A photograph of Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi in a formal setting with Pakistan and KP flags, now featuring an Urdu text overlay.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا اہم بیان اور 4 اکتوبر کا احتجاجی لائحہ عمل

پشاور (دی خیبر ٹائمز پولیٹیکل رپورٹنگ ڈیسک): حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی غیر واضح صورتحال اور مبینہ سمجھوتوں کی اطلاعات پر ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں کے شدید ردعمل اور مظاہروں کے بعد، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صورتحال کو سنبھالتے ہوئے رات گئے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی اور دوٹوک بیان جاری کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، اور آئین پاکستان ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پُرامن احتجاج کا بنیادی حق دیتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا ایک سمندر اپنا سفر شروع کرے گا جو پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گا۔تحریک انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ ایک لیڈر، اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو ان کے جائز قانونی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے محض بیانیے کی جنگ نہیں بلکہ ہر شہری کا سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ صوبے میں رجیم چینج کے بعد جان بوجھ کر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے تفصیلی بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اگر ریاست اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لائے تو صوبے میں سو دن کے اندر مکمل امن بحال کیا جا سکتا ہے، کیونکہ موجودہ سیکیورٹی اور سیاسی پالیسیاں زمینی حقائق کے لحاظ سے مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پارٹی کا 4 اکتوبر کا احتجاج (جو گنڈی چوک، لکی مروت سے شروع ہو رہا ہے) آئین، قانون اور صوبے کے حقوق کی جنگ کا حصہ ہے۔
بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی 9 مئی جیسے واقعات کو نہ دوبارہ ہونے دے گی اور نہ کسی کو ایسا کرنے دے گی، اور اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جانا چاہئے۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ آج (4 اکتوبر کو) دن ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے بھرپور عوامی احتجاج کا آغاز ہوگا، جس میں شرکت کیلئے تمام پاکستانیوں کو دعوت دی گئی ہے۔