A conceptual graphic representing the shrinking space for freedom of expression and constitutional rights in Pakistan."

حقوقِ شہریت کا بحران: کیا پاکستان میں اختلافِ رائے کی جگہ ختم ہو رہی ہے؟

تحریر: ادارتی ٹیم، دی خیبر ٹائمز پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں آئین کی بالادستی، بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی بیانئے کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ملک کے مزید پڑھیں

"A wide-angle photograph capturing an 'All Parties Conference' and sit-in held at the foothills of the mountains in the Hanna Urak region of Balochistan. Hundreds of male participants, dressed in traditional Balochi shalwar kameez and turbans, are seated on colorful mats spread on the ground. Behind the stage, a large banner is displayed with the protest's demands written in both Urdu and English: '1. Recovery of 11 Missing Persons', '2. Clearance of Area from Armed Groups', and '3. Talks with Empowered Government Authorities'. A few leaders are standing on the stage, speaking into microphones. Participants are holding placards displaying slogans for the recovery of missing persons. Green and white flags are waving in the air, and an arid mountain range is visible in the background under a cloudy sky."

حنا اوڑک دھرنا: آل پارٹیز کانفرنس کے مطالبات، لاپتہ افراد کی بازیابی اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش

کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) حنا اوڑک میں جاری دھرنے کے مقام پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور حالیہ دلخراش واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ کانفرنس میں مزید پڑھیں

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء اور عمائیدین نے شرکت کی اس موقع پر اپنے خطاب میں ملک کیبت خان اور دیگر عمائیدین نے کہا کہ مناتو اور اس کے گردونواح کے دیہات میں لوگ انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں جہاں سینکڑوں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (TDPs) تمام تر سرکاری تصدیقی طریقہ کار مکمل ہونے کے باوجود مالی معاوضے سے محروم ہیں اگرچہ دفتری کارروائی کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور ڈیٹا بھی فائنل کیا جا چکا ہے، لیکن زمین پر موجود حقائق بڑھتی ہوئی مایوسی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔ عمائیدین نے متاثرہ خاندان لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے جیسے دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ نقل مکانی کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ خاندان نہ صرف اپنی املاک سے دور ہیں بلکہ ریاست کی جانب سے اس مالی امداد سے بھی محروم ہیں جو ان کی زندگیوں کی دوبارہ بحالی کے لیے وعدے کئے گئےتھے علاقے کے سماجی راہنما محبت خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی مایوسی کی بنیادی وجہ معاوضہ ملنے میں تاخیر ہے، کیونکہ حکام نے کئی ماہ قبل تمام اہل افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا تھا۔ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور بدعنوانی کو روکنا تھا جس سے بے گھر آبادی میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب جلد ہی امدادی فنڈز ان تک پہنچ جائیں گے۔ تاہم، ان توقعات کا جواب خاموشی سے دیا گیا ہے محبت خان کا کہنا ہے کہ تمام تر سرکاری شرائط اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے باوجود تاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ بائیومیٹرک تصدیق کی تکمیل اور امداد کی اصل فراہمی کے درمیان اس طویل وقفے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر کارکردگی کے لیے بنائے گئے اس نظام میں اتنی طویل تعطل کی وجہ کیا ہے۔ یہ انتظامی رکاوٹ محض کاغذی کارروائی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک گہرے سماجی و اقتصادی بحران کا سبب بن رہی ہے جو متاثرہ خاندانوں کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ معاوضے میں طویل تاخیر نے بہت سے لوگوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ نقل مکانی کے دوران وہ اپنے اثاثوں اور آمدنی کے ذرائع دونوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مماتو سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور رحمان الللہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات سے دیہاڑی دار طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے جن کی آمدنی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں اور وہ اب اپنے رشتہ داروں یا مقامی کمیونٹی کی امداد پر تکیہ کرنے پر مجبور ہیں۔ معاشی اثرات کے علاوہ اس صورتحال نے متاثرہ آبادی میں شدید نفسیاتی تناؤ بھی پیدا کر دیا ہے جہاں حکام کی جانب سے عدم توجہی اور خاموشی نے اس ابتدائی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جو امدادی نظام پر کیا گیا تھا۔ ایک بے گھر رہائشی عبداللہ نے بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اب دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچوں کو بنیادی ضروریات یا صحت کی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ محرومی کی اس سطح نے ضلعی انتظامیہ سے اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ معاوضہ فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور اس تاخیر کی کوئی واضح وجہ بتائی جائے۔ اب کمیونٹی کے لیے بروقت امداد محض ایک انتظامی طریقہ کار نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے تاکہ اس نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو سکے جو فی الحال ان کی حالتِ زار سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ انتظامیہ کی مسلسل خاموشی اور متعلقہ محکموں کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے سے تنگ آکر مناتُو اور گردونواح کے متاثرہ خاندانوں نے مستقبل کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر آنے والے چند دنوں میں ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری ان حکام پر عائد ہوگی جو تصدیق شدہ ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بحران کی بڑھتی ہوئی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری انتظامی مداخلت کی جائے تاکہ مزید مشکلات کو روکا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کرم کی ان کمزور برادریوں کو ان کی مشکلات میں تنہا نہ چھوڑا جائے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے ضلع کرم کے کوارڈینیٹر شیراز باچا کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بروقت اور ہر ممکن تعاون کے لئے ضلعی انتظامیہ اور فورسز کے ساتھ مل کر وہ ہرممکن اقدامات اٹھارہے ہیں جس کے باعث متاثرین کے زیادہ تر مسائل حل کئے گئے ہیں اور متاثرین کی اپنے گھروں کو واپسی سمیت ان کے تمام حل طلب مسائل کے حل کے لئے اقدامات جاری ہیں

مناتو کے متاثرین تصدیق کے باوجود معاوضے کے طلبگار، پی ڈی ایم اے کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ

ضلع کرم مناتو کے متاثرین تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضے سے تاحال محروم ہیں جس کے باعث متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے ضلع کرم کے علاقے مناتو میں عمائیدین کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس علماء مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان: کیا ریاست کی رٹ ختم ؟ آئینہ وزیر کیس اور قانون کی پامالی

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ: شمالی وزیرستان کا حالیہ واقعہ صرف ایک نوجوان کے اغواء کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ ہمارے قبائلی علاقوں میں اب بھی ریاستی قانون کے بجائے جنگل مزید پڑھیں

Option 1 (If showing a child): "A young girl holding household items instead of school books, illustrating the tragic loss of childhood and education due to early marriage in Pakistan."

بچپن کا قتل: پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی خاموش چیخیں۔ خصوصی تحریر : شکریہ اسماعیل

تحقیقی رپورٹ: شکریہ اسماعیل ایک ایسی عمر جب ہاتھ میں کتابیں اور کھلونے ہونے چاہئیں، وہاں ان ننھے ہاتھوں میں گھر کی ذمہ داریاں اور گود میں اپنی ہی نسل کا بوجھ تھما دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے مزید پڑھیں

"Katrina Khan, President of the REST organization and prominent transgender activist, advocating for human rights in Pakistan."

کترینہ خان: پسماندگی سے بااختیار زندگی تک کا ایک پرعزم سفر

خصوصی تحریر: مہوش تسلیم خواجہ سرا برادری ہمارے معاشرے کا وہ حصہ ہے جسے طویل عرصے سے سماجی تنہائی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ کترینہ خان بھی اسی جدوجہد کی ایک زندہ مثال ہیں، جنہوں نے گھر کی دہلیز مزید پڑھیں

Portrait of Noor Islam Dawar, the founder of Youth of Waziristan, famously known as the Lion of Waziristan

شیرِ وزیرستان: نور اسلام داوڑ ۔۔۔ ایک عہد، ایک تحریک، اور ایک لازوال داستان

تحریر: ناصر داوڑ “گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے”… یہ الفاظ محض ایک مقولہ نہیں تھے، یہ حاجی نور اسلام داوڑ کا فلسفہِ حیات تھا۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جس کے مزید پڑھیں