پشاور / اسلام آباد ( دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل رپورٹنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتجاجی لانگ مارچ لکی مروت سے آگے بڑھتے ہوئے کرک پہنچ گیا ہے۔ پارٹی کے کارکنوں کی قابل ذکر تعداد مارچ میں شریک ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں عوامی شرکت کا حجم وہ نہیں دکھائی دیا جو پی ٹی آئی کی جانب سے متوقع یا مطلوب تھا۔
مارچ کا اگلا راستہ کوہاٹ اور پھر پشاور کی جانب بتایا جا رہا ہے، جہاں سے موٹروے کے ذریعے اسلام آباد جانے کا منصوبہ ہے۔ لیکن جیسے جیسے قافلہ صوبائی دارالحکومت سے وفاقی دارالحکومت کی طرف بڑھے گا، سیاسی احتجاج کے ساتھ ساتھ انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز بھی بڑھنے کا امکان ہے۔
موجودہ صورتحال محض ایک سیاسی احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
دفعہ 144 اور احتجاج کا قانونی دائرہ
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے جاری کئے گئے آڈیو بیان کے مطابق احتجاجی قافلے کو بعض مقامات پر پولیس کی جانب سے روکا گیا اور بتایا گیا کہ دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے باعث آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
گنڈاپور کے مطابق پارٹی قیادت کو بتایا گیا کہ دفعہ 144 تین روز کیلئے نافذ ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی قیادت کی ہدایت تھی کہ کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، پرامن رہیں اور پولیس یا انتظامیہ کے ساتھ تصادم سے گریز کریں۔
ان کے مطابق کئی گھنٹے انتظار کے باوجود صورتحال واضح نہ ہونے اور رات کے وقت سکیورٹی خدشات کے باعث کارکن واپس آگئے اور آئندہ لائحہ عمل کیلئے پارٹی قیادت کے احکامات کا انتظار کرنے لگے۔
یہ معاملہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ احتجاج کا آئینی حق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن حکومتیں امن و امان اور سکیورٹی کی بنیاد پر بعض انتظامی پابندیاں عائد کر سکتی ہیں۔ اصل سیاسی تنازع اس بات پر پیدا ہوتا ہے کہ ایسی پابندیاں احتجاج کے جائز حق کو محدود کرنے کیلئے استعمال ہو رہی ہیں یا واقعی موجودہ سکیورٹی صورتحال ان کا تقاضا کرتی ہے۔
وفاق کا مؤقف: احتجاج یا سکیورٹی چیلنج؟
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو محض سیاسی احتجاج کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے سکیورٹی کے وسیع تر تناظر سے جوڑ دیا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی سیاست کی آڑ میں سکیورٹی معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور موجودہ احتجاج کو انہوں نے روایتی سیاسی تحریک قرار دینے سے انکار کیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی نے احتجاج کیلئے ایک مشترکہ پیٹرن اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق ہمسایہ ملک سے پاکستان لایا جانے والا اسلحہ ملک میں بدامنی پھیلانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے دوران مزید گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔
یہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی مکمل اہمیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت ان دعوؤں کے حق میں کیا شواہد اور تحقیقات سامنے لاتی ہے۔ سیاسی کشمکش کے ماحول میں ایسے الزامات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے حکومتی مؤقف کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے شیخوپورہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام پی ٹی آئی کی سیاست کو سمجھ چکے ہیں اور موجودہ لانگ مارچ پارٹی کا آخری لانگ مارچ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات میں اپنی طرف سے آخری حد تک لچک کا مظاہرہ کیا، جبکہ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔
طارق فضل چوہدری نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اگر نافذ کی گئی تو اس کی وجہ لانگ مارچ نہیں بلکہ صوبے کی خراب سکیورٹی صورتحال ہوگی۔
محسن نقوی کا پشاور پہنچنا
موجودہ سیاسی کشیدہ صورتحال میں ایک اہم پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پشاور پہنچنا ہے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کئے اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے بھی ملاقات کی۔
وفاقی وزیر داخلہ کی ہنگامی نوعیت کی پشاور آمد اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد موجودہ صورتحال کو محض ایک معمول کے سیاسی احتجاج کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ وفاق کیلئے بنیادی سوال یہ ہے کہ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے پہلے صوبے میں امن و امان کس طرح برقرار رکھا جائے اور کسی ممکنہ تصادم کو کیسے روکا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا کا وفاق سے شکوہ
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے تاحال صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر کوئی رپورٹ طلب نہیں کی، تاہم اگر رپورٹ طلب کی گئی تو سفارشات کے ساتھ فوری طور پر پیش کر دی جائے گی۔
گورنر نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ مطلوبہ تعاون نہیں کر رہی۔
یہ بیان بھی صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت اپنے سیاسی مینڈیٹ اور احتجاج کے حق کو نمایاں کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف وفاق اور گورنر ہاؤس صوبے کی سکیورٹی صورتحال کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔
اصل تنازع لانگ مارچ سے آگے بڑھ چکا ہے
موجودہ صورتحال کا اہم پہلو یہ ہے کہ تنازع اب صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔ اصل معاملہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان اختیارات، سیاسی اعتماد اور سکیورٹی پالیسی پر اختلاف کا بھی ہے۔
خیبر پختونخوا ایک ایسے وقت میں سیاسی محاذ آرائی کا مرکز بن رہا ہے جب صوبہ پہلے ہی مسلسل سکیورٹی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں صوبائی حکومت کا سیاسی احتجاج اور وفاق کا سکیورٹی پر زور ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو متحرک رکھتے ہوئے احتجاج کو پرامن اور سیاسی دائرے میں برقرار رکھے۔ اگر مارچ کے دوران تصادم ہوتا ہے تو سیاسی فائدے کے بجائے حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے نقصانات پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اثر صوبے کے پہلے سے کشیدہ ماحول پر پڑ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کیلئے بھی صورتحال آسان نہیں۔ اگر انتظامی پابندیاں بہت سخت کی جاتی ہیں تو پی ٹی آئی اسے سیاسی آزادیوں پر قدغن قرار دے سکتی ہے، جبکہ کسی بڑے احتجاج کو بغیر انتظامی بندوبست کے اسلام آباد تک پہنچنے دینا حکومت کیلئے سکیورٹی اور سیاسی دونوں اعتبار سے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔
لکی مروت سے کرک تک پہنچنے والا یہ مارچ ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب قافلہ کوہاٹ، پشاور اور پھر وفاقی دارالحکومت کی سمت بڑھے گا۔
اگر پی ٹی آئی بڑی تعداد میں کارکنوں کو متحرک کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر شرکت محدود رہتی ہے اور انتظامیہ مارچ کو صوبے کی حدود میں ہی منظم انداز سے کنٹرول کر لیتی ہے تو پی ٹی آئی کیلئے یہ احتجاج مطلوبہ سیاسی اثر پیدا کرنے میں ناکام بھی ہو سکتا ہے۔
اس وقت سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں سیاسی اختلاف کو سکیورٹی بحران میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہیں؟
کیونکہ خیبر پختونخوا میں جاری دہشتگردی، وفاق اور صوبے کے درمیان عدم اعتماد اور پی ٹی آئی کی جارحانہ احتجاجی سیاست ایک دوسرے سے الگ مسائل نہیں رہے۔ آنے والے دنوں میں ان تینوں عوامل کا باہمی امتزاج پاکستان کی داخلی سیاست، بالخصوص وفاق اور خیبر پختونخوا کے تعلقات، کیلئے اہم آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا اہم بیان اور 4 اکتوبر کا احتجاجی لائحہ عمل
Summary
The Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) protest march, led by Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi, has reached Karak after starting from Lakki Marwat. The march is expected to move towards Kohat and Peshawar before heading to Islamabad via the motorway. Although a significant number of PTI workers are participating, the public turnout so far appears lower than the party may have expected.
The march has intensified an already strained political and administrative relationship between the federal government and the Khyber Pakhtunkhwa government. PTI leaders say workers have been instructed to remain peaceful and avoid confrontation, while former chief minister Ali Amin Gandapur said Section 144 had been imposed and that workers were temporarily held back after waiting for further instructions.
Federal ministers have accused PTI of ignoring security concerns and linked the protest to broader security issues in the province. Meanwhile, Interior Minister Mohsin Naqvi has arrived in Peshawar for high-level meetings, while Governor Khyber Pakhtunkhwa Faisal Karim Kundi has described the province’s security situation as unsatisfactory and accused the provincial government of failing to cooperate adequately with the federal authorities.
The situation has now moved beyond a conventional political protest. The next phase of the march through Kohat and Peshawar could test whether the federal and provincial governments can manage the political confrontation without allowing it to develop into a wider security or administrative crisis.




