دی خیبرٹائمز نیوز ڈیسک
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی نے خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یمن سے حوثی باغیوں کے مسلسل بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کا ایئر ڈیفنس نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ دفاعی رپورٹوں کے مطابق مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کے پاس ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز کی شدید کمی ہو چکی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاض نے فرانس، برطانیہ، مصر اور پاکستان سے فضائی دفاعی امداد کی درخواست کی ہے۔
پاکستان نے اس نازک موڑ پر واضح اور متوازن موقف اختیار کیا ہے۔ حکومت پاکستان اور عسکری قیادت نے بارہا دہرايا ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان “مکہ معاہدے” کی پاسداری پر مکمل کاربند ہے، تاہم حساس ترین جنگی حکمتِ عملی کے پیش نظر آپریشنل تفصیلات کو پردۂ راز میں رکھا گیا ہے۔
خطے میں جنگ کے خدشات کو ٹالنے کیلئے سفارتی محاذ پر بھی اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے اہم دورے کے فوراً بعد پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور امریکہ و ایران کے درمیان تناؤ ختم کرنے کیلئے پاکستان کے ثالثی کردار کو متحرک کرنا ہے۔
ایران نے بیجنگ میں چینی قیادت سے مذاکرات کے بعد پرامن بقائے باہمی پر مبنی اصولوں کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ “اسلام آباد یادداشت” پر پیش رفت کے ذریعے سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ پاکستان اس وقت خلیجی ممالک، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی معرکے لڑ رہا ہے، وہاں داخلی محاذ پر معاشی مشکلات اور اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات شدید تنقید کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے برطانیہ کے نجی دورے کے دوران سرکاری طیارے کے استعمال پر شدید عوامی ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ اس شدید تنقید کے بعد بالآخر 5 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار روپے کی رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرا دی گئی۔
اگرچہ رقم کی واپسی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس واقعے نے حکمران طبقے کی ترجیحات اور عام آدمی کے مسائل کے درمیان موجود گہری خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس وقت ملکی عوام مہنگائی اور معاشی دباؤ سے پس رہے ہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت شاہانہ طرزِ زندگی ترک کر کے سادہ طرزِ حکمرانی اپنائے تاکہ عوام میں پائے جانے والے بے چینی کے احساس کو ختم کیا جا سکے۔
-
Designation & Leadership: Chief Editor, The Khyber Times | Editor, Wahdat News Digital
-
Research Focus: Regional Security Researcher at the Center for Research and Security Studies (CRSS), Islamabad.
-
Journalistic Background: Senior field reporter, news editor, and media consultant with extensive newsroom experience across major Pakistani broadcasting platforms, including Dunya News, Aaj TV, and Aik News.
-
Worked with CNN and Aljazeera English.
-
Areas of Expertise: In-depth analytical coverage of regional security dynamics, cross-border counter-terrorism, governance frameworks, border trade corridors, and geopolitical affairs covering Khyber Pakhtunkhwa, the merged tribal districts (FATA), and Afghanistan.
-
Origins & Work Base: Native of North Waziristan; professionally based in Peshawar and Islamabad.




