Vertical photograph showing two bearded Afghan men in traditional white clothing, turbans, and black vests sitting in chairs at a formal gathering. The man on the left has a brown patterned turban and holds a pen to his chin thoughtfully. The man on the right has a prominent white beard, a white turban, holds a tablet, and has a checkered shawl over his shoulder. Other similarly dressed men are seated in the background. White text in Urdu script is at the bottom right.

طالبان کے دعوے بے نقاب: ذبیح اللہ مجاہد کی تردید عالمی رپورٹس اور اعترافی بیانات کے سامنے مسترد

پشاور( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے بیان کی تردید کو بین الاقوامی جائزوں اور ٹھوس دستاویزی شواہد نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مزید پڑھیں

"A gritty, cinematic photojournalism style photograph capturing the tension in the remote tribal districts of Khyber Pakhtunkhwa near the border of Balochistan. A weathered Pashtun elder, a member of a local 'Aman Lashkar' (Peace Committee), is standing vigil on a rocky mountain pass at dusk. He is silhouetted against a dramatic, turbulent twilight sky featuring deep dusty orange and moody blue storm clouds. He is wearing a traditional shalwar kameez and a worn turban, holding an older model Kalashnikov rifle, and looking out over a vast, rugged, desolate mountain valley. The atmosphere is somber, tense, and quiet. The composition emphasizes depth and uncertainty. High contrast, deep shadows, textured film grain, shot on professional editorial camera equipment. Aspect ratio 16:9 (for a website featured image)

بلوچستان اور خیبر پختونخوا کیوں جل رہے ہیں؟ ایک دہکتا سوال اور سکیورٹی کا نیا بحران

دی خیبر ٹائمز خصوصی رپورٹ پاکستان کے دو بڑے صوبے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، ایک بار پھر تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں بدامنی، دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن مزید پڑھیں

"Security personnel patrolling a mountainous region, representing intelligence-based operations and counter-terrorism efforts in Pakistan."

پاکستان میں داعش خراسان (ISKP): سکیورٹی چیلنجز اور بدلتی ہوئی حرکیات کا ایک تحقیقی جائزہ:اخر ی قسط نمبر 4

تحریر : ناصر داوڑ پاکستان کے سکیورٹی منظر نامے میں داعش خراسان (ISKP) کا معاملہ ایک پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سکیورٹی اداروں اور پالیسی سازوں نے اس تنظیم کی جڑیں کاٹنے مزید پڑھیں

ISKP networks and security situation in Pakistan illustrated through analytical concept image

:پاکستان میں داعش خراسان ، نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال: قسط سوم

:پاکستان میں داعش خراسان ، نیٹ ورکس، سرگرمیاں اور بدلتی صورتحال: قسط سوم تحقیق و تحریر: ناصر داوڑ پاکستان میں داعش خراسان (ISKP) کی موجودگی ایک پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کا حصہ رہی ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم مزید پڑھیں

Analysis of ISKP new 37-minute video discussing regional security threats in Pakistan and Afghanistan

داعش خراسان کی نئی ویڈیو: کیا خطے میں سکیورٹی خدشات دوبارہ بڑھ رہے ہیں؟ پہلا قسط

37 منٹ کی تازہ ویڈیو میں شیخ ادریس حقانی کے قتل کی ذمہ داری کا دعویٰ، خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا ذکر — یہ سب داعش خراسان کی بدلتی حکمت مزید پڑھیں

"A Pakistani soldier in uniform standing guard at a border checkpoint, representing the regional security situation in the context of US support for Pakistan’s right to self-defense."

امریکہ کا پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ: رائٹرز کی رپورٹ

اسلام آباد( دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ (Reuters) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے پاکستان کے اس موقف کی توثیق کی ہے کہ اسے دہشتگردانہ حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا مزید پڑھیں

جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے نے ایک بار پھر علاقے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور قبائلی عمائدین کو درپیش خطرات پر سنگین سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب قبائلی سربراہ کی گاڑی بازار کے مرکزی راستے سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملک طارق خان، ملک سرفراز خان یارگل خیل اور جابر خان شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر وانا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ایک ٹارگٹڈ حملہ معلوم ہوتا ہے اور حملہ آوروں نے منصوبہ بندی کے تحت قبائلی رہنما کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ جنوبی وزیرستان، خصوصاً وانا اور اس کے گردونواح، گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر بدامنی کی لپیٹ میں ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ، ریموٹ کنٹرول دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مقامی قبائلی مشران، امن کمیٹیوں کے اراکین اور حکومت نواز شخصیات مسلسل حملہ آوروں کے نشانے پر ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہوتی جارہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبائلی عمائدین پر حملے نہ صرف مقامی امن عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ روایتی قبائلی ڈھانچے اور امن جرگوں کو بھی کمزور کرتے ہیں، جو ماضی میں شدت پسندی کے خلاف اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مقامی عوام نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر فوری توجہ دی جائے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

جنوبی وزیرستان: ٹارگٹ کلنگ میں قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق

وانا (دی خیبر ٹائمز ڈسٹرکٹ ڈیسک) جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکز وانا میں رستم بازار اور خانزادہ مارکیٹ کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں احمدزئی وزیر قبیلے کے چیف ملک طارق خان سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ چار مزید پڑھیں

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مقررین نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور پولیس کے تمام شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پولیس ہر صورت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امن کے قیام کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کو دوبارہ پرامن ضلع بنانے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔ حضرت اللہ نے کہا کہ آئندہ پولیس اہلکار سیکورٹی فورسز کے ساتھ کرفیو ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے، اور اگر کسی اہلکار کو اس پر مجبور کیا گیا تو امن کمیٹی اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس امن کمیٹی اپنے فیصلے خود کرے گی، تاہم ڈیوٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری پولیس سے متعلق اپنی شکایات کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس امن کمیٹی مکمل طور پر غیر سیاسی ہوگی، تاہم بنوں کے مشران، اقوام اور عوام کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن افراد نے دہشتگردوں کو حجرے یا بیٹھکیں فراہم کر رکھی ہیں، وہ فوری طور پر یہ سہولت واپس لیں، بصورت دیگر انہیں سہولت کار تصور کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ حضرت اللہ نے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامل ہیں، وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور انہیں اس سرگرمی سے باز رکھنے کی کوشش کریں، بصورت دیگر ان سے لاتعلقی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے دہشتگردوں سے تعلقات ثابت ہوئے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں شریک ہوچکی ہے اور جلد علاقے سے دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

بنوں پولیس امن کمیٹی کا قیام، دہشتگردوں کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ شروع کرنے کا اعلان

بنوں (فرحت اللہ بابر) بنوں میں دہشتگردی کے خلاف ’’آپریشن انتقامِ شہداء‘‘ کے نام سے پولیس امن کمیٹی قائم کر دی گئی۔ اس سلسلے میں بنوں پولیس لائن میں پولیس امن کمیٹی کے اہلکاروں کا ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، مزید پڑھیں

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق حملہ اتوار کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت کیا گیا جب بارود سے بھرے ایک لوڈر رکشہ کو فتح خیل پولیس اسٹیشن کی عمارت سے ٹکرا دیا گیا۔ دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس اسٹیشن میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں 15 اہلکار موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ تین اہلکار شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکالے گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو میں شہریوں کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 اور الخدمت کے رضاکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، پولیس حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شدت پسندوں نے علاقے کے مختلف راستوں اور شاہراہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور امدادی کارروائیوں کیلئے جانے والی پولیس اور ریسکیو ٹیموں پر فائرنگ بھی کی۔ سیکیورٹی خدشات اور رات کی تاریکی کے باعث کئی گھنٹوں تک ریسکیو سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ پہلے مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں شدید خوف کی فضا قائم رہی، جبکہ دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بنوں اور اس کے گرد و نواح میں شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خصوصاً تھانوں، پولیس چوکیوں اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حافظ گل بہادر گروپ، اتحاد المجاہدین، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو بنوں اور اس کے گرد و نواح میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ذرائع اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع کے کئی دیہی علاقوں میں سرکاری عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور شام کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، جبکہ تاجروں اور کاروباری طبقے سے بھتہ خوری کی شکایات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ بنوں کے عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں مؤثر کارروائیاں کرکے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور سرچ آپریشن شروع کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

بنوں میں شدت پسندوں کا فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 15 اہلکار شہید، 3 زخمی

بنوں (دی خیبر ٹائمز مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے فتح خیل پولیس اسٹیشن کو ایک بڑے خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے 15 اہلکاروں کی شہادت اور 3 کے زخمی ہونے کی تصدیق مزید پڑھیں