تحریر: دی خیبر ٹائمز رپورٹ
حکومتِ پاکستان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے اچانک اعلان نے ملک بھر کے سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش اور بحث کا ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔ جہاں حکومت اسے “امن کی جانب ایک قدم” قرار دے رہی ہے، وہیں عوامی نمائندوں، شہداء کے لواحقین اور قبائلی عمائدین نے اس عمل کی شفافیت اور مقاصد پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
سیاسی مزاحمت اور عوامی خدشات
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (NDM) کے سربراہ محسن داوڑ نے مذاکرات کے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیوں کیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات انہیں کسی صورت قبول نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسے عناصر کے ساتھ مذاکرات کے بجائے احتساب کا عمل لازمی ہے۔
دوسری جانب، آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے شہداء کے والدین نے پشاور پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لختِ جگر کے خون پر کوئی سودے بازی نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قاتلوں کو معاف کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، اور یہ مذاکرات شہداء کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔
آپریشن ضربِ عضب کا سوال
قبائلی علاقوں کے عمائدین اور علماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی کرنے تھے، تو پھر آپریشن ضربِ عضب کا مقصد کیا تھا؟ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ کا مہنگا ترین آپریشن شروع کرکے نہ صرف علاقائی معیشت کو تباہ کیا گیا، بلکہ میر علی، میران شاہ اور دتہ خیل کے بازاروں اور گھروں کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ آج سات سال گزرنے کے بعد بھی متاثرین کی بڑی تعداد دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
مذاکرات کی ٹائم لائن: وعدے اور تلخ حقیقت
حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کا یہ عمل نومبر 2021 میں اس وقت شروع ہوا جب ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کی ثالثی میں ایک ماہ کیلئے سیز فائر (جنگ بندی) کا اعلان کیا۔ اس دوران حکومتِ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی تاکہ ملک میں امن قائم کیا جا سکے۔
تاہم، یہ امن کا سفر بہت مختصر رہا۔ دسمبر 2021 میں جب ایک ماہ کی مدت پوری ہوئی، تو تحریک طالبان پاکستان نے حکومتی روئے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹی ٹی پی کا موقف تھا کہ حکومت نے قیدیوں کی رہائی اور دیگر مطالبات پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیز فائر کے خاتمے کے بعد، طالبان نے نہ صرف دوبارہ کارروائیاں شروع کیں بلکہ ان کی شدت اور تعدد میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کا تجزیہ: مفادات اور ناکامیاں
سینئر صحافی سید فخر کاکاخیل نے ‘دی خیبر ٹائمز’ کو بتایا کہ ماضی میں شدت پسندی کے خاتمے کے نام پر ہونے والے آپریشنز کا ایک پہلو عالمی برادری سے امدادی رقوم حاصل کرنا بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا آغاز ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست طالبان سے امن کی بھیک مانگ رہی ہو۔
پشاور کے سینیئر صحافی نثار محمد خان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی دراصل حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ سیز فائر کے خاتمے کی ذمہ دار حکومت خود ہے۔ مذاکرات سے قبل اور بعد کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو اب حملوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو حکومتی رٹ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت اور طالبان کے مابین پیدا ہونے والا یہ ڈیڈ لاک کب ختم ہوگا؟ اور کیا امارتِ اسلامی افغانستان واقعی پاکستان میں امن کے قیام میں کوئی موثر کردار ادا کر سکتی ہے؟ اس تمام تر بحث سے بالا ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی پالیسیوں میں ایک واضح تضاد دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف افغانستان میں مذہبی نظام کی حمایت کی جاتی ہے، تو دوسری طرف ملک کے اندر جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار ہی شاید آج کی تمام تر پیچیدگیوں کی جڑ ہے۔
یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
پاک، افغان سرحد پر بڑھتی کشیدگی: ایک نہ ختم ہونے والا خونی کھیل اور عوام
Exclusive Summary: The TTP Talks Deadlock
The government’s decision to pursue peace negotiations with the Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) has sparked a severe national crisis of confidence. This report for The Khyber Times explores the profound backlash from political leaders like Mohsin Dawar and the families of APS martyrs, who view these talks as a betrayal of justice. By analyzing the strategic failures following Operation Zarb-e-Azb and the current resurgence in TTP violence, this analysis highlights the widening gap between state policy and public safety, leaving the country at a dangerous security crossroads.




