A young child sitting on a dusty rooftop overlooking a semi-urban landscape in Bara and Peshawar, with industrial brick kilns emitting thick black smoke into the hazy sky.

زہریلا دھواں، سیاہ گرد اور بچوں کا مستقبل: باڑہ اور پشاور کو درپیش شیشے (لیڈ) کا خاموش زہر

خصوصی تحریر: صفی اللہ گل
پشاور کے سنگم پر واقع قبائلی ضلع خیبر کےتحصیل باڑہ کے رہائشی ہر صبح رنگ روڈ پر گاڑیوں کا شور شروع ہونے سے پہلے ایک ایسا کام کرتے ہیں جو ان کی خوشی نہیں بلکہ مجبوری بن چکا ہے۔ وہ اپنے گھروں کے صحن صاف کرتے ہیں، کھڑکیوں کے شیشے پونچھتے ہیں اور چھتوں کو جھاڑو دیتے ہیں۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد، کوئلے کی سیاہی جیسی ایک باریک تہہ دوبارہ ہر جگہ جم جاتی ہے۔ یہ چکنائی اور کاجل سے بھری سیاہ گرد نہ صرف درختوں کے پتوں اور پانی کی ٹینکیوں میں بیٹھ جاتی ہے بلکہ بچوں کے پھیپھڑوں میں بھی اتر جاتی ہے۔
یہ خطہ سالہا سال سے انتظامی اور معاشی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ 2018 میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد ماحولیاتی قوانین کے نفاذ اور بنیادی حقوق کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن باڑہ کی صنعتی پٹی میں زمین پر حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ یہاں پلاسٹک پگھلانے، ری سائیکلنگ اور غیر قانونی بھٹیوں کا کاروبار اس قدر پھیل چکا ہے کہ پورے علاقے پر زہریلے دھوئیں کا راج ہے۔ جس سیاہ گرد کو مقامی لوگ محض عام دھواں سمجھتے تھے، اب وہ ایک سنگین طبی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، ایک ایسا بحران جس کا براہِ راست تعلق خیبر پختونخوا کے بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار سے ہے۔

باڑہ پر زہریلا سایہ: سیاہ گرد کا صنعتی مرکز
باڑہ میں آلودگی کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے 2018 کے بعد قائم ہونے والی فیکٹریوں کے پھیلاؤ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پشاور کے جنوبی کنارے اور خیبر ڈسٹرکٹ کو ملانے والی اس پٹی میں رہائشی علاقوں اور زرعی زمینوں کے بالکل قریب درجنوں غیر قانونی کارخانے قائم ہو چکے ہیں۔
باڑہ میں صنعتی آلودگی کے اہم ذرائع میں سب سے نمایاں گاڑیوں کے ٹائر اور پلاسٹک پگھلانے کا عمل ہے، جہاں ٹائروں اور ناکارہ پلاسٹک کو جلا کر تیل نکالا جاتا ہے، جس سے کینسر کا سبب بننے والے کیمیائی مادہ جات اور زہریلا کاجل پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا بڑا ذریعہ سکریپ دھاتوں کی غیر قانونی بھٹیاں ہیں جو بغیر کسی فلٹر کے دھاتوں کو پگھلاتی ہیں، جس سے ہوا میں سیسہ اور دیگر زہریلی دھاتیں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ صنعتی بوائلرز میں سستا ایندھن اور ناکارہ ٹائر جلانے سے کثیف کاجل پیدا ہو رہا ہے۔
عام مٹی یا پتھروں کی دھول کے برعکس، باڑہ کی فضا میں پھیلی یہ سیاہی ایندھن کے نامکمل جلنے کا نتیجہ ہے۔ پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے یہ یونٹس سستے ایندھن کے طور پر پرانے ٹائر، ربڑ اور ردی پلاسٹک جلاتے ہیں، جس کا زہریلا دھواں سیدھا قریبی گھروں، اسکولوں اور کھیتوں پر گرتا ہے۔
مقامی رہائشی گل ولی بتاتے ہیں کہ انھوں نے اب کپڑے باہر سکھانا چھوڑ دئے ہیں۔ اگر کوئی سفید قمیض دو گھنٹے کیلئے باہر تار پر ڈالی جائے تو وہ سرمئی ہو جاتی ہے، لیکن اصل خوف کپڑوں کا نہیں بلکہ بچوں کی مسلسل کھانسی کا ہے۔ ہر دوسرے گھر میں بچہ سانس کی بیماری کا شکار ہے یا اس کی جلد پر ایسے نشانات ہیں جو ٹھیک ہی نہیں ہوتے۔

ہوا سے خون تک: زہریلی دھاتوں کا خاموش سفر
سیاہ دھواں اور کاجل نہ صرف سانس کی بیماریاں پیدا کرتا ہے بلکہ اس کی کیمیائی بناوٹ میں انتہائی خطرناک زہریلے مادہ جات، بالخصوص سیسہ، کیڈمیم اور نکل شامل ہوتے ہیں۔ یونیسیف اور قومی ماحولیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ پشاور اور ہری پور کے صنعتی علاقوں میں کئے گئے طبی معائنوں سے معلوم ہوا ہے کہ 10 میں سے تقریباً 4 بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار عالمی صحت کی تنظیم (WHO) کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔
باڑہ جیسے علاقوں میں، جہاں رہائشی آبادیوں کے درمیان سکریپ کا کام اور بھٹیاں قائم ہیں، زہریلا دھواں فضا میں پھیل کر گھروں کی دھول میں شامل ہوتا ہے، جسے بچے گندے ہاتھ منہ میں ڈالنے کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودہ پانی اور مقامی فصلوں کے ذریعے بھی یہ زہر معدے میں جذب ہو کر خون کے راستے ہڈیوں اور دماغ تک پہنچتا ہے اور وہاں مستقل ذخیرہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ بچوں کے جسم میں سیسے کی کوئی بھی مقدار محفوظ نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بچوں کے ذوق و شوق اور انٹیلی جنس میں مستقل کمی، غصہ، جارحانہ رویہ، جسمانی نشوونما میں رکاوٹ اور گردوں کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

قانونی خلا: ضم شدہ اضلاع میں عملداری کے مسائل
باڑہ میں صنعتی آلودگی کا تسلسل انتظامی اور قانونی عملداری کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014 کے تحت، اس سلسلے میں واضح قانونی دفعات موجود ہیں۔ مثلاً دفعہ 11کے تحت قومی ماحولیاتی معیار سے زیادہ دھواں یا زہریلا مواد خارج کرنے پر مکمل پابندی ہے، دفعہ 13 کے مطابق کسی بھی فیکٹری کے قیام سے قبل ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ جمع کرانا لازمی ہے، جبکہ دفعہ 16 ماحولیاتی انسپکٹرز کو غیر قانونی فیکٹریاں سیل کرنے اور سامان ضبط کرنے کا مکمل اختیار دیتی ہے۔
تاہم ان قوانین پر عملدرآمد میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ فاٹا کے انضمام کے بعد کئی غیر قانونی مالکوں نے ضلعی انتظامیہ اور ماحولیاتی اداروں کے درمیان ہائی برڈ نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر اجازت نامے کے فیکٹریاں قائم کر لیں۔ اس کے علاوہ محکمہ تحفظِ ماحول (KP-EPA) کے پاس محدود وسائل اور انسپکٹرز کی کمی ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت سے جڑے ہونے کی وجہ سے کارروائی کے بعد یہ یونٹس اکثر دوسری گلیوں یا رات کے اندھیرے میں دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔
باڑہ کو اس زہریلی فضائی آلودگی سے نکالنے اور بچوں کو سیسے کے زہر سے بچانے کیلئے محض عارضی چھاپوں کی بجائے ایک جامع اور مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی و طبی ماہرین نے اس کیلئے درج ذیل اقدامات تجویز کئے ہیں:

1- صنعتی زوننگ اور آبادی سے منتقلی
باڑہ کی حدود میں رہائشی اور زرعی زمینوں پر قائم تمام غیر قانونی بھٹیوں اور پلاسٹک یونٹس پر فوری پابندی لگائی جائے۔ صوبائی حکومت ان فیکٹریوں کو خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZMC) کے زیرِ انتظام مخصوص صنعتی علاقوں میں منتقل کرے جہاں آلودگی کو تلف کرنے کا مرکزی نظام موجود ہو۔

 2- دھواں فلٹر کرنے کی پابندی اور ایندھن پر کنٹرول
محکمہ تحفظِ ماحول ایندھن کے طور پر پرانے ٹائروں، ربڑ اور ردی پلاسٹک کے استعمال پر سخت پابندی عائد کرے اور فیکٹری مالکان کو باقاعدہ فلٹرز اور سکربرز لگانے کا پابند بنائے تاکہ زہریلا کاجل فضا میں شامل نہ ہو سکے۔

3- طبی معائنہ اور غذائی تدابیر
صوبائی محکمہ صحت خیبر ڈسٹرکٹ اور پشاور کے ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں بچوں کے خون میں سیسے کا ٹیسٹ مفت فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوامی سطح پر یہ شعور بیدار کیا جائے کہ کیلشیم، آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور غذا بچوں کے جسم میں سیسہ جذب ہونے کی رفتار کو کم کرتی ہے۔

4- سپلائی چین کی نگرانی
بیٹری ساز اداروں اور بڑی صنعتی کمپنیوں کیلئے ایسا قانونی نظام بنایا جائے جس کے تحت وہ پرانی بیٹریوں اور سکریپ کو خود واپس خریدنے کے پابند ہوں، تاکہ غیر قانونی و غیر محفوظ طریقے سے سکریپ پگھلانے والی منڈیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

باڑہ کی فضا میں پھیلی یہ سیاہ گرد صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں پر ایک خاموش حملہ ہے۔ صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیاں وقت کی ضرورت ہیں، لیکن یہ عوام کی صحت اور بچوں کی زندگیوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئیں، اور ماحولیاتی قوانین کے سخت نفاذ، صنعتی منتقلی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے ہی خیبر پختونخوا اپنے بچوں کو اس زہریلے دھوئیں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

Exclusive Summary:

The Silent Lead Poisoning and Industrial Pollution Crisis in Bara & Peshawar
The Core Issue: Unregulated industrial units, illegal metal scrap furnaces, and tire pyrolysis plants operating across the Bara-Peshawar border are blanketing residential areas in toxic black dust and hazardous heavy metal emissions.
Severe Health Impacts: Children are disproportionately affected; regional data indicates blood lead levels drastically exceeding WHO safe limits, leading to permanent risks of neurological damage, low IQ, respiratory illnesses, and developmental stunting.
Regulatory Gaps: Post-merger administrative ambiguities between tribal districts and provincial authorities, combined with limited resources under the KP Environmental Protection Act 2014, have crippled effective oversight and enforcement.
The Path Forward: Mitigating this crisis requires immediate industrial relocation to designated zones (KPEZMC), mandatory baghouse emission filters, free public health blood screenings, and strict Extended Producer Responsibility (EPR) frameworks.

Safiullah Gul: Safiullah Gul, Peshawar-based journalist with more than 30 years of experience, Ochberg Frank fellow on Trauma Reporting, Columbia University, New York, Dart Asia-Pacific fellow on trauma, 2013, senior fellow 2015, 2024. reporting and imparting training on war on terror, ethical journalism, environment, social issue, inter-faith harmony.

Contact Email : safimahsud@gmail.com        cell No: +92-344-444-0214