پشاور (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان کی جانب سے افغانستان کی حدود میں “آپریشن غضب للحق” کے تحت کی جانے والی فضائی کارروائی، جس میں 22 خوارجی دہشتگرد ہلاک ہوئے، محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سلگتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور سکیورٹی بحران کا ایک ناگزیر شاخسانہ ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے ایک بار پھر اس دیرینہ اور گمبھیر مسئلے کو مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے کہ افغان سرزمین کا دہشتگردی کیلئے استعمال خطے کے امن کیلئے کتنا بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری بھی افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ (UN)، روس، چین اور تاجکستان سمیت کئی ممالک کی رپورٹس میں اس بات کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر مختلف کالعدم اور غیر ملکی عسکریت پسند تنظیمیں مضبوط پناہ گاہیں چلا رہی ہیں۔ ان عالمی رپورٹس کے مطابق، ان گروہوں کی موجودگی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے۔
پاکستان کا یہ دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود پاکستان مخالف تنظیمیں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں رکھتی ہیں بلکہ انہیں جدید ترین عسکری سازوسامان اور ہتھیار بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ یہ وہی جدید ہتھیار ہیں جو ماضی میں خطے میں چھوڑے گئے تھے اور اب پاکستان کے اندر سکیورٹی فورسز، پولیس اور معصوم عام شہریوں کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں کھلم کھلا استعمال ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بارہا عبوری افغان حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے بیان کے مطابق، تازہ ترین فضائی حملے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھے جن کا مقصد سرحد پار موجود دہشتگردوں کے ڈھانچے کو تہس نہس کرنا تھا۔ افغانستان کا بدستور دہشتگردی کا مرکز بنے رہنا اسلام آباد کیلئے ناقابلِ قبول حد تک تشویشناک بن چکا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ملکی سرحدوں کا دفاع اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کیلئے سرحد پار موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
پاک افغان تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔ ایک طرف جہاں معاشی تعلقات، تجارت اور سرحدی آمدورفت دونوں ممالک کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی سفارتی تعلقات کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ اگر افغان حکام نے اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کیلئے استعمال ہونے سے نہ روکا، تو اس طرح کے سکیورٹی اقدامات دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریقین دہشتگردی کے ناسور کے خلاف غیر مشروط اور مخلصانہ تعاون کی راہ اپنائیں۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
پاک افغان تعلقات کا نازک موڑ: اسلام آباد کانفرنس، نورستان کے واقعات اور بڑھتا ہوا سفارتی ڈیڈلاک
Summary
- Escalating Pak-Afghan Tensions: Pakistan’s recent airstrikes under “Operation Ghazab-lil-Haq,” which neutralized 22 militants, highlight the deep security crisis and growing diplomatic friction between Pakistan and Afghanistan.
- Global and Regional Concerns: International bodies and regional powers including the United Nations, Russia, China, and Tajikistan have repeatedly confirmed the presence of foreign militant groups and anti-Pakistan networks operating safely within Afghan territory.
- Advanced Weapons and Security Threat: These militant factions possess advanced military weaponry (leftover in the region), which is being actively deployed against Pakistani security forces, police, and civilians.
• • State Priority: Emphasizing that Afghan soil remains a primary hub for cross-border terrorism, Pakistan’s Ministry of Information maintains that safeguarding citizens and national security is an uncompromisable priority.
About the Author
Nasir Dawar is a field journalist, researcher, and editor of The Khyber Times, with extensive experience covering militancy, conflict, and security developments in Khyber Pakhtunkhwa and the former FATA. He has closely followed the Afghan conflict and developments in Afghanistan, with a particular focus on militancy, cross border security, and Pakistan, Afghanistan relations.
Dawar has reported extensively from conflict affected areas and has developed a specialized research focus on militant movements, regional security dynamics, and Afghan affairs. He serves as the Editor of The Khyber Times.
Contact: dawarjan@gmail.com +92 3109020962




