دی خیبرٹائمز خصوصی رپورٹ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں پر کشیدگی کا جو نیا دور شروع ہوا ہے، وہ بلاشبہ اس پورے خطے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اتوار کے روز سرحد پار ہونے والے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں نے نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو مزید تاریک کر دیا ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات نے ایک بار پھر انسانی حقوق کے المیے کو جنم دیا ہے۔ اس ساری صورتحال کو محض ایک فوجی کارروائی کے طور پر دیکھنا شاید زمینی حقائق کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں ہوگا۔
اس کشیدگی کے پیچھے کراچی میں سندھ رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والا خودکش حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد پکڑے جانے والے ایک زخمی دہشت گرد عثمان علی کے اعترافات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ گرفتار دہشت گرد نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس کا تعلق جماعت الاحرار سے ہے اور وہ اپنے تین ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق کے ہمراہ جلال آباد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ عثمان علی کے مطابق، اس پورے گروہ کو افغانستان میں پہلے سے تربیت دی گئی تھی جہاں انہیں خودکش جیکٹیں تیار کرنے اور عسکری مہارتیں سکھائی گئی تھیں، اور انہیں یہ ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ وہ جن اہداف کو نشانہ بنانے جا رہے ہیں، ان کے خلاف یہ کارروائی جائز ہے۔ دہشتگرد نے بتایا کہ حملے کیلئے اسلحہ وزیرستان سے لایا گیا تھا اور ان کی منصوبہ بندی میں سرحد پار سے ملنے والی معاونت کا گہرا کردار تھا۔
دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کیلئے ایسے اعترافات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکریت پسند عناصر سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تزویراتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے متعدد مواقع پر افغان انتظامیہ کو ٹھوس شواہد پیش کئے ہیں، تاہم افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی مؤثر عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔
اس صورتحال کا سب سے تکلیف دہ پہلو بارڈر کی بندش ہے، جو اس خطے کیلئے ایک مستقل بحران بن چکی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران بار بار سرحد کی بندش نے دونوں جانب کے عام لوگوں اور تاجروں کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ رواں سال کے ابتدائی چھ مہینوں میں بارڈر کئی ہفتوں تک بند رہا ہے، جس کا نقصان ریاستوں سے کہیں زیادہ وہاں کے غریب عوام کو ہوا ہے۔ پاکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی مد میں اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، تو دوسری طرف افغانستان کیلئے یہ سرحد لائف لائن ہے، جہاں بندش سے اشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
لیکن اصل قیمت وہ عام تاجر اور مزدور ادا کر رہے ہیں جن کا روزگار اس سرحد سے وابستہ ہے۔ سرحد پر پھنسے ہوئے مال بردار ٹرکوں کا بڑا نقصان ہوگیا ہے، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں ملوث چھوٹے تاجر بھی بڑے پیمانے پر دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ وہ مریض اور عام لوگ ہیں جو علاج یا رشتہ داروں سے ملنے کیلئے سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔ جب سرحد بند ہوتی ہے تو انسانوں کا سفر رک جاتا ہے، اور اکثر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث قیمتی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے 29 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ ہے، جبکہ طالبان حکومت پکتیکا کے علاقے مندوخیل میں خواتین اور بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ دو متضاد بیانئے ایک ایسے گہرے خلیج کو ظاہر کرتے ہیں جس میں سچ کہیں کھو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدوں کی یہ بندش کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مسائل کو جنم دینے والی ایک اور دیوار ہے۔ جب کراچی میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ ہوتا ہے اور اس کے جواب میں سرحد پار فضائی کارروائی کی جاتی ہے، تو اس کا بوجھ عام شہریوں کے کندھوں پر پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا خطرناک چکر ہے جس نے خطے کو عدم استحکام کی بھٹی میں ڈال دیا ہے، اور اگر اس آگ کو سفارتی سطح پر نہیں بجھایا گیا، تو یہ خطہ آنے والی نسلوں کیکئے مزید بڑے المیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔




