A composite photojournalistic news graphic illustrating armed conflict in Nuristan province, Afghanistan. The left side shows Afghan Taliban fighters engaged in a firefight from a mud-brick outpost, with an explosion and visible tracer fire. Taliban fighters are also positioned across the rugged, mountainous terrain. Two signposts, marked 'Chitral' in Urdu, connect the scene to the border region. The lower third of the image features a headline and text in both Urdu and English that reads: 'Nuristan: Fierce clashes between Taliban and opposition; Pakistan rejects Taliban allegations'. A byline for 'Nasir Dawar, The Khyber Times - In-Depth Analysis' is included in the bottom right corner.

نورستان اور کنڑ میں جھڑپیں: طالبان مخالف کارروائیاں اور پاکستان پر الزامات

پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے صوبہ نورستان اور کنڑ میں افغان طالبان اور ان کے مخالف مسلح عناصر کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے درمیان لڑائی ہوئی، جبکہ طالبان مخالف ذرائع نے کنڑ کے ضلع نری میں بھی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ان کارروائیوں کے حوالے سے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آور چترال کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے اور انہیں پاکستان کی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل تھی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد ، من گھڑت، غیر سنجیدہ اور گمراہ کن فعل قرار دیا ہے۔
نورستان اور کنڑ میں ہونے والی ایسی محدود نوعیت کی کارروائیاں فی الحال افغان طالبان کی حکومت کیلئے کوئی بڑا وجودی خطرہ دکھائی نہیں ہے۔ طالبان نے افغانستان کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور مسلح مخالف گروہوں کی کارروائیاں اب تک ان کی حکمرانی کو بڑے پیمانے پر چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں پہنچ سکیں۔
تاہم ایسے واقعات طالبان کیلئے دو حوالوں سے اہم ہیں۔ ایک طرف انہیں ملک کے بعض دور دراز علاقوں میں سیکیورٹی اور مسلح مزاحمت کے مسئلے کا سامنا ہے اور دوسری طرف وہ ہر ایسی کارروائی کو بیرونی مداخلت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان پر الزام اسی وسیع تر بیانئے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، تاہم کسی بھی الزام کو حتمی حقیقت تصور کرنے کیلئے قابل اعتماد آزاد شواہد ضروری ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان پہلے ہی سرحدی سلامتی، تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی افغانستان میں موجودگی، سرحدی جھڑپوں اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے باعث تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایسے ماحول میں افغانستان کے اندر ہونے والی کسی بھی مسلح کارروائی کو پاکستان سے جوڑنے کا الزام دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو مزید متاثر کرسکتا ہے۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئے، جبکہ افغان طالبان پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین میں مسلح گروہوں کی موجودگی سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
اس لئے نورستان اور کنڑ کے واقعات کو محض مقامی سیکیورٹی واقعہ سمجھنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان جاری وسیع تر سلامتی کے تنازع کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی بھی عالمی سطح پر تشویش کا موضوع رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ رپورٹس میں افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔ روس سمیت بعض ممالک نے بھی افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کو علاقائی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔
تاہم کسی مخصوص واقعے، گروہ یا کارروائی کے بارے میں یہ طے کرنا کہ اسے کس ملک یا ادارے کی حمایت حاصل تھی، الگ نوعیت کا دعویٰ ہے جس کیلئے مخصوص اور قابل تصدیق شواہد درکار ہوتے ہیں۔
نورستان اور کنڑ کی حالیہ جھڑپیں شاید طالبان حکومت کیلئے فوری طور پر کوئی بڑا خطرہ نہ ہوں، لیکن یہ واقعہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کے شدید فقدان کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
اگر کابل ہر طالبان مخالف کارروائی کو پاکستان سے جوڑتا ہے اور اسلام آباد ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے تو دونوں جانب سے الزام تراشی کا یہ سلسلہ مذاکرات اور عملی تعاون کے امکانات کو محدود کرسکتا ہے۔
خطے کے موجودہ حالات میں دونوں ممالک کیلئے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بجائے قابل تصدیق شواہد، مؤثر سرحدی رابطہ کاری اور سیکیورٹی تعاون کے ذریعے تنازعات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔
نورستان اور کنڑ کے واقعات اسی بڑے سوال کی ایک نئی کڑی ہیں: کیا پاکستان اور افغان طالبان باہمی اعتماد کے بحران سے نکل کر سیکیورٹی کے مسائل پر عملی مکالمے کی طرف بڑھ سکتے ہیں یا سرحدی کشیدگی اور الزام تراشی کا سلسلہ مزید جاری رہے گا؟

News Summary: Clashes in Nuristan & Pakistan’s Rejection of Taliban Accusations

  • Clashes in Nuristan and Kunar: Fierce fighting broke out in the Kamdesh district of Afghanistan’s eastern Nuristan province between Afghan Taliban forces and opposition fighters from the National Resistance Front (NRF), with the opposition also claiming attacks in neighboring Kunar province.
  • Taliban’s Allegations against Pakistan: The Afghan Taliban’s defense ministry claimed that the anti-Taliban fighters entered from Chitral, Pakistan, alleging they received training and support from Pakistani intelligence services.
  • Pakistan’s Official Rejection: Pakistan’s Ministry of Information strongly rejected the Taliban’s claims, denouncing them as baseless, absurd, and fabricated, while pointing out that the Afghan side failed to provide any credible evidence.
  • Analyst’s Perspective: Journalist Tahir Khan noted that while these localized skirmishes do not pose an immediate existential threat to the Taliban regime, the expanding footprint of opposition activities will likely further strain already tense relations between Pakistan and the Afghan Taliban.
About Author: Nasir Dawar is a prominent journalist, field reporter, regional security researcher, and Chief Editor of The Khyber Times and Researcher.
Email: dawarjan@gmail.com