"Documentary photograph at the Torkham border dividing weary Afghan refugee families on the left from Pakistani security forces and a deportation notice on the right, representing the post-deadline repatriation and humanitarian crisis."

ڈیڈ لائن کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی، سیکیورٹی منصوبہ بندی اور انسانی المیے کا سنگم

دی خیبر ٹائمز: خصوصی رپورٹ
راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے آنے والی حالیہ اطلاعات اور حکومتی ڈیڈلائن کے خاتمے کے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں اچانک تیزی نے ایک بار پھر اس دیرینہ اور پیچیدہ معاملے کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، تازہ ترین لہر میں نہ صرف غیر قانونی مقیم بلکہ افغان سٹیزن کارڈ (ACC) کے حامل افراد کی گرفتاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں، جنہیں مختلف علاقوں سے حراست میں لے کر عارضی ہولڈنگ کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس لحاظ سے تشویشناک اور اسٹریٹجک تبدیلی کی حامل ہے کہ اب عارضی قانونی دستاویزات رکھنے والے خاندانوں کو بھی تحویل میں لے کر سرحد پار بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس نے چار دہائیوں سے جاری ہجرت کی تاریخ، پاک افغان تعلقات کے اتار چڑھاؤ اور علاقائی سیکیورٹی کے تانے بانے کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہجرت کی چار دہائیاں: ایک تاریخی جائزہ
اس پورے قضیے کو سمجھنے کیلئے تاریخ کے دریچوں میں جھانکنا ضروری ہے، جہاں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد کا سلسلہ پہلی بار 1979 میں اس وقت شروع ہوا جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ اس پہلی لہر کے دوران تقریباً 30 سے 40 لاکھ افغان باشندوں نے ہجرت کی، جنہیں اس وقت کے عالمی اور ملکی منظرنامے کے تحت والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ بعد ازاں، 1992 سے 1996 کے درمیان کابل میں جاری داخلی خانہ جنگی اور طالبان کے پہلے دورِ حکومت کے دوران دوسری لہر آئی، جبکہ 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکی حملے کے نتیجے میں تیسری لہر نے جنم لیا۔ ہجرت کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا اور طالبان کے دوبارہ برسرِاقتدار آنے کے بعد خوف، معاشی عدم استحکام اور انتقامی کارروائیوں کے ڈر سے مزید 6 سے 8 لاکھ افغان شہری پاکستان میں داخل ہوئے، جس سے پاکستان میں موجود افغان آبادی مختلف قانونی زمروں مثلاً پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز، افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز اور غیر رجسٹرڈ افراد میں تقسیم ہو گئی۔
کریک ڈاؤن کی وجہ: سیکیورٹی، معیشت اور بدلتے تعلقات
ماضی میں مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے متعدد بار فیصلے ہوئے اور ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں، جن میں 2010، 2012، 2015 اور 2017 کے منصوبے شامل ہیں، تاہم ہر بار انسانی ہمدردی اور بین الاقوامی دباؤ کے باعث ان میں توسیع ہوتی رہی۔ اس پورے عمل میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کا کردار ہمیشہ رضاکارانہ، باوقار اور محفوظ واپسی کے اصولوں کے گرد گھومتا رہا ہے، جہاں واپس جانے والے خاندانوں کو مالی اور لاجسٹک امداد فراہم کی جاتی رہی، لیکن موجودہ کارروائی ماضی کے فیصلوں سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ موجودہ فیصلہ کوئی اچانک اٹھایا گیا قدم نہیں بلکہ اکتوبر 2023 میں شروع کئے گئے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان کی ایک سوچی سمجھی اور منظم حکمت عملی کا دوسرا مرحلہ ہے، جس کا بنیادی محرک پاک افغان دوطرفہ تعلقات میں آنے والی بدترین کڑواہٹ اور اسٹریٹجک تعطل ہے۔
عارضی دستاویزات کا بحران اور پولیس کا کردار
اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کی حالیہ لہر ہے۔ پاکستانی مقتدر حلقوں کا مؤقف ہے کہ کابل انتظامیہ سرحد پار موجود محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت جیو پولیٹیکل فیصلے کیے۔ ریاستی اداروں اور پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ برسوں میں ہونے والے متعدد خودکش حملوں، ڈالرز اور گندم کی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور اسٹریٹ کرائمز کے سنگین کیسز میں غیر قانونی افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، جس نے حکومت کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کیا۔ اگرچہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے ایک پوری کمیونٹی کو اجتماعی سزا دینے سے تعبیر کرتی ہیں، تاہم ریاست کا اصرار ہے کہ ملکی سلامتی اور معاشی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سرحدی انتظام اور زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اکتوبر 2023 سے اب تک مختلف مراحل میں 5 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے یا وہ خود واپس جا چکے ہیں، اور اب بارڈر پر پاسپورٹ اور ویزا کی شرط کو سختی سے نافذ کر کے آمد و رفت کو محدود کر دیا گیا ہے، سوائے ان خصوصی راہداریوں کے جو ڈپوٹیشن کے لیے مختص ہیں۔ اس کارروائی کے دوران جہاں عام پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کے مابین دہائیوں پر محیط سماجی و کاروباری تعلقات اور رشتہ داریاں موجود ہیں، وہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کے رویے پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حراست میں لیے گئے افغان شہریوں اور ان کے نمائندوں کے شکوے ہیں کہ جن کے پاس عارضی دستاویزات یا سٹیزن کارڈز موجود ہیں، انہیں بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، اور راولپنڈی کا حالیہ کریک ڈاؤن ان کے اسی خوف کو سچ ثابت کر رہا ہے جس سے افغان آبادی میں شدید عدم تحفظ پھیلا ہے۔
آخر میں، یہ سوال علاقائی امن کیلئے سب سے اہم بن کر ابھرتا ہے کہ اگر یہ لاکھوں افغان شہری اپنے دیس واپس جا کر ملک کی تعمیرِ نو میں حصہ نہیں لیتے، تو کیا افغانستان میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا؟ اس کا جواب دو دھاری تلوار کی مانند ہے، ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ پڑھے لکھے اور ہنر مند افغانوں کی اپنے ملک واپسی وہاں کے استحکام کیلئے ناگزیر ہے، لیکن دوسری طرف افغانستان کے موجودہ حالات، جہاں روزگار کا فقدان ہے، خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے اور معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، ان واپس جانے والوں کیلئے کسی بڑے انسانی بحران سے کم نہیں۔ اگر ان خاندانوں کو زبردستی ایک ایسے معاشی اور سماجی خلا میں دھکیل دیا گیا جہاں بقا کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہ ہوں، تو مایوسی کا شکار ہونے والی یہ نوجوان نسل دوبارہ جرائم یا شدت پسندی کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ خود پاکستان اور پورے خطے کے پائیدار امن کیلئے ایک مستقل اور نیا خطرہ بن جائے گی۔

:یہ بھی پڑھئے:

پاک افغان محاذ آرائی اور ارومچی کا سفارتی راستہ: جیوپولہیتیکل بساط پر چین کی ثالثی اور تزویراتی مفدت کا گہرا تجزیہ

_________________________________________________

Exclusive: The Crossroads of Security and Humanitarian Crisis The Post-Deadline Afghan Repatriation
Executive Summary:
As the government’s deadline for the repatriation of undocumented foreign nationals expires, a massive, systematic crackdown has unfolded across Rawalpindi and other major urban centers. This latest state initiative, targeting not only unregistered individuals but also those holding Afghan Citizen Cards (ACC), signals a major strategic shift in Pakistan’s regional security policy.
Key Highlights:
A Strategic Pivot: The current crackdown is the second phase of the “Repatriation Plan for Illegal Foreigners” launched in October 2023. State authorities have identified this move as an essential security measure, citing concerns over cross-border militancy, smuggling, and organized crime.
Historical Context: This mass repatriation marks the latest turn in a four-decade-long saga that began with the 1979 Soviet invasion of Afghanistan. Following multiple waves of migration driven by civil war, the Taliban’s rise, and the 2021 US withdrawal Pakistan now hosts a complex demographic of PoR, ACC, and undocumented Afghan citizens.
The Humanitarian Dilemma: Human rights organizations have raised alarms, warning that forced repatriation into a collapsing Afghan economy characterized by a lack of basic services, employment, and severe restrictions on women’s education could exacerbate a regional humanitarian disaster.
Security Concerns vs. Social Ties: While the state maintains that national security and economic stabilization take precedence, the operation has faced scrutiny over the treatment of families with long-standing social and business ties to local communities.
Regional Implications: The report concludes that if these individuals are forced into an economic vacuum, it risks driving a disillusioned youth toward instability and extremism, creating a volatile situation that poses a long-term threat to the security of both Pakistan and Afghanistan.
Bottom Line:
The repatriation process is no longer just a border management issue; it has become a “double-edged sword.” The long-term success of this initiative hinges on whether it achieves genuine regional stability or inadvertently creates a new cycle of crisis on Pakistan’s western frontier.