اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر واضح ہے کیونکہ ایک طرف کامیابی اور تحریری معاہدے کی بازگشت ہے تو دوسری طرف اندرونی اختلافات اور متضاد بیانات نے ابہام پیدا کر رکھا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی میزبانی اور صدارت میں ہونے والے ان مذاکرات میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود حصہ لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین (بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر) سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر کوئی بھی حتمی فیصلہ یا اعلان ممکن نہیں ہے۔ مذاکرات کے وقفے کے دوران علامہ ناصر عباس سے گفتگو کرتے ہوئے بھی اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر لانگ مارچ کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے رہنما اور کمیٹی کے رکن نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، تاہم اگر پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس بار احتجاج ملتوی یا ختم کیا تو کارکنان کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نہ لانگ مارچ ہوگا اور نہ ہی ایمرجنسی لگے گی۔ وفاقی وزیر امیر مقام اور سینیٹر شیری رحمان نے بھی مذاکرات کو خلوص نیت اور جمہوری انداز میں حل کرنے کی کوشش قرار دیا۔
مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز گلے شکوؤں سے ہوا۔ حکومتی وفد نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ اور سینئر حکومتی اکابرین کے خلاف مبینہ نازیبا زبان کا معاملہ اٹھایا، جبکہ اپوزیشن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ کا حوالہ دے کر جوابی سوال کیا اور کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے باہمی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔
ملک ک بیشتر صوبوں میں جب پی ٹی آئی ورکرز تک یہ اطلاعات پہنچیں کہ قیادت احتجاج نہ کرنے یا اسے ملتوی کرنے کا سوچ رہی ہے، تو کارکنان شدید اشتعال میں آ گئے اور ملک کے مختلف شہروں اور مقامات پر قیادت کے خلاف شدید نعرہ بازی شروع کر دی جو رات گئے تک جاری رہی۔
پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین اور انصاف بحال کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، انہیں فوری طور پر علاج کیلئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ فی الحال فریقین کی جانب سے قیادت سے مزید مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Summary:
- Unclear Outcomes and Contradictory Claims: Government-opposition talks hosted by National Assembly Speaker Sardar Ayaz Sadiq remain ambiguous, caught between rumors of a written agreement and internal disagreements.
- PTI Leadership Stance: Opposition leader Mahmood Khan Achakzai and Allama Nasir Abbas emphasized that no final decisions or long march cancellations can be made without first consulting PTI’s founding chairman.
- Government and PPP Optimism vs. Worker Backlash: PPP leader Naveed Qamar hinted at a successful outcome, though he warned of potential backlash from party workers if protests are called off. Consequently, widespread protests and anti-leadership slogans erupted among frustrated PTI workers across various provinces late into the night.
- Mutual Grievances: The second round of talks began with friction, as the government raised issues over provocative tweets and harsh language, while the opposition countered by pointing to Defense Minister Khawaja Asif’s social media posts.
- Core Demands: PTI leader Salman Akram Raja reiterated outside Parliament House that the rule of law and the constitution must be restored, and urgently demanded that PTI’s founding chairman be shifted to Shifa International Hospital for medical treatment.
Context: thekhybertimes@gmail.com




