A conceptual graphic representing the shrinking space for freedom of expression and constitutional rights in Pakistan."

حقوقِ شہریت کا بحران: کیا پاکستان میں اختلافِ رائے کی جگہ ختم ہو رہی ہے؟

تحریر: ادارتی ٹیم، دی خیبر ٹائمز
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں آئین کی بالادستی، بنیادی انسانی حقوق اور ریاستی بیانئے کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں اٹھنے والی عوامی آوازیں، احتجاجی تحریکیں اور ان کے جواب میں مقتدر حلقوں کا ردِعمل ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے: کیا پاکستان میں اپنے حقوق کی بات کرنا، مظاہرہ کرنا یا سوال اٹھانا جرم بنتا جا رہا ہے؟
گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں سیاسی و سماجی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن، احتجاجی مظاہروں پر لاٹھی چارج، اور آن لائن آوازوں کو دبانے کیلئے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بار بار بندش ایک معمول بن چکی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان صحافت اور آزادئ اظہار کو پہنچا ہے۔ میڈیا ہاؤسز غیر اعلانیہ دباؤ کے تحت سیلف سینسرشپ کا شکار ہیں، جہاں حقائق کو بیان کرنے کے بجائے ریاستی بیانئے کے مطابق خبروں کو ڈھالنا مجبوری بن چکا ہے۔ جب روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر سچ کہنے کی سپیس سکڑتی ہے، تو عوامی لاوا دیگر راستوں سے ابلنے لگتا ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں اٹھنے والی حالیہ تحریکیں دراصل دہائیوں سے جاری نظراندازی اور بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کا نتیجہ ہیں۔
آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں، آٹے پر سبسڈی اور مہنگائی کے خلاف اٹھنے والی تحریک خالصتاً عوامی اور معاشی مطالبات پر مبنی تھی۔ لیکن وہاں بھی مظاہرین کو طاقت سے دبانے اور قیادت کو پابندیوں کا نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور سیکیورٹی فورسز کے رویوں کے خلاف اٹھنے والی آوازیں، بالخصوص بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب سیاسی و آئینی راستے بند کئے جاتے ہیں تو عوامی مایوسی تحریکوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
خیبر پختونخوا اور بالخصوص سابقہ فاٹا کے اضلاع میں امن، بارودی سرنگوں کے خاتمے اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آواز اٹھانے والی پی ٹی ایم پر پابندی عائد کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ ریاست طویل مدتی سیاسی حل کے بجائے وقتی طور پر آواز دبانے کو ترجیح دے رہی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں جو بھی جماعت مقتدر حلقوں کی پالیسیوں سے اختلاف کرتی ہے، اسے غدار یا ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔
ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعتوں میں سے ایک، پی ٹی آئی، اس وقت سخت ترین عتاب کا شکار ہے۔ اس کے رہنماؤں کو طویل سزائیں، کارکنوں کی گرفتاریاں اور جماعت پر پابندی کے مطالبات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کروڑوں عوام کی نمائندگی کرنے والی جماعت کو سیاسی دھارے سے باہر دھکیلا جائے گا، تو اس سے وفاق مضبوط ہوگا یا کمزور؟
ٹی ایل پی کا معاملہ پاکستان کی سیاسی انجینئرنگ کا ایک کلاسک نمونہ ہے۔ ماضی میں جس جماعت کو مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے مبینہ طور پر استعمال کیا گیا یا رعایت دی گئی، جب اسی جماعت نے اپنے دائرہ کار سے نکل کر ریاست کیلئے چیلنج کھڑا کیا، تو اسے بھی پابندیوں اور کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پالیسی بدلتے ہی وفاداری کے معیار بدل جاتے ہیں۔
کیا پابندیاں اور غداری کے تمغے مسئلے کا حل ہیں؟
تاریخ گواہ ہے کہ جبر، پابندیوں اور غداری کے فتووں سے نہ تو کبھی نظریات کو ختم کیا جا سکا ہے اور نہ ہی عوامی غصے کو دبایا جا سکا ہے۔ جب ریاست اپنے ہی شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق (آئینِ پاکستان کے تحت احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی) مانگنے پر انہیں غدار قرار دیتی ہے، تو اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہوتے ہیں:
عوام کا یہ احساسِ محرومی بڑھتا ہے کہ ریاست ان کی محافظ نہیں بلکہ ان کی آواز کو دبانے والی قوت ہے۔
جب پرامن اور آئینی احتجاج کے راستے بند کر دئے جاتے ہیں، تو نوجوانوں میں مایوسی پھیلتی ہے، جو انہیں انتہا پسندانہ نظریات کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش، انسانی حقوق کی پامالیاں اور سیاسی رہنماؤں کو یکطرفہ سزائیں پاکستان کے عالمی تشخص کو متاثر کرتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔
مسئلے کا حل طاقت کا استعمال، سنسرشپ یا کالعدم قرار دینے میں نہیں ہے، بلکہ سیاسی مکالمے اور آئینِ پاکستان پر مکمل عملدرآمد میں ہے۔ پشتون، بلوچ، کشمیری یا ملک کا عام سیاسی کارکن کوئی ماورائے آئین فرمائش نہیں کر رہا، وہ صرف ان حقوق کا تقاضا کر رہے ہیں جو آئینِ پاکستان نے انہیں دئے ہیں۔
مسئلے کا حل طاقت کا استعمال، سنسرشپ یا جماعتوں کو کالعدم قرار دینے میں نہیں، بلکہ سیاسی مکالمے اور آئینِ پاکستان کی بالادستی کے حقیقی نفاذ میں ہے۔ پشتون، بلوچ، کشمیری یا ملک کا عام سیاسی کارکن کوئی ماورائے آئین فرمائش نہیں کر رہا، وہ صرف ان حقوق کا تقاضا کر رہے ہیں جو آئین نے انہیں بطور شہری عطا کئے ہیں۔
ریاست کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ حب الوطنی کسی ایک ادارے یا حکومت کی پالیسیوں سے اندھی عقیدت کا نام نہیں، بلکہ آئین و قانون کی حکمرانی کا نام ہے۔ سوال اٹھاناچاہے وہ سڑک پر ہو، پریس کانفرنس میں ہو یا ایوانوں کے اندرجمہوریت کا حسن ہے۔ اسے مناسب وقت اور موقع پر جواب دینا حکومت کا جمہوری اور آئینی فرض ہے، نہ کہ سوال اٹھانے والے کو غدار یا ریاست مخالف قرار دے کر دبانا۔
یاد رکھیں، جب ریاست اپنے شہریوں کے جائز سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کر دیتی ہے، تو یہ درحقیقت آئینِ پاکستان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ ریاست کا اپنے ہی شہریوں کو دیوار سے لگانا اپنی ہی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ جب تک ریاست اپنے شہریوں کو فریقِ مخالف سمجھنے کے بجائے ان کے جائز آئینی مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی، تب تک ملک میں پائیدار سیاسی و سماجی استحکام ایک خواب ہی رہے گا، اور جبر کے یہ ہتھکنڈے مسائل کو حل کرنے کے بجائے، ان کے حل کے تمام آئینی اور جمہوری دروازوں کو مستقل بند کر دیں گے۔

یہ بھی پھڑئے:

ریاستی اداروں پر الزامات! وزیراعلیٰ کے پی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

———————————————————————————

Executive Summary: The Shrinking Space for Dissent in Pakistan
This comprehensive analysis examines the escalating crisis of civil liberties, free speech, and constitutional rights in Pakistan, highlighting a troubling trend where state authorities increasingly rely on hard power over political dialogue.The Suppression of Expression: The country is witnessing a severe crackdown on dissent, characterized by frequent internet and social media shutdowns, mainstream media self-censorship, and lengthy sentences for political and civil leaders. This has severely constricted the democratic space for disagreement.Regional Grievances and Bans: Instead of addressing deep-rooted socio-economic and security issues, the state has resorted to banning and criminalizing peaceful rights-based movements. This includes the ban on the Pashtun Tahafuz Movement (PTM) in the northwest, crackdowns on the Jammu Kashmir Joint Awami Action Committee, and the suppression of Baloch rights activists.The ‘Traitor’ Label and Political Engineering: Mainstream and religious political entities alike face shifting state patronage. The Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), despite its massive popular support, faces systemic dismantling and accusations of treason. Similarly, the case of Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP) highlights the volatile nature of political engineering, where former proxies are designated as national threats once they challenge state authority.Consequences and the Way Forward: The article argues that labeling citizens as traitors and banning organizations does not solve systemic crises; rather, it alienates the public, fuels extremism, and damages Pakistan’s global standing. The only viable path to national stability lies in upholding the Constitution of Pakistan, ending political engineering, and engaging in genuine political dialogue with all regional and political stakeholders.