قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ دی خیبر ٹائمز خصوصی تجزیہ : قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا، جب ضلع کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مقامی کاظم گروپ اور کالعدم جماعت الاحرار (JuA) کے امتی گروپ کے درمیان گھات لگا کر کیا گیا ایک مسلح تصادم ہوا۔ اس وحشیانہ مڈبھیڑ کے نتیجے میں 18 جنگجو ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں بعد ازاں مقامی افراد نے سپردِ خاک کر دیں۔ خیبر پختونخوا کے صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر ہونے والی بحث کے مطابق، یہ جھڑپ حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہونے والا سب سے بڑا اور خونیں ترین واقعہ ہے، جس نے اس عسکریت پسند نیٹ ورک کی نام نہاد تنظیمی یکجہتی کے پردے کو چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ماضی میں بھی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے مابین کئی بار اختلافات پیدا ہوئے، لیکن وہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کر کے دوبارہ متحد ہو جاتے تھے۔ تاہم، اس حالیہ واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے مابین تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب ان کے دوبارہ متحد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے مابین تعلقات میں بگاڑ کی اصل جڑ 7 اگست 2022 کو صوبہ پکتیکا میں عمر خالد خراسانی کو ان کے دیگر ساتھیوں سمیت ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں مارےگئے تھے۔ اس وقت بھی جماعت الاحرار ٹی ٹی پی سے الگ ہو گئی تھی، لیکن سراج الدین حقانی کی مداخلت اور عمر خالد خراسانی کے قتل کی شفاف تحقیقات کے وعدے پر وہ دوبارہ متحد ہو گئے تھے۔ تاہم، آج تک نہ تو ٹی ٹی پی اور نہ ہی امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس واقعے کی کوئی شفاف تحقیقات کی ہیں، جس کے نتیجے میں اب حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں۔ اس تصادم کے فوری بعد جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان اسد منصور نے ایک تفصیلی پریس ریلیز جاری کر کے تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے دھڑے پر اپنے 18 ساتھیوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ الزام عائد کیا۔ جماعت الاحرار نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ اب اس خون کا بدلہ لینا ہم پر فرض ہو چکا ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے یہ بھی بتایا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے کمانڈر کاظم نے مرکزی امیر مفتی نور ولی محسود کی براہِ راست ہدایات پر ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسد منصور کے مطابق، ان کے کل 28 ساتھی تھے جنہیں کمانڈر کاظم نے کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور پیغام بھیجا تھا کہ چند ضروری امور پر مشاورت کے لئے اکٹھے بیٹھیں اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں۔ تاہم، اس مقام تک پہنچنے سے قبل ہی کمانڈر کاظم اپنے دیگر مسلح ساتھیوں سمیت گھات لگا کر بیٹھے تھے۔ جوں ہی ان کے ساتھیوں کی گاڑیاں وہاں پہنچیں، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کے 18 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 10 ساتھیوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اسد منصور نے بتایا کہ ان یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے افغانستان میں مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم انہوں نے اس مقام کی نشاندہی نہیں کی جہاں انہیں رکھا گیا ہے۔ البتہ مقامی ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ یرغمال بنائے گئے ان 10 افراد کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسد منصور کا ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی نے ان افراد کو غالباً اس لئے گرفتار کیا ہے تاکہ انہیں سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کا عمل شروع کیا جا سکے۔ اسد منصور نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں ان کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور ٹی ٹی پی ان یرغمالیوں کو بطور دباؤ استعمال کر کے ان تینوں اضلاع سے انہیں بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں عزم کا اظہار کیا کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک وہ ان تینوں اضلاع سے تحریک طالبان پاکستان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے، کہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہیں جتنی بھی بڑی قربانی دینی پڑی، وہ اس کے لئے تیار ہیں اور ان علاقوں سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ کئے بغیر دم نہیں لیں گے۔ دوسری جانب، تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت نے اس انتہائی حساس عسکری دھچکے پر مکمل سکوت اختیار کر رکھا ہے، جسے عسکری ماہرین تنظیم کے داخلی انتشار کو مزید بے نقاب ہونے سے بچانے کیلئے ایک تزویراتی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ اس خونریز مڈبھیڑ کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس میں شامل مقامی کمانڈروں کے تنظیمی کردار اور ان کے پس منظر کا احاطہ کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ تصادم بنیادی طور پر دو بااثر نیٹ ورکس کے مابین علاقائی بالادستی کی جنگ تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سب سے نمایاں نام جماعت الاحرار کے اہم ترین فیلڈ کمانڈر ممتاز المعروف 'امتی' کا ہے، جو عمر خالد خراسانی کے انتہائی معتمد تھے اور کرم، خیبر، اور اورکزئی کے اضلاع میں 'امتی گروپ' کے سربراہ کے طور پر متحرک تھے۔ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ایک محسود کمانڈر نے ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر مفتی نور ولی سے رابطہ کر کے اس واقعے اور جماعت الاحرار کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ مفتی نور ولی نے مختصر جواب میں کہا کہ یہ واقعہ تشویشناک ضرور ہے، مگر مرکزی قیادت کو اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک ضلع کی سطح پر مقامی گروپوں کا باہمی تصادم ہے اور تاحال ان کی کرم کے مقامی ذمہ داروں سے اس معاملے پر بات نہیں ہو سکی ہے۔ مذکورہ محسود کمانڈر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس واقعے اور جماعت الاحرار کی جانب سے الزامات کے بعد انہوں نے امیرِ ٹی ٹی پی کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے، کیونکہ جماعت الاحرار نے اپنے بیانات میں براہِ راست مرکزی قیادت کا نام لیا ہے۔ کمانڈر کے مطابق، ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ کیسے اور کیوں رونما ہوا ہے، لہٰذا کرم کے ذمہ داروں سے رابطے کے بعد ہی اس پر کوئی ٹھوس بات ہو سکے گی۔ فی الحال مرکزی قیادت کے پاس اس واقعے کی کوئی باضابطہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ کرم میں ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر کاظم ہیں، جن کے بارے میں ان کے آبائی علاقے کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کاظم کی عمر 25 سال سے زیادہ نہیں، البتہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت، بالخصوص امیر مفتی نور ولی محسود کے انتہائی رازدار اور بااعتماد ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں کاظم ایک انتہائی بااثر اور کٹر آپریشنل کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہیں ٹی ٹی پی کے مرکزی امیر کی براہِ راست تائید حاصل ہے۔ اس سارے عمل میں جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور اپنا میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کی قیادت کو مسلسل انتقام کا انتباہ جاری کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں اور کرم پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے دس افراد کا تعلق افغانستان سے ہے، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے کمانڈر کاظم کے علاوہ دیگر جنگجوؤں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی بڑی تعداد میں افغان شہری موجود ہیں۔ جوپورے ضلع میں تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ کمانڈر کاظم کا تعلق لوئر کرم کے علاقے بگن سے ہے اور ان کا خاندان مقامی طور پر خاصا بااثر سمجھا جاتا تھا۔ ان کے والد ملک گل رحمان المعروف گلے ملک، اپنے علاقے میں اورکزئی قوم کے معتبر نمائندے تھے۔ تاہم، گزشتہ سال 2025 میں کمانڈر کاظم کی عسکریت پسندی اور طالبان میں شمولیت کی پاداش میں گزشتہ سال 2025 میں حکومتی کارروائی کے دوران ان کا آبائی گھر مسمار کر دیا گیا، جس کے بعد سے ان کا خاندان علاقہ چھوڑ کر روپوش ہو گیا ہے۔ جب قبائلی عمائدین سے اس خاندان کی روپوشی کی وجوہات کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی کارروائی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اس ہجرت کا سبب بنے ہیں۔ عمائدین کے مطابق، کمانڈر کاظم کے ملوث ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کے خاندان کو شدید سکیورٹی خدشات لاحق ہو گئے تھے۔ انہیں یہ خوف تھا کہ کاظم کی دشمنیوں کے نتیجے میں ان کے دیگر بھائیوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایک قبائلی ملک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کاظم کے بھائی کسی جہادی تنظیم سے ان کا تعلق نہیں، وہ محنت مزدوری کیلئے پاکستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کے والد بھی وہیں چلے گئے ہیں۔ تاہم، جس دن سے یہ خاندان گاؤں سے نکلا ہے، تب سے ان کا اپنے آبائی علاقے میں کسی بھی شخص سے کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔ یہ تصادم کوئی اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک دہائی پر محیط نظریاتی اور تنظیمی کشمکش کا منطقی انجام ہے۔ جماعت الاحرار نے 2014 میں ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اور اگرچہ 2020 میں انضمام کی کوشش کی گئی، لیکن 2022 میں عمر خالد خراسانی کی ہلاکت نے یہ خلیج ناقابلِ تلافی بنا دی۔ جماعت الاحرار کو یقین ہے کہ ان کے بانی نور ولی محسود نے قتل کروایا، اور اسی کشمکش کے باعث 2025 سے جماعت الاحرار نے اپنے متوازی دفاتر دوبارہ بحال کر لئے تھے۔ اس سے قبل جماعت الاحرار نے شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ اتحاد کی کوشش بھی کی تھی جو آپریشنل حدود اور کابل کے دباؤ کے باعث ناکام رہی، تاہم اب قوی امکان ہے کہ موجودہ خونریزی کے بعد وہ 'اتحاد المجاہدین پاکستان' میں شامل ہو جائے۔ سراج الدین حقانی اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کیلئے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ وہ داعش (ISKP) کے پھیلاؤ کو روکنے، اپنی سرزمین پر داخلی جنگ سے بچنے، اور پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کیلئے ان گروہوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس خونی تصادم کے معاشی محرکات بھی نہایت اہم ہیں۔ مقامی عمائدین کے مطابق یہ کشیدگی دراصل ایک طویل عرصے سے جاری بھتہ خوری کی جنگ کا تسلسل ہے۔ قبائلی ضلع خیبر میں پہلے تحریک طالبان پاکستان (TTP) مائننگ کے ٹھیکیداروں سے بھتہ وصول کرتی تھی، تاہم جماعت الاحرار کے الگ ہونے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ جماعت الاحرار نے ضلع خیبر میں منرلز کے ٹھیکیداروں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے ٹی ٹی پی کو اس علاقے سے بے دخل کر دیا۔ یہی عمل بعد ازاں قبائلی ضلع اورکزئی میں دہرایا گیا، جہاں جماعت الاحرار نے کوئلے کی کانوں کے ٹھیکیداروں کو ٹی ٹی پی کو بھتہ دینے سے منع کر کے یہ سلسلہ خود سنبھال لیا۔ اب یہی تنازع ضلع کرم منتقل ہو چکا ہے، جس پر کمانڈر کاظم کو شدید اعتراض تھا۔ کرم، جو اپر، لوئر اور سینٹرل تین حصوں میں تقسیم ہے، وہاں کے منرلز ٹھیکیداروں سے کمانڈر کاظم کا گروپ بھتہ وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلع بھر میں جاری تمام سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکیداروں سے بھی کمانڈر کاظم پانچ فیصد بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ لہٰذا، جماعت الاحرار کی کرم میں آمد کمانڈر کاظم اور ان کے نیٹ ورک کیلئے اپنے وسیع معاشی مفادات پر ایک براہِ راست ضرب کی مانند تھی۔ مقامی عمائدین اور عوام سے کی گئی بات چیت کی روشنی میں، مستقبل کے حوالے سے دو اہم منظرنامے سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ جماعت الاحرار باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف اعلانِ جنگ کر کے ایک الگ عسکری بلاک تشکیل دے دیں، جس سےقبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کا ڈھانچہ طاقت کے کئی مراکز میں بٹ جائے گا۔ دوسرا منظرنامہ یرغمالی بحران سے جڑا ہے، اگر مذاکرات ناکام رہے تو ٹارگٹ کلنگ کی ایک ایسی لامتناہی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کا حتمی فائدہ داعش (ISKP) کو پہنچے گا۔ داعش اس عسکری خلا کا فائدہ اٹھا کر کرم میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرات کی زد میں آ جائے گا۔ مقامی عمائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یرغمال بنائے گئے دس افراد کے بدلے میں ٹی ٹی پی ایک مشروط معاہدے کی جانب جا سکتی ہے، جس میں یہ شرط رکھی جا سکتی ہے کہ جماعت الاحرار کا کوئی بھی رکن مستقبل میں ضلع کرم میں داخل نہیں ہوگا۔ اس تصادم کی سنگینی کو سمجھنے کیلئے اس خطے کی عسکری تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اورکزئی کے عمائدین کے مطابق، پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کا پہلا امیر حافظ سعید خان تھا جس کا تعلق اورکزئی سے تھا۔ وہ 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے ناراض ہو کر داعش میں شامل ہوا اور 2016 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا۔ حافظ سعید خان کے ہمراہ ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈروں نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان ابتدائی ساتھیوں میں کمانڈر گل زمان فتح نمایاں تھا، جو حافظ سعید خان کا دستِ راست اور داعش خراسان کا نائب امیر مقرر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، ٹی ٹی پی کے سابق مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد (اصل نام شیخ مقبول اورکزئی) اور کمانڈر دولت خان بھی داعش میں شامل ہونے والے اہم اورکزئی نژاد کمانڈر تھے۔ دوسری جانب، قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے خلیفہ عمر منصور کی داعش میں شمولیت ابتدائی طور پر متنازع رہی۔ اگرچہ وہ حافظ سعید خان کے قریبی ساتھی تھے، لیکن وہ ٹی ٹی پی مہمند (حال جماعت الاحرار) کے سربراہ مرحوم عمر خالد خراسانی کے ساتھ بھی گہری وابستگی رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کی باضابطہ وابستگی ایک طویل عرصے تک غیر واضح رہی۔ مجموعی طور پر، ان ابتدائی بیعت کرنے والوں میں اکثریت کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا، کیونکہ حافظ سعید خان کا وہاں مضبوط اثر و رسوخ تھا۔ یہ تمام افراد بعدازاں مختلف امریکی ڈرون حملوں، افغان سیکیورٹی فورسز یا افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے۔ ان کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد داعش خراسان کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں اور تنظیم میں غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ اس تاریخی پس منظر کے باوجود، آج بھی اورکزئی اور ملحقہ ضلع کرم میں ایسے عناصر کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کا نظریاتی اور تنظیمی اتحاد اب ممکن دکھائی نہیں دیتا، جبکہ جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی سے راہیں جدا کرنے کے بعد ان کے مابین قربتوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ گروہ نہ صرف علاقے میں مشترکہ عسکری کارروائیوں میں ملوث ہیں، بلکہ معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری بھی کر رہے ہیں۔ مزید برآں، یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ عناصر اب امیر کاروباری شخصیات اور بیرونِ ملک (خصوصاً متحدہ عرب امارات) میں مقیم خاندانوں کو بھی بھتے کی دھمکیاں دے کر وصولیوں کا دائرہ کار وسیع کر چکے ہیں۔ اس عسکری انتشار کے ساتھ ساتھ کرم اور اورکزئی میں متحارب مذہبی و مسلکی جیسے نظریاتی مسائل بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ کرم کے عمائدین کے مطابق، داعش کا بنیادی ہدف مقامی اہل تشیع برادری ہے، جس کے پیشِ نظر اہل تشیع نے اپنے دفاع کیلئے کرم میں "زینبیون" اور "مہدی ملیشیا" جیسے جہادی نیٹ ورکس کو فعال کر رکھا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی اور فنڈنگ حاصل ہے۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کیلئے یہ ملیشیاز اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ناگزیر ہیں، بصورتِ دیگر ان کیلئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ عمائدین کا خیال ہے کہ جماعت الاحرار اور داعش کے مقامی عناصر کے مابین بڑھتی ہوئی قربتیں اور ان کا کرم و اورکزئی میں متحرک ہونا، آنے والے دنوں میں سیکیورٹی فورسز اور اہل تشیع برادری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ یہ گروہ اپنی معاشی خود مختاری کیلئے منرلز کے کاروبار اور سرکاری ٹھیکیداروں سے بھتہ خوری کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی اداروں اور اہل تشیع برادری کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے۔ اس صورتحال نے کرم کو ایک ایسی نئی عسکری اور مسلکی کشمکش کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے، جہاں کسی بھی وقت فرقہ وارانہ تصادم کا نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں اور پولیس کے حکام سمیت ایک درجن سے زائد ذرائع کے ساتھ ہونے والی تفصیلی بات چیت کی بنیاد پر، میں تشویشناک نتائج کا خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے ، وہ یہ کہ ان حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریاست کو اس باہمی لڑائی سے فائدہ ہو سکتا ہے، اس مفروضے کے ساتھ کہ جیسے جیسے یہ عسکریت پسند گروہ ایک دوسرے کو کمزور کریں گے، وہ فطری طور پر کمزور ہو جائیں گے اور ریاست کیلئے خطرہ کم ہوگا۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے سینیئر صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ جاری تنازعہ کے جلد ہی اورکزئی اور خاص طور پر کرم اضلاع میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عسکریت پسندی کے خاتمے کے بجائے، یہ داخلی جنگ ایک ایسا تزویراتی خلا پیدا کرنے کا امکان رکھتی ہے جسے دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (ISKP) استعمال کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر ISKP اس خلا میں متحرک ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ فرقہ وارانہ عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا بلکہ پاکستانی ریاست کیلئے ایک زیادہ خوفناک اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی ابھرے گا۔

قبائلی ضلع کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کا خونیں تصادم: عسکری دھڑے بندی اور مستقبل کا منظرنامہ

ناصر داوڑ قبائلی ضلع کرم کا جغرافیہ طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز، فرقہ وارانہ کشیدگی اور عسکریت پسند گروہوں کے مابین طاقت کے توازن کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ 20 مئی 2026 کو ایک انتہائی ہلاکت خیز واقعہ پیش مزید پڑھیں

جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے نے ایک بار پھر علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور قبائلی عمائدین کو درپیش خطرات پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب قبائلی سربراہ کی گاڑی بازار کے مرکزی راستے سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملک طارق خان، ملک سرفراز خان یارگل خیل اور جابر خان شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ایک ٹارگٹڈ حملہ معلوم ہوتا ہے اور حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کے تحت قبائلی رہنما کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جنوبی وزیرستان، خصوصاً وانا اور اس کے گردونواح، گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ، ریموٹ کنٹرول دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مقامی قبائلی مشران، امن کمیٹیوں کے اراکین اور حکومت نواز شخصیات مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جارہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبائلی عمائدین پر حملے نہ صرف مقامی امن عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ روایتی قبائلی ڈھانچے اور امن جرگوں کو بھی کمزور کرتے ہیں، جو ماضی میں شدت پسندی کے خلاف اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مقامی عوام نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق

وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار مزید پڑھیں

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان

بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ رپورٹ ان تعلقات میں آنے والی حالیہ خرابی، اس کے تاریخی اسباب، شدت پسند گروہوں کے کردار، سفارتی مذاکرات کی ناکامیوں اور مستقبل کے ممکنہ منظر نامے کا ایک ماہرانہ اور مفصل جائزہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تناؤ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت سے جڑی ہوئی ہیں۔ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ اس مخالفت کی بنیاد ڈیورنڈ لائن کا تنازع تھا، جسے افغانستان نے ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ افغان قیادت کا موقف رہا ہے کہ 1893 میں برطانوی ہند اور افغان امیر کے درمیان کھینچی گئی یہ لکیر محض ایک عارضی انتظامی تقسیم تھی جس نے پشتون قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔    آزادی کے فوراً بعد افغانستان نے پاکستان کے اندر پشتونستان کی تحریک کی حمایت کی، جس کا مقصد پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کو الگ کر کے ایک آزاد ریاست قائم کرنا یا انہیں افغانستان میں شامل کرنا تھا ۔ اس نظریاتی اور علاقائی تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی دہائیوں میں ہی عدم اعتماد کی دیوار کھڑی کر دی، جو 1961 اور 1963 کے درمیان سفارتی تعلقات کی مکمل منقطع ہونے پر منتج ہوئی ۔    تعلقات میں خرابی کے دوسرے بڑے مرحلے کا آغاز 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے سے ہوا۔ اگرچہ پاکستان نے افغان مجاہدین کی بھرپور حمایت کی اور لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، منشیات اور شدت پسندی کے ایسے بیج بوئے جنہوں نے بعد ازاں خود پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ۔ نائن الیون کے بعد جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، تو طالبان اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا۔ پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک طرف افغان طالبان کو پناہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ان کے خلاف جنگ میں اتحادی بھی ہے، جس سے ڈبل گیم کا تاثر ابھرا اور دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔    دورانیہ تعلقات کی نوعیت اہم تنازع / محرک 1947–1960 شدید تناؤ ڈیورنڈ لائن اور پشتونستان تحریک 1961–1963 سفارتی بائیکاٹ سرحدی جھڑپیں اور قونصل خانوں پر حملے 1979–1989 تزویراتی تعاون سوویت یونین کے خلاف جہاد اور مہاجرین کی آمد 1996–2001 قریبی تعلقات طالبان کی پہلی حکومت کو تسلیم کرنا 2021 تا حال تزویراتی دشمنی ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پر باقاعدہ جنگ    طالبان اور پاکستان: تزویراتی گہرائی سے تزویراتی بوجھ تک یہ سوال کہ کیا یہ طالبان پہلے پاکستان کے تھے؟ تزویراتی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی طور پر، پاکستان نے 1990 کی دہائی میں طالبان کی تحریک کو افغانستان میں استحکام لانے اور ایک ایسی حکومت کے قیام کے لئے سپورٹ کیا جو پاکستان کے مفادات کی نگران ہو اور بھارت کے اثر و رسوخ کو روک سکے ۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کیا ۔    تاہم، 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ تزویراتی حساب کتاب مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی واپسی کو "غلامی کی زنجیریں توڑنے" سے تعبیر کیا تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ افغان طالبان اب اسلام آباد کے زیر اثر رہنے کے بجائے ایک آزاد قوت کے طور پر ابھرے ہیں ۔ سب سے بڑا بحران "تحریک طالبان پاکستان" (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ان کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور تنظیمی روابط اتنے مضبوط ہیں کہ افغان طالبان انہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔    پاکستان کی نظر میں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے پاکستان کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ تزویراتی گہرائی کا جو تصور پاکستان نے برسوں سے پال رکھا تھا، وہ اب ایک تزویراتی بوجھ بن چکا ہے کیونکہ افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے ۔    عسکری تصادم اور فضائی کارروائیوں کے اہداف پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی نے اس وقت خطرناک رخ اختیار کر لیا جب پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر براہ راست فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ یہ عسکری مداخلت اس بات کا واضح اعلان تھی کہ پاکستان اب صبر کی پالیسی ترک کر چکا ہے ۔    مارچ 2024 اور دسمبر 2024 کی فضائی کارروائیاں 18 مارچ 2024 کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں خوست اور پکتیکا میں فضائی حملے کئے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد حافظ گل بہادر گروپ کے کمانڈروں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا، جو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں ملوث تھے ۔ دسمبر 2024 میں پاکستان نے ایک بار پھر پکتیکا کے ضلع برمل میں کارروائی کی، جہاں پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا گیا ۔    پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان نے کابل میں ایک ڈرامائی فضائی حملہ کیا جس کا بنیادی ہدف ٹی ٹی پی کا امیر نور ولی محسود تھا ۔ اگرچہ وہ اس حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہا، لیکن کابل جیسے شہر کے اندر اس نوعیت کی کارروائی نے افغان طالبان کو شدید دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ۔    استاد قریشی: اکتوبر 2024 میں ایک سینیئر ٹی ٹی پی لیڈر استاد قریشی کو بھی ایک کارروائی میں ہلاک کیا گیا ۔    امید کیمپ (Omid Camp) پر حملہ: 16 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں واقع ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ۔ طالبان نے دعویٰ کیا کہ یہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا مرکز تھا جہاں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا موقف تھا کہ یہ نیٹو کا سابقہ اڈہ تھا جسے ٹی ٹی پی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی ۔    پاکستان نے ان گروہوں کو فتنہ الخوارج کا نام دیا ہے اور میڈیا کو پابند کیا ہے کہ وہ انہیں اسی نام سے پکاریں، تاکہ ان کے مذہبی لبادے کو بے نقاب کیا جا سکے ۔    سفارتی مذاکرات کا سفر: دوحہ سے ارومچی تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کو روکنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر متعدد سفارتی کوششیں کی گئیں۔ ان مذاکرات میں قطر، ترکی، سعودی عرب اور چین نے کلیدی کردار ادا کیا، لیکن ہر بار کسی نہ کسی تعطل کی وجہ سے دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ دوحہ اور استنبول مذاکرات (اکتوبر-نومبر 2025) مذاکرات کے اس سلسلے کا آغاز قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہوا، جہاں 18 سے 19 اکتوبر 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ۔ اس کے بعد مذاکرات کا مرکز ترکی کا شہر استنبول بن گیا۔ استنبول میں مذاکرات کے تین دور ہوئے:    پہلا دور: 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک جاری رہا، جس میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ثالثی کی ۔    تیسرا دور: 6 سے 7 نومبر 2025 کو ہوا ۔    شرکاء: افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب کر رہے تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے ۔    پاکستان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ ایک باقاعدہ فتویٰ جاری کریں جس میں پاکستان کے خلاف جنگ کو غیر اسلامی قرار دیا جائے ۔ افغان وفد نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ فتویٰ جاری کرنا دارالافتاء کا کام ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ پر ایسا نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے افغان حکومت نے عدم کنٹرول کا عذر پیش کر کے مسترد کر دیا ۔    ریاض کانفرنس (دسمبر 2025) دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں سعودی عرب نے ریاض میں مذاکرات کی میزبانی کی ۔ یہاں بھی فریقین نے جنگ بندی کی توسیع پر تو اتفاق کیا، لیکن ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لئے کوئی تحریری ضمانت نہ مل سکی ۔ پاکستان نے واضح کیا کہ محض خالی وعدوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمین پر ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے ۔    اپریل 2026 کو سب سے اہم مذاکرات چین کے شہر ارومچی (Urumqi)، سنکیانگ میں ہوئے ۔ یہ مذاکرات یکم اپریل سے 7 اپریل 2026 تک جاری رہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے دفاعی، خارجہ اور سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے خصوصی ایلچی اور سفارت کاروں نے ثالثی کے فرائض انجام دئے۔    اگرچہ چین نے اسے ایک تعمیری عمل قرار دیا اور فریقین نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا، لیکن بنیادی ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ پاکستان قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کابل کا اصرار ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور اسے افغان سرزمین سے جوڑنا غلط ہے ۔    شہر / مقام تاریخ ثالثی بنیادی نتیجہ / تعطل کی وجہ دوحہ 18–19 اکتوبر 2025 قطر، ترکی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ استنبول 25 اکتوبر – 7 نومبر 2025 ترکی، قطر فتویٰ کے مطالبے پر تعطل ریاض 4–6 دسمبر 2025 سعودی عرب جنگ بندی کی تجدید، تحریری ضمانت کا فقدان ارومچی 1–7 اپریل 2026 چین کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، بنیادی مطالبات پر ڈیڈ لاک    پاک افغان تعلقات میں خرابی کا سب سے براہ راست اثر سرحد پر ہونے والی تجارت پر پڑا ہے۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر طورخم، چمن اور سپن بولدک جیسے اہم سرحدی راستوں کو کئی بار بند کیا ۔    افغان وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2024 میں 2.46 ارب ڈالر تھا، جو 2025 میں گر کر 1.77 ارب ڈالر رہ گیا، یعنی تقریباً 40 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ افغانستان کی پاکستان کو برآمدات میں 38 فیصد کمی آئی، جبکہ پاکستان سے درآمدات بھی 23 فیصد تک گر گئیں ۔ پاکستان کے لئے یہ بندش ماہانہ 2.5 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کے نقصان کا سبب بن رہی ہے ۔    تجارت میں اس تعطل کی وجہ سے افغانستان نے اپنا رخ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں ازبکستان اور قازقستان کی طرف کر لیا ہے ۔ 2025 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ افغان تجارت 122 ملین ڈالر سے بڑھ کر 216 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔    پاکستان نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت لاکھوں افغانوں کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔    پہلا مرحلہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا جس میں غیر دستاویزی افغانوں کو نکالا گیا ۔    دوسرا مرحلہ اپریل 2024 میں افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کو نشانہ بنایا گیا ۔    تیسرا مرحلہ اگست 2025 میں شروع ہوا جس کا ہدف 1.4 ملین پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز ہیں ۔    انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے اس جبری انخلاء پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ واپس جانے والے افغانوں کو طالبان کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مستقبل میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی کی ایک مستقل وجہ بنا رہے گا، کیونکہ پاکستان اسے سکیورٹی کی ضرورت قرار دیتا ہے جبکہ کابل اسے نسلی امتیاز اور انسانی حقوق کی پامالی سمجھتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں سوشل میڈیا نے پٹرول کا کام کیا ہے۔ دونوں جانب سے پروپیگنڈا اور غلط معلومات (Misinformation) کی تشہیر نے عوامی سطح پر نفرتوں کو ہوا دی ہے۔ افغان طالبان اور ان کے حامیوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم چلا رکھی ہے ۔    طالبان کے پروپیگنڈا سیل نے تاجکستان کے انٹیلی جنس چیف اور دیگر غیر ملکی عہدیداروں کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے تاکہ پاکستان اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان سفارتی تعلقات خراب کیے جا سکیں ۔    سوشل میڈیا پر پشتون اور بلوچ قوم پرستی کو ہوا دے کر پاکستانی شہریوں کو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔    اسلام آباد میں دھماکوں یا سیاسی بحران کے بارے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر اور جعلی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کیا جاتا ہے ۔    تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، شدت پسند گروہوں میں داعش خراسان (ISK) ڈیجیٹل میدان میں سب سے زیادہ نفیس اور خطرناک پروپیگنڈا کر رہی ہے، جو 12 سے زائد زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے ۔ تاہم، افغان سرزمین سے ہونے والے سوشل میڈیا استعمال میں ٹی ٹی پی کے حامی اور طالبان کے ڈیجیٹل اثاثے زیادہ متحرک ہیں جو براہ راست پاکستان کی داخلی سلامتی کو نشانہ بناتے ہیں ۔ پاکستان میں بھی قوم پرست اور مخصوص سیاسی حلقے ان بیانیوں کو نادانستہ یا دانستہ طور پر آگے بڑھاتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان رابطے کے پل ٹوٹ رہے ہیں ۔    تعلقات میں خرابی کا ایک ابھرتا ہوا اور انتہائی خطرناک پہلو دریائے کنڑ (Kunar River) پر ڈیم کی تعمیر ہے ۔ افغانستان نے پاکستان سے مشاورت کے بغیر اس دریا پر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے لئے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ پاکستان اسے آبی دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں زراعت اور بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے ۔    تزویراتی لحاظ سے، پاکستان کے لئے یہ صورتحال تشویشناک ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنے سفارتی مشن کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا ہے ۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بھارت کے لئے لانچنگ پیڈ بن جائے گا، جیسا کہ سابقہ دورِ حکومت میں تھا ۔    پاکستان کا سرکاری بیانیہ اب انتہائی سخت ہو چکا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے کھلی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کابل نے دہشت گردوں کو لگام نہ دی تو پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند ہونا چاہئے ۔    دوسری طرف، طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر نہ ڈالے ۔ ان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور کابل کسی کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن اپنی خود مختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے ۔    پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل نظر آتا ہے۔ تزویراتی گہرائی کا پرانا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن چکا ہے۔ ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی میں عارضی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن جب تک ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور ڈیورنڈ لائن کی شناخت جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، یہ خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ مستقبل میں پاکستان کی پالیسی مزید جارحانہ دفاع (Aggressive Defense) کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس میں فضائی حملے اور معاشی پابندیاں ایک معمول بن جائیں گی۔ دوسری طرف، افغانستان کا اپنی معیشت کو پاکستان سے الگ کر کے ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑنا پاکستان کے تزویراتی اثر و رسوخ کو مزید کم کر دے گا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان دونوں ممالک کے عام شہریوں، تاجروں اور ان لاکھوں مہاجرین کا ہو رہا ہے جو دو ریاستوں کے انا اور مفادات کی جنگ میں پس رہے ہیں۔

پاک افغان تعلقات کا بحران: تاریخی تناظر، عسکری تصادم، اور سفارتی تعطل کا جامع تجزیہ

دی خیبر ٹائمز کوصی تحریر: پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کی تاریخ پیچیدہ تزویراتی مفادات، نسلی و لسانی ہم آہنگی اور دائمی عدم اعتماد کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین عسکری اور سفارتی بحران مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے باپ اور دو بیٹے جاں بحق

شمالی وزیرستان (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) شمالی وزیرستان میں تحصیل دتہ خیل کے علاقے ممی روغہ منظر خیل میں نامعلوم نقاب پوش مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مزید پڑھیں

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ، دو اہلکار شہید

میران شاہ ( دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک ) شمالی وزیرستان کی تحصیل میرانشاہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ سے دو سیکورٹی اہلکار شہید، سرکاری زرائع کے مطابق تحصیل میران شاہ کے نواحی گاؤں سپلگہ میں پیش آیا ہے، شہید مزید پڑھیں