دی خیبر ٹائمز کیلئے خصوصی تحریر: رسول داوڑ سے
شمالی وزیرستان میں ناگفتہ بہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر گزشتہ چند سالوں سے ہفتہ اور اتوار کے روز باقاعدگی سے کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ سکیورٹی نقطۂ نظر سے اس اقدام کا بنیادی مقصد سکیورٹی فورسز کے قافلوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔ بندوبستی ضلع بنوں سے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ، سب ڈویژن میرعلی اور رزمک تک فورسز کی آمد و رفت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کرفیو کا نفاذ تو کیا جاتا ہے، مگر اس فیصلے کے دیگر منفی اور سنگین پہلوؤ ں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
کرفیو کے ان دو دنوں میں تمام چھوٹے بڑے بازار، ہزاروں دکانیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔ مزدور، مستری، ڈرائیور، دکاندار اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے دیہاڑی دار طبقے کے ہاتھ پاؤں باندھ دئے جاتے ہیں۔ نہ صرف نجی اور سرکاری شعبے سے وابستہ افراد بلکہ عام شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی مکمل پابندی عائد ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں ہفتہ سات دنوں پر محیط ہوتا ہے، لیکن شمالی وزیرستان کے لاکھوں مکینوں کیلئے اس کرفیو کے باعث عملی طور پر ہفتہ صرف پانچ دنوں پر مشتمل رہ گیا ہے۔
عوام کے اخراجات ساتوں دن کے ہیں، لیکن کمائی کا موقع صرف پانچ دن ملتا ہے، اور ان پانچ دنوں میں بھی اکثر و بیشتر اچانک سکیورٹی کی خرابی کے باعث بازار بند کرا دئے جاتے ہیں۔ ہر دیہاڑی دار اور چھوٹا تاجر ہفتے میں دو دن مکمل طور پر گھر بیٹھنے پر مجبور ہے، جس سے نہ صرف ان کا گھریلو بجٹ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے بلکہ خاندانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ گھر کا چولہا ہفتے کے ساتوں دن جلتا ہے، بچوں کی خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر روزمرہ کے اخراجات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں، لیکن آمدن کے تمام ذرائع سکڑ چکے ہیں۔
سال کے کل ایام: 365
کمائی کے لیے دستیاب دن: بمشکل 261
ضائع ہونے والے ایام: 104 دن (بغیر کسی تلافی یا مالی معاونت کے)
یہ صورتحال پہلے سے معاشی طور پر زبوں حالی کا شکار علاقے کیلئے کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ جب معاشی پہیہ رکتا ہے تو اس کے اثرات صرف کسی ایک شہری کی جیب تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورا مقامی معاشی نظام زمین بوس ہو جاتا ہے۔
مسئلہ صرف معیشت کا ہی نہیں، بلکہ اس کا ایک انتہائی نازک اور حساس سماجی و نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ ریاست اور متعلقہ اداروں کو بخوبی علم ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیاں سکیورٹی فورسز کیلئے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں نوجوانوں کا مسلسل بے روزگار اور فارغ رہنا ایک انتہائی خطرناک خلا پیدا کرتا ہے۔ خصوصاً 14 سے 19 سال کی عمر کے نوجوان فکری، نفسیاتی اور سماجی طور پر شدید حساس مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ کرفیو کی وجہ سے ایک طرف جہاں ان کیلئے تعلیم، ہنر، اور مثبت سرگرمیوں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، تو دوسری طرف شدت پسند عناصر ان کی اس مجبوری اور فراغت کا فائدہ اٹھانے کیلئے متحرک ہو جاتے ہیں۔ جب نوجوانوں کو بے مقصدیت، مایوسی اور بلاوجہ کا وقت فراہم کر دیا جائے تو تخریب کار عناصر کیلئے انہیں اپنے بیانئے کی طرف راغب کرنا بے حد آسان ہو جاتا ہے۔ خالی ذہن منفی اور جارحانہ سرگرمیوں کی طرف جلد مائل ہوتا ہے، اور یہی عدم توجہی ریاست کیلئے ایک نئے سکیورٹی چیلنج کو جنم دے سکتی ہے۔
اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان دو دنوں کے منفی معاشی و سماجی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے؟
یقیناً ایسا ممکن ہے، بشرطیکہ پالیسی ساز اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پورے خطے میں مسلسل دو دن کا سکتہ مستقبل میں مزید بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہفتہ اور اتوار کا کرفیو یکسر ختم کرنا فوری طور پر ممکن نہیں، تو ان دو دنوں میں نوجوانوں کو منفی اثرات سے بچانے کیلئے مثبت متبادل سرگرمیاں فراہم کی جا سکتی ہیں:
مقامی سطح پر کھیلوں کے میدانوں کو فعال بنانا۔
دیہات کی سطح پر مفت ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کا قیام۔
آن لائن کلاسز اور جدید اسکلز کی فراہمی۔
نوجوانوں کی فکری و معاشی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے ورکشاپس۔
جب سکیورٹی کی بنیاد پر بازار بند ہوں، تو نوجوانوں کے مستقبل پر تالے نہیں لگنے چاہئیں۔
اگر کرفیو کا مقصد امن قائم کرنا ہے، بے بسی پھیلانا نہیں، تو ریاست کو یاد رکھنا چاہئے کہ شمالی وزیرستان کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں طویل عرصے تک بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کی معاشی و سماجی مشکلات کو سکیورٹی کے مقابلے میں لا کھڑا کرنا کسی طور درست نہیں۔
ایک جامع اور کامیاب سکیورٹی پالیسی وہ ہے جو ایک طرف دہشتگردوں کا گھیراؤ کرے اور دوسری طرف عام شہریوں کیلئے روزگار، تعلیم اور پرامن زندگی کے راستے کھولے۔ سکیورٹی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو مل کر ایک ایسا توازن قائم کرنا ہوگا جس میں شہریوں کی جان و مال بھی محفوظ رہے، روزگار کا پہیہ بھی چلتا رہے، اور شدت پسند عناصر کو نئی نسل کو ورغلانے کا موقع بھی نہ ملے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ روزگار، اعلیٰ تعلیم، معمولاتِ زندگی کی بحالی اور نوجوانوں کو روشن مستقبل کی اُمید دے کر ہی اس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔
Executive Summary: Socio-Economic & Security Fallout of the Weekly Curfew in North Waziristan
Author: Rasool Dawar
1. Background & Context
-
Primary Rationale: Imposed by security authorities to ensure safe transit and logistics for military convoys traveling from the settled district of Bannu to key tribal sub-divisions, including Miranshah, Mirali, and Razmak.
-
The Conflict: While designed as a security measure, the continuous multi-year enforcement of this policy has created an unaddressed crisis regarding its severe collateral impact on local civilian life, trade, and youth stability.
2. Humanitarian & Economic Devastation
The “5-Day Earning vs. 7-Day Living” Paradox
-
Impacted Segments: Daily-wage laborers, mechanics, drivers, street vendors, and small business owners are completely cut off from earning their livelihoods for two full days every week.
-
Household Strain: Domestic expenses—food, healthcare, utility bills, rent, and children’s education—remain active 7 days a week, whereas income opportunities are compressed into 5 days (and even fewer when unscheduled security shutdowns occur).
Total Days in a Year: 365 Days
Earning Days Available: ~261 Days
Lost Earning Opportunities: 104 Days / Year (Without Compensation)
Key Finding: Citizens of North Waziristan lose nearly 28% of their annual earning capacity due to enforce closures, dealing a massive blow to an already fragile local economy.
3. The Security Paradox & Youth Vulnerability
-
Target Demographic: Adolescents and young men aged 14 to 19—a psychologically and socially sensitive age group.
-
The Recruitment Threat: North Waziristan remains an area with a high presence of militant elements. When young people are stripped of jobs, skill-building facilities, and sports, a dangerous social vacuum is created.
-
Extremist Exploitation: Militant groups capitalize on idle, financially stressed, and frustrated youth by offering engagement, narrative spinning, and financial incentives.
Critical Warning: Forced idle time for impressionable young men in a high-risk zone provides extremist networks an easy pipeline for new recruitment.
4. Strategic Recommendations & Policy Alternatives
-
Transforming Enforced Idle Time: If lifting the weekend curfew entirely is not immediately feasible due to military logistics, the state must convert these two days into structured, positive engagement for youth.
-
Community-Level Interventions:
-
Vocational & Technical Centers: Free technical training centers established at the village level.
-
Digital & Online Learning: Providing youth with digital skills and remote learning facilities.
-
Sports & Community Programs: Activating sports grounds and healthy recreational activities.
-
-
Balanced Governance: Security operations must run parallel to economic access, education, and normal civic life.




