabad (1 Unit): Retained as the Federal Capital area.

2. Judicial Reforms & Fiscal Efficiency

  • 32 High Courts: Establishment of individual High Courts across all 32 new provinces, with a total sanctioned strength of 137 High Court Judges nationwide.

  • Slashing Overhead Costs: Despite increasing the number of High Courts, the plan projects reducing judicial administrative expenditure from PKR 56.11 billion to PKR 24.32 billion annually by downsizing redundant civil and administrative support roles.

  • Administrative Downsizing: Abolition of 40,363 surplus administrative posts across civilian bureaucracies, generating an estimated annual saving of PKR 318 billion.

  • Assembly Operations: Seats for Members of Provincial Assemblies (MPAs) will remain linked to existing population demographics but distributed across localized assemblies. Secretariat operational footprints are projected to be cut by 52%.

3. Rationale & Governance Goals

  • Demographic Realities: The working document highlights that Pakistan’s four current provinces are individually larger in population than over 150 countries worldwide, severely straining administrative delivery.

  • Socio-Economic Indicators: The proposal aims to tackle grassroots challenges—such as 25 million out-of-school children and high child malnutrition rates—by bringing governance and budget allocations closer to district levels.

  • Political Decentralization: Breaking provincial monopolies is intended to foster new regional political leadership while keeping administrative divisions strictly non-ethnic and non-linguistic.

Political & Constitutional Roadblocks

Implementing such a framework requires major constitutional amendments, including a two-thirds majority in Parliament and approvals from provincial assemblies. While major party leaderships historically guard provincial autonomy under the 18th Amendment, regional politicians across various party lines have increasingly voiced openness to administrative decentralization.