Pakistan Post General Post Office GPO building and logo representing the postal department

خطے میں جنگ کے بادل: “اردن کے عوام اپنے ملک سے امریکی اڈوں کا خاتمہ کروائیں”، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا سنسنی خیز پیغام

ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، “میناب” میں 186 بچوں اور اساتذہ کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک: ایران کے طاقتور ترین عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے عوام کے نام ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی پیغام جاری کیا ہے، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈوں کے فوری خاتمے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ اہم ترین پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اردن میں واقع اس امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے مبینہ طور پر ایرانی سرزمین پر حملے کئے گئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، ایران نے یہ کارروائی اپنی سرزمین پر ہونے والی حالیہ امریکی جارحیت کے جواب میں کی ہے۔
ایرانی عسکری حکام کا الزام ہے کہ امریکی افواج نے اردن میں قائم اسی فضائی اڈے کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے شہر میناب پر حملہ کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی جارحیت کے پہلے ہی روز ان اڈوں سے کئے گئے حملوں کے نتیجے میں میناب شہر میں اسکول کے 186 بچوں اور اساتذہ کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ ایران کا یہ جوابی حملہ خالصتاً امریکی افواج اور ان کی تنصیبات کے خلاف تھا۔ ایران کو اردن یا اس کے غیور عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے، بلکہ ایرانی قوم اردنی عوام کا انتہائی احترام کرتی ہے۔
اپنے پیغام میں پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے عوام کے مذہبی اور قومی جذبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال اور فلسطینیوں کے دکھ کو دیگر اقوام کے مقابلے میں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
اردن کے عوام دنیا کی کسی بھی دوسری قوم سے بڑھ کر فلسطینیوں کے دکھ، درد اور ان کے ساتھ ہونے والی دہائیوں پرانی ناانصافیوں سے واقف ہیں۔ وہ صہیونی ریاست کے ان ہولناک جرائم سے بخوبی آگاہ ہیں جس کے نتیجے میں غزہ میں 20 ہزار معصوم بچوں سمیت 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا، اور یہ سب براہِ راست امریکی مداخلت اور سرپرستی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر اردن کے عوام امریکی فوجی اڈوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے تو اس سے نہ صرف مظلوم فلسطینیوں کی عملی مدد ہوگی بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس میں یہ پیغام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاملے کو گہرائی سے سمجھنے کیلئے درج ذیل تین بنیادی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے:
اردن مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا ایک انتہائی قریبی اور سٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہے۔ اردن میں کئی امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جن میں سب سے اہم موفق السلتی ایئر بیس اور شام و عراق کی سرحد کے قریب واقع خفیہ فوجی اڈہ ٹاور 22 شامل ہیں۔ امریکہ ان اڈوں کو خطے میں فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور انسدادِ دہشت گردی کے نام پر اپنے آپریشنز کیلئے استعمال کرتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ انہی اڈوں سے ان کی سرزمین پر بمباری کی گئی۔
اردن آبادیاتی لحاظ سے ایک انتہائی حساس ملک ہے۔ ملک کی نصف سے زائد آبادی فلسطینی نژاد ہے، جس کی وجہ سے غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر اردن کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے اردن کی حکومت کے بجائے براہِ راست وہاں کے عوام کو مخاطب کیا ہے، کیونکہ وہاں امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف عوامی جذبات پہلے ہی قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ پیغام دراصل ایک سوچی سمجھی عوامی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ ایران خطے کے ان عرب ممالک کی حکومتوں پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے جو امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ عوام کو متحرک کر کے ایران اردنی حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ امریکی اڈوں کی موجودگی ان کے اپنے ملک کے امن اور بقا کیلئے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اردن کی حکومت اور وہاں کے عوام اس سنگین صورتحال اور ایرانی اپیل پر کیا ردِعمل دیتے ہیں، کیونکہ اس تنازعے کی تپش اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔


EXCLUSIVE: IRGC Urges Jordanians to Expel US Bases Following Retaliatory Strikes

The Direct Appeal: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) has issued a direct message to the people of Jordan, urging them to demand the immediate removal of US military bases from their soil to restore regional peace.

The Retaliation: The IRGC confirmed it targeted a US airbase in Jordan, claiming it was the launchpad for recent American airstrikes on the Iranian city of Minab, which tragically killed 186 children and teachers on its first day.

No Enmity with Jordan: Tehran clarified that it holds no hostility toward Jordan or its citizens, emphasizing deep respect for the Jordanian public and framing the attack solely as a response to US aggression.

The Palestinian Connection: Highlighting Jordan’s unique demographic and cultural ties to Palestine, the IRGC appealed to the public’s solidarity, noting that Jordanians understand the pain of the 70,000 Palestinian casualties in Gaza facilitated by US intervention better than anyone else.

The Khyber Times Takeaway: By bypassing formal diplomatic channels and appealing directly to the Jordanian public, Tehran is leveraging deep-seated regional anti-US sentiment to pressure Amman over its strategic defense alliances with Washington.