Map showing militant conflicts and geographical effects in Orakzai and Central Kurram involving TTP, Jamaat-ul-Ahrar and ISKP

اورکزئی اور کرم میں نئی خونی جنگ: TTP، جماعت الاحرار اور داعش آمنے سامنے

تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ پاکستان کے شمالی و مغربی سرحدی زون، بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اورکزئی اور کرم کے سنٹرل کرم میں طویل عرصے سے جاری غیر یقینی سیکیورٹی صورت حال ایک نئے اور انتہائی پیچیدہ مزید پڑھیں

Police and rescue teams respond after a suicide attack at Kabal Police Station in Swat, with smoke, damaged vehicles, and debris visible.

سوات تھانہ کبل پر خودکش حملہ: 6 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید، 10 شدید زخمی

سوات ( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک): خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے حساس علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے ایک خوفناک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں فرائض پر مامور 6 پولیس اہلکاروں سمیت مزید پڑھیں

Symbolic illustration of security forces in Badakhshan, Afghanistan, following the killing of a Taliban provincial official during an ongoing investigation.

بدخشان میں طالبان کے ثقافتی ڈائریکٹر کے قتل کا معمہ: گرفتار ملزم نے داعش خراسان سے تعلق کا دعویٰ کیا، تفتیش نئے مرحلے میں داخل

پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں صوبائی محکمۂ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر مولوی صدیق اللہ قریشی کے قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طالبان زرائع کے مطابق مزید پڑھیں

Symbolic image of a clash between ISKP and TTP militants in Upper Orakzai, Khyber Pakhtunkhwa.

اپر اورکزئی میں داعش اور ٹی ٹی پی کے مابین خونریز جھڑپ، پانچ شدت پسند ہلاک

اورکزئی ( دی خیبر ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں کالعدم شدت پسند تنظیم داعش (آئی ایس کے پی) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مابین شدید جھڑپ ہوئی ہے، جس میں دونوں جانب سے مزید پڑھیں

Federal Interior Minister Mohsin Naqvi discussing regional security and Afghan terror networks at the United Nations

افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کا جال: محسن نقوی کا عالمی فورم پر انتباہ

پشاور ( دی خیبرٹائمز مانیٹنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں عالمی رہنماؤں اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتوں کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے انکشاف کیا مزید پڑھیں

"A news graphic by 'The Khyber Times' reporting on the attack on a police facility in Ziarat, Balochistan. The image features an Urdu headline at the top stating '9 police personnel martyred, 7 missing.' The graphic has a background of an aerial view of Ziarat, overlaid with two circular inset photos: one showing the white police pickup truck from image_0.png, and the other showing the scene with the covered body and scattered items from image_1.png. A prominent Urdu headline at the bottom reads 'Protest at Ziarat Crossing, demand for recovery of personnel.'"

زیارت: پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید، جوابی کارروائی میں 15 دہشت گرد ہلاک

دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک : بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں مسلح افراد نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی اور کلیئرنس آپریشن مزید پڑھیں

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہر صبح امن کی دعا سے شروع ہوتی ہے اور ہر رات کسی نئے سانحے کی خبر پر ختم ہوجاتی ہے۔ پاک افغان بارڈر سے متصل یہ خطہ کبھی اپنی ثقافت، مہمان نوازی، تجارت اور قدرتی حسن کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر آج یہاں کے بازار سنسان، اسکول ملبے کا ڈھیر، ہسپتال ویران اور لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ نقصان عام پشتون عوام کو پہنچایا، وہ عوام جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی طاقت کے فیصلوں میں شریک، مگر قربانی ہمیشہ انہی کے حصے میں آئی۔ وانا، میرانشاہ، تیراہ، شوال اور دیگر علاقوں میں کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک ہی دہائی میں اپنے کئی پیارے کھودیئے۔ کسی کا بچہ بارودی سرنگ کا شکار ہوا، کسی کا والد اغوا ہوگیا، کسی کا گھر دھماکے میں تباہ ہوا اور کسی کی زندگی چیک پوسٹوں، ناکہ بندیوں اور خوف کے درمیان گزر گئی۔ عوام کے کاروبار تباہ ہوگئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، نوجوان بیروزگاری اور مایوسی کا شکار ہوگئے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ دوہری اذیت جھیل رہے ہیں۔ ایک طرف مسلح گروہ عوام کو اپنے نظریات کے نام پر دھمکاتے ہیں، دوسری طرف ریاستی سختیاں عام شہری کی زندگی مزید مشکل بنادیتی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانا بھی خطرناک بن چکا ہے۔ احتجاج کرنے والے غدار کہلاتے ہیں، امن مانگنے والے مشکوک بن جاتے ہیں اور سچ بولنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع میں کئی ایسے اسکول ہیں جو دھماکوں میں تباہ ہوئے، کئی مساجد نشانہ بنیں، کئی بازار بارود سے اڑا دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس جنگ کا انجام کیا ہے؟ اگر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے تو پھر ہر بار لاشیں عوام کی کیوں اٹھتی ہیں؟ اگر امن قائم ہوچکا ہے تو پھر خوف اب بھی لوگوں کی آنکھوں میں کیوں زندہ ہے؟ یہ خطہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا نام ہے۔ یہاں کے بچوں کو کتاب چاہئے، بارود نہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے، بندوق نہیں۔ یہاں کے بزرگوں کو سکون چاہئے، خوف نہیں۔ قبائلی عوام اب صرف ایک سوال پوچھ رہے ہیں: آخر کب تک؟ کب تک پشتون علاقوں میں دھماکوں کی گونج سنائی دے گی؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک امن کا مطالبہ جرم سمجھا جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقتور لوگ شروع کرتے ہیں مگر ان کا بوجھ ہمیشہ عام عوام اٹھاتے ہیں۔ وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے لوگ اب صرف زندہ رہنے نہیں بلکہ عزت، امن اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع کی خاموش چیخ

تحریر:شھزادین جرنلسٹ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع، خصوصاً جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم، باجوڑ اور خیبر وہ خطے ہیں جو دو دہائیوں سے دہشتگردی، فوجی آپریشنز، بارودی دھماکوں اور مسلسل خوف کے سائے میں زندہ ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں مزید پڑھیں

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسی سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا دیا ہے کیونکہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال یکسر بدل گئی اور افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کی شدت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 گزشتہ ایک دہائی کا سب سے زیادہ پرتشدد اور خونی سال ثابت ہوا جس میں خیبر پختونخوا ہی دہشت گردی کا بنیادی مرکز رہا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جامع رپورٹس اس ہولناک منظرنامے کی عکاسی کرتی ہیں کہ 2024 کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 69 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد نے گزشتہ پورے سال کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس تشدد کا محور اب صرف قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ عسکریت پسندی کی یہ لہر تیزی سے جنوبی اضلاع یعنی ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں ، لکی مروت، کرک اور ٹانک کی طرف منتقل ہو چکی ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اب پنجاب کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ ان اضلاع کا پنجاب کے ساتھ طویل سرحدی ملاپ عسکریت پسندوں کو وسطی پاکستان تک رسائی کا آسان راستہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف دہشتگردی کے اس نقشے میں اپریل 2025 کے دوران ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب حافظ گل بہادر گروپ نے ٹی ٹی پی کے ساتھ انضمام کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد لشکرِ اسلام اور حکیم اللہ محسود گروپ اور حرکتِ انقلابِ اسلامی پاکستان کے ساتھ مل کر 'اتحاد المجاہدین پاکستان' کے نام سے ایک نیا طاقتور بلاک تشکیل دے دیا جس کا مقصد شمالی وزیرستان اور ضلع خیبر میں اپنی الگ شناخت اور خود مختار حیثیت برقرار رکھنا ہے اور اس نئے اتحاد نے 'صدائے غزوات الہند' کے نام سے اپنا الگ میڈیا ونگ بھی فعال کر رکھا ہے جبکہ جماعت الاحرار جیسے گروہ اگرچہ اس اتحاد میں مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے لیکن انہوں نے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ آپریشنل تعاون کے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا نام اور 'احیاء خلافت' اور “غازی “ کے نام سے میڈیا تشخص برقرار رکھ سکیں اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ داعش خراسان کی موجودگی بناتی ہے جس کا نظریہ ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور جو تاجک و ازبک نژاد جنگجوؤں کی مدد سے پشاور اور باجوڑ میں ریاست کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ ، ننگرہار ، پکتیا، خوست اور پکتیکا اب ایسے اسٹریٹجک مراکز بن چکے ہیں جہاں سے عسکریت پسندوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ وہ وہاں سے باجوڑ ، مہمند، خیبر اور وزیرستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے باقاعدہ افغان شناختی کارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے جو کابل کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جبکہ جدید امریکی اسلحہ اور نائٹ ویژن چشمے اور تھرمل سائٹس جو نیٹو افواج پیچھے چھوڑ گئی تھیں اب جنوبی اضلاع کے میدانوں میں پاکستانی فورسز خصوصی طور پر پولیس کے خلاف ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جس نے عسکریت پسندوں کو تکنیکی برتری فراہم کر دی ہے اور اسی بدامنی کا دوسرا رخ صوبے کی معاشی تباہی ہے جہاں بھتہ خوری ایک منظم صنعت بن چکی ہے اور ٹی ٹی پی و داعش کے نام پر سرمایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کے پی چیمبر آف کامرس کے مطابق صوبے کی دس بڑی ٹیکسٹائل ملیں، جبکہ متعدد چھوٹی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ تیزی سے دوسرے صوبوں یا بیرون ممالک منتقل ہو رہا ہے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سکیورٹی کے سنگین خدشات نے مقامی صنعت کو اپاہج کر دیا ہے، جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی لہر میں پولیس افسران اور حکومت نواز قبائلی عمائدین کو چن چن کر نشانہ بنا کر ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ باجوڑ جیسے حساس اضلاع میں داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے، ضلع کرم میں زمین کے دیرینہ تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر بدامنی کی نئی آگ بھڑکائی جا رہی ہے، جس میں عسکریت پسند گروہ براہ راست مداخلت کر کے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں، اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لئے اب صرف روایتی فوجی آپریشن کافی نہیں رہے بلکہ ایک مربوط قومی بیانئے اور وفاق و صوبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معاشی تحفظ کی فراہمی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس دائمی خوف اور بے یقینی کی فضا سے مستقل نجات مل سکے اور خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

سرحد پار مداخلت، خیبرپختونخوا اور جنوبی اضلاع میں ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات

خصوصی تحریر: ناصر داوڑ خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے سنگین انسانی اور دفاعی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس نے نہ صرف صوبائی ڈھانچے کو مزید پڑھیں