Afghan refugees hold protest signs outside the UNHCR office in Peshawar, urging protection and third-country resettlement.

طالبان کا خوف اور عالمی ادارے کی بے حسی: بے وطن افغانوں کا آخری احتجاج

دی خیبر ٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: کاشف عزیز
پشاور کی جھلساتی ہوئی تپتی دھوپ میں، جب سڑکوں سے دُھواں اٹھ رہا تھا اور آسمان سے آگ برس رہی تھی، پسینے میں شرابوربافغان مہاجر خاتون صفیہ اپنے پامال شدہ انسانی حقوق کی آخری جنگ لڑتے لڑتے یونیورسٹی ٹاؤن میں قائم یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے سنگدل دربار تک پہنچ گئی۔ اس کی آنکھوں میں امید کی کوئی رمق باقی نہیں تھی، بلکہ پانچ سالہ تک مسلسل یہاں تذلیل، گھٹن اور بے کسی کا مٹتا ہوا عکس تھا۔ اس بے رحم سڑک پر اس کے ساتھ بیسیوں بے بس افغان خواتین اور مرد کھڑے تھے، جن کے کانپتے ہاتھوں میں تھامے پلے کارڈز پر صرف تحریریں نہیں، بلکہ ایک سسکتی اور بلکتی ہوئی انسانیت کا ماتم لکھا تھا، (ہم بھی انسان ہیں، ہمیں بھی انسانوں کی طرح جینے دیا۔ جائے)
صفیہ اور اس جیسی بے شمار ماؤں کے دلوں میں جو کرب ہے، اس کی گونج افغان سرحد کے پار تک پھیلی ہوئی ہے۔ افغانستان میں اب خواتین اور بچوں کا کوئی مستقبل باقی نہیں بچا۔ وہاں کی تاریک سرحدوں کے اندر خواتین پر روزگار اور معاشی خودکفالت کے تمام دروازے سنگینوں کے زور پر بند کر دئے گئے ہیں۔ معصوم بچیوں کیلئے سکولوں اور یونیورسٹیوں کی چابیاں چھین کر انہیں ان کے ہی گھروں کی چار دیواری میں قید کر دیا گیا ہے، ایک ایسی قید تنہائی جہاں ان کی صلاحیتیں، خواب اور خواہشات روز سسک سسک کر دم توڑتی ہیں۔ ایک ایسا تباہ حال اور مفلوج ملک، جہاں کسی بے سہارا عورت کو محنت مشقت اور کام کاج کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ اپنے بلکتے ہوئے بچوں کے پیٹ کی آگ کہاں سے بجھائے؟ معاشی بدحالی اور فاقہ کشی نے افغانستان کو اس حد تک نگل لیا ہے کہ وہاں کے افلاط زدہ اور مجبور لوگوں نے بھوک کا مقابلہ کرتے کرتے اپنے گھروں کے قالین، بستر، زیورات اور آخری برتن تک بیچ ڈالے ہیں، اور اب ان کے پاس بیچنے کیلئے صرف اپنی سانسیں بچی ہیں۔
اسی احتجاجی بھیڑ میں صحت کے شعبے سے وابستہ ہادی بھی موجود تھا، جس کی آنکھوں میں اپنے ہنر کا غرور نہیں بلکہ عالمی نظام کے جبر کی مایوسی تھی۔ مظاہرین کا ایک ہی دلدوز اور گونجتا ہوا سوال تھا کہ اگر افغانستان میں ان کا جانا سیدھا طالبان کے ہاتھوں اجل کے منہ میں چھلانگ لگانے کے مترادف ہے، اور اگر پاکستان میں قانونی دستاویزات کے بغیر ان کا رہنا ممکن نہیں، تو آخر وہ جائیں کہاں؟ اگر حکومتِ پاکستان یا UNHCR انہیں یہاں تحفظ اور روزگار کا حق نہیں دے سکتے، تو کم از کم انہیں کسی ایسے تیسرے ملک منتقل کر دیا جائے جہاں ان کے بچوں کو سکول، بیماروں کو ہسپتال اور ان کو جینے کا بنیادی انسانی حق مل سکے۔ اب اگر انہیں زبردستی اسی جہنم میں واپس دھکیل دیا گیا جہاں ان کی اور ان کی بچیوں کی موت یقینی ہے، تو اس ممکنہ قتلِ عام اور بہتے ہوئے خون کا ذمہ دار آخر کون ہوگا؟
دنیا بھر کے بے گھر اور مظلوم انسانوں کی پناہ گاہ کہلانے والا ادارہ یو این ایچ سی آر ان کی زندگیوں میں امید کی کرن روشن کرنے کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے، مگر افسوسناک سچائی یہ ہے کہ طالبان کے سخت گیر اور بے حس روئے کی طرح اس عالمی ادارے نے بھی اب اپنے دل اور درجات بند کر لئے ہیں۔ جن کے در سے رحم اور انصاف کی امید تھی، وہی آج ان بے بسوں کے منہ پر اپنے دروازے بند کر کے کہتے ہیں کہ “ہم تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔” سسکتی ہوئی انسانیت کے اس دور میں، پناہ گزینوں کے ساتھ عالمی اداروں کی یہ بے حسی طالبان کے ظلم سے کسی طور کم نہیں ہے۔

This summary captures the core narrative, human rights crisis, and demands outlined in the report on Afghan refugees protesting in Peshawar.

Headline: The Fear of Taliban and Institutional Apathy: The Last Cry of Stateless Afghans

Protest Setting & Human Toll

  • The Demonstration: Around 50 Afghan refugees (approximately 30 women and 20 men) gathered in the scorching heat outside the UNHCR office in University Town, Peshawar, holding placards pleading for basic human rights and dignity.
  • Safia’s Story: Drenched in sweat after five years of living in systemic limbo, Safia highlighted the agonizing wait. Having fled Afghanistan half a decade ago, her family spent years unable to work, access healthcare, or send their children to school—only to be bluntly told by UNHCR that the agency could no longer help them.

Systemic Oppression & Crisis in Afghanistan

  • Erasure of Women: Returning to Taliban-ruled Afghanistan poses a direct threat to life. Women face a total ban on work and employment, young girls are locked out of schools and universities, and female citizens are effectively confined to their homes without a livelihood.
  • Economic Collapse: Destitution across Afghanistan has reached a point where desperate families have sold off basic household items—carpets, bedding, and utensils—merely to buy food and stave off starvation.

Refugee Demands & Global Responsibility

  • Interim Legal Status: Hadi, a healthcare professional among the protestors, noted that recent Pakistani government mandates require formal legal documentation. The refugees demand temporary legal identification enabling them to work legally, seek medical care, and enroll their children in school while their refugee cases are processed.
  • Third-Country Resettlement: If neither Pakistan nor UNHCR can grant basic living rights and security, demonstrators urge immediate resettlement to a safe third country.
  • Accountability: The report severely criticizes UNHCR, stating that its bureaucratic abandonment mirrors the harshness of the regime the refugees fled, warning that forced returns to Afghanistan equate to a death sentence.