Alt Text: Aerial view of a massive Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) protest rally crowd with a prominent red and green PTI flag in the foreground.

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: جنوبی اضلاع میں کمزور پذیرائی، حکمت عملی کی تبدیلی اور صوابی پاور شو کا چیلنج

:دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیوں نے ایک بار پھر ملکی سیاسی منظر نامے کو گرما دیا ہے۔ سہیل آفریدی کی قیادت میں جنوبی اضلاع سے اٹھنے والے اس احتجاجی سفر کو زمینی حقائق، توقعات کے برعکس عوامی رسپانس اور انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد پارٹی قیادت کو اپنی روایتی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں لانا پڑی ہیں۔

جنوبی اضلاع میں توقعات بمقابلہ زمینی حقائق
لکی مروت کے گنڈی چوک سے آغاز کے بعد جب یہ لانگ مارچ کرک اور کوہاٹ کے لاتی گراؤنڈ (ٹنٹ ولیج) تک پہنچا، تو وہاں کارکنان اور عوام کی تعداد توقعات سے انتہائی کم ریکارڈ کی گئی۔
ابتدائی روز چند ہزار افراد کی موجودگی کے بعد اگلے روز کرک اور کوہاٹ میں شرکاء کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی، جو کہ پارٹی کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس تھی۔
 ماضی میں بڑے اجتماعات یا مخصوص قومی دنوں (جیسے 14 اگست کے تناظر میں لاکھوں افراد کے بیانئے) کے برعکس جنوبی پٹی پر عوامی سطح پر وہ جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
سیاسی تجزیه‌کاروں کے مطابق، پی ٹی آئی کی روایتی قوت اور فیصلہ کن ووٹ بینک کبھی بھی جنوبی یا ہزارہ کے اضلاع نہیں رہے، بلکہ پارٹی کی اصل طاقت ہمیشہ پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی اور ملاکنڈ کے مرکزی اضلاع سے جڑی رہی ہے۔ جنوبی اضلاع سے آغاز کو ایک سیاسی رسک کے طور پر دیکھا گیا جو توقع کے مطابق کلک نہیں ہو سکا۔

تاریخوں کی بار بار تبدیلی اور نیٹ پریکٹس کا بیانیہ
لانگ مارچ کی تاریخوں میں مسلسل ردو بدل نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ پہلے 27 ستمبر، پھر 4 اکتوبر اور اب 8 اکتوبر کو صوابی میں مرکزی دنگل سجانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جنوبی اضلاع کے اس کمزور سفر کو اب پارٹی حامیوں کی طرف سے بطور نیٹ پریکٹس یا ٹیسٹ میچ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کمزور ٹرن آؤٹ کے تاثر کو کم کیا جا سکے۔
 پہلی بار فرنٹ لائن پر آ کر اس تحریک کی قیادت کرنے والے سہیل آفریدی کے سامنے حکمت عملی کے بڑے امتحانات ہیں، بالخصوص جب کارکنان طویل انتظار کے بعد دو دن کی سرگرمیوں کے بعد تھکن کا شکار دکھائی دئے۔

کے پی اسمبلی سیکیورٹی کمیٹی اور انتظامی امور
لانگ مارچ کی مجموعی سرگرمیوں کے دوران خیبر پختونخوا اسمبلی کی سیکیورٹی کمیٹی کے فیصلے اور انتظامی امور بھی مرکزِ نگاہ رہے ہیں۔ مارچ کے دوران حکومتی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ رسہ کشی، راستوں کی بندش اور جلسہ گاہوں کے انتظامات نے قافلے کی رفتار کو متاثر کیا۔
اس تمام صورتحال میں صوبائی اسمبلی اور پارٹی قیادت کے درمیان رابطہ کاری اور سیکیورٹی کمیٹی کے امور نے احتجاج کی نوعیت کو ایک نیا موڑ دیا ہے، جہاں کارکنان کو قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اب تمام تر سیاسی نظریں 8 اکتوبر کو صوابی میں ہونے والے پاور شو پر مرکوز ہیں۔ اگر پی ٹی آئی اپنے روایتی گڑھ یعنی مرکزی اور ملاکنڈ کے اضلاع سے بڑی تعداد میں عوام اور کارکنان کو صوابی میں جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ لانگ مارچ اپنا کھویا ہوا سیاسی مومینٹم بحال کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، جنوبی اضلاع کا یہ سست اور کمزور آغاز پارٹی کی حکمت عملی پر سوالیہ نشان بنا رہے گا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کی پشاور میں پریس کانفرنس: گورنر راج کی دھمکیوں پر سخت ردعمل اور 4 اکتوبر کے احتجاج کا اعلان

Summary:

PTI Long March: Low Turnout in Southern Districts, Strategy Shift, and the Swabi Power Show Challenge
Unexpectedly Low Turnout: The protest long march led by Sohail Afridi starting from Gandi Chowk in Lakki Marwat and passing through Karak and Kohat faced a remarkably low public response, with attendance dropping to fewer than 1,000 participants on the second day.
Strategic Shift and Rescheduling: Faced with a weak turnout in the southern belt, the party repeatedly shifted its timeline (moving from September 27 to October 4, and finally to October 8). Leadership has reframed the southern leg as “net practice” or a “test match” leading up to the main event.
Regional Political Dynamics: Political analysts point out that PTI’s traditional stronghold and decisive voter base lie in the central districts (Peshawar, Mardan, Charsadda, Nowshera, Swabi) and Malakand, rather than the southern or Hazara regions, making the southern launch a calculated political risk that failed to gain traction.
The Crucial Swabi Power Show: All political focus is now directed toward October 8 in Swabi, which will serve as the ultimate test of whether PTI can mobilize its core regional strength and revive the momentum of the movement.